Ayah 3:110162 لِلنَّاسِ ، خَیْرَ اُمَّةٍ سے متعلق ہے جیسا کہ ابن عباس، ابوہریرہ ، مجاہد، عطاء، عکرمہ اور ربیع ؓ سے منقول ہے۔ یعنی خیر الناس للناس والمعنی انھم خیر الامم وانفع الناس للناس (ابن کثیر ص 391 ج 1) یعنی تم ایک ایسی امت ہو جو سب امتوں سے بہتر ہو اور تمام امتوں سے بڑھ کر لوگوں کے لیے مفید اور نفع رساں ہو۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یہاں فلتکونوا علی ذلک محذوف ہے۔ یعنی تم اسی پر قائم رہو اور تمہارا شیوہ یہی رہے کہ توحید بیان کرتے رہو اور توحید کی خاطر مشرکین سے جہاد میں مصروف رہو۔
163 یہ جملہ مستانفہ ہے اور اس میں امت مسلمہ کے افضل اور خیر الامم ہونے کی علت بیان کی گئی ہے۔ ھذا کلام مستانف والمقصود منہ بیان علۃ تلک الخیریۃ وکونھم خیر امۃ (خازن ص 339 ج 1) اس آیت میں معروف اور منکر سے اگرچہ بعض مفسرین نے توحید اور شرک مراد لیا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ دونوں لفظوں کو عموم پر محمول کیا جائے اور معروف سے وہ تمام نیک کام مراد ہوں۔ جو شرعاً معروف اور جائز ہوں اور منکر سے مراد تمام گناہ ہوں۔ والظاھر فی المعروف والمنکر العموم (بحر ص 29 ج 3) والمتبادر من المعروف الطاعات ومن المنکر المعاصی التی اکنرھا الشرع (روح ص 28 ج 4) اس طرح توحید سے لے کر چھوٹے سے چھوٹا نیک کام معروف میں داخل ہے اور شرک سے لے کر چھوٹے سے چھوٹا گناہ منکر کافرد ہے۔ موجودہ زمانہ کی نئی تہذیب نے اب نئے انڈے دیکر منکرات میں اضافہ کردیا ہے مثلاً سینما تھیٹر ناچ گھر، جم خانے، شراب خانے، میوزک سکول، فوٹوا سٹوڈیو وغیرہ سب منکرات کے اڈے ہیں۔ اور ان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سب منکرات ہیں اور ان سے منع کرنا علماء وقت پر فرض ہے۔ جن مفسرین نے معروف اور منکر کو توحید اور شرک سے مخصوص کیا ہے انہوں نے معروف اور منکر سے فرد کامل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایمان چونکہ تمام امتوں میں مشترک تھا اور اس امت کی خصوصیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا اس لیے اس خصوصیت کو ذکر میں ایمان پر مقدم کیا نیز اس سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر اگرچہ بعض پہلی امتوں پر بھی فرض تھا لیکن امت محمدیہ علی صاحبہما الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جو نظام عطا فرمایا ہے وہ پہلی امتوں کی نسبت ہر لحاظ سے کامل ومکمل اور جامع ہے اور اس کا دائرہ عمل انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ اعتقادات سے لے کر اعمال تک اور اخلاقیات ومعاشیات سے لے کر سیاسیات تک تمام شعبوں کی تنظیم واصلاح کی ذمہ داری اس امت پر ڈالی گئی ہے اور اسے خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا میں نظام حق کو قائم رکھنے اور اسے چلانے کے لیے شریعت حقہ کا اتباع کیا جائے اور کوئی قدم اس کے خلاف نہ اٹھایا جائے۔ آیت میں خطاب تو اگرچہ صحابہ کرام سے ہے مگر بقرینہ علت اس سے ساری امت مراد ہے۔ قال الزجاج قولہ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ الخطاب فیہ مع اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولکنہ عام فی کل امة (خازن ص 338 ج) اور ایمان باللہ سے مراد یہ ہے کہ دل وجان سے اس کی ہستی کا یقین کیا جائے اور بلا شرکت غیرے اس کی خالص اطاعت اور عبادت کی جائے اور اس کے دیے ہوئے نظام حیات کے سامنے سر انقیاد خم کردیا جائے۔ ای وتصدقون باللہ وتخلصون لہ التوحید والعبادۃ (خازن ص 339 ج 1) ۔
164 یہ اہل کتاب کے لیے اس دین کو قبول کرنے کی ترغیب ہے۔ جس کی وجہ سے اس امت کو باقی تمام امتوں پر افضیلت کا درجہ ملا یعنی اہل کتاب ایمان لے آئیں اور حضرت محمد ﷺ کا اتباع اختیار کرلیں تو یہ دنیوی ریاست اور شان و شوکت کے مقابلہ میں ان کے لیے دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بہت بہتر اور مفید ہوگا۔ کیونکہ ایمان لانے کی صورت میں ایک طرف تو وہ افضل امت میں شامل ہوجائیں گے اور دوسری طرف آخرت میں اجر عظیم اور ثواب جزیل کے مستحق ہوں گے اور ان میں جو علماء ہیں ان کو عوام پر دنیا میں دینی سیادت و ریاست بھی حاصل رہے گی۔ ولو آمنوا لحصلت لھم ھذہ الریاسۃ فی الدنیا مع الثواب العظیم فی الآخرة فکان خیرا لھم مما قنعوا بہ (کبیر ص 40 ج 3) ۔
165 یہ جملہ مستانفہ ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اہل کتاب کے کچھ ذی علم اور صاحب فہم ایمان لا چکے ہیں جیسا کہ یہودیوں میں سے عبداللہ بن سلام ان کے بھائی اور ان کے دوسرے ساتھی اور عیسائیوں میں سے نجاشی، عدی بن حاتم وغیرہ لیکن ان کی اکثریت کفر پر ہے اور وہ تورات وانجیل کی ان آیتوں سے جن میں آخری پیغمبر پر ایمان لانے کے احکام ہیں روگردانی پر تلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے جو ایمان لا چکے ہیں۔ منکرین کو ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ لن یضروکم الا اذی۔ یہ ترغیب الی الجھاد ہے۔ اَذیً ضرر کے مقابلہ میں ہلکی اور معمولی سی تکلیف کو کہتے ہیں۔ الاذی بمعنی انصر رالیسیو (روح ص 28 ج 4) اور اس سے مراد گالی گلوچ، طعن وتشنیع اور دھمکی وغیرہ ہے۔ الاضررامقتصرا علی اذی بقول من طعن فی الدین او تھدید او نحو ذالک (مدارک ص 136 ج 4) یعنی اہل کتاب تم کو مالی یا جانی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور نہ ہی انہیں تم پر غلبہ حاصل ہوسکے گا۔ بس زیادہ سے زیادہ وہ تمہارے خلاف زبانی پروپیگنڈا، افترا اور اللہ کی آیتوں کی تکذیب وتحریف کرتے رہیں گے۔ یعنی کذبھم وتعریفھم وبھتھم لا انہ تکون لھم الغلبۃ (قرطبی ص 173 ج 4) ۔
Ayah 3:111166 یہ ماقبل کا تتمہ ہے۔ مسلمان مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے اطمینان دلا دیا کہ اہل کتاب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اول تو وہ تمہارے مقابلہ میں آئیں گے ہی نہیں اور اگر کبھی جرات کر کے مقابلہ میں آبھی گئے تو شکست کھا کر پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگ نکلیں گے اور مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ مغلوب اور شکست خوردہ ہونے کے بعد پھر انہیں کبھی نصرت و غلبہ اور شوکت وقوت حاصل نہیں ہوگی۔ ای انھم بعد صیرورتھم منھرمین لا یحصل لھم شوکۃ ولا قوۃ البتۃ (کبیر ص 41 ج 3) یا مطلب یہ ہے کہ جن مشرکین عرب کی مدد پر ان کو اعتماد ہے شکست کی صورت میں کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی منافقین ان کی مدد کو پہنچیں گے۔ یہ پیش گوئی حرف بحرف صحیح نکلی اہل کتاب نے ہر معرکہ میں شکست کھائی۔ اور ہر میدان میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ وکل ھذہ الاخبار وقعت کما اخبر اللہ عنھا فان الیھود ولم یقاتلوا الا انھزموا او ما اقدموا علی محاربۃ وطلب ریاسۃ الا خذلوا الخ (کبیر) ۔
Ayah 3:112167 حَبل کے معنی عہد اور ذمہ کے ہیں۔ والحبل العھد والذمۃ ( مدارک ص 137 ج 1) حَبْلٌ مِّنَ اللہِ سے مراد عقد ذمہ اور اداء جزیہ ہے اور حَبْلٌ مِّنَ النَّاسِ سے لوگوں کی طرف سے امان نفس اور حفاظت مال وغیرہ کا عہد مراد ہے۔ ای بذمۃ من اللہ وھو عقد الذمۃ لھم وضرب الجزیۃ علیھم والزامھم احکام الملۃ وحبل من الناس ای امان منھم لھم کما فی المھادن والمعاھد الخ (ابن کثیر ص 396 ج 1) حاصل یہ کہ یہودیوں پر ذلت ورسوائی مسلط کردی گئی ہے۔ اور ہر جگہ ان کا مال اور ان کی جان بےوقعت ہیں اور سوائے دو صورتوں کے نہ ان کا مال وجان محفوظ ہے۔ اور نہ ہی ان کو عزت اور وقار کی زندگی نصیب ہے۔ اول یہ کہ وہ کسی مسلم حکومت کے ذمی بن کر رہیں ان کو جزیہ ادا کریں اور اس طرح وہ حقوق ذمہ حاصل کرلیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائے ہیں۔ دوم یہ کہ کسی دوسری قوم سے دوستی اور نصرت ومدد کا کوئی معاہدہ کرلیں اور اس طرح ان کو زندگی میں کچھ چین نصیب ہوجائے ان دونوں صورتوں کے سوا دنیا میں نہ ان کی کوئی خود مختار حکومت قائم کے تحت امریکہ کے سہارے جی رہے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے۔ اسرائیلی حکومت کا وجود مغرب کے ان سیاسی جوئے بازوں کے اپنے ذاتی مفادات کا نتیجہ ہے۔ اور کچھ نہیں۔
168 یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یعنی ان بد اعمالیوں کی وجہ سے وہ غضب الٰہی کے مستحق ہوچکے ہیں اور دنیا میں ان پر غضب الٰہی کا ظہور ابدی ذلت اور رسوائی کی صورت میں ہوچکا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہیں ذلیل و خوار اور دوسروں کے محتاج ہیں۔ مَسْکَنَة سے اکثر مفسرین نے جزیہ مراد لیا ہے جو ذلت ورسوائی کی علامت ہے۔ والاکثرون حملوا المسکنة علی الجزیۃ وھو قول الحسن الخ (کبیر ص 43 ج 3) اور بعض نے اس لفظ کو فقر اور تنگدستی پر محمول کیا ہے یہودیوں میں جو مالدار ہیں وہ معدودے چند ہیں اور ان کی اکثریت فقرا اور تنگدستی میں مبتلا ہے اور جو مالدار ہیں وہ بھی اپنا غنا ظاہر نہیں کرتے فھم فی الغالب مساکین وقلما یوجد یھودی بظھر الغنی (روح ص 29 ج 4) ۔
169 ذَالِک سے مذکورہ سزاؤں کی طرف اشارہ ہے اور آیات سے تورات کی وہ آیتیں مراد ہیں۔ جن میں مسئلہ توحید کا بیان تھا اور جو حضرت رسول اکرم ﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں (روح ص 29 ج 4) یعنی ان کو مذکورہ سزائیں اس لیے دی گئیں کہ ایک تو وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے دوم اس لیے کہ وہ اللہ کی توحید بیان کرنے والے پیغمبروں کو بیدردی سے قتل کیا کرتے تھے۔
170 ذَالَِ سے کفر اور قتل انبیاء کی طرف اشارہ ہے مچلب یہ کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار اور انبیاء (علیہم السلام) کو قتل اس لیے کیا کرتے تھے کہ خدا کی لگاتار نافرمانی اور اس کی مسلسل حدود شکنی کی وجہ سے ان کے دل سیا اور سخت ہوچکے تھے۔ کفر وعصیان ان کی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی۔ اور ضدوعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت ہوچکی تھی اس لیے ایمان و اطاعت کی تو ان سے توقع ہی نہیں تھی۔ ان سے اگر صادر ہوسکتے تھے۔ تو کفر وعصیان اور قتل انبیاء ایسے برے افعال اور سنگین جرائم ہی صادر ہوسکتے تھے۔ لَیْسُوْا سَوَاءً ۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ جب قوموں پر خدا کا غضب آتا ہے تو ان کا ہر ہر فرد بدکار نہیں ہوتا بلکہ ان میں بعض نیکو کار بھی ہوتے ہیں اور ان سنگریزوں کے ڈھیروں میں کوئی کوئی سچا موتی بھی ہوتا ہے یہی حال اہل کتاب کا تھا۔ جہاں ان کے عالموں، پیروں، درویشوں اور سجادہ نشینوں کی اکثریت دنیا دار، غلط کار اور حق پوش تھی وہاں ان میں خال خال خدا سے ڈرنے والے حق کہنے اور توحید بیان کرنیوالے عالم بھی موجود تھے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے یہود کے باطل پرست اور شرک پسند عالموں کی شرارتوں اور ان کی سزاؤں کا ذکر فرمایا اب یہاں سے یہود کے ان عالموں اور پیروں کا ذکر شروع ہوتا ہے جنہوں نے دین توحید یعنی اسلام قبول کرلیا تھا اور پھر توحید کی تبلیغ و اشاعت بھی کرتے تھے اور خود بھی توحید پر قائم تھے چناچہ فرمایا کہ اہل کتاب سب یکساں نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے قبول حق کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اور دین توحید (اسلام) کو قبول کر کے نہ صرف خود اس پر قائم ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں اور اس کی تبلیغ و اشاعت میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔
Ayah 3:113171 یہ استیناف لَیْسُوْا سَوَاءً کا بیان ہے۔ اُمَّةٌ قَائِمَةٌ سے مراد یہ ہے کہ وہ توحید اور دین اسلام پر ثابت قدم ہیں۔ ان کا ایمان نہایت مضبوط ہے۔ ان کے دل شک و اضطراب سے خالی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی پر قائم ہیں۔ انھا ثابتۃ علی التمسک بالدین الحق ملازمۃ لہ غیر مضطربۃ فی التمسک بہ (کبیر ص 45 ج 3) ای امۃ مستقیمۃ علی طاعۃ اللہ تعالیٰ ثابتۃ علی امرہ الخ (روح ص 33 ج 4) اور یَتْلُوْنَ آیَاتِ اللہِ الخ قال الشیخ ای یبینون التوحید ویسجدون للہ خاصۃ یعنی وہ توحید بیان کرتے اور صرف اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں یا اس سے کثرت نماز کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں اور کثرت سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ ، یَتْلُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور یَسْجُدُوْنَ کے معنی یُصَلُّوْنَ کے ہیں کیونکہ تلاوت سجدے میں نہیں ہوتی۔ اور نماز سے تہجد کی نماز یا نماز عشاء مراد ہے۔ وعبر بالتلاوۃ فی ساعات اللیلین التھجد بالقرآن (بحر ص 34 ج 3) عبر بالسجود عن الصلاۃ لان التلاوۃ لا تکون فی السجود وقیلھی صلاۃ التھجد وقیلھی صلاۃ العشاء الخ (خازن ص 341 ج 1) ای یقیمون اللیل ویکثرون التھجد ویتلون القران فی صلواتھم (ابن کثیر ص 397 ج 1) ۔
Ayah 3:114172 مؤمنین اہل کتاب کی مزید مدح اور تعریف فرمائی کہ وہ اللہ پر اور آخرت پر ٹھیک ٹھیک شریعت مصطفویہ کے مطابق ایمان لاتے ہیں اور اپنے گذشتہ شرکیہ عقائد مثلاً ابنیت مسیح اور عزیز سے تائب ہوچکے ہیں نیز اپنے سابقہ تصور آخرت سے بھی دستبردار ہوچکے ہیں۔ کیونکہ پہلے وہ آخرت میں شفاعت قہری کے قائل تھے وذالک لان ایمان اھل الکتاب فیہ شرک ویصفون الیوم الاخر لغیر ما یصفہ المؤمنون (خازن ص 341 ج 1) اور پھر صرف یہی نہیں کہ خود ہی ایمان لا کر نیک اعمال میں مصروف ہوگئے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ایمان اور اعمال صالحہ کی دعوت دیتے اور کفر اور منکرات سے ان کو منع کرتے ہیں اور رضائے الٰہی کی خاطر اس کی طاعت اور بندگی میں دوسروں سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وَاُولئکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ مذکورہ بالا صفات جلیلہ سے متصف ہیں اللہ کے نزدیک ان کا شمار نیکو کار لوگوں میں ہے۔ ای من جملۃ الصلحین الذین صلحت احوالھم عند اللہ عزوجل (خازن ص 341 ج 1) یہاں تک کہ تو ان کی مدح وثنا تھی آگے ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا ذکر ہے۔
Ayah 3:115173 ایمان لانے کے بعد وہ جو بھی نیک عمل بجا لائیں گے اس کے اجر وثواب سے وہ محروم نہیں رہیں گے بلکہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اور ان کا سابقہ کفر اور ان کے گذشتہ برے اعمال اس پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ ای لن یحرموا ثوابہ البتۃ (روح ص 35 ج 4) وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ ٍ فَلَنْ تحجدو ثوابہ بل یشکر لکم وتجازون علیہ (قرطبی ص 177 ج 4) وَاللہُ عَلِیْمٌ بِالْمُتَّقِیْنَ ۔ پرہیز گار لوگ اللہ سے چھپے ہوئے نہیوں وہ ان کی نیکی اور پرہیز گاری کی ضرور جزاء ملے گا۔ اس میں متقین کے لیے اخروی جزا کا وعدہ ہے۔ ومعنی علیھم بھم انہ مجازیھم علی تقواھم وفی ذالک وعد للمقتین ووعید للمفرطین (بحر ص 36 ج 3) ۔
Ayah 3:116174 ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مومنین اہل کتاب کا ذکر فرمایا ان کی خوبیاں گنائیں اور انہیں بشارت اخروی سے نوازا اب یہاں سے کفار اہل کتاب کا ذکر کر کے انہیں اخروی تخویف فرمائی۔ قال مقاتل لما ذکر تعالیٰ مومنی اھل الکتاب ذکر کفارھم وھو قولہ ان الذین کفروا (قرطبی ص 177 ج 4) اور کفار اہل کتاب سے یہاں مراد عام ہے خواہ عوام ہوں یا خواص، مریدین اور متبعین ہوں یا ان کے علماء سجادہ نشین اور متبوعین جس طرح مریدین اپنے پیروں اور سجادہ نشینوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ان کی خدمت میں نذرانے اور شیرینیاں پیش کرتے اور ان نذرانوں کے ذریعے اپنے پیروں سے آخرت میں نفع کی امید رکھتے ہیں اور اس توقع میں رہتے ہیں کہ ان نیازوں اور نذرانوں کے عوض ان کے پیر قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے اور خدا کے عذاب سے ان کو چھڑا لیں گے اسی طرح پیر اور سجادہ نشین بھی دنیا میں زعم خود اپنی دولت نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً بزرگوں کے مزارات اور ان کی خانقاہیں تعمیر کراتے ہیں مریدوں اور مزارات پر نذرانے لانے والوں کے لیے سرائیں بنواتے اور لنگر جاری کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودیوں کے ان مولویوں اور سجادہ نشینوں اور اسی طرح ان کے مریدوں کا اس طرح دنیا میں دولت خرچ کرنا بالکل بیکار ہے اس کا ان کو سر مو فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ انفاق اور دوسرے اعمال صالحہ کا آخرت میں مفید اور نفع بخش ہونا ایمان خالص اور توحید پر موقوف ہے اور یہ شرک اور کفر میں منہمک ہیں۔
175 لہذا انجام کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ خلود فی النار ان کے کفر وشرک پر قائم رہنے کا نتیجہ ہے۔ اس آیت سے معتزلہ کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ فساق المؤمنین مخلد فی النار ہوں گے۔ کیونکہ اُولئِکَ اَصْحَابُ النَّارِ کی ترکیب مفید حصر ہے تو مطلب یہ ہوا کہ صرف کفار ہی ایسے جہنمی ہیں جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے تو معلوم ہوا کہ مؤمن گنہگار جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے جیسا کہ معتزلہ کا خیال ہے۔ ولما افادت ھذہ الکلمۃ معنی الحصر ثبت ان الخلود فی النار لیس الا للکافر (کبیر ص 49 ج 3) ۔
Ayah 3:117176 صِرٌّ کے معنی شدید سردی کے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے الصر البرد الشدید (قرطبی ص 177 ج 4، روح ص 36 ج 4، کبیر ص 51 ج 3) اور ظَلَمُوْ اَنْفُسَھُمْ میں ظلم سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے شرک اور کفر وعصیان کے ذریعے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اور ہلاکت و خسران کے مستحق ہوئے۔ ظلموا انفسھم بالکفر والمعاصی ومنع حق اللہ تعالیٰ فیہ (معالم و خازن ص 342 ج 1) حضرت شیخ کی تفسیر کے مطابق انفاق سے یہاں یہودیوں کے پیروں کا مریدوں پر اور مریدوں کا پیروں پر خرچ کرنا مراد ہے۔ نفقۃ الیہود علی علمائھم (جامع البیان ص 59) پہلے گذر چکا ہے کہ آخرت میں کفار کو ان کے مال ومنال سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا تو یہاں ایک شبہہ پیدا ہوسکتا تھا۔ کہ اگر کفار دنیا میں اپنی دولت نیک کاموں میں خرچ کر ڈالیں تو شاید آخرت میں اس کا انہیں ثواب مل جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس شبہہ کا ازالہ فرمادیا کہ کافروں کا دنیا میں صدقہ و خیرات کرنا اور نیک کاموں میں اپنی دولت کو لگانا اجر آخرت کے اعتبار سے بالکل بےسود ہے آخرت میں اس کا انہیں ثواب مل جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس شبہہ کا ازالہ فرما دیا کہ کافروں کا دنیا میں صدقہ و خیرات کرنا اور نیک کاموں میں اپنی دولت کو لگانااجر آخرت کے اعتبار سے بالکل بےسود ہے۔ آخرت میں انہیں اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ کیونکہ اعمال صالحہ کے عند اللہ مقبول اور باعث اجر وثواب ہونے کے لیے ایمان اور اخلاص توحید شرط ہے اور کفار اس سے محروم ہیں اس لیے ان کے تمام اعمال باطل اور رائیگاں ہیں۔ کافروں کی خیرات کے بےسود ہونے کو اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی آسان، مثال کے ذریعے واضح فرمایا ہے جس طرح کافر اور مشرک قوم کی سرسبز و شاداب کھیتی ہو۔ لیکن انہوں نے اسے برف اور پالے سے محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہ کیا ہو اور وہ اس کی شادابی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں۔ اور اس کی پیداوار کے بارے میں بہت پر امید ہوں کہ اچانک ہوا کا طوفان آجائے جس میں شدت کی سردی اور برف اور پالا ہو اور اس لہلہاتی ہوئی کھیتی کو بالکلیہ تباہ وبرباد کر کے رکھ دے اور کھیتی والے کف افسوس ملتے رہ جائیں اور ان کی اس کھیتی سے غلطہ اور دیگر منافع حاصل کرنے کی تمام امیدیں خاک میں مل جائیں بالکل یہی حال کفار کی خیرات کا ہے جس طرح ان کھیتی والوں کو اس کے نفع کی بڑی امید تھی مگر طوفان بادوبر نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اسی طرح کافر دنیا میں رفاہ عامہ کے کاموں میں اور دیگر کارہائے خیر میں اپنی دولت خرچ کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اگر واقعی قیامت آنیوالی ہے تو انہیں اس کا اجر وثواب ملے گا۔ لیکن کفر وشرک کی وجہ سے ان کے تمام اعمال باطل اور رائیگاں ہیں۔ مثل نفقۃ الکافرین فی بطلانھا وذھابہا و عدم منفع تھا کمثل زرع اصابہ ریح باردۃ او نار فاحرقتہ واھلکتہ فلم ینتفع اصحابہ بشیئ بعد ماکانوا یرجون فائدتہ ونفعہ (قرطبی ص 178 ج 4) مثال میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی کھیتی کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ کافروں کی خیرات کی ایسی چیز سے تشبیہ مقصود تھی جو بالکلیہ تباہ وبرباد ہوچکی ہو اور یہ بات صرف کافروں کی کھیتی ہی میں پائی جاسکتی ہے کیونکہ دنیا میں تو وہ اس کے منافع سے محروم ہو ہی گئے آخرت میں بھی انہیں اس کا کوئی صلہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان کے دنیا میں مالی نقصان کا معاملہ اس سے جدا گانہ ہے دنیا میں مالی نقصان کی وجہ سے اگرچہ وہ اس کے فوائد ومنافع سے محروم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس نقصان کے عوض آخرت میں اجر وثواب کی صورت میں اسے اس کا صلہ ضرور ملے گا (کبیر ص 52 ج 3) ۔
177 ان کے نفقات وصدقات کو اللہ تعالیٰ نے باطل اور مردود کر کے ان پر ظلم نہیں کیا یہ ان کی اپنی ہی بےراہ روی کا نتیجہ ہے کیونکہ انہوں نے ایمان وطاعت اور توحید خالص سے اعراض کیا۔ جو صدقات اور دیگر اعمال کے قبول ہونے کی شرط اولین ہے اور شرک و طغیان اور کفر وعیصیان کی راہ اختیار کرلی جو غضب الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔ لان عملھم لم یکن للہ وھم بالوحدانیۃ دائنون والمرہ متبعون ولرسلہ مصدقون بل کان ذالک منھم وھم بہ مشرکون ولامرہ مخالفون ولرسلہ مکذبون بعد تقدم منہ الیھم انہ لا یقبل عملا من عامل الا مع اخلاص التوحید لہ الخ (ابن جریر ص 37 ج 4) ۔
Ayah 3:118178 یہ آیت مؤمنین کے لیے زجر ہے اس میں ماقبل سے ترقی کر کے فرمایا کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر بھی کرتے رہو اور غیر مسلموں سے پوشیدہ اور گہری دوستی بھی مت رکھو۔ قالہ الشیخ بطانة کے معنی راز دار دوست یعنی جس کے سامنے آدمی اپنے تمام ملی اور ذاتی راز کہہ ڈالے۔ وبطانۃ الوجل خاصتہ الذین یستنبطون امرہ (قرطبی ص 178 ج 4) اسلام سے پہلے انصار کے بعض قبیلوں کے کچھ قرب و جوار کی بنا پر اور کچھ مابین القبائلی معاہدات کی بنا پر یہود سے دوستانہ تعلقات تھے یہ تعلقات اسلام کے بعد انصار نے بدستور قائم رکھے۔ ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ دار الاسلام بن گیا۔ اور اسلام دن بدن ترقی کرنے لگا تو ان یہودیوں نے انصار دوستانہ تعلقات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اندر ہی اندر مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کردیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے گہرے دوست بنے ہوئے تھے لیکن دلوں میں مسلمانوں کے خلاف سخت عداوت رکھتے تھے اور مسلمانوں سے ان کے پوشیدہ راز حاصل کر کے کافروں کو پہنچاتے رہتے اور ہر ممکن طریق سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صورت حال سے آگاہ فرمایا اور ان کو یہودیوں سے دوستانہ تعلقات رکھنے سے روک دیا۔ قال ابن عباس کان رجال من المسلمین یوصلون الیھود لما بینھم من المقرابۃ والصداقۃ والحلف والجوار والرضاع فانزل اللہ عز وجل ھذہ الایۃ ونھا ھم عن مباطنتھم خوف الفتنۃ (خازن ص 342 ج 1) لا یالونکم خبالا خبال کے معنی فساد اور شرارت کے ہیں۔ یعنی یہ یہودی اگرچہ ظاہری تعلقات کی بنا پر تمہارے خلاف جنگ میں علانیہ شریک نہیں ہوں گے۔ لیکن خفیہ طور پر تمہارے خلاف مکروفریب اور سازشیں کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑیں گے۔
179 ظاہر میں تو وہ تمہارے جان دوست بنے ہوئے ہیں اور تمہاری خیر خواہی کرتے ہیں لیکن ان کی دلی آرزو اور خواہش یہ ہے کہ تمہیں کوئی فائدہ اور آرام و راحت میسر نہ ہو اور تم سخت تکلیف اور مشقت میں مبتلا رہو ان کی دلی عداوت اور ان کی کا اندرونی بغض وحسد ان کی زبانوں سے کئی بار ظاہر ہوچکا ہے یہودی اگرچہ اپنے مبغضانہ جذبات کو چھپانے کی کوشش کرتے۔ لیکن شدت عداوت کی بنا پر بعض دفعہ غیر اختیاری اور غیر شعوری طور پر ان کی زبانوں سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں۔ جن سے ان کی خفیہ عداوت ظاہر ہوجاتی۔ وَمَاتُخْفِیْ صُدُوْرَھُمْ اَکْبَر۔ زبان سے تو وہ کھل کر عداوت وتکذیب کا اظہار نہیں کرتے ان کی باتوں سے جو بغض وعداوت کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ اس عداوت اور بغض وحسد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جو تمہارے خلاف ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے۔ یعنی من العداوۃ والغیظ اکبر ای مما یظھرونہ (خازن ص 343 ج 1) حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ کے عالموں اور پیروں کے جو حالات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں وہ آج کل کے علماء سوء اور پیران سیاہ کار پر پوری طرح منطبق ہیں اس طرح ان آیات کا حل آسان ہوجاتا ہے۔
180 کفار سے ترک موالات کے بارے میں ہم نے کھلے الفاظ میں اپنے احکام دے دئیے ہیں اور وہ آیتیں کھول کر بیان کردی ہیں جن میں کفار کی دوستی سے روکا گیا ہے۔ ای اظھرنا لکم الایات الدالۃ علی النھی عن موالات اعداء اللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ (روح ص 38 ج 4) یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان یہودیوں کے بغض وعناد اور حسد وعداوت کی نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ ان کو فوراً پہچان لو اور ان سے علیحدہ رہو۔ او قد اظھرنا لکم الدلالات الواضحات لاتی یتمیز بھا الولی من العدو (روح ص 38 ج 4) قومی اور ملی دشمنوں سے دوستانہ تعلقات سیاسی نتائج کے لحاظ سے بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں بعض اوقات دشمن کو کئی کلیدی رازوں کا پتہ چل جاتا ہے جس سے کئی اہم جنگی اور دوسرے تعمیری منصوبے ناکام ہوجاتے ہیں۔ جنگ جیتنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی خفیہ جنگی تدبیروں کو دشمن کی رسائی سے بالا تر رکھا جائے۔ یہ وقت چونکہ مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کا تھا اس لیے مسلمانوں کو خبردار کردیا گیا تاکہ وہ محتاط رہیں۔
Ayah 3:119181 الکتاب میں لام جنس کا ہے اور مراد اس سے تمام آسمانی کتابیں ہیں اور ضمیر غائب سے منافقین یہود مراد ہیں یہ مسلمانوں کی نیک دلی اور یہودیوں کے روایتی بغض وعداوت کا بیان ہے مطلب یہ کہ تم تو ان سے دوستی بھی رکھتے ہو اور تمام آسمانی کتابوں کو حتی کہ تورات اور انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ تم سے دوستی اور محبت تو درکنار وہ تمہاری کتاب یعنی قرآن پر بھی ایمان نہیں رکھتے حاصل یہ کہ وہ تمہارے ساتھ کسی درجہ میں انس اور محبت نہیں رکھتے۔
182 عَضِّ اَنَامِل یعنی انگلیاں کاٹنا یہ ایک محاورہ ہے اور اس وقت بولا جاتا ہے جب آدمی شدت غیظ سے دیوانہ ہورہا ہو اور غصے کو عملی جامہ نہ پہنا سکتا ہو۔ والعض عبارۃ عن شدۃ الغیظ مع عدم القدرۃ علی انفاذہ (قرطبی ص 182 ج 4) یہاں ان کے نفاق کا بیان ہے مطلب یہ کہ ان سے دوستی اور خیر خواہی کی امید بالکل بیکار ہے کیونکہ ان کے دلوں میں کفر وعناد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور ان کا دعویٰ ایمان سراسر منافقانہ ہے تمہارے سامنے تو وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کچھ کر بھی نہیں سکتے اس لیے شدت غیظ سے جھنجھلا اٹھتے ہیں والمعنی اذا خلا بعضھم ببعض اظھر وشدة الغیظ علی المؤمنین حتی تبلغ تلک الشدة الی عض الانامل الخ (کبیر ص 56 ج 3) ۔
183 آنحضرت ﷺ کو حکم ملا ہے کہ آپ منافقین سے کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے اور اس نے تمہارے اندرونی کینہ اور بغض کی ہم کو اطلاع دے دی ہے باقی تمہاری یہ خواہش کہ اسلام مغلوب ہوجائے اور مسلمان ناکام ہوجائیں۔ یہ کبھی پوری نہیں ہوگی تم بیشک شدت غضب میں مرتے رہو۔
Ayah 3:120184 خطاب مسلمانوں سے ہے اور اس میں اسلام کے خلاف منافقین کے بغض وحسد اور کینہ پروری کا مزید بیان ہے یعنی ان کی عداوت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ تمہاری خوشحالی اور تمہارنے نفع کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتے اگر تمہیں دشمنوں پر فتح حاصل ہوجائے یا تم پر خوشحالی کا دور آجائے تو اس سے ان کے دل رنجیدہ ہوجاتے ہیں لیکن اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے یا تم مشقت میں پڑجاؤ تو اس سے انہیں بہت خوشی ہوتی ہے ان تمام آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ ایمان والوں کے خلاف جن لوگوں کی کینہ پروری اور ان کے بغض وعداوت کا یہ حال ہو وہ ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ ان کو اپنا راز دار بنایا جائے خصوصاً جب کہ جہاد کا معاملہ درپیش ہو جس پر مسلمانوں کی دنیا اور آخرت کی بھلائی کا مدار ہے۔ والمعنی فی الایۃ ان من کانت ھذہ صفۃ من شدۃ العداوۃ والحقد والفرح بنزول الشدائد علی المؤمنین لم یکن اھلا لان یتخذ بطانۃ لا سیما فی ھذا الامر الجسیم من الجھاد الذی ھو ملاک الدنیا والاخرۃ (قرطبی ص 183 ج 4) ۔
185 یہاں مسلمانوں کو صبر وتقویٰ کی تلقین فرمائی۔ فرمایا کہ دشمنوں کے مکر و فریب اور ان کی چالوں سے محفوظ رہنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ تم صبرواستقلال سے کام لو۔ ان کی طرف تمہیں جو تکلیفیں دی جاتی ہیں انہیں برداشت کرو۔ دین اسلام پر قائم رہو۔ اور خدا کی اطاعت کو اپنا شعار بناؤ۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی سے بچو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی پرفریب چالوں سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اور وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ان چند کلمات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد میں کامیابی حاصل کرنے اور دشمنوں کے مکر و فریب سے محفوظ رہنے کے لیے نہایت اختصار کے ساتھ دو زریں اصول بیان فرمائے ہیں ایک استقلال دوم خدا کا خوف ھذا تعلیم من اللہ و ارشاد الی ان یستعان علی کید العدو بالصبر والتقوی (مدارک ص 136 ج 1) ۔ اِنَّ اللہَ بِمَایَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ منافقین جو کر رہے ہیں وہ اللہ کے علم میں ہے اس لیے وہ اپنے کرتوتوں کی سزا ضرور پائیں گے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو تسلی دی ہے اور منافقین کو عذاب اخروی کی تخویف فرمائی ہے۔
Ayah 3:121186 ۔ اب یہاں سے جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ والجمہور علی انھا غزوۃ احد (قرطبی ص 184 ج 4) ۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا اس کا تعلق اِنْ تَصْبِرُوْا الخ سے ہے یعنی اگر تم ہمت و استقلال، صبر و استقامت سے کام لو گے تو کافر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ آگے صبر وتقویٰ کے نتائج اور اس کے لیے دو نمونوں کا بیان ہے۔ جنگ بدر میں مشرکین کو مسلمانوں کے ہاتھوں انتہائی ذلت ورسوائی کے ساتھ شکست اٹھانا پڑی۔ ان کے ستر سردار اور جنگجو بہادر قتل ہوگئے اور ستر گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قیدی ہوئے مالی نقصان اس کے علاوہ تھا اور ذلت ورسوائی اتنی ہوئی کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ اب وہ شکست خوردہ مشرکین انتقامی جنگ کی تیاری کرنے لگے۔ چناچہ واقعہ بدر سے ایک سال بعد 30 ھ کے اواخر میں جنگی تیاریاں مکمل کرلیں۔ اب ان کی تعداد تین ہزار تھی جن میں سات سو زرہ پوش دو سو گھڑ سوار اور باقی شتر سوار تھے۔ اور ان کا کوئی لڑاکا خالی ہاتھ نہ تھا۔ مشرکین چونکہ جوش انتقام میں دیوانے ہوئے جا رہے تھے اس لیے تمام قبیلوں کے سرداروں نے بھی زرہ پوش دو سو گھڑ سوار اور باقی شتر سوار تھے۔ اور ان کا کوئی لڑاکا خالی ہاتھ نہ تھا۔ مشرکین چونکہ جوش انتقام میں دیوانے ہوئے جارہے تھے اس لیے تمام قبیلوں کے سرداروں نے بھی جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ حد یہ مشرکین کی عورتوں نے بھی اس جنگ میں شرکت کی جو باجوں اور ڈھولکوں کیساتھ مقتولین بدر کے مرثیے گا گا کر اپنے جوانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا رہی تھیں اور مسلمانوں کے ساز و سامان کا یہ حال تھا کہ مجاہدین کی تعداد صرف ایک ہزار تھی اور پوری فوج میں صرف دو گھوڑے تھے اور تمام مجاہدین کے پاس تلواریں بھی نہیں تھیں اور پھر عین اس وقت جب کہ دشمن سامنے آیا اور مسلمان ابھی نماز صبح ہی میں مصروف تھے۔ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اپنے تین سو ساتھیوں کو ساتھ لے کر میدان جنگ سے واپس آگیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب مسلمان مجاہدین کی تعداد صرف سات سو رہ گئی۔ آنحضرت ﷺ نے جنگ سے پہلے تمام مجاہدین کی صفیں مناسب جنگی ترتیب کے مطابق بنائیں اور مختلف فوجی دستوں کو مختلف مورچوں پر متعین فرمایا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی صف بندی کی حالت کا ذکر فرمایا ہے۔ وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔
Ayah 3:122187 پہلا نمونہ یہ اِذْ عَدَوْتَ سے بدل ہے۔ اور طائفتان سے انصار کے دو قبیلے مراد ہیں۔ یعنی قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اوس کے بنو حارثہ والطائفتان بنو سلمۃ من الخزرج وبنو حارثۃ من الاوس (قرطبی ص 185 ج 4) اور ھَمٌّ پختہ ارادہ اور حدیث نفس یعنی وسوسہ دونوں میں مستعمل ہے۔ لیکن یہاں وسوسہ اور حدیث نفس مراد ہے والظاھر ان ھذا لھم لم یکن عن عزم۔ ب کان مجر حدیث نفس و وسوسۃ (روح ص 43 ج 4) اور فَشْلٌ کے معنی بزدلی اور کم ہمتی دکھانے ہیں۔ ہوا یوں کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اپنے تین سو منافق ساتھیوں کو لے کر میدان جنگ سے یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ جب ہماری بات نہیں مانی گئی تو ہم کیوں ان کا ساتھ دیں اور مفت میں اپنی جانیں ضائع کریں (عبداللہ بن ابی نے بھیحضور ﷺ کو مشورہ دیا تھا کہ جنگ کے لیے مدینہ سے باہر نہ جائیں بلکہ شہر ہی میں رہیں اگر مشرکین نے شہر پر حملہ کیا تو یہیں ان سے جنگ کریں گے) تو مسلمانوں کے ان دونوں گروہوں کو قلت سامان اور قلت عدد کی بنا پر خیال گزرا کہ وہ بھی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹ جائیں۔ غرضیکہ ان کی بزدلی اور کم ہمتی دکھانے کی وجہ شک ونفاق یا ضعف ایمان نہیں تھا۔ بلکہ مادی وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کے ارادے میں ضعف آگیا۔ وذالک انہ انما کان ذالک منھما عن ضعف ووھن اصابھما غیر شک فی دینھما (سیرت ابن ہشام ص 112 ج 3) لیکن ابھی یہ ارادہ وسوہ کی حد سے آگے نہیں بڑھا تھا اور نہ ہی انہوں نے اس پر عمل کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری فرمائی اور ان کی ہمتیں پھر سے مضبوط کردیں۔ اور اپنی مدد اور نصرت سے ان کو تھام لیا اور دونوں قبیلے نئے جوش شجاعت کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی لغزش سے درگذر فرمایا۔ یہ کم ہمتی کے اظہار کا ارادہ وقتی طور پر صبر وتقوی سے ذہول کا نتیجہ تھا۔ ادھر خدا پر بھروسہ اور تقوی سے ذہن مادی وسائل کی قلت و کثرت کی طرف منتقل ہوا۔ ادھر فوراً ہی اس کا برا نتیجہ سامنے آگیا۔
188 یہاں اللہ تعالیٰ نے تمام ایمان والوں کو نصیحت فرمائی کہ انہیں صرف خدا کی ذات پر اعتماد اور بھروسہ اور ظاہری سازوسامان کو اسباب عادیہ کی حد تک اختیار کرنا چاہیے اور ان کو کامیابی اور ناکامی میں موثر حقیقی نہیں سمجھنا چاہیے بعض جاہل صوفی ترک اسباب کا نام توکل رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ نظریہ سراسر اسلام کے خلاف ہے اور خودحضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کے بھی مخالف ہے۔ قال سھل من قال ان التوکل یکون بترک السبب فقد طعن فی سنۃ رسول اللہ ﷺ (قرطبی ص 189 ج 4) توکل کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرے اور یقین رکھے کہ اللہ کی قضا پوری ہو کر رہے گی اور ہر کام کے لیے اللہ نے تکوینی طور پر جو اسباب عادیہ مقرر فرمائے ہیں ان کو عمل میں لائے اور ان کو محض عادی وسائل خیال کرے اور موثر حقیقی صرف خدا کو جانے۔
Ayah 3:12318 حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہ اِنْ تَصبِرُوْ وتتقوْ کا دوسرا نمونہ ہے۔ یعنی صبر وتقوی اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید غیبی اور نصرت آسمانی کے سامان بہم پہنچ جاتے ہیں۔ چناچہ جنگ بدر کے موقع پر ایسا ہی ہوا تم تعداد میں بہت قلیل تھے اور سامان جنگ بھی بالکل معمولی تھا۔ اذلۃ ذلیل کی جمع ہے۔ جس کے معنی حقیر اور پست کے ہیں۔ یعنی تعداد اور سامان کی قلت کے باعثھی ماکانوا علیہ من الضعف وقلۃ السلاح والمال والمرکوب (بحر ص 47 ج 3) ای بقلۃ العدد والسلاح (جامع البیان ص 59) چناچہ مسلمانوں کی کل تعداد 313 تھی اور پوری فوج کے پاس سواری کے لیے صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے اور تلواریں بھی صرف غالباً آٹھ تھیں اور باقی سامان جنگ بھی نہایت قلیل اور ناکافی تھا۔ لیکن اس بےسروسامانی کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور نہ ہی صبر وتقوی کا دامن ہاتھ سے چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد اور نصرت بھی فوراً آپ پہنچی۔ بدر کا واقعہ یاد دلا کر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد میں ثابت قدم رہنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی تعلیم فرمائی ہے۔ نیز اس میں کافروں کے شبہ کے جواب کی طرف بھی اشارہ ہے کافروں کا شبہ یہ تھا کہ جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور نہیں نقصان اٹھانا پڑٓ اگر اسلام سچا دین ہوتا تو اس کے ماننے والے کیوں اس طرح ذلیل ہوتے یہاں اشارہ فرمایا کہ اگرچہ دنیا میں فتح وشکست صداقت کا معیار نہیں۔ فتح کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے کبھی کسی کے ہاتھ کبھی کسی کے ہاتھ اس لیے اے ایمان والو ! احد کی وقتی شکست سے دلگیر اور افسردہ خاطر نہ ہونا اگر احد میں ایسا ہوگیا ہے تو ہوا کیا۔ جنگ بدر میں جب کہ تم بالکل بےسروسامان تھے کیا اس وقت میں نے تم کو غیبی امداد سے منصور ومظفر نہیں کیا تھا۔ اس شبہ کا اصل جواب آگے آرہا ہے۔
190 یعنی تقویٰ اور خوف خدا سے شکر گزاری کے جذبہ کو تقویت پہنچتی ہے اور شکر گذاری ایک ایسا مبارک عمل ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (ابراہیم ع 1)
Ayah 3:124191 اِذ، ظرف نَصَرَکُمْ سے متعلق ہے اور یہ تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کے اتارنے کے وعدے بھی جنگ بدر ہی سے متعلق ہیں۔ جنگ بدر میں بالفعل مشرکین کی تعداد کے مطابق صرف ایک ہزار فرشتے اتارے گئے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے دوش بدوش کافروں سے جنگ کی جیسا کہ سورة انفال رکوع 1 میں ہے۔ اذ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلئِکَةِ مُرْدِفِیْنَ ۔ لیکن اس کے بعد جب کافروں نے یہ افواہ اڑا دی کہ کرز بن جابر محاربی مزید دو ہزار سپاہیوں کی کمک لے کر پہنچ رہا ہے۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین ہزار فرشتوں کی کمک نازل کرنے کا وعدہ فرمایا تاکہ مسلمان مطمئن اور ثابت قدم رہیں۔ اس آیت میں اسی وعدہ کا ذکر ہے۔
Ayah 3:125192 اس کے بعد جب یہ خبر پھیلی کہ پانچ ہزار سپاہیوں کو مزید کمک مشرکین کو پہنچ رہی ہے تو مسلمان اس خبر سے ذرا دلگیر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے مزید پانچ ہزار فرشتے نازل کرنے کا وعدہ فرمایا۔ لیکن جب کرز نے مشرکین کی شکست کی خبر سنی تو امداد دینے کا ارادہ ترک کردیا۔ اس لیے پانچہزار فرشتے بھی نازل نہ ہوئے۔ قال الشعبی بلغ النبی ﷺ و اصحابہ یوم بدر ان کرز بن جابر المحاربی یرید ان یمد المشرکین فشق ذالک علی النبی ﷺ علی المسلمین فانزل اللہ تعالیٰ (اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ الی قولہ مُسَوِّمِیْنَ ) فبلغ کر زا الھن یملۃ فلم یمدھم ورجع فلم یمدھم اللہ ایضا بالخمسۃ الاف وکانوا قد امدوا بالف (قرطبی ص 195 ج) اور مسومین کا مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتے مخصوص نشانات اور امتیازی علامات کے ساتھ نازل ہوں گے۔ آیت کا حاصل یہ ہوا کہ تین ہزار پر ہی بس نہیں۔ اگر تم صبر وتقویٰ پر قائم رہے اور مشرکین کے امدادی دستے آپہنچے اور انہوں نے تم پر اچانک حملہ کردیا تو اللہ تعالیٰ بھی فوراً امتیازی علامتوں والے پانچ ہزار فرشتے تمہاری امداد کے لیے بھیج دے گا۔ چونکہ مشرکین کو تین ہزار اور پانچ ہزار کی کمک نہیں پہنچی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتے نازل نہیں فرما تھے کیونکہ فرشتوں کی ان دونوں جماعتوں کا نزول مشرکین کو ان کی موعودہ کمک پہنچنے پر معلق تھا۔ اس لیے نہ ان کو کمک پہنچی نہ فرشتے نازل ہوئے۔ البتہ ایک ہزار فرشتے پہلے ہی نازل ہوچکے تھے۔
Ayah 3:126193 جَعَلَهٗ میں ضإیر غائب مذکورہ مدد کی طرف راجع ہے جو ایک ہزار فرشتوں کے بالفعل انزال اور تین ہزار اور پانچ ہزار کے وعدہ انزال کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اَلْعَزِیْز یعنی ایسی قدرت وقوت والا جو ظاہری اسباب کے سوا بھی غلبہ اور فتح دلا سکتا ہے۔ اَلْحَکِیْم جو اپنی حکمت بالغہ کے مطابق تمام کاموں کو ظاہری اسباب پر مرتب فرماتا ہے۔ یعنی جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تائید غیبی سے جو تمہاری کامیابی اور فتحمندی کے ظاہری اسباب مہیا فرمائے تھے۔ یہ محض تمہاری خوشی اور دلجمعی کی خاطر تھے۔ باقی رہی فتح ونصرت تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھی۔ جو ایسا زبردست ہے کہ ان اسباب کا محتاج نہیں لیکن اپنی تکوینی حکمت کے تحت ہر کام کو اس کے سبب سے متعلق فرماتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صاف اعلان فرما دیا ہے کہ حقیقت میں کارساز اور متصرف ومختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فتح وظفر اور امداد ونصرت نہ پیغمبر خدا ﷺ کے اختیار میں ہے اور نہ ہی فرشتوں کے۔ جنگ بدر اور جنگ احد کے واقعات ہمارے سامنے ہیں صحابہ کرام کی مقدس جماعت مشرکین کے مقابلہ میں صف آرا ہے اور سید انبیاء ﷺ کی بزرگترین ہستی بنفس نفیس ان میں موجود ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ امداد خداوندی کے محتاج ہیں۔ بدر میں ایک ہزار فرشتہ بالفعل امداد کے لیے میدان جنگ میں موجود ہے اور آٹھ ہزار آنے کے لیے حکم ربانی کے منتظر کھڑے ہیں۔ مگر ان سب کی حیثیت ظاہری سبب سے بڑھ کر کچھ نہیں اور حقیقی مؤثر اور ناصر و مددگار صرف اللہ ہے جل جلالہ وتعالیٰ جدہ۔ یعنی لا تحیلوا لنصر علی الملائکۃ والجند وکثرۃ العدو فان النصر من عندللہ لا من غیر والغرض ان یکون توکلہم علی اللہ لا علی الملائکۃ الذین امدوا بھم (خازن ومعالم ص 349 ج 1) ۔
Ayah 3:127194 لِیَقْطَعَ میں لام نَصَرَکُمْ سے متعلق ہے۔ قطع کے معنی قتل کے ہیں اور طرف جماعت گروہ کے معنی میں ہے لیھلک طائفۃ منھم بالقتل والاسرالخ (مدارک ص 141 ج 1) یعنی جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری غیب سے امداد اس لیے فرمائی تاکہ کافروں کی ایک جماعت تمہارے ہاتھوں ماری جائے اور وہ ذلیل و خوار ہوجائیں اور نامراد ہو کر گھروں کو لوٹیں اور اس طرح کفر کا زور ٹوٹ جائے۔ اور کافروں کی شان و شوکت اور ان کا رعب ووقار مسلمانوں کے ہاتھوں خاک میں مل جائے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بدر میں کفر وشرک کے ستر لیڈر اور سرغنے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے۔
Ayah 3:128195 اس آیت کا تعلق جنگ احد سے ہے صحیح مسلم میں ہے کہ جنگ احد میںحضور ﷺ کا سامنے ایک دانت شہید کردیا گیا۔ اور آپ کے سر مبارک میں بھی زخم آیا۔ آپ زخم سے خون پوچنھ رہے تھے اور ساتھ یہ بھی فرماتے جارہے تھے۔ کیف یقلح قوم شجوا نبیھم ﷺ وکسروا رباعیتہ وھو یدعوھم الی اللہ تعالیٰ (صحیح مسلم ص 108 ج 2) یعنی اس قوم کو کس طرح ہدایت نصیب ہوگی۔ جس نے اپنے پیغمبر کو زخمی کردیا حالانکہ وہ ان کو خدا کی طرف بلاتا ہے گویا کہ آپ نے ان کے لیے توفیق ایمان کو مستبعد سمجھا اور ان کی ہلاکت کے لیے بدعا کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آپ کا استبعاد دور فرمادیا اور آپ کو ان کے اسلام لانے کی امید دلا دی۔ استبعاد لتوفیق من فعل ذالک بہ وقولہ تعالیٰ لیس لک من الامر شیئ تقریب لما استبعدہ واطماع فی اسلامھم (قرطبی ص 199 ج 4) اَوْ یَتُوْبَ اور اَوْ یُعَذِّبَھُمْ میں اَوْ بمعنی اِلَّا اَنْ ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے مشرکین کے ایمان سے مایوس ہو کر ان پر بددعا کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکین کی عاقبت اور انجام کار کو میں جانتا ہوں نیز ان کے تمام امور اور معاملات میرے اختیار و تصرف میں ہیں۔ کیونکہ میرا علم محیط اور قدرت ہر چیز پر حاوی ہے آپ کا نہ علم ہر چیز پر محیط ہے اور نہ قدرت اس لیے آپ کو بددعاء کرنے کا اختیار نہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض کو میں توبہ کی توفیق دیدوں اور وہ اسلام قبول کرلیں اور جو کفر پر قائم رہیں ان کو دائمی عذاب میں مبتلا کروں ومعنی الایۃ لیس لک من امر مصالح عبادی شیء الا ما اوحی الیک فن اللہ تعالیٰ ھو مالک امرھم ناما ان یتوب علیھم ویھدیھم فیسلموا او یھلکھم ویعذبھم ان اصروا علی الکفر (خازن ص 350 ج 1) یا یہ دونوں لیقطع پر معطوف ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں اس لیے تمہاری امداد فرمائی تاکہ وہ کافروں کو ہلاک کرے یا ذلیل کرے یا ان کو توبہ کی توفیق دے یا ان کو عذاب دائمی میں مبتلا کرے والمعنی ان مالک امرھم علی الاطلاق وھو اللہ تعالیٰ نصرکم علیھم لیھلکھم او یکبتھم او یتوب علیھم ان اسلموا او یعذبھم ان اصروا ولیس لک من امرھم شیٗ ان انت الا عبد ما مور بانذارھم وجھادھم (روح ص 50 ج 4) بعض روایات کے مطابق آپ بعض مشرکین پر چالیس دن بد دعا کرتے رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بہر حال شان نزول جو بھی ہو یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ غیب دان تھے اور نہ مختار کل۔
Ayah 3:129196 قال الشیخ یہ توحید کی پانچویں عقلی دلیل کا اعادہ ہے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ہر چیز اس کی ملکیت میں اور اس کے اقتدار و تصرف کے ماتحت ہے وہ کسی کو معاف کرنے یا سزا دینے میں نہ کسی خاص سبب کا محتاج ہے اور نہ مجبور ہے وہ عام قانون رحمت کے تحت جسے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور اپنے خاص قانون عدل و انصاف کے تحت جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ لیکن اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ وفی تخصیص التذییل بہ اشارۃ الی ترجیح جھۃ الاحسان والانعام (روح ص 52 ج 4) حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں۔ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَاء ُ مِنَ الْمُنِیْبِیْنَ منھم ویعذب من یشاء من المصرین المعاندین منھم یعنی ان میں سے جو لوگ خدا کی طرف انابت کریں گے اور توحید اور دین اسلام قبول کرلیں گے ان کے گذشتہ گناہ معاف فرمادے گا۔ اور جو لوگ ضدوعناد سے کفر پر اصرار کریں گے۔ ان کو اللہ تعالیٰ عذاب دے گا۔
Ayah 3:130197 حضرت شیخ نے فرمایا کہ ترغیب الی القتال کے بعد یہاں سے لیکر وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ تک ترغیب الی الانفاق ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کیوں نہیں کرتے خرچ کرنا تو درکنار تم تو کسی کو قرض بھی سود کے بغیر نہیں دیتے ہو آؤ اللہ کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دوزخ کی آگ سے بچنے، اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغفرت کے استحقاق اور دخول جنت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں انفاق فی سبیل اللہ کی طرف ایک عجیب انداز سے ترغیب فرمائی ہے پہلے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے دلوں میں جہاد کی سپرٹ پیدا کی اس کے بعد اچانک سود خوری سے ممانعت کے احکام نازل فرمادئیے۔ سودی کاروبار سے ممانعت بھی در اصل روح جہاد کی تقویت کے لیے ہے جہاد میں جان کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اور جو شخص اس قدر بخیل اور کنجوس ہو کہ اگر کسی قرض دے تو اس پر بھی سود وصول کرے اور خدا کے لیے قرض حسنہ کے طور پر ذرہ بھر کسی سے ہمدردی نہ کرسکے تو اس سے یہ توقع کس طرح کی جاسکتی ہے کہ وہ پیاری جان کی قربانی دے گا۔ اس لیے سود پر قرض دینے منع فرمایا اور اس کے ضمن میں ہمجنسوں سے ہمدردی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا سبق دیا۔ اَضعَافاً مُّضَاعَفَةً (دونے پر دونا) کی قید سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہاں سود مرکب سے منع کیا گیا ہے اور سود مفرد سے منع نہیں کیا گیا بلکہ یہ قید مراعات واقع کیلئے ہے کیونکہ جاہلیت میں سود مرکب (سود در سود) کا زیادہ رواج تھا۔ اس لیے اس سے منع فرمایا۔ لہذا اس قید سے سود مفرد کی حرمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا (روح ص 55 ج 4، کبیر ص 72 ج 3) یا یہ صفت سود خوری کی مزید قباحت ظاہر کرنے کے لیے ہے قالہ الشیخ الانور (رح) تعالیٰ وَاتَّقُوْ اللہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ سود خوری سے ممانعت کے بعد خدا سے ڈرنے کا حکم دیا گیا تاکہ پہلے تقویٰ کو مخدوش کرنے والے اعمال کا سدباب ہوجائے اور پھر تقویٰ اپنی کامل صورت میں جلوہ گر ہو۔ امید فلاح کو خوف خدا پر مرتب کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ مومن کو امید وبیم اور خوف ورجاء کے درمیان رہنا چاہیے۔ ایک طرف خدا کے عذاب سے ڈرتا رہے اور دوسری طرف اس کی رحمت ومغفرت کی امید بھی رکھے نہ بیباک ہوجائے اور نہ ناامید۔
Ayah 3:131198 یہ سود خوری پر وعید شدید ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ سود خوری کبیرہ گناہ ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن میں سب سے زیادہ ڈراوے کی آیت ہے کیونکہ اس میں خدا کے محارم سے نہ بچنے والوں کو جہنم کے اس طبقہ میں عذاب دینے کی دھمکی دی گئی ہے جو درا صل کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے کان ابو حنیفۃ ؓ یقولھی اخوف ایۃ فی القرآن حیث اوعد اللہ المومنین بالنار المعدۃ للکافرین ان لم یتقوہ فی اجتناب محارمہ (مدارک ص 141 ج 1، روح ص 56 ج 4) اور آپ سے بچنے کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام اعمال سیئہ سے بچا جائے جو عذاب نار کے موجب ہوں۔
Ayah 3:132199 نہ صرف سود کے احکام میں بلکہ اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر وانوہی میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی اطاعت کا طریقہ وہی اختیار کرو جو اس کے رسول نے اپنے اسوہ حسنہ اور نمونہ عمل سے قائم کیا ہے لہذا اللہ کی اطاعت کے لیے اس کے رسول کی اطاعت نہایت ضروری اور لابدی ہے اور رسول کی اطاعت سے متعلق فرما کر بتا دیا کہ رحمت کی امید صرف فرمانبرداروں کو رکھنی چاہئے نہ کہ نافرمانوں کو۔ ان آیتوں سے اہل سنت کے مسلک کی تائید اور فرقہ مرجئہ کے خیال باطل کی تردید ہوتی ہے اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ ایمان کے بعد اعمال صالحہ کا بجالانا اور گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے اور معاصی کا ارتکاب کرنے والے مومنوں کو عذاب ہوگا۔ اور مرجئہ کہتے ہیں کہ ایمان کے بعد کوئی گناہ مضر نہیں اور کسی مومن کو آگ کا عذاب نہیں ہوگا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو سود خوری سے منع فرمایا اور باز نہ رہنے والوں کو عذاب نار کی دھمکی دی اور پھر اپنی رحمت کے استحقاق کے لیے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کو موقوف علیہ قرار دیا تو اس سے معلوم ہوا کہ نافرمانی اور معصیت غضب الٰہی کا موجب ہے وفیہ رد علی المرجئۃ فی قولھم لا یضر مع الایمان ذنب ولا یعذب بالنار اصلا (مدارک ص 141 ج 1) ۔
Ayah 3:133200 وَجَنَّةٌ مَّغْفِرَ ةٌ پر معطوف ہے اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہے ای الی اسبابھا من الاعمال الصالحة (روح ص 56 ج 4) یعنی بخشش اور جنت کی طرف دوڑنے سے ایسے اعمال صالحہ کی طرف دوڑنا اور مسابقت کرنا مراد ہے جو استحقاق مغفرت اور دخول جنت کا موجب ہوں۔ مثلا اخلاص توحید، جہاد، انفاق وغیرہ۔ حضرت عثمان ؓ سے منقول ہے کہ یہاں موجب مغفرت سے اخلاص عبادت اور توحید مراد ہے۔ والثالث انہ الاخلاص وھو قول عثمان بن عفان ؓ ووجہہ ان المقصود من جمیع العبادات الاخلاص کما قال وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ (کبیر ص 74 ج 3) اور جنت کا آسمانوں اور زمین کے برابر چوڑا ہونا اپنے ظاہر پر محمول ہے یعنی اس جنت کی چوڑائی ساتوں آسمانوں اور زمین کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر بجھانے سے جس قدر پھیلاؤ پیدا ہوگا۔ اس کے برابر ہوگی اور ظاہر ہے عرض ہمیشہ طول سے کم ہوتا ہے جب اس جنت کا عرض اس قدر ہے تو اس کا طول اس سے کہیں زیادہ ہوگا جس کا اندازہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قال ابن عباس تقرن السموات والارض بعضہا الی بعض کما تبسط الثیاب ویوصل بعضہا ببعض فذلک عرض الجنۃ ولا لیعلم طولہا الا اللہ وبذا قول الجمہور (قرطبی ص 204 ج 4) اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے خصوصیت کے ساتھ چوڑائی کا بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ یہ جنت کی غایت وسعت اور کشادگی سے کنایہ ہے فلیس المقصود تحدید عرضہا بل الکلام کنایۃ عن غایۃ السعۃ بما ھو فی تصور السامعین (روح ص 56 ج 4) اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ حضرت شیخ علام (رح) نے فرمایا کہ ایسا وسیع اور کشادہ جنت جن متقی لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے وہ دو فریق ہیں۔ اَلَّذِینَ یُنفِقُوْنَ سے وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِنْنَ تک پہلے فریق کا ذکر ہے۔ اور یہ فریق اعلیٰ ہے۔ اور وَالَّذِیْ اِذَافَعَلُوْا سے وَھُمْ یَعْلَمُونَ تک دوسرے فریق کا ذکر ہے اور یہ پہلے کی نسبت ادنی ہے۔