Ayah 3:4159 :۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے گھر میں حمل کی علامت یہ وگی کہ تم متواتر تین دن تک لوگوں سے بات چیت نہیں کرسکو گے۔ تمہاری زبان بند ہوجائے گی اور تین دن صرف اشاروں ہی سے کام چلاؤگے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ انہ تعالیٰ حبس لسانہ ثلثۃ ایام فلم یقدران یکلم الناس الا رمزا (کبیر ج 2 ص 668)
60 زوال آفتاب سے غروب تک کو عشی اور صبح صادق سے چاشت تک کو ابکار کہتے ہیں۔ تسبیح سے بعض مفسرین نے نماز مراد لی ہے اور بعض نے ذکر سے ذکر قلبی اور تسبیح سے ذکر لسانی مراد لیا ہے۔ مطلب یہ کہ ان ایام میں شکر نعمت کے طور پر صبح شام زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔ نتیجہ : حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی اللہ سے دعا کی۔ جب بیٹے کی خوشخبری ملی تو اللہ کی قدرت کاملہ پر تعجب کا اظہار کیا یہ چیزیں عجز و احتیاج اور نقصان قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر بیوی کے حاملہ ہونے کی اللہ سے علامت دریافت کرتے ہیں۔ جو نقصان علم کی دلیل ہے۔ اس لیے وہ معبود ومستعان بننے کے لائق نہیں ہیں۔
Ayah 3:4261 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ قدرت خداوندی سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور پھر بچپن میں ہی باتیں بھی کی تھیں اور پھر جب بڑے ہوئے تو ان کے ہاتھوں پر بڑے عجیب و غریب معجزے ظاہر ہوئے مثلاً مٹی کے پرندے میں جان ڈالنا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرنا، مردوں کو زندہ کرنا اور لوگون کو ان کی پوشیدہ باتیں بتانا۔ تو ان تمام چیزوں سے یہود ونصاریٰ کے دلوں میں مختلف شبہات پیدا ہوئے۔ یہودیوں نے حضرت مریم صدیقہ کے بارے میں زبان طعن دراز کی اور ان پر بدکاری کی تہمت لگائی۔ دوسری طرف عیسائیوں نے افراط سے کام لے کر حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو مافوق الاسباب قدرت اور تصرف واختیار کا مالک قرار دیا اور انہیں حاجت اور مشکلات میں پکارنے لگے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاریٰ کے یہ تمام شبہات دور فرمائے۔ پہلے حضرت مریم صدیقہ کی عفت اور پاکدامنی کی شہادت دی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش محض قدرت خداوندی سے بغیر باپ کے ہوئی ہے اور حضرت مریم صدیقہ عفیفہ اور پاکدامن ہیں اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا ذکر کر کے فرمایا کہ یہ تمام معجزے محض اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے ان کے ظہور میں ان کے تصرف اور اختیار کو کوئی دخل نہ تھا۔ اس کے ضمن میں حضرت مریم کی الوہیت کی بھی تردید فرما دی۔ اِصْطَفٰکَ تجھے باقی تمام خدام بیت اللہ پر فوقیت دی اور خصوصی خوبیوں سے ممتاز فرمایا۔ وَطَھَّرَکِ ۔ اخلاق ذمیمہ، عادات قبیحہ، کفر ومعصیت یا حیض ونفاس وغیرہ سے پاک رکھا۔ وَاصْطَفٰکِ عَلیٰ نِسَاءِ الْعٰلَمِیْنَ سے حضرت مریم کے زمانہ کی عورتیں مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اس زمانہ کی عورتوں پر فوقیت اور بزرگی عطا کی اس لیے اس سے ان کا حضرت فاطمۃ الزہراء حضرت عائشہ اور حضرت خدیجہ ؓ سے افضل ہونا لازم نہیں آتا۔ (والتفصیل فی روح المعانی ج 3 ص 105-6)
Ayah 3:43ف 62 اس سے معلوم ہوا کہ حضرت مریم اللہ کی طرف سے اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے آگے رکوع اور سجدہ کرنے پر مامور تھیں لہذا وہ معبود اور الہ نہیں ہوسکتیں۔
Ayah 3:4463 یہ جملہ معترضہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے یہ واقعات جو آپ بیان کر رہے ہیں۔ یہ سب سینکڑوں برس پہلے کے ہیں۔ ان واقعات میں آپ موجود نہیں تھے لیکن اس کے باوجود آپ ان کی صحیح صحیح تفصیلات بیان فرما رہے ہیں۔ لہذا یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ غیب کی خبریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی بتائی ہیں اور آپ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ فیہ دلالۃ علی نبوۃ محمد ﷺ حیث اخبر عن قصۃ زکریا ومریم ولم یکن قرا الکتب واخبر عن ذالک و صدقہ اھل الکتاب بذالک (قرطبی ج 4 ص 85) حضرت مریم کے والد چونکہ پہلے ہی فوت ہوچکے تھے اس لیے ان کی پرورش کا سوال پیدا ہوا تو ہیکل سلیمانی کے تمام خدام باہم جھگڑنے لگے ہر ایک کی یہ خواہش تھی کہ حضرت مریم کی کفالت اس کے سپرد ہو۔ چناچہ اس جھگڑے کو قرعہ کے ذریعے طے کیا گیا۔ قرعہ ڈالنے کا یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ ہر مدعی اپنا اپنا قلم لائے ان سب قلموں کو بہتے ہوئے پانی میں ڈالا جائے۔ جس کا قلم ٹھہرا رہے اور پانی کے ساتھ بہ نہ جائے اسے کفالت کا حقدار قرار دیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور اس طرح قرعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام پڑا (قرطبی ج 4 ص 86) بعض نے لکھا ہے کہ جو حقدار ہوگا اس کا قلم پانی کے بہاؤ کی مخالف سمت کو حرکت کرے گا (کبیر ج 2 ص 672) بہرحال یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ایک معجزہ تھا۔
Ayah 3:4564 ۔ یہاں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو انسانی شکل میں حضرت مریم کے پاس بیٹے کی خوشخبری سنانے کے لیے بھیجا۔ چناچہ حضرت جبریل نے خوشخبری کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ وہ محض کلمہ کن سے پیدا ہوگا اور اس کا نام عیسیٰ اور لقب مسیح ہوگا اور وہ ماں کی طرف منسوب ہوگا کیونکہ وہ باپ کے بغیر ہوگا۔ دنیا اور آخرت میں بڑی شان والا اور خدا کے مقربین میں سے ہوگا۔
Ayah 3:4665:۔ یہ بھی فرشتے کا کلام ہے یعنی وہ بچہ شیر خوارگی کے زمانہ میں بھی باتیں کرے گا اور بڑھاپے میں بھی اور صالحین میں سے ہوگا شیر خوارگی کے زمانہ میں باتیں کرنا تو ایک معجزہ تھا۔ اس لیے اس کا ذکر کرنے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے مگر بڑھاپے میں باتیں کرنا تو کوئی کمال نہیں پھر اس کے ذکر کی آخر کیا وجہ ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عمر 33 برس کی ہوئی اس وقت اللہ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ چناچہ ابھی تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر ہیں اور ان کا کہولت میں باتیں کرنا ابھی باقی ہے کیونکہ کہولت چالیس سال کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ اس لیے وہ آسمان سے اتریں گے اور دوبارہ زمین پر آکر چوبیس سال زندگی بسر کریں گے اور اس طرح کہولت میں باتیں کرنے کا خدائی وعدہ پورا ہوگا۔ وعلی ما ذکر فی سن الکہولۃ یراہ بتکلیمہ (علیہ السلام) کہلا تکلیمہ لھم کذالک بعد نزولہ من السماء وبلوغہ ذالک السن بناء علی ما ذھب الیہ سعید بن المسیب وزید بن اسلم وغیرھما انہ (علیہ السلام) رفع الی السماء وھو ابن ثلاث وثلثین سنۃ وانہ سینزل الی الارض ویبقی فیھا اربعا وعشرین سنۃ کما رواہ ابن جریر بسند صحیح ( روح ج 3 ص 164، کبیر ج 2 ص 677، قرطبی ج 4 ص 90) ویکلم الناس فی المھد وکہلا قال ابن زید رفعہ اللہ الیہ قبل ان یکون کہلا قال وینزل کہلا۔ ابن جریر ج 3 ص 184) یہ آیت حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حیات اور رفع الی السماء کی واضح دلیل ہے۔ نیز یہ آیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کے بطلان پر نص صریح ہے کہ اس سے ان کے تغیر احوال کا پتہ چلتا ہے۔ مثلاً ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، طفل ہونا اور کہل ہونا وغیرہ اور جو ذات اس قدر متغیر اور انقلاب زمانہ سے متاثر ہو وہ معبود اور الہ بننے کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ المراد عنہ بیان کونہ متقلبا فی الاحوال من الصبا الی الکھولۃ والتغیر علی الالہ تعالیٰ ومحال والمراد منہ الرد علی وفد مجران فی قولھم ان عیسیٰ کان الہا (کبیر ج 2 ص 677) ۔
Ayahs 3:47–4866:۔ حضرت مریم چونکہ ابھی کنواری تھیں۔ اور نہایت ہی عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ اس لیے یہ خوشخبری سن کر تعجب اور حیرت سے بولیں کہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ میرے بیٹا کس طرح پیدا ہوگا۔
67 اس پر فرشتے نے کہا کہ تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ظاہری اسباب کے بغیر جو چاہتا ہے پیدا کرلیتا ہے۔ اس کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں۔ جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو بس اس کام کے مکمل ہوجانے کے لیے صرف اس کا ارادہ ہی کافی ہوتا ہے۔ وَیُعَلِّمُهٗ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاة وَالْاِنْجِیْلَ ۔ یہ بھی فرشتے کا مقولہ ہے اور یُبَشِّرُکَ پر معطوف ہے۔ فرشتے نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ اس ہونے والے بچے کو کتاب و حکمت و اور تورات وانجیل کا علم دے گا۔ یہاں الکتاب میں الف لام عہد کا ہے اور اس سے قرآن مراد ہے۔ اور حکمت سے سنت رسول اللہ یا پختہ باتیں مراد ہیں۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے اتریں گے اس وقت قرآن وسنت کا علم ان کو اللہ کی طرف سے وہبی طور پر عطا ہوگا۔ وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ ۔ رسولا کا عامل ناصب محذوف ہے ای یجعلہ رسولا۔ (روح ج 3 ص 166) اِنِّیْ میں رسولا عامل ہے۔ یعنی وہ بچہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا اور ان سے کہے گا کہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے پاس اپنی صداقت کی نشانیاں لے کر آیا ہوں۔
Ayah 3:4968 یہ اَنِّیْ قَدْجِئْتُکُمْ سے بدل ہے اور اذن اللہ سے مراد امر اللہ ہے اور یہاں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی تفصیل شروع ہوتی ہے ان کا ایک معجزہ تھا کہ وہ مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں دم کردیتے تو وہ زندہ ہوجاتا۔ باذن اللہ کا اضافہ کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ مٹی کے بت کا زندہ ہوجانا یہ محض اللہ کے حکم سے تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس میں کوئی تصرف یا اختیار نہیں تھا۔ والمراد بامر اللہ واشار بذالک الی ان احیاءہ من اللہ تعالیٰ ولکن بسبب النفع ولیس ذالک مخصوصیۃ فی عیسیٰ (علیہ السلام) الخ (روح ج 3 ص 168)
69 یہ اخلق پر معطوف ہے۔ اکمہ اسے کہتے ہیں۔ جو ماں کے پیٹ سے ہی اندھا پیدا ہوا ہو اور ابرص کوڑھی کو کہتے ہیں۔ یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات تھے۔ جب ان کے پاس کوئی علاج کے لیے آتا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تو اللہ شفا عطا کردیتا۔ اسی طرح مردوں کو زندہ کرنے کے لیے بھی خدا سے دعا مانگتے اور یہ سب کچھ اللہ مشیت اور اس کے حکم سے ہوتا تھا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور کاموں کا اختیار نہیں تھا۔ اس لیے وہ الہ اور معبود نہیں تھے۔ وکان یداویھم بالدعاء الی اللہ تعالیٰ بشرط الایمان (روح ج 3 ص 169)
70 یہ بھی ان کا معجزہ تھا۔ وہ لوگوں کو بتا دیتے تھے کہ وہ کیا کھا کر آئے ہیں اور کیا گھر بچا کر رکھا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے بتانے سے انہیں معلوم ہوتا تھا۔ وہ خود غیب نہیں جانتے تھے۔
71 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مذکورہ معجزات دکھا کر اپنی قوم سے کہیں گے کہ اگر ایمان لانا چاہو اور میری تصدیق کرنی چاہو تو یہ معجزات میری رسالت ونبوت کی بہت بڑی دلیل ہیں۔ کیونکہ یہ خارق عادت امور پیغمبر کے سوا کسی جھوٹے مدعی کے ہاتھ پر ہرگز ظاہر نہیں ہوسکتے۔
Ayah 3:5072 مُصَدِّقاً کا عطف رسولا پر ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ایک فریضہ یہ بھی تھا کہ وہ تورات کی تصدیق کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ تورات خدا کی کتاب ہے اور اس کی تعلیمات پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ۔ تورات کے بعض احکام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے منسوخ بھی کیے گئے مثلا کئی چیزیں جو تورات میں حرام تھیں حلال کردی گئیں۔ وَجِئْتُکُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ۔ مذکورہ دلائل میری نبوت و رسالت پر کافی ہیں۔ اس لیے خدا سے ڈرو۔ میرا انکار نہ کرو اور میری اطاعت کرو۔
Ayah 3:5173 اور میرے ان حیرت انگیز اور تعجب خیز معجزات سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجانا اور مجھے متصرف ومختار اور کارساز نہ سمجھ بیٹھنا میں خدا کا شریک نہیں ہوں بلکہ اللہ کا بندہ ہوں۔ جو خدائے واحد تمہارا پروردگار ہے۔ وہی میرا پروردگار اور کارساز اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور صرف اسے ہی پکارو اور یہی صراط مستقیم اور سیدھی راہ ہے۔ جس کی طرف تمام انبیاء (علیہم السلام) دعوت دیتے رہے۔
Ayah 3:5274 یہاں کلام میں اندماج ہے۔ یعنی عِلْماً سے پہلے کچھ عبارت محذوف ہے ای فولد عیسیٰ کما بشر بہ وبلغ قومہ الرسالۃ۔ یعنی جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حسب بشار پیدا ہوچکے اور تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دیدیا تو یہودیوں نے ان کے خلاف حسدوبغض کی وجہ سے سازشیں شروع کردیں۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے کفر و انکار اور عداوت کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے ماننے والوں کو اپنی مدد اور نصرت کی دعوت دی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے کا قول وَرَسُوْلاً اِلیٰ بَنِیْ اِسْرَائِیلَ تک اور اس کے بعد اندماج ہو اور مذکورہ عبارت اس کے بعد محذوف ہو (کذا فی الروح ج 3 ص 174) اس سے بھی عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید ہوگئی کہ جو شخص خود عالم اسباب میں مدد اور نصرت کا طالب ہے۔ وہ کس طرح الہ بن سکتا اور دوسروں کی مشکل کشائی اور حاجت برآری کرسکتا ہے۔
75 حَوَّارِیِّیْن حواری کی جمع ہے یہ لوگ اپنے علاقہ کے سردار تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نہایت اخلاص سے ایمان لا چکے تھے وہ بول اٹھے کہ ہم اللہ کے دین کی خاطر آپ کی مدد کریں گے۔ آپ اس پر گواہ رہیں کہ ہم ایمان لا چکے ہیں اور دل وجان سے اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ وقیل کانوا ملوکا۔ قالہ ابن عون (قرطبی ج 4 ص 98 وکذا فی الکبیر ج 2 ص 686)
Ayah 3:5376 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ نصرت کے بعد حواریوں نے اللہ سے مناجات شروع کردی اور صدق نیت سے اقرار کرلیا کہ وہ اللہ کے نازل کردہ تمام احکام پر ایمان لے آئے ہیں اور اس کے پیغمبر کی اطاعت قبول کرچکے ہیں اس لیے انہیں بھی ان لوگوں کی فہرست میں شامل فرمالیا جائے جو اللہ کی توحید اور اس کے پیغمبروں کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں ای اکتبنا فی جملۃ من شھد لک بالتوحید ولانبیاءک بالتصدیق (کبیر ج 2 ص 687) اس سے معلوم ہوا کہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحابی جو مسیحی تھے وہ تو صرف اللہ ہی کو معبود مانتے تھے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق ان کا صرف یہی نظریہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کا اتباع ان پر لازم ہے ان کو الہ یا ابن اللہ کہنا وغیرہ خرافات تو ان کے تصورت میں بھی نہ تھیں۔
Ayah 3:5477 مَکْرٌ عربی کا لفظ ہے جس کے معنی گہری اور خفیہ تدبیر سوچنے کے ہیں اور یہ چیز اپنے اصل کے اعتبار سے بری اور معیوب نہیں ہے اس لیے اللہ کی طرف اس کی نسبت بےکھٹکے جائز ہے۔ البتہ خفیہ تدبیر اگ رکسی ناجائز کام کے لیے ہوگی تو معیوب و مذموم ہوگی۔ مَکَرُوْا کا فاعل یہودی ہیں یہ لوگ چونکہ مشرک اور بدعقیدہ تھیے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی توحید پرستی اور حق بیانی سے برہم ہو کر ان کے دشمن بن چکے تھے اس لیے انہوں نے ان پر الحاد اور بیدینی کا الزام لگا کر اپنی مذہبی عدالت سے ان کے کافر اور واجب القتل ہونے کا فیصلہ حاصل کرلیا۔ یہودی چونکہ رومیوں کی مشرک اور بت پرست حکومت کے ما تحت تھے اور رومی حکومت کی منظوری کے بغیر کسی قتل کی سزا نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) پر بغاوت کا ایک جھوٹا مقدمہ بھی قائم کردیا اور رومی عدالت سے ان کے قتل کے احکام حاصل کرلیے اس وقت سزائے موت صلیب کے ذریعے دی جاتی تھی۔ اس لیے اب وہ ان کو سولی پر لٹکانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تدبیریں خاک میں ملا دی۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو ان سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا جب یہودی حضرت کو سولی کے لیے پکڑنے آئے تو جس آدمی کو اندر بھیجا اللہ نے اس کو حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ہمشل بنا دیا اور ان کو اوپر اٹھا لیا۔ چناچہ یہودیوں نے اسی شخص کو مسیح سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا۔
Ayah 3:5578 حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے بھی عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر حضرت مسیح (علیہ السلام) الہ اور متصرف ومختار ہوتے تو یہودیوں کے مکر سے خود بخود بچ جاتے۔ لیکن اس میں وہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے محتاج تھے۔ متوفی توفی سے اسم فاعل ہے۔ اور توفی کے معنی کسی چیز کو پورے طور پر لینے اور وصول کرنے کے ہیں۔ التوفی اخذا لشی ٗ وافیا (کبیر ج 2 ص 689) اور رَافِعُکَ ماقبل کی تفسیر ہے اور اذ ظرف مکروا کے متعلق ہے۔ یعنی یہودی جب حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی خفیہ تدبیریں سوچ رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ خوشخبری سنا دی کہ میں تم کو پورا پورا یعنی روح مع الجسد آسمانوں پر اٹھا لوں گا۔ اور ان کافروں کے ناپاک منصوبوں سے تم کو بچا لوں گا۔ المراد آخذک وافیا بروحک وبدنک فیکوان ورافعک الی کالمفسر لما قبلہ (روح۔ ج 3 ص 179) اللہ تعالیٰ نے رافعک کے ساتھ اس سے پہلے مُتَوَفِّیْک کا اضافہ فرمایا ہے۔ حالانکہ رفع الی السماء پر دلالت کرنے کے لیے رافعک الی ہی کافی تھا۔ امام رازی (رح) اسکی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر صرف رافعک الی پر ہی اکتفا کیا جاتا تو اس سے شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح کا رفع ہوا ہے جسد کا نہیں ہوا۔ اس لیے متوفیک لا کر صراحت فرما دی کہ رفع روح مع الجسد ہوا ہے نہ کہ صرف روح کا۔
وَلما علم اللہ ان من الناس من یخطر ببالہ ان الذی رفعہ اللہ ھو روحہ لا جسدہ ذکر ھذا الکلام لیدل علی انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) رفع بتمامہ الی السماء بوحہ وبجسدہ الخ (کبیر ج 2 ص 689) ۔ یہ آیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زندہ آسمانوں پر اٹھائے جانے کی صریح اور واضح دلیل ہے اس کے علاوہ اور کئی آیتوں میں بھی اس کی صراحت ہے اور نزول مسیح کے بارے میں حدیثیں تو درجہ تواتر کو پہنچ چکی ہیں۔ جیسا کہ امام ابن جریر اور دیگر مفسرین نے کہا ہے۔ قال ابو جعفر والی ھذہ الاقوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی ذالک انی قابضک من الارض ورافعک الی التواتر الجساد عن رسول اللہ ﷺ انہ قال ینزل عیسیٰ بن مریم فیقتل الدجال ثم یمکث فی الارض۔ الخ (ابن جریر ج 3 ص 184) چناچہ ایک مرفوع روایت میں ہے جسے حضرت ابوہریرۃ روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ضرور بالضرور تم میں حاکم عادل بن کر نازل ہوں گے الخ۔ الفاظ ملاحظہ ہوں۔ ان سعید بن المسیب سمع ابا ہریرہ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ الخ (صحیح بخاری ج 1 ص 296، ج 1 ص 336، ج 1 ص 490) یہ روایت حدیث کی تمام متداول کتابوں میں موجد ہے۔ نزول کے بارے میں کتب حدیث میں جتنی بھی روایتیں موجود ہیں ان سب میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کی صراحت موجود ہے۔ کسی ایک روایت میں بھی مثیل عیسیٰ کا لفظ نہیں آیا اور نہ ہی کسی مرفوع حدیث میں اور نہ ہی صحابہ کرام، تابعین اور اتباع تابعین کے کسی اثر میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی وفات کا ذکر آیا ہے۔ بلکہ صحابہ اور تابعین سے حیات مسیح تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس سے جو متوفی کہ کا معنی ممیتک بخاری میں منقول ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مقابلہ میں حضرت ابن عباس سے جو روایت صحت کے ساتھ منقول ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ چناچہ علامہ قرطبی رقمطراز ہیں۔ والصحیح ان اللہ تعالیٰ رفعہ الی السماء من غیروفاۃ ولا نوم کما قال الحسن وابن زید وھو اختیار الطبری وھو الصحیح عن ابن عباس وقالہ الضحاک (قرطبی ج 4 ص 100) ثانیاً اگر روایت صحیح بھی ہو تو بھی اس کا مفہوم یہ نہیں کہ حضرت مسیح فوت ہوچکے ہیں بلکہ اس صورت میں آیت میں تقدیم وتاخیر ہوگی کیونکہ واو مطلق جمع کے لیے آتی ہے ترتیب لازم نہیں اور مطلب یہ ہوگا کہ تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور پھر آخر زمانہ میں زمین پر اتار کر تجھے موت دینے والا ہوں۔ جیسا کہ حضرت قتادہ سے منقول ہے۔ عن قتادۃ قال ھذا من المقدم والمؤخر ای رافعک الی ومتوفیک (روح ج 3 ص 179) ۔ لفظ توفی کے معنی تمام اہل لغت کے نزدیک اخذا الشیٗ وافیا کے ہیں اور قرآن مجید میں یہ لفظ حیات کے مقابلہ میں کہیں استعمال نہیں ہواحیات کے مقابلہ میں لفظ موت آیا ہے۔ مثلاً کُنْتُمْ اَمْوَاتاً فَاَحْیَاکُمْ چُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (بقرہ رکوع 3) اَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتاً اَحْیَاءً وَّاَمْوَاتاً (مرسلات رکوع 1) بلکہ توفی کے مقابلہ میں ہونا آیا ہ۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ (مائدہ رکوع 6) البتہ اس لفظ کا اطلاق موت پر بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہاں بھی اخذ الشیٗ وافیا ہوتا ہے تو موت بھی توفی کا ایک فرد ہے۔ جس طرح بدن کے ساتھ اٹھالینا بھی اس کا فرد ہے۔ مگر اس آیت میں رفع روح مع الجسد مراد ہے نہ کہ موت۔ مرزائیوں کی طرف سے ایک قاعدہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب توفی سے باب تفعل ہو اور فاعل اللہ ہو اور مفعول روح ہو تو وہاں قبض روح کے سوا کوئی معنی نہیں ہوتا۔ یعنی رفع مع الجسد مراد نہیں ہوتا۔ یہ امت مرزائیہ کی طرف سے سراسر فریب اور دھوکہ ہے اول تو اس لیے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سوا کسی کا رفع روح مع الجسد ثابت نہیں اس لیے یہ الفاظ کسی دوسرے کے لیے وارد نہیں ہوئے۔ ثانیاً یہ قاعدہ من گھڑت اور جعلی ہے۔ کسی لغت کی کتاب میں اس کا کوئی مذکور نہیں۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ جب رفع کا فاعل اللہ ہو اور مفعول ذی جسد ہو اور اس کا صلی الی ہو تو وہاں رفع جسد کے سوا کوئی معنی نہیں ہوسکتا۔ قرآن سے حدیث اور محاورات عرب سے اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکتا۔ والتفصیل فی رسالۃ عقیدۃ الاسلام للسید انور شاہ (رح)۔
79 ۔ پہلے تین وعدے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات سے مخصوص تھے اور یہ وعدہ ان کے متبعین اور ان پر ایمان لانے والوں کے ساتھ ہے۔ اَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ سے مسلمان اور سچے عیسائی مراد ہیں اور اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے مراد یہود ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا اور ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ فوقیت اور غلبہ سے معنوی اور قوت دلائل کے اعتبار سے غلبہ مراد ہے۔ چناچہ اس حیثیت سے یہودی ہمیشہ مغلوب رہے ہیں۔ اگر مادی اور سیاسی حیثیت سے فوقیت مراد ہو تو اس اعتبار سے بھی یہودی ہمیشہ ذلیل و خوار اور مقہور و محکوم ہی رہے ہیں۔ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ اور جب تم سب میدان حشر میں میرے سامنے حاضر آؤ گے تو عملی اور حتمی فیصلہ تمہارے اختلافات کا میں خود کروں گا۔
Ayah 3:5680 اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں مانتے تھے اور انہیں قتل کرنا چاہتے تھے یا جنہوں نے ان کو معبود بنا لیا تھا۔ آخرت کا عذاب تو ظاہر ہے اور دنیا کے عذاب سے قید وبند اور قتل کا عذاب مراد ہے۔ چناچہ دنیا میں بھی ان لوگوں کو عذاب دیا گیا اور آخرت میں بھی دیا جائیگا۔ وکذالک فعل بمن کفر بالمسیح من الیہود او غلافیہ او اطراہ من النصاری عذبھم فی الدنیا بالقتل والسبی واخذ الاموال وازالۃ الایدی عن الممالک وفی الدار الآخرۃ عذابھم اشد واژق۔ (ابن کثیر ج 1 ص 367) اور ان کافروں کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا جن کو انہوں نے اپنے حاجت روا اور مشکلشکا سمجھ رکھا ہے وہ انہیں نہ دنیا میں خدا کے عذاب سے بچا سکیں گے اور نہ آخرت میں۔
Ayah 3:5781 اور جن لوگوں نے اللہ کے تمام پیغمبروں کو مانا اور ان کے لائے ہوئے پیغام توحید کو تسلیم کیا اور عیسائیوں کی طرح اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارا اور اعمال صالحہ بجا لا کر ایمان کے تمام تقاضے پورے کیے تو انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ملے گا اور اس میں کسی قسم کی کی نہیں کی جائے گی۔ وَاللہُ لَا یُحِبُّ الظَّالِمِیْنَ ۔ اس لیے مومنین کے اجر وثواب میں کمی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ مزدور کو اس کی مزدوری نہ دینا یا اس میں کمی کرنا ظلم ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔ اس لیے اس بات کا ادنی احتمال بھی نہیں ہے کہ وہ کسی کے اجر میں کمی کرے گا۔
Ayah 3:5882 یہ جملہ معترضہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی صداقت کے اظہار کیلئے لایا گیا ہے ذَالِکَ مبتدا ہے اور نَتْلُوْهُ عَلَیْکَ اس کی خبر ہے مِنَ الْآیَاتِ وَالذِّکْرِ الْحکِیْمِ خبر بعد خبر ہے یا نَتْلُوْهُ میں ضمیر منصوب سے حال ہے اور ذکر حکیم سے مراد قرآن ہے یعنی جو کچھ ہم آپ پر نازل کر رہے ہیں۔ یہ آپ کی نبوت کے واضح دلائل ہیں اور حکمت سے بھرپور قرآن کی آیتیں ہیں۔ جن کا علم وحی کے بغیر ناممکن ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ ای الحجج الدالۃ علی صدق نبوتک اذا علمتہم بما لایعلمہ الا قائ کتاب او معلم ولست بواحد منہما فلم یبق الا انا وقد عرفتہ من طریق الوحی (روح ج 3 ص 58) ۔
Ayah 3:5983 یہ سابقہ شبہ کے جواب کی تکمیل ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ان کے معبود ہونے کی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی یہ کام قدرت خداوندی کے سامنے مشکل یا عجیب ہے ان کی پیدائش قدرت خداوندی کا ایک نمونہ ہے۔ جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ماں اور باپ دونوں کے بغیر قدرت خدا کا نمونہ تھی۔ جس طرح حضرت آدم کی پیدائش محض اللہ کی قدرت اور اس کے ارادے سے ہوئی اسی طرح حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی۔
Ayah 3:6084 الحق خبر ہے اور اس کا مبتدا ھُوَ محذوف ہے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی طرح محض ہماری قدرت کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور الہ نہیں تھے اور ان کی والدہ حضرت مریم صدیقہ پاکباز عورت تھی یہ سب حق ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اس کے مقابلے میں یہود ونصاریٰ کے نظریات غلط اور باطل ہیں۔ مثلاً نصاریٰ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ معبود اور کارساز ہیں اور یہودیوں نے حضرت مریم کو زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے دونوں کے خیالات کا ابطال فرمایا۔ قال ابو مسلم المراد ان ھذا الذی انزلت علیک ھو الحق من خبر عیسیٰ (علیہ السلام) لا ما قالت النصاریٰ والیھود فانصاری قالوا ان مریم ولدت الہا والیھود رموا مریم (علیہا السلام) بالافک (کبیر ج 2، ص 697) ۔
Ayah 3:6185 فِیْهِ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے الوہیت مسیح کو دلائل قطعیہ سے باطل کرنے کے بعد پیغمبر خدا ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ حضرت مسیح کے الہ (معبود) نہ ہونے اور اللہ کا بندہ اور رسول ہونے کے قطعی اور یقینی دلائل کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اگر وفد نجران الوہیت مسیح کے بارے میں آپ سے اختلاف اور جھگڑا کریں تو اب آپ انہیں مباہلہ کا چیلنج کردیں کیونکہ دلائل سے تو مسئلہ واضح ہوچکا ہے اور ان سے کہیں کہ تم بھی اپنی عورتوں اور بچوں کو لے آؤ اور ہم بھی لے آتے ہیں۔ اور پھر عاجزی اور خشوع سے دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں لیکن وفد نجران کے پادری اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ سچے رسول ہیں اور آپ کے مقابلہ میں مباہلہ کرنے سے وہ تباہ ہوجائیں گے اس لیے وہ مباہلہ پر آمادہ نہ ہوئے اور آپ سے صلح کرلی۔ یہ آیت مباہلہ کے نام سے مشہور ہے جس کا شان نزول اور صحیح مفہوم اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔ شیعہ حضرات اول تو قرآن مجید کو صحیح مانتے ہی نہیں بلکہ اس میں بیسیوں غلطیاں اور خامیاں نکالتے ہیں اور اگر مانتے ہیں تو خواہ مخواہ قرآن کی آیتوں سے کھینچ تان کر اماموں کی امامت اور حضرت علی کی خلافت بلا فصل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ آیت مباہلہ سے بھی شیعوں نے حضرت علی کی خلافت بلا فصل پر استدلال کیا ہے وہ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت حضرت رسول خدا ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حسنین کو ساتھ لیا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اَنْفُسَنَا سے حضرت علی اور اَبْنَاءَنَا سے حضرات حسنین اور نِسَاءَنَا سے حضرت فاطمہ مراد ہیں تو معلوم ہوا کہ حضرت علی نفس رسول ہیں اور نفس رسول کی موجودگی میں اور کوئی خلافت کا مستحق نہیں ہوسکتا۔
جواب :۔ یہ شیعوں کی طرف سے ایک سراسر مغالطہ ہے اور اس آیت سے نہیں بلکہ ایک روایت سے ہے کیونکہ روایت کو ساتھ ملائے بغیر ان کا مطلب آیت سے نہیں نکل سکتا۔ بلکہ آیت میں اس طرف ادنی سا اشارہ بھی موجود نہیں۔ دوم اس لیے کہ اَنْفُسَنَا سے صرف حضرت علی کو مراد لینا یہ مفسرین کی تصریحات کے خلاف ہے۔ بلکہ اس سے خودحضور ﷺ کی ذات یا آپ کے ساتھ حضرت علی اور دوسرے مسلمان مراد ہیں۔ چناچہ مفسر طبری فرماتے ہیں۔ لا نسلم ان المراد بانفسنا الامیر بل المراد نفسہ الشریفۃ ﷺ (ج 3 ص 192) اور معالم میں ہے۔ عنی نفسہ وعلیا ؓ والعرب تسمی ابن عم الرجل نفسہ کما قال اللہ تعالیٰ ولا تلمزوا انفسکم یرید اخوانکم وقیل ھو علی العموم لجماعۃ اھل الدین۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ حضرات چونکہ آپ سے علیحدہ گھر میں رہتے تھے اس لیے مباہلہ میں ان کو شریک کرنے کے لیے آپ نے ان کو اپنے گھر بلا لیا لیکن مباہلہ کی نوبت ہی نہ آئی اگر نجران کے عیسائی مباہلہ کرتے تو حضرت نبی کریم ﷺ ازواج مطہرات کو بھی یقیناً ساتھ لے جاتے اور تمام مسلمانوں کو اپنے اہل و عیال سمیت مباہلہ کے لیے نکلنے کا حکم دیتے۔ علامہ ابو حیان اندلسی فرماتے ہیں۔ ولو عزم نصاریٰ نجران علی المباھلۃ وجاء و الھا لامر النبی ﷺ المسلمین ان یخرجوا باھالیھم للمباھلۃ (بحر ج 1 ص 479) اور حضرت امام محمد باقر ؓ تو فرماتے ہیں کہ مباہلہ کے لیے توحضور ﷺ خلفاء ثلاثہ کو بھی مع اہل و عیال ساتھ لے چلے تھے جیسا کہ امام ابن عساکر نے بیان کیا ہے۔ عن جعفر بن محمد عن ابیہ فی ھذہ الایۃ تعالوا ندع ابناءنا الایۃ قال فجاء بابی بکر وولدہ وبعمر وو ولدہ وبعثمان وولدہ وبعلی وولدہ (در منثور ج 2 ص 40، روح ج 3) اس لیے اس آیت سے شیعہ حضرات کا استدلال سراسر باطل ہے اس آیت سے نہ حضرت علی کی خلافت بلا فصل ثابت ہوتی ہے اور نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مباہلہ میں حضرت علی، فاطمہ، حسن، حسین ؓ کے سوا کوئی اور شریک نہیں ہوا۔ بلکہ معلوم ہوگیا کہ حضرت ابوبکر، عمر، اور عثمان ؓ کو بھی مباہلہ میں شریک ہونے کے لیے مع اولاد بلایا گیا اور اگر مباہلہ ہوجاتا تو تمام مسلمانوں کو مع اہل و عیال مباہلہ میں شریک ہونے کا حکم دیا جاتا۔
Ayah 3:6286 ہذا کا اشارہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مذکورہ تفصیلات کی طرف ہے ای المذکور فی شان عیسیٰ (علیہ السلام) قالہ ابن عباس (روح ج 3 ص 190) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تمام مذکورہ تفصیلات ہی صحیح اور درست ہیں اور نصاری کا الوہیت اور بنیت مسیح کا دعویٰ سراسر بطال ہے۔ ان ھذا ھو الحق لا مایدعیہ النصاری من کون المسیح (علیہ السلام) الہا وابن اللہ سبحانہ وتعالیٰ عما یقولہ الظالمون علوا کبیرا (روح ج 3 ص 190) ۔
87 یہ تمام گذشتہ بحث کا نتیجہ اور ماحصل ہے جب دلائل واضحہ سے ثابت ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کاملہ سے تھا اس سے ان کا الہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اسی طرح ان سے جو خارق عادت امور ظاہر ہوئے وہ ان کے معجزات تھے اور اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے ان میں ان کے اختیار اور تصرف کو کوئی دخل نہیں تھا۔ لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے معبود اور الہ نہیں تھے۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی بندگی اور پکار کے لائق نہیں اور قدرت و حکمت کے اعتبار سے وہ سب پر فائق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 3:6388 اتنی واضح تصریحات کے بعد بھی جو لوگ حق قبول نہ کریں اور توحید سے سرتابی کریں اور شرکیہ عقائد پھیلا کر شروفساد برپا کرنے میں مصروف رہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے مفسدین کو خوب جانتا ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں وہ ان کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دے گا۔
Ayah 3:6489 توحید سے متعلق نصاریٰ کے تمام شبہات کا ازالہ کرنے کے بعد تمام اہل کتاب کو توحید کی دعوت عام دی ہے۔ سواء مصدر بمعنی اسم فاعل ہے اور کلمہ سے بطور مجاز مرسل کلام مراد ہے یعنی اہل کتاب کو ایک ایسی بات کی دعوت دو جو تمہارے اور ان کے درمیان متفق علیہ ہے اور جس میں تورات، انجیل اور قرآن کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ ای لایختلف فیہا التوراۃ والانجیل والقرآن (روح ج 3 ص 193) اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ ۔ فموضع ان خفض علی البدل من کلمۃ (قرطبی ج 4 ص 106) یعنی وہ بات جس کی طرف اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے کو رب اور مالک ومختار سمجھیں۔ اور نہ ہی اپنے عالموں اور درویشوں کی خود ساختہ تحلیلات اور تحریمات کو مانیں۔ ای لانطیع احبارنا فیما احدثوا من التحریم والتحلیل (مدارک ج 1 ص 126) نصاریٰ میں چونکہ یہ تینوں باتیں موجود تھیں اس لیے ان تینوں کا ذکر کیا۔ وہ خالص اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ کے سوا مسیح کی عبادت بھی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے۔ فیعبدون غیر اللہ وھو المسیح ویشرکون بہ غیرہ (ج 2 ص 704) نیز وہ اپنے مولویوں اور پیروں کو حلال و حرام کا مختار سمجھتے تھے اور نذرونیاز اور سجدوں سے ان کی عبادت بھی کرتے تھے۔ انہم اتخذوا احبارھم ورہبانہم اربابا من دون اللہ فیدل علیہ وجوہ احدھا انہم کانوا یطیعونہم فی التحلیل والتحریم والثانی انہم کانوا یسجدون لاحبارھم الخ (کبیر ج 2 ص 705) بالکل اسی طرح جس طرح آجکل بدعتی لوگ اپنے مولویوں اور پیروں کی ہر بات پر وحی کی طرح ایمان لاتے ہیں اگرچہ وہ کتاب وسنت کے صریح خلاف ہو۔
90 لیکن اگر یہود ونصاریٰ اس دعوت توحید کو قبول نہ کریں تو پھر آپ ان سے کہہ دیں کہ اچھا تم اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان ہیں اور اللہ کی خالص توحید کو دل وجان سے ظاہراً و باطناً ماننے والے ہیں۔
Ayah 3:6591 پانچ شکوے : پہلے عقلی اور نقلی دلائل سے توحید کا اثبات فرمایا اور ساتھ ساتھ عیسائیوں کے شبہات متعلقہ توحید کا ازالہ کیا۔ اب یہاں سے اہل کتاب یہود ونصاریٰ پر پانچ شکوے بیان فرمائے ہیں۔ پہلا شکوہ یہودونصاریٰ آپس میں جھگڑتے تھے اور ہر فریق دعویٰ کرتا تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے دین پر تھے۔ نیز یہود ونصاریٰ یہ پر اپیگنڈا بھی کرتے تھے کہ ہمارا دین سچا ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے دین پر تھے اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ دین اسلام سے متنفر ہوجائیں۔ جب مسئلہ توحید دلائل سے واضح ہوگیا اور اہل کتاب کو اس کے نہ ماننے پر مباہلہ کا چیلنج بھی دیدیا گیا تو اب انہوں نے اسلام کے خلاف یہ پر اپیگنڈا شروع کردیا کہ ان کا دین ابراہیمی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا آگاہ فرمادیا کہ وہ ان کے غلط پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کے دعوے کی تردید کی ہے اور اہل کتاب سے فرمایا کہ جن کتابوں کو تم اپنی مزعومہ یہودیت اور نصرانیت کی بنیاد قرار دیتے ہو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سینکڑوں برس بعد نازل کی گئیں اس لیے یہ نہایت ہی بےعقلی کی بات ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا نصرانی تھے۔
Ayah 3:6692 یہاں اہل کتاب کی حماقت کا مزید اظہار فرمایا کہ پہلے تو تم حضرت مسوی اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے بارے میں جھگڑتے ہیں لیکن خیر ان کے بارے میں تو تمہیں کچھ ناقص سا علم تھا۔ لیکن اب یہ کیا حماقت ہے کہ تم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے بارے میں جھگڑا شروع کردیا حالانکہ تمہیں ان کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے بارے میں تم بالکل بیخبر ہو اور اللہ تعالیٰ کو ان کے دین کا خوب علم ہے اس لیے اب اللہ تعالیٰ کا اس بارے فیصلہ سن لو۔
Ayah 3:6793 اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو حنیف مسلم تھے اور مشرک بھی نہیں تھے یہاں نفی اس یہودیت اور نصرانیت کی ہے جس کے مدعی یہود ونصاریٰ تھے۔ کیونکہ ان لوگوں نے تورات وانجیل کو محرف اور دین موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کو مسخ کر کے اس کی اصل شکل بالکل بگاڑ کر رکھ دی تھی اور شرک و بدعت کو دین کا حصہ بنا ڈالا تھا البتہ اصل دین جو حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) نے پیش کیا تھا وہ سراسر دین اسلام اور توحید پر مبنی تھا۔ مگر موجودہ یہود ونصاریٰ کو اس اصل دین سے سخت دشمنی تھی جسطرح آجکل کے غلط کار عاملوں اور یہودیوں نے اصل دین کو بگاڑ کر اس میں نئی نئی من گھڑت باتیں داخل کر ڈالی ہیں۔ یہودیت اور نصرانیت کی نفی کر کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تین صفتیں بیان فرمائی ہیں اور تینوں سے یہود ونصاریٰ کے دعوی کی تردید وتکذیب ہوتی ہے اول یہ کہ وہ حنیف تھے یعنی ادیان باطلہ اور عقائد فاسدہ سے الگ تھے۔ دوم یہ کہ وہ مسلم تھے یعنی خدا کی توحید کے معتقد اور احکام خداوندی کے فرمانبردار تھے۔ سوم یہ کہ وہ مشرک نہیں تھے۔ حنیفا ای مائلا عن العقائد الزائغۃ مسلما ای منقاد الطاعۃ الحق او موحدا لان الاسلام یرد بعض التوحید ایضا (روح ج 3 ص 195) اور مشرکین سے مراد یہود ونصاریٰ ہی ہیں کیونکہ وہ حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) کو خدا کے نائب سمجھتے تھے اور انہیں پکارتے تھے کانہ اراد بالمشرکین الیہود والنصاری لاشراکھم بہ عزیر او المسیح (مدارک ج 1 ص 127، بحر ج 2 ص 487) وقیل اراد بہم الیہود والنصاری لقول الیہود عزیر ابن اللہ وقول النصاری المسیح ابن اللہ تعالیٰ اللہ عن ذالک علوا کبیرا (روح ج 3 ص 196) بعض نے کہا ہے کہ مشرکین سے مشرکین عرب مراد ہیں۔ کیونکہ وہ بھی اس بات کے مدعی تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دعویٰ کی بھی تردید فرمادی کہ تم مشرک ہو ابراہیم مشرک نہیں تھے اس لیے تم کس طرح ان کے دین پر ہوسکتے ہو۔ ای عبدۃ الاصنام کالعرب الذین کانوا یدعون انہم علی دینہ (روح ج 3 ص 195) ۔
Ayah 3:6894 ان کے دعو وں کی تکذیب کے بعد فرمایا کہ ابراہیمی ہونے اور ابراہیم سے زیادہ قریب ہونے کا صرف وہی لوگ حق رکھتے ہیں جو ان کے دین کے صحیح متبع تھے اسی طرح یہ پیغمبر یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قریب تر ہیں۔ کیونکہ یہ سب ان کی ملت کے متبع ہیں۔ وَاللہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مددگار اور ناصر ہے اہل باطل کی ریشہ دوانیوں سے دنیا میں انہیں محفوظ رکھے گا بشرطیکہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں کیونکہ اللہ کی ولایت اور نصرت وامداد وصف ایمان سے متعلق ہے۔
Ayah 3:6995 لَوق مصدریہ ہے اور یہ وَدَّتْ کا مفعول ہے، یہود ونصاریٰ گمراہی میں اس قدر آگے نکل چکے تھے کہ ان میں سے کچھ لوگ تو مسلمانوں کو بھی اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں مصروف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو اسلام سے ہٹا کر اپنے دین پر لے آئیں۔ اسی لیے وہ یہ غلط پروپیگنڈا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے دین پر تھے۔
96 لیکن مسلمانوں کو تو وہ اسلام سے برگشتہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اس لیے اپنا ہی نامہ اعمال سیاہ کر کے اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور ان کی نادانی کا یہ عالم ہے کہ اس کا انہیں شعور تک نہیں۔
Ayah 3:7097 دوسرا شکوہ : امام رازی فرماتے ہیں کہ پہلے اس طائفہ کا ذکر کیا جو جاہل اور نادان تھا۔ اب یہاں ان علماء اہل کتاب کو مخاطب فرمایا جو اللہ کی ان آیات کو جانتے تھے جو توراۃ میں موجود تھیں اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ آیات سے توراۃ وانجیل کی وہ آیتیں مراد ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام اور توحید ہے۔ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بما فی کتبکم من ان الدین عند اللہ الاسلام وانتم تشاھدون ذالک (روح ج 3 ص 199) یعنی جب تم اپنی کتابوں میں لکھا ہوا دیکھتے ہو کہ توحید حق اور حضرت محمد ﷺ کا سچا پیغمبر ہے تو پھر دیدہ دانستہ کیوں اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو۔
Ayah 3:7198 لبس کے معنی چھپانے اور غلط کرنے کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اپنی باطل تاویلوں اور تحریفوں کے ذریعے حق بات (توحید) کو کیوں چھپاتے ہو۔ نیز حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا ذکر جو تمہاری کتابوں میں موجود ہے۔ اس پر کیوں پردہ ڈالتے ہو۔ حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ حق ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
Ayah 3:7299 تیسرا شکوہ۔ طائفہ اہل کتاب سے مراد یہود ہیں اور آمنوا میں ایمان لانے سے مراد بطور نفاق اظہار ایمان ہے اور الذین آمنوا سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام مراد ہیں۔ وَجْهَ النَّہَارِ سے دن کا پہلا حصہ اور آخِرُ النَّہَار سے دن کا آخری حصہ یعنی شام مراد ہے۔ یہودی اسلام کی بڑھتی ہوئی شان و شوکت کو دیکھ کر حسد وبغض سے جل اٹھے تھے اور ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے۔ چناچہ انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے بد ظن کرنے اور اسلام کا وقار ان کے دلوں میں کم کرنے کے لیے اجتماعی منصوبہ تیار کیا اور اس منصوبے کے کرتے دھرتے یہود کے بڑے بڑے عالم تھے چناچہ انہوں نے طے کیا کہ صبح کے وقت ظاہری طور محض زبانی زبانی اسلام قبول کرلیا کریں اور شام کو دین اسلام سے بیزاری کا اعلان کردیا کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی واضح کردیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ہم نے اپنی کتابوں کو دیکھا اور اپنے علماء سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ دین (عیاذاً باللہ) سچا نہیں اس لیے ہم نے اس کو چھوڑ کر پھر سے اپنا پہلا دین قبول کرلیا ہے۔ نیز وہ کہتے سارا دن اس پیغمبر کے پاس گذارا ہے۔ پیغمبروں اور ولیوں کی بےادبی کے سوا اس سے اور کچھ نہیں سنا وہ صاف کہتا ہے کہ نبی اور ولی نہ کارساز ہیں نہ حاجت روا۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ جب ہم اسلام کو چھوڑ کر اس کے بارے میں مذکورہ بالا ریمارکس دینگے تو مسلمانوں کے دلوں میں بھی یہ خیال پیدا ہوگا کہ جب پہلی کتابوں کے اتنے بڑے عالم اسلام سے برگشتہ ہوگئے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی یہ دین سچا نہیں۔ اس طرح مسلمانوں میں بھی اسلام سے بیزار اور برگشتگی پیدا ہوجائے گی اور اسلام کی ترقی رک جائے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ جو غیب وشہادت کا جاننے والا ہے اس نے مسلمانوں پر یہودیوں کا یہ منصوبہ منکشف کر کے اسے ناکام بنادیا۔ ومعنی الآیۃ ان الیہود قال بعضہم لبعض اظھر وا الایمان بمحمد اول النہار ثم اکفروا بہ آخرہ فانکم اذا فعلتم ذالک ظھر لمن یتبعہا ارتیاب فی دینہ فیرجعون عن دینہ الی دینکم ویقولون انا اھل الکتاب اعلم بہ منا (قرطبی ج 4 ص 111) قال الحسن والسدی تواطا اثنا عشر رجلا من احبار یہود خیبر وقری عرینۃ وقال بعضہم لبعض ادخلوا فی دین محمد اول انھار باللسان دون الاعتقاد واکفروا آخر النہار وقولوا انا نظرنا فی کتبنا وش اور نا علماءنا فوجدنا محمدا لیس بذاک وظھرنا کذبہ وبطلان دینہ فاذا فعلتم ذالک شک اصحابہ فی دینہم فقالوا انہم اھل الکتاب وھم اعلم بہ فیرجعون عن دینھم الی دینکم (روح ج 3 ص 200) ۔
Ayahs 3:73–74100 یہ بھی ان منصوبا باز احبار یہود ہی کا قول ہے البتہ قُلْ اِن ھُدَی ھُدَی اللہِ جملہ معترضہ ہے جو قول یہود کا جواب ہے اور اَنْ یُّؤْتیٰ جملہ استفہامیہ ہے اور ہمزہ استفہام محذوف ہے۔ اصل ءَ اَنْ یُّؤْتیٰ تھا جیسا کہ ابن کثیر کی قراءت میں ہے لیکن یہ استفہام انکاری ہے۔ اور اَوْیُحَاجُّوْکُمْ ، یُؤْتیٰ پر معطوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے آپس میں طے کیا کہ ظاہری طور پر اسلام کا اظہار تو مسلمانوں کے سامنے کردینا لیکن صدق دل سے اس کو نہ ماننا اور نہ ہی اپنے دین کے متبعین کے علاوہ کسی کی یہ بات ماننا کہ تمہارے دین کی طرح کسی اور کا دین ہے یا تمہاری کتاب کی طرح کسی اور دین والوں کے پاس بھی کوئی سچی کتاب ہے یا یہ کہ کسی دوسرے دین والے خدا کے پاس تم پر قیامت کے دن دلیل اور حجت سے غالب آجائینگے۔ قال الشیخ (رح) تعالیٰ والاولی ان یقال ان قولہ لا تومنوا مقولۃ اھل الکتاب وقولہ تعالیٰ قل ان الھدی جملۃ واقعۃ بین کلامھم وان یوتی بحذف ھمزۃ الانکار مقولۃ الیہود۔
101 یہ یہودیوں کے قول کی تردید ہے یہودیوں نے جو یہ فرض کر رکھا تھا کہ رسالت ونبوت بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے ان کے علاوہ اور کسی قوم میں نہ کوئی نبی پیدا ہوسکتا ہے اور نہ اللہ کی کوئی کتاب نازل ہوسکتی ہے۔ اصل میں یہودیوں کے مولویوں اور گدی نشینوں نے نبی کریم ﷺ کی تکذیب کا یہ ایک بہانہ تراشا تھا۔ اصل ضد تو ان کو مسئلہ توحید سے تھی کیونکہ اس سے ان کی گدیوں اور آمدنیوں پر زد پڑتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کا ابطال فرمایا کہ فضل و رحمت کے خزانے جن میں رسالت ونبوت بھی شامل ہے۔ سارے کے سارے خدا کے قبضے میں ہیں وہ ان میں سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اس کی رحمت صرف بنی اسرائیل ہی سے مخصوص نہیں اس کی رحمت نہایت وسیع اور بےپایاں ہے جسے وہ اپنی رحمت کے کسی عطیہ کا مستحق سمجھتا ہے اسے اس سے نواز دیتا ہے۔
Ayah 3:75102 چوتھا شکوہ۔ یہودیوں میں دو قسم کے لوگ تھے کچھ دیانتدار اور امین جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے دوسرے ساتھی جو مسلمان ہوچکے تھے اور جو لوگ یہودیت پر قائم تھے وہ پرلے درجہ کے خائن اور بد دیانت تھے۔ پہلے گروہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ اس قدر امین ہیں کہ اگر دولت کا ڈھیر بھی ان کے سپرد کردیا جائے تو وہ اس میں ایک پائی کی خیانت نہیں کرینگے اور پوری امانت واپس کردینگے لیکن اس کے برعکس دوسرے گروہ کی بددیانتی اور حب مال کا یہ عالم ہے کہ اگر صرف ایک دینار ہی ان کے حوالے کردو تو وہ اسے بھی ہضم کرجائیں گے۔ اور واپس کرنے کا نام نہیں لیں گے۔ ہاں اگر آپ ان کے سر پر چڑھتے رہیں تو البتہ واپسی کی امید ہوسکتی ہے ان پر کھڑے رہنے سے باربار تقاضا کرنا مراد ہے۔ آجکل بھی ایسے متعصب پیر اور گدی نشین موجود ہیں اگر ان کو کسی طریقہ سے توحید پرستوں کا مال ہاتھ آجائے تو اسے ہضم کرجائیں اور واپس کرنے کا نام تک نہ لیں۔
103 ۔ اُمِّیِّیْنَ ۔ امی کی جمع ہے اور وہ ام القری کی طرف منسوب ہے۔ ام القری مکہ کا نام ہے اور اُمَّیِّیْن سے یہاں عرب کے لوگ مراد ہیں۔ اس بد دیانتی خیانت اور بدمعاملگی کی وجہ وہ یہ بیان کرتے کہ عرب کے لوگوں کے جو اموال ہمارے ہاتھ لگ جائیں انہیں خرد برد کرنے میں ہم پر کوئی گناہ نہیں اور نہ عتاب ہے۔ بلکہ ہمیں اسکا پورا پورا حق ہے ای لیس علینا فیما اصبناہ من اموال العرب عتاب وذم (روح ج 3 ص 202) اور پھر اس کے ساتھ یہودیوں کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ یہ حکم ان کی کتاب تورات میں موجود ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو اس طرح لوگوں کا مال خردبرد کرنے کا حکم دیا ہے اس طرح ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر افترا کیا جسے اللہ تعالیٰ نے آیت کے اگلے حصے میں بیان فرمایا ہے۔
104 یعنی ان کا یہ دعویٰ کہ یہ حکم اللہ کی کتاب تورات میں موجود ہے سراسر جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر افترا ہے اور پھر ان ظالموں کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ بات تورات میں نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود جان بوجھ کر عمداً قصداً خدا پر افترا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو ناجائز طریقہ سے کسی کا مال کھانا ان پر بھی حرام کیا تھا۔ ای وقد اختلفوا ھذہ المقالۃ وائتفکوھا بھذہ الضلالۃ فنا للہ حرم علیھم اکل الموال الا بحقہا وانما ھم قوم بھت (ابن کثیر ج 1 ص 374) ۔
Ayah 3:76105 کلمہ بَلیٰ ماقبل کی نفی کے لیے ہے۔ یہودیوں نے کہا تھا کہ امیین کے اموال میں ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں تو اس کا رد فرمایا کہ کیوں نہیں۔ ذمہ داری تو ہر شخص پر عائد ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی سے کوئی عہد کرتا ہے تو اس کی پابندی اس پر لازم ہے لہذا جو شخص اپنے عہد کی باپندی کرے اور خدا سے ڈرے تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ خلاصہ یہ جس طرح تم نے سمجھ رکھا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یوں ہے۔
Ayah 3:77106 تخویف اخروی : عہد اللہ سے مراد ایمان و اطاعت کا عہد ہے یہ عہد شکنی پر وعید اخروی ہے یعنی جو لوگ دنیا کے معمولی سے مفاد کی خاطر اللہ کے عہد اطاعت اور آپس کے حلفی معاملات کی پرواہ نہیں کرتے، اللہ سے کیے ہوئے عہد اور بندوں سے طے شدہ معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ آخرت میں ان لوگوں کا کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے ایفائے عہد اور محافظت یمین پر دنیا کے حقیر مفاد کو ترجیح دی۔ اور ایفاء ومحافظت کی صورت میں جو آخرت کا اجر وثواب ان کیلئے مقدر تھا اس سے محروم ہوگئے۔
107 ۔ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ کے خطاب شفقت و محبت اور اس کی نگاہ رحمت سے بھی محروم رہیں گے اور اس کے عفوعام سے بھی کوئی حصہ نہیں پائیں گے۔ اس لیے وہ گناہوں کی نجاست اور آلودگی سے پاک نہیں ہوسکیں گے اور نار جہنم کا دردناک عذاب پائیں گے۔