3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 3:162–163

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

کیا ایک شخص جو تابع ہے اللہ کی مرضی کا برابر ہوسکتا ہے اس کے جس نے کمایا غصہ اللہ کا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پہنچا249

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ کرتے ہیں

249 یہ ماقبل ہی کا تتمہ ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی جو شخص اپنے ہر قول وفعل میں رضائے الٰہی کا طالب ومتلاشی ہے جیسا کہ ہر پیغمبر کی شان ہے کیا وہ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو غضب الٰہی کا مستحق ہو کر جہنمی ہوچکا ہو جیسا کہ خائن اور دوسرے مجرموں کا حال ہے مطلب یہ کہ یہ دونوں ایک جیسے نہیں ہیں تو پھر یہ کس طرح تصور کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کا پیغمبر جس کی زندگی کا مقصد ہی رضائے الٰہی کی طلب ہو وہ خیانت ایسے جرم کا ارتکاب کرے جو سراسر غضب الٰہی اور عذاب خداوندی کا موجب ہے۔ ھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللہِ ۔ اللہ کے یہاں ان کے درجات مختلف ہیں جو لوگ اللہ کی رضا پر چلنے والے ہیں ان کے انعام واکرام اور درجات محبوبیت ہوں گے اور جو راہ حق کی مخالفت کر کے غضب خداوندی کے خریدار ہوئے ان کے لیے ذلت ورسوائی اور درجات مبغوضیت ہوں گے اس طرح یہ آیت اخروی بشارت اور تخویف پر بھی مشتمل ہے۔ ھُمْ دَرَجٰتٌ میں چونکہ دَرَجٰتٌ کا حمل ھُمْ پر صحیح نہیں اس لیے یا ھُمْ سے پہلے لام مقدر ہے یا درجتٌ سے پہلے ذَوُوْ ۔ ای ھم ذو درجات ای منازل۔ وھذا معنی قول مجاھد والدی لھم درجات (روح ج 4 ص 112) ۔
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا ان میں رسول انہی میں کا250 پڑھتا ہے ان پر آیتیں اس کی اور پاک کرتا ہے ان کو (یعنی شرک وغیرہ سے) اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور کام کی بات اور وہ تو پہلے سے صریح گمراہی میں تھے251

250 یہ بھی وَمَاکَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ہی سے متعلق ہے یعنی پیغمبر کی بعثت تو اللہ تعالیٰ کی ایک بہترین نعمت اور اس کا عظیم احسان ہے جو اس نے مومنین پر فرمایا ہے اس لیے تمہیں تو اس نعمت عظمیٰ کا شکریہ ادا کرنا اور اللہ کے پیغمبر کا اتباع کرنا چاہئے نہ کہ اس قسم کی غلط باتیں پیغمبر کی ذات کی طرف منسوب کرنے لگو۔حضور ﷺ کی بعثت اگرچہ سارے جہان کے لیے بہترین نعمت تھی لیکن اس نعمت سے فائدہ اٹھانے والے چونکہ صرف مؤمنین ہی ہیں اس لیے ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔ اور پھر مِنْ اَنْفُسِہِمْ کا اضافہ کر کے اپنی مزید رحمت و شفقت کی طرف اشارہ فرمایا۔ رسول کی بعثت بھی اللہ کی رحمت اور نعمت تھی کیونکہ اس کے ذریعے انسان آخرت کی ابدی اور آرام وچین کی زندگی حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن پھر رسول انسانوں ہی کی جنس سے مبعوث فرمانا یہ اس کی مزید شفقت اور رحمت ہے ہمجنس ہونے کی وجہ سے وہ بلا خوف و تکلیف اس سے ہدایت حاصل کرسکتے ہیں نیز اس صورت میں پیغمبر کی طبعی خواہشیں اور فطری ضرورتیں دوسرے انسانوں سے ملتی جلتی ہوں گی اس لیے اس کی زندگی ان کے لیے اسوہ حسنہ بن سکے گی اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ انسانوں ہی کی جنس سے تھے۔ اراد بہ المؤمنین کلھم ومعنی من انفسھم انہ واحد منھم وبشر مثلھم (قرطبی ج 4 ص 264) ۔ 251 آیت کے اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول خدا ﷺ کی تین صٖتیں بیان فرمائی ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں انہیں رسالت کے تین فرائض کہہ لیجئے۔ اول یہ کہ وہ لوگوں پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور ان کے الفاظ پڑھ کر ان کو سناتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ مانناے والوں کی عملی تربیت کرتے ہیں اور اخلاق رذیلہ، عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ مثلاً شرک وکفر اور آبائی رسم و رواج سے ان کے ظاہر و باطن کو پاک کرتے ہیں۔ سوم یہ کہ وہ ان کو کتاب اللہ کے مطالب ومعانی اور اس کے اسرار و رموز سکھاتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر خدا ﷺ کی ڈیوٹی صرف یہی نہیں تھی کہ آپ اللہ سے کتاب حاصل کر کے لوگوں کو دے دیں اور لوگ خود ہی اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں جیسا کہ منکرین حدیث کا خیال ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ اللہ کی کتاب کو پڑھ کر لوگوں کو سنانا کتاب اللہ کے اسرار ومعانی ان کو سمجھانا اور کتاب اللہ کی تعلیمات کے مطابق ان کی عملی تربیت کرنا یہ بھی پیغمبر (علیہ السلام) کے فرائض میں سے ہے اور یہ تمام فرائض اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذمہ لگائے ہوئے تھے۔ جیسا کہ قرآن کے اسلوب بیان سے ظاہر ہورہا ہے کہ ہم نے اس رسول ﷺ کو مذکورہ بالا صفات سے متصف اور مندرجہ بالا فرائض کا ذمہ دار بنا کر بھیجا قرآن کا انداز بیان اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ حضرت رسول خدا ﷺ مذکورہ بالا کام اپنے طور پر یا لوگوں کی درخواست اور تفویض کی بنا پر سر انجام دیتے تھے جیسا کہ پرویزیوں کا زعم ہے۔ فائدہ : اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی جو تین صفتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان کا تعلق صحابہ کرام ؓ سے براہ راست اور بلا واسطہ تھا۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے بنفس نفیس ان کو قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ ان کو کتاب اللہ کے اسرار ومعارف سمجھائے اور ان کا تزکیہ فرمایا تو اس آیت میں جس طرح حضرت سید الانبیاء ﷺ وعلیہم کے فضائل ومناقب اور محامد و محاسن بیان کیے گئے ہیں اسی طرح اس سے صحابہ کرام ؓ کی بھی بہت بڑی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ وہ خود جناب نبی کریم ﷺ کے تربیت یافتہ اور اخلاق رذیلہ اور افعال ذمیمہ سے مطہر ومز کی تھے۔ آخر میں وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْن کی جامع تعبیر سے اس ناپاک ماحول کی تصویر بھی پیش فرمادی جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ کی بعثت سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے وہ زندگی کے ہر شعبہ میں سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے تھے ان کے اکثر عقائد و اعمال اور اخلاق وشمائل خدا کے یہاں پسندیدہ نہیں تھے وہ لوگ انسان ہونے کے باوجود انسانیت سے کوسوں دور حیوانیت وبربریت سے قریب تر تھے اس ناپاک ماحول کے ذکر سے بعثت رسول کے احسان عظیم کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا جس وقت پہنچی تم کو ایک تکلیف کہ تم پہنچا چکے ہو اس سے دو چند تو کہتے ہو یہ کہاں سے آئی تو کہہ دے یہ تکلیف تم کو پہنچی تمہاری ہی طرف سے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے252

252 یہ مومنین کے لیے زجر ہے جنگ احد میں مسلمانوں کے ستر آدمی شہید ہوئے اور وقتی طور پر ان کو شکست بھی ہوئی تو اس پر مسلمانوں نے حیرت واستعجاب سے کہا کہ یہ شکست کہاں سے آگئی ہم اللہ کے مسلمان بندے، اس کے پیغمبر ﷺ پر ایمان لانے والے اس کی توحید کی خاطر مشرکین سے جہاد کرنیوالے ہم مومن ہمارے مد مقابل مشرک اور ہم میں خدا کا نبی موجود پھر ہم سے اللہ کا وعدہ فتح ونصرت بھی لیکن ان سب باتوں کے باوجود پھر بھی شکست ہم کو ای من این اصابنا ھذا الانھزام والقتل ونحن نقاتل فی سبیل اللہ ونحن مسلمون وفینا النبی والوحی وھم مشرکون (قرطبی ج 4 ص 265) اس پر اللہ تعالیٰ نے بطور زجر فرمایا کہ جب تم پر مصیبت آئی یعنی احد میں تمہارے ستر آدمی مارے گئے تو تم بول اٹھے کہ یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آگئی حالانکہ تم کافروں کو اس سے پہلے جنگ بدر میں اس سے دگنا نقصان پہنچا چکے تھے۔ بدر میں تم نے ان کے ستر آدمی قتل کیے اور ستر قید کیے۔ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ۔ مسلمانوں کو ان کی حیرت واستعجاب کا جواب دیا گیا کہ یہ شکست تمہاری اپنی ہی عملی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے تم نے مرکز کو چھوڑ دیا اور پیغمبر خدا ﷺ کے حکم کی پروا نہ کی اور مال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے ای انھا السبب لہ حیث خالف الرماۃ امر رسول اللہ ﷺ بترکھم المرکز وحرصوا علی الغنیمۃ فعاقبھم اللہ تعالیٰ بذالک (روح ج 4 ص 116) ۔
Ayah 3:166

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو کچھ تم کو پیش آیا اس دن کہ ملیں دو فوجیں سو اللہ کے حکم سے253 اور اس واسطے کہ معلوم کرے ایمان والوں کو

253 یَوْمَ الْتَقیَ الْجَمْعَانِ (جس دن دو جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی) سے جنگ احد مراد ہے اور اِذْن اللہ سے اللہ کے ارادہ اور اس کی قضاء وقدر کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے فرمایا کہ احد کی شکست تمہاری اپنی ہی بعض عملی خامیوں کا نتیجہ تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شکست کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنی شفقت و رحمت سے اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے فرمایا کہ احد میں جو وقتی شکست ہوئی تھی۔ اس کے بارے میں اللہ کا ارادہ اور فیصلہ یہی تھا کہ وہ واقع ہو کیونکہ اس میں کئی مصلحتیں پوشیدہ تھیں۔
Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور تاکہ معلوم کرے ان کو جو منافق تھے254 اور کہا گیا ان کو کہ آؤ لڑو اللہ کی راہ میں یا دفع کرو دشمن کو255 بولے اگر ہم کو معلوم ہو لڑائی تو البتہ تمہارے ساتھ ہیں256 وہ لوگ اس دن کفر کے قریب ہیں بہ نسبت ایمان کے کہتے ہیں اپنے منہ سے جو نہیں ان کے دل میں اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں257

254 دوسرا لِیَعْلَمَ پہلے لَیَعْلَمَ پر معطوف ہے اور اس کا عطف بِاِذْنِ اللہِ پر ہے از قبیل عطف سبب بر مسبب اور علم سے مراد اظہار ہے۔ عطف علی باذن اللہ من عطف السبب علی المسبب والمراد یظھر للناس ویثبت لدیھم ایمان المومن (روح ج 4 ص 117) یعنی اللہ تعالیٰ نے احد میں مسلمانوں کی شکست کا قضاء وقدر میں اس لیے فیصلہ فرمایا تاکہ مخلص مومن اور منافق ظاہر ہوجائیں اور لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ کون لوگ خلوص دل سے ایمان لائے ہیں اور کون لوگ منافق ہیں۔ 255 قِیْلَ لَھُمْ کا عطف نَافَقُوْا پر ہے یا یہ استیناف ہے اور ھُمْ ضمیر اَّلَّذِیْنِ نَافَقُوْا کی طرف راجع ہے اور اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے وہ تین سو ساتھی ہیں جو احد میں مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ جب وہ واپس جانے لگے تو عبداللہ بن عمرو بن حرام اور دوسرے مسلمانوں نے ان کو سمجھا بجھا کر واپس لانے کی کوشش کی اور ان منافقین سے کہا کہ واپس کیوں جاتے ہو آؤ ہمارے ساتھ آگے بڑھو اور، قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ۔ اللہ کے دین اور اس کی توحید کو سربلند کرنے کے لیے مشرکین سے جہاد کرو۔ اَوِادْفَعُوْا اور اگر تم اللہ کی خوشنودی اور ثواب آخرت کے لیے نہیں لڑنا چاہتے تو کم از کم اپنے مال وجان اور اپنے شہر سے مدافعت ہی کے لیے کافروں سے لڑو۔ اَوِادْفَعُوْا عَنْ اھلکم وبدلدکم وحریمکم ان لم تقاتلوا فی سبیل اللہ تعالیٰ (ابو السعود ج 3 ص 133 وقیل انھم خیر وابین ان یقاتلوا للاخرۃ او لدفع الکفار عن انفسھم واموالھم (روح ج 4 ص 118) ۔ 256 یہ منافقین کا جواب ہے مسلمانوں کی پندونصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ کہنے لگے کہ اگر یہ جنگ کسی ڈھنگ کی ہوتی تو ہم ضرور اس میں تمہارا ساتھ دیتے مگر یہ جنگ نہیں یہ تو خود کشی ہے۔ دشمن کی فوج زیادہ اس کے پاس تم سے سامان جگ زیادہ اور پھر اپنے شہر سے باہر نکل کر ایسے زبردست دشمن سے لڑنا یہ کونسی دانشمندی ہے۔ ای لونعلم ما یصح ان یسمی قتالا لاتبعنا کم یعنون ما انتم فیہ لخطا ریکم لیس بشیئ ولا یقال لمثلہ قتال انما ھوالقاء النفس فی التھلکۃ (مدارک ج 1 ص 50) لیکن حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر ہم اس کو جہاد سمجھتے تو ضرور اس میں شریک ہوتے اور تمہارا ساتھ دیتے لیکن یہ تو جہاد ہے ہی نہیں یہ تو ظلم اور خونخواری ہے۔ ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق اور پوشیدہ کفر کو واضح تر الفاظ میں بیان فرما دیا ہے کہ جب انہوں نے یہ باتیں کہیں اس وقت وہ ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب ہوگئے۔ پہلے تو وہ اپنے اقوال وافعال میں پوری احتیاط سے کام لیتے تھے جس سے ان کا نفاق پوشیدہ اور مخفی تھا۔ لیکن ان کے جہاد میں شریک نہ ہونے اور ان کی مذکورہ بالا باتوں سے ان کے نفاق کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اور وہ بالکل ننگے ہوگئے۔ انھم کانوا یظھرون الایمان ولم تکن تظھر لھم امانۃ تدل علی الکفر فلما اتخذوا عن المؤمنین وقالو ما قالوا ازادواقر بالکفر وتباعدوا عن الایمان (بحر ج 3 ص 110) ۔ 257 یہ جملہ مسانفہ ہے جو منافقین کا مطلق حال بیان کر رہا ہے یعنی وہ زبانوں سے ایک ایسی بات کا اقرار کرتے ہیں جو ان کے اندرونی اور باطنی عقیدہ کے خلاف ہے زبان سے تو وہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے ان کے دلوں میں تو وہی کفر وشرک کا اعتقاد ہے۔ المراد ان لسانھم مخالف لقلبھم فھم وان کانوا یظھرون الایمان باللسان لکھم یضمرون فی قلوبھم الکفر (کبیر ج 3 ص 136) ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَایَکْتُمُوْنَ ۔ اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور ان کی پوشیدہ خباثتوں کو پیغمبر خدا ﷺ اور مومنوں کی نسبت زیادہ جانتا ہے کیونکہ ان کو تو ظاہری علامتوں سے کچھ تھوڑا بہت معلوم ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کی پوری حقیقت کو تمام تفصیلات کے ساتھ جانتا ہے۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو اور آپ بیٹھ رہے ہیں اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے258 تو کہہ دے اب ہٹادے جو اپنے اوپر سے موت کو اگر تم سچے ہو259

258 یہ اَلَّذِینَ نَافَقُوْا سے بدل ہے اور منصوب ہے کیونکہ مبدل منہ محل نصب میں ہے، منصوب علی الذم او علی انہ نعت اللذین نافقوا او بدل منہ (روح ج 4 ص 120) اور لِاِخْوَانِھِم میں اخوت سے نسبی یا قرب و جوار اور وطنیت کی اخوت مراد ہے اور اخوان سے وہ مومنین مراد ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے۔ معناہ لاجل اخوانھم وھم الشہداء المقتولون من الخزرج وھم اخوۃ نسب ومج اور ۃ لا اخوۃ الدین ای قالوا لھؤلاء الشھداء لو قعدوا ای بالمدینۃ ما قتلوا (قرطبی ج 4 ص 267) یعنی منافقوں نے ان شہداء کے بارے میں جو احد میں شہید ہوئے اور جو نسب کے اعتبار سے ان کے قبیلہ اور بھائی بند تھے یہ کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے اور اس جنگ میں شریک نہ ہوتے اور مدینہ ہی میں بیٹھ رہتے تو ان کی جانیں بچ جاتیں اور وہ مارے نہ جاتے۔ 259 یہ منافقین کے مذکورہ قول کا جواب ہے۔ قُلْ میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے۔ یعنی آپ منافقین سے فرمادیں کہ اگر تمہاری یہ بات درست ہے کہ گھر میں بیٹھ رہنا موت سے بچاؤ اور زندگی کی ضمانت ہے تو تم جو گھروں میں بیٹھے رہے ہو۔ اور جنگ میں شریک نہیں ہوئے پھر تم اپنی جانوں سے موت کو روک لو یہ گویا کہ منافقین کی ان کے دعویٰ میں تکذیب ہے ای ان کان القعود ویسلم بہ الشخص من القتل والموت فلینبغی انکم لا تموتون والموت لابدات الیکن ولو کنتم فی بروج مشیدۃ (ابن کثیر ج 1 ص 435) مفسرین نے لکھا ہے کہ جس دن منافقین نے یہ بات کہی تھی اس دن ان کے ستر آدمی مرگئے تھے روی انہ مات یوم قالوا ھذہ المقالۃ سبعون منافقا (مدارک ج 1 ص 151، قرطبی ج 4 ص 267) ۔
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور تو نہ سمجھ ان لوگوں کو جو مارے گئے اللہ کی راہ میں مردے بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس کھاتے پیتے260

260 وَلَا تَحْسَبَنَّ سے لَا یَضِیعُ اَجْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ تک شہداء کے لیے اخروی بشارت ہے پہلے منافقین کی اس بات کا رد فرمایا کہ حذر و احتیاط کے ذریعے موت ٹل سکتی ہے اب یہاں فرمایا کہ جس قتل سے تم ڈر رہے ہو وہ تو ڈرنے کی چیز نہیں وہ تو نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے اور دین ودنیا کی بہت بڑی سعادت ہے جن لوگوں کو یہ شہادت کی موت نصیب ہوجاتی ہے اور وہ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں تو قتل ہوجانے کے بعد برزخ میں ان کو ایک امتیازی حیات حاصل ہوتی ہے جو عامۃ المسلمین کو حاصل نہیں ہوتی اس لیے شہادت کی موت تو ایسی چیز نہیں کہ اس سے بچنے اور بھاگنے کی تدبیریں سوچی جائیں بلکہ اسے تو حاصل کرنے کی تمنا ہر ایک کے دل میں ہونی چاہئے۔ القتل الذی یحذرونہ ویحذرون منہ لیس مما یحذر بل ھو من اجل المطالب التی یتنافس فیھا المتنافسون (روح ج 4 ص 121) ۔ تحقیق حیات شہداء۔ حیات شہداء کے بارے میں قرآن مجید کی دو آیتیں ہیں ایک تو یہی زیر تفسیر آیت اور دوسری آیت سورة بقرہ رکوع 19 میں گذر چکی ہے یہاں فرمایا کہ شہداء کو مرد سے مت سمجھو اور وہاں فرمایا کہ ان کو مردہ مت کہو۔ حالانکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شہداء قتل کردئیے جاتے ہیں اور ان کی روحیں ان کے ابدان عنصریہ سے پرواز کر جاتی ہیں اور ان کے ابدان سے اس طرح جدا ہوجاتی ہیں کہ ان سے ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ جیسا کہ علامہ بیضاوی کا قول آگے آرہا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ شہداء کرام کی دنیوی زندگی تو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے اور روح کے بدن سے نکل جانے کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے اس لیے ظاہر ہے کہ شہادت کے بعد جو ان کو زندگی اور حیات حاصل ہوتی ہے وہ دنیوی نہیں ہوتی بلکہ اس سے مختلف ہوتی ہے۔ جب وہ دنیا میں زندہ تھے تو ان کی زندگی بھی دنیوی تھی یعنی روح اور بدن دونوں کے ملاپ سے وہ زندہ تھے لیکن موت سے دنیوی زندگی ختم ہوگئی اور برزخ کا زمانہ شروع ہوگیا اس لیے اب اس زندگی کو برزخی زندگی کہا جائے گا اور یہ زندگی بلا مشارکت بدن عنصری صرف روح کے لیے ہوگی یہ معاملہ چونکہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ برزخ عالم غیب کی چیز ہے اس لیے اس برزخی حیات کی کیفیت کے بارے میں عقل وفکر، رائے اور قیاس سے کچھ کہنے کا کسی کو کوئی حق نہیں اور نہ ہی اس معاملہ میں نصوص کتاب وسنت سے جو کچھ ثابت ہو اس سے تجاوز کرنا جائز ہے۔ علامہ سید محمود آلوسی سورة بقرہ میں وَلٰکِنْ لَّاتَشْعَرُوْنَ کے کے تحت فرماتے ہیں۔ ای لا تحسون ولا تدرکون ما حالھم بالمشاعر لانھا من احوال البرزخ التی لا یطلع علیھا ولا طیر للعلم بھا الا بالوحی (روح ج 2 ص 20) ۔ حیات شہداء کی کیفیت کی طرف قرآن مجید میں تو چند اجمالی اشارات ہی ہیں۔ تفصیل نہیں ہے مثلاً قرآن مجید میں اس طرف اشارہ ہے کہ قتل کے بعد شہداء کو جو حیات ملتی ہے۔ وہ دنیوی نہیں بلکہ برزخی اور عالم غیب کی ایک حالت ہے۔ اَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ سے اسی طرف اشارہ ہے وہ اپنے مہربان رب کے پاس اور عالم غیب میں زندہ ہیں۔ علامہ خازن لکھتے ہیں۔ انھم احیاء عنداللہ تعالیٰ فی عالم الغیب لانھم صاروا الی الاخرۃ (تفسیر خازن ج 1 ص 109) قرآن مجید میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ شہداء عالم برزخ میں کھاتے پیتے بھی ہیں۔ حیات شہداء کی تفصیلی کیفیت سب سے عمدہ اور صحیح ترین وہی ہے جو خود صاحب وحی جناب نبی اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے حضرت رسول خدا ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا کہ یارسول اللہ وہ کس طرح زندہ ہیں ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ وہ قتل ہوچکے ہیں تو آنحضرت ﷺ نے جواب میں فرمایا وہ اس طرح زندہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرما کر ان کو جنت میں آزاد چھوڑ دیا ہے۔ وہ جنت میں جہاں چاہیں آتے جاتے اور سیر کرتے ہیں۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں۔ وقال اخرون ارواحھم فی اجواف طیر خضر وانھم یرزقون فی الجنۃ ویاکلون ویتنعمونوھذا ھو الصحیح من الاقوال لن ما صح بہ النقل فھو الواقع (قرطبی ج 4 ص 270) اولہ علامہ ابو السعود حنفی امام واحدی سے ناقل ہیں۔ الاصح فی حیاۃ الشہداء ماروی عن النبی ﷺ من ان ارواحم فی اجواف طیور خضر وانھم یرزقون ویاکلون یتنعمون (ابو السعود ج 1 ص 138) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود سے آیت وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قَتَلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتاً الایۃ کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے بھی رسول خدا ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا ارواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقۃ بالعرش تسرح من الجنۃ حیث شاءت ثم تاوی الی تلک القنادیل الحدیث (صحیح مسلم ج 2 ص 135، جامع ترمذی ج 2 ص 126، ابن ماجہ ص 201، تفسیر ابن جریر ج 4 ص 106، ص 107) اسی طرح حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ان رسول اللہ ﷺ قال ان ارواح الشھداء فی طیر خضر تعلق من ثمر الجنۃ او شجر الجنۃ (جامع ترمذی ج 1 ص 197، ابن ماجہ ص 104، ص 316، نسائی ج 1 ص 292، موطا امام مالک ص 84، مسند احمد ج 6 ص 386) اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتے ہیں قال رسول اللہ ﷺ لما اصیب اخوانکم باحد جعل اللہ ارواحھم فی اجواف طیر خضر تروانھا والجنۃ وتاکل من ثمارھا واوی الی قنادیل من ذھب فی ظل العرش الحدیث (مستدرک حاکم ج 2 ص 88، ص 297 تفسیر ابن جریرج 4 ص 106، مسند احمد ج 1 ص 266، ابو داوٗد ج 1 ص 348) اسی طرح حضرت ابو سعید خدری ؓ سے بھی اسی مضمون کی ایک مرفوع حدیث مروی ہے ملاحظہ ہو۔ درمنثور ج 2 ص 96 ۔ ان حدیثوں کے الفاظ میں اگرچہ خفیف سا اختلاف ہے لیکن ماحصل سب کا وہی ہے جو پہلے بیان کیا جاچکا ہے ان حدیثوں میں حضرت رسول خدا ﷺ نے نہایت وضاحت سے شہداء کی برزخی زندگی کی حقیقت بیان فرما دی ہے صحابہ کرام ؓ اور تابعین سے بھی یہی کچھ منقول ہے اور اسی کو محققین مفسرین نے راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، کعب الاحبار، عکرمہ، سدی کبیر، ابو العالیہ، قتادۃ، ربیع وغیرہم کے اقوال کے لیے ملاحظہ ہو۔ تفسیر ابن جریر ج 2 ص 23 ج 4 ص 106، ص 107 و تفسیر در منثور ج 1 ص 155، ج 2 ص 96 ۔ حاصل کلام یہ کہ عالم برزخ میں شہداء کی حیات محض روحانی اور برزخی ہے جسمانی نہیں ان کے ابدان طیوری اجسام مثالی ہیں۔ نہ کہ عنصری کیونکہ شہداء کے عنصری ابدان توقبروں میں مدفون ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ عالم برزخ میں شہداء کی حیات محض روحانی اور برزخی ہے جسمانی نہیں اور ان کے ابدان قبروں میں ہیں۔ لیکن ان کی ارواح طیوری قالبوں میں نعیم جنت سے متمتع ہورہی ہیں۔ علامہ بیضاوی سورة بقرہ میں فرماتے ہیں۔ وَلٰکِنْ لَّاتَشْعُرُوْن ما حالاھم وھو تنبیہ علی ان حیوتھم لیست بالجسد ولا من جنس ما یحس بہ من الحیوانات وامناھی امر لایدرک بالعقل بل بالوحی (تفسیر بیضاوی ج 1 ص 201) لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس حال میں ہیں اور یہ اس امر پر تنبیہ ہے کہ ان (شہداء) کی حیات جسمانی نہیں اور نہ زندوں کی مانند ظاہر حواس سے محسوس قسم کی زندگی ہے اور نہ اس کا ادراک عقل سے ہوسکتا ہے بلکہ اس کی کیفیت کا ادراک صرف وحی سے ہوسکتا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی فرماتے ہیں حیات شہداء بمعنی تعلق ارواح بابدانست برائے استیفائی لذاتی کہ موقوف برآلات بدنیست نہ تعلق ارواح باابدان سابقہ ونہ بقا کی روح بادراک و شعور الخ (عزیزی ص 685) یعنی حیات شہداء کا مطلب یہ ہے کہ وہ لذات حاصل کرنے کیلئے جن کا حصول آلات پر موقوف ہے ارواح ابدان مثالیہ سے متعلق ہوجائیں یہ مطلب نہیں کہ ارواح سابقہ (عنصری) ابدان سے متعلق ہوجائیں اور نہ یہ کہ روح کا ادراک و شعور باقی رہے۔ حیات انبیاء (علیہم السلام) اس دنیائے آب وگل سے رحلت وانتقال کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم کے لیے ایک ہی مقرر فرمائی ہے اور وہ ہے موت اور اس سے کسی فرد بشر کو مفر نہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (انبیاء رکوع 3) یعنی ہر جی موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ خواہ پیغمبر ہو یا غیر پیغمبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سوا خدا کے تمام پیغمبر موت نوش فرما چکے ہیں (حضرات ادریس الیاس اور خضر (علیہم السلام) کے بارے میں محقق اور صحیح مذہب یہی ہے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں) چناچہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔ اَمْ کُنْتُمْ شَھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ (بقرہ ع 16) کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب پر موت کا وقت آیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا۔ حَتّٰی اِذَا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللہُ مِنْ بَعْدِهٖ رَسُوْلاً (مومن رکوع 4) یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تم کہنے لگے کہ اب تو اللہ تعالیٰ کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد ہے۔ فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتُ مَادَلَّھُمْ عَلیٰ مَوْتِهٖ اِلَّا دَابَّةُ الْاَرْضِ تَاکُلُ مِنْسَاَتَہٗ (سبا رکوع 2) پس جب ہم نے اس (سلیمان) پر موت کا حکم جاری کردیا تو ان (جنون) کو اس کی موت کا پتہ کسی نے نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے جو اس کے عصا کو کھاتا تھا اور خود جناب نبی کریم ﷺ کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ (زمر رکوع 3) آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ علاوہ ازیں آنحضرت ﷺ کی موت پر تمام صحابہ کرام ؓ کا اجماع بھی ہوچکا ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں موجود ہے کہ جبحضور ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت عمر ؓ اس صدمہ جانکاہ کی شدت کو برداشت نہ کرسکے اور ازخود دل گر فتہ ہو کر اعلان کرنے لگے خبردار کوئی یہ مت کہے کہ حضور فوت ہوگئے ہیں۔ ورنہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے صورت حال دیکھی تو آپ نے تمام صحابہ کرام کے سامنے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اس کا اقتباس ملاحظہ ہو۔ من کان یعبد محمدا فان محمدا قد مات ومن کان یعبداللہ فان اللہ حی لا یموت وقال اِنَّکَ مَّیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ (صحیح بخاری ج 1 ص 517) تم میں سے جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ آپ تو فوت ہوگئے اور آپ پر موت وارد ہوچکی اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا سو اللہ زندہ جاوید ہے اور یہ آیت تب بھی پڑھی بیشک آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب خطبہ دیا تو صحابہ ؓ میں سے کسی نے بھی ان کی کسی بات پر انکار نہیں کیا اور حضرت عمر نے بھی تسلیم کرلیا کہ واقعی آپ وفات پا چکے ہیں چناچہ تمام صحابہ کرام نے یہی سمجھ کر کہ آپ وفات پا چکے ہیں آپ کے جسد اطہر کو قبر مبارک میں دفن کیا الغرض موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) اور تمام بنی آدم اسی دروازے سے گذر کر عالم برزخ میں پہنچے اور جو باقی ہیں وہ بھی اسی دروازے سے گذریں گے۔ اور موت کے معنی ہیں روح کا بدن عنصری سے نکل جانا اور اس سے جدا ہوجانا۔ امام راغب اصفہانی اس آیت میں موت کا مفہوم اس طرح بیان فرماتے ہیں وقولہ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ فعبارۃ عن زوال القوۃ الحیوانیۃ وبانۃ الروح عن الجسد (مفردات ص 494) یعنی موت قوت حیات کے زائل ہوجانے اور روح کے بدن سے جدا ہوجانے کا نام ہے۔ علامہ ابو عبداللہ قرطبی لکھتے ہیں۔ واجل الموت ھو الوقت الذی فی معلومہ سبحانہ ان روح الحی تفارق جسدہ (قرطبی ج 4 ص 226) اَجَلْ موت اس وقت کا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق جاندار کی روح اس کے بدن سے جدا ہوگی علامہ سیوطی فرماتے ہیں قال العلماء الموت لیس بعدم محض ولا فناء صرف وانما ھو انقطاع تعلق الروح بالبدن ومفارقۃ وحیلولۃ بینھما وتبدل حال وانتقال من دار الی دار (شرح الصدور ص 5 وبشری الکئیب ص 15، 16) علماء نے کہا ہے کہ موت عدم محض اور فناء صرف کا نام نہیں بلکہ موت بدن سے تعلق روح کے منقطع ہوجانے، روح اور بدن میں جدائی اور پردہ حائل ہوجانے اور ایک دار (دنیا) سے دوسرے دار (عالم برزخ) کی طرف منتقل ہونے سے عبارت ہے اور علامہ سید محمود آلوسی حنفی فرماتے ہیں۔ الاماتۃ بمعنی اخراج الروح وسلب الحیاۃ (روح ج 3 ص 21) اماتت کے معنی ہیں روح کا نکال لینا اور زندگی کا سلب کرلینا۔ اور پھر موت کی یہ کیفیت مذکورہ بالا مفہوم کے ساتھ سب کے لیے یکساں ہے اور تمام بنی آدم انبیاء (علیہم السلام) ہوں یا شہداء اور عامۃ المسلمین پر موت اخراج روح از بدن اور ابانت روح از جسد ہی کے طریق پر وارد ہوتی ہے البتہ اعزاز واکرام اور تحقیر وتذلیل کا فرق ضرور ہوتا ہے انبیاء علیہم السلام، شہداء اور دیگر مومنین سے قبض روح کا معاملہ علی حسب المراتب اعزاز واکرام سے کیا جاتا ہے اور کفار ومشرکین سے تذلیل و اہانت کے ساتھ شہداء کے بارے میں تو پہلے گذر چکا ہے کہ ان کی روحیں ان کے ابدان عنصریہ سے نکال کر پرندوں کے مثالی قالبوں میں داخل کردی جاتی ہیں اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح طیبہ بھی ان کے ابدان طاہرہ سے نکال کر جدا کرلی جاتی ہیں۔ چناچہ خود آنحضرت ﷺ کی وفات بھی اللہ تعالیٰ عادت مستمرہ اور دستور متعارف کے مطابق اسی طرح واقع ہوئی کہ آپ کی روح طیبہ وطاہرہ آپ کے بدن مبارک سے نکالی گئی جیسا کہ خود آپ کا ارشاد ہے۔ ان جمیع الانبیاء قبض ارواحم ملک الموت وھو الذی سیقبض روحی۔ (قرطبی ج 4 ص 276) یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی روحیں ملک الموت نے قبض کیں اور وہی میری روح کو بھی قبض کرے گا۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ فقبضہ اللہ وان راسہ لبین سحری وتحری (صحیح بخاری ج 1) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض فرمائی اس وقت آپ سر مبارک میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ فی روایۃ ھمام عن ہشام بھذا الاسناد عند احمد نحوہ وزاد فلما خرتب نفسہ لم اجد ریحا قط اطیب منھا (فتح الباری ج 8 ص 102) اس روایت کو امام احمد نے بھی اس اسناد کے ساتھ ہشام سے بواسطہ ہمام روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ جب آپ کی روح مبارک (بدن سے) نکلی تو ایسی خوشبو آئی کہ میں نے اس سے عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ یہ خوشبو آپ کی روح طیبہ کی تھی۔ اور حضرت ابو بردہ ؓ فرماتے ہیں۔ اخرجت الینا عائشۃ کساء وازارا غلیظاً فقالت قبض روح النبی ﷺ فی ھذین (صحیح بخاری ج 2 ص 865) حضرت عائشہ نے ہمیں ایک چادر اور ایک موٹا تہبند دکھایا اور کہا کہ حضرت نبی کریم ﷺ کی روح طیبیہ ان دو کپڑوں میں قبض ہوئی۔ باقی رہی یہ بات کہ انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح ان کے ابدان سے نکلنے کے بعد کہاں رہتی ہیں اور ان کا مستقر کہاں ہے تو اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ عالم برزخ میں ان کی ارواح کو ان کے عنصری بدنوں کے ہم شکل اور مماثل مشک وکافور کے مثالی اجسام عطا کیے جاتے ہیں اور ان کا قام ومستقر جنت کا اعلی ترین اور سب سے اونچادرجہ اعلیٰ علیین ہے ویسے جنت میں وہ جہاں چاہیں آتے جاتے اور جنت کے میوے تناول فرماتے ہیں۔ چناچہ علامہ سیوطی اور علامہ سید محمود آلوسی امام نسفی سے ناقل ہیں۔ ارواح الانبیاء تخرج من جسدھا وتصیر مثل جسدھا مثل المسک والکافور وتکون فی الجنۃ تاکل وتشرب وتتنعم الخ (شرح الصدور ص 105، بشری الکئیب ص 134، روح المعانی ج 15 ص 162 تفسیر مظہری ج 10 ص 224 یعنی انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح ان کے بدنوں سے نکل کر ان کے مماثل مشک وکافور کے جسموں میں متشکل ہوجاتی ہیں اور جنت میں کھاتی پیتی ہیں۔ اسی طرح علامہ ابن القیم اور حافظ ابن رجب حنبلی فرماتے ہیں الانبیاء (علیہم السلام) فلا شک ان ارواحھم عند اللہ فی اعلیٰ علیین وقد ثبت فی الصحیح ان اخر کلمۃ تکلف بھا رسول اللہ ﷺ عند موتہ انہ قال اللھم الرفیق الاعلی (روح ج 1 ص 161، شرح الصدور ص 104) ان روایتوں اور عبارتوں سے تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ شہداء اور دیگر اموت کی طرح انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح کا مستقر اعلی علیین ہے نہ کہ ان کے ابدان کیونکہ ان کے ابدان مبارکہ تو قبور ارضی میں مدفون ہوتے ہیں لیکن دیگر اموت کے برعکس ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت اور شرف عطا فرمایا ہے کہ ان کے ابدان قبروں میں بالکل اسی طرح صحیح سالم رہیں گے جس طرح رکھے گئے تھے اور مٹی ان کو نہیں کھائے گی ان کے ابدان کو محفوظ رکھنے کی اللہ کی طرف سے ضمانت ہے۔ لیکن غیر انبیاء (علیہم السلام) خواہ شہداء ہوں یا عامۃ المسلمین ان کے لیے ایسی کوئی ضمانت نہیں اور اگر کسی صدیق وشہید کا یا کسی اور برگزیدہ خدا کا بدن قبر میں محفوظ رہے اور مٹی اسے نہ کھائے تو یہ بھی کوئی بعید نہیں۔ بلکہ عین ممکن ہے۔ باقی رہا ارواح کا تعلق ابدان کے ساتھ تو اس کے متعلق بتحقیق یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت صحیحہ سے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اور نہ ہی صحابہ کرام، تابعین اتباع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے ارشادات واقوال میں تعلق روح بجسم عنصری کا کوئی نفیاً واثباتاً ذکر اذکار ہے۔ برزخ میں حیات انبیاء (علیہم السلام) اور حیات شہداء کرام کی جو کیفیت آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہے وہ اوپر مذکور ہوچکی ہے۔ قرون ثلثہ میں یہ اسی طرح منقول ہو کر نیچے تک چلی آئی ہے لیکن تعلق کا قصہ کسی نے نہیں چیڑھا۔ البتہ چوتھی صدی کے بعد سے شارحین حدیث نے بعض حدیثوں میں تطبیق کے سلسلے میں تعلق روح بجسد عنصری کا مختلف عنوانات سے ذکر کیا ہے کسی نے اتصال معنوی سے کسی نے اشراق سے کسی نے اشراف سے اور کسی نے مثل تعلق صاحب خانہ بخانہ وعاشق بمعشوق وغیرہ الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ البتہ اس پر سب متفق ہیں کہ یہ تعلق ایسا نہیں جیسا کہ حیات دنیا میں تھا بلکہ یہ تعلق بےکیف ہے اور اس کی حقیقت وکیفیت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اس لیے عالم برزخ میں تعلق ارواح بابدان عنصریہ کے بارے میں سکوت سب سے احوط مسلک ہے کیونکہ قرون ثلثہ مشہود لہا بالخیر میں تعلق کا کوئی ذکر اذکار نہیں لیکن اگر کوئی شخص غیر معلوم الکیفیت تعلق کا اثبات کرتا ہے تو وہ بھی قابل ملامت نہیں کیوں متقدمین میں ایک کثیر تعداد مختلف عنوانات کے ساتھ اس کی قائل ہے لیکن اس تعلق کے باوجود ان کے مدفون فی القبور ابدان میں کسی قسم کی حرکت یا جنبش پیدا نہیں ہوتی اور نہ قیامت سے پہلے ان کے یہ ابدان قبروں سے باہر نکلیں گے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل اور تسلیم شدہ ہے۔ خلاصۃ الکلام یہ کہ برزخ میں انبیاء (علیہم السلام) کو جو حیات حاصل ہے وہ ہمارے ادراک و حواس سے بالا ہے۔ لیکن حیات شہداء سے بہت بلند اور اعلیٰ ہے اور پھر حضرت سید الانبیاء ﷺ کی حیات تمام انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ارفع واعلیٰ اور اتم واکمل ہے۔ والمراد بتلک الحیاۃ نوع من الحیاۃ غیر معقول لنا وھی فوق حیاۃ شھداء بکثیر وحیاۃ نبینا ﷺ اکمل واتم من حیاۃ سائرھم علیھم السلام (روح ج 22 ص 38) ایک اشکال یہاں ایک اشکال ہے جس نے بڑے بڑوں کو متحیر وسرگردان کر رکھا ہے اور جسے حل کرنے کے لیے بڑے بڑے شہسواران قلم دوڑا چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح کا مقام ومستقر اعلیٰ علیین ہے اور وہ نہ ان کے عنصری ابدان میں موجود ہیں اور نہ قبروں کے قرب و جوار میں اور ان کے ابدان قبروں میں مدفون و محفوظ ہیں اور ارواح کا ابدان میں اعادہ نفخہ ثانیہ پر ہوگا اور اس وقت وہ قبروں سے نکلیں گے اس سے پہلے نہیں۔ لیکن صحیح حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے شب معراج میں مختلف آسمانوں پر کئی انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقات کی اور بیت المقدس میں انبیاء علیہم کی امامت بھی فرمائی۔ نیز حدیث میں ہے آپ نے فرمایا کہ میں نے کثیب احمر کے قریب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا نیز آپ نے فرمایا میں نے یونس (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ اونٹنی پر سوار تلبیہ پڑ رہے ہیں اور وادی میں اتر رہے ہیں اور بعض کاملین نے حالت بیداری میںحضور ﷺ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کو دیکھا۔ بعینہ یہی اشکال غیر انبیاء کے بارے میں ہے۔ کیونکہ بعض کاملین کو بھی بیداری کی حالت میں دیکھا گیا ہے تو ان مشاہدات اور منصوصات سے بظاہر یہ قاعدہ ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اوردیگر اموات کے ابدان عنصریہ میں نہ قبروں میں جنبش ہوتی ہے اور نہ ہی قیامت سے پہلے وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔ اشکال کا حل : اس اشکال کے کئی حل پیش کیے گئے ہیں لیکن بیشتر توجیہات دل کو مطمئن نہیں کرسکتیں بلکہ ان سے مزید پیچ در پیچ اشکالات پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صرف ایک حل ایسا ہے جس سے یہ اشکال نہایت عمدہ طریقہ سے حل ہوجاتا ہے اور کوئی الجھن باقی نہیں رہتی۔ محققین علماء اور صوفیا نے بھی اسے ترجیح دی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس طرح حیات دنیا میں ارواح ابدان عنصریہ کے ذریعے متحرک ہوتی اور تمام اعمال وتصرفات بجا لاتی ہیں۔ اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) اور بعض کاملین کی ارواح وفات کے بعد عالم برزخ میں مثالی اور برزخی اجسام کے ذریعے حرکت کرتی اور نماز تلاوت قرآن اور کئی دوسرے اعمال بجالاتی ہیں اگر کسی کامل بزرگ کو حالت بیداری میں کسی پیغمبر یا کسی فوت شدہ ولی کی زیارت بشکل انسانی نصیب ہوجائے تو یہ شکل اس کی مثالی شکل ہے اور اس کی روح مثالی جسم میں متشکل ہو کر اس کے سامنے آئی ہے اور اس کا عنصری جسم قبر میں بلا حرکت و جنبش موجود ہوگا۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں وعندی ان الحیاۃ فی البرزخ ثابۃ لکل من یموت من شہید وغیرہ وان الارواح وان کانت جو اھر قائمۃ بانفسہا مغایرۃ لما یحس بہ من البدن لکن لا مانع من تعلقھا ببدن برزخی مغایر لھذا البدن الکثیف (روح ج 2 ص 21) یعنی میرے نزدیک برزخ میں ہر میت کو حیات حاصل ہے اور ارواح اگرچہ جواہر ہیں اور قائم بانفسہا ہیں اور ابدان محسوسہ کے مغایر ہیں لیکن اس میں کوئی ممانعت نہیں کہ ارواح کا تعلق برزخی جسم سے ہوجائے جو اس عنصری بدن کے مغایر ہو اور دوسری جگہ فرماتے ہیں۔ الارواح المقدسۃ قد تظھر متشکلۃ ویجتمع بھا الکاملون من العباد وقد صح انہ ﷺ رای مرسی (علیہ السلام) قائما یصلی فی قبرہ وراہ فی السماء وراہ یطوف بالبیت (روح ج 15 ص 327) پاکیزہ روحیں کبھی متشکل ہو کر ظاہر ہوتی ہیں اور کامل بندے ان سے ملاقات کرتے ہیں اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت نبی اکرم ﷺ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کھڑے ہو کر قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔ اور شب معراج میں۔ ان کو آسمان پر بھی دیکھا اور انہیں خانہ کعبہ کا طواف کرتے بھی دیکھا اور بیت المقدس میں انبیاء (علیہم السلام) کی امامت کے بارے میں آپ کا اپنا ارشاد ہے جس کی امام ابو یعلی نے مسند میں امام طبرانی نے کبیر میں تخریج کی ہے۔ قال مثل لی النبیون فصیلت بھم (بیضاوی ج 3 ص 112 ومظہری ج 5 ص 399)حضور ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء (علیہم السلام) میرے لیے مثالی اجسام میں حاضر کیے گئے اور میں نے انہیں نماز پڑھائی علامہ شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں۔ لکن تمام ھذا التوجیہ ان یقال ان المنظور الیہھی ارواحم فلعلھا مثلت لہ ﷺ فی الدنیا کما مثلت لہ لیلۃ الاسراء واما اجسادھم فھی فی القبور قال ابن المنیر وغیرہ یجعل اللہ لروحہ مثالا فیری فی الیقظۃ کما یری فی النوم (فتح الملہم ج 1 ص 330) یعنی حضرت نبی کریم ﷺ کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر میں نماز پڑھتے اور حضرت یونس (علیہ السلام) کو حج کرتے دیکھنے کی پوری توجیہ یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے دیکھا وہ ان کی ارواح تھیں تو شاید دنیا میں آپ کے لیے ان کو مثالی شکلیں دی گئی ہوں جیسا کہ شب معراج میں انبیاء (علیہم السلام) کو آپ نے مثالی اجسام میں دیکھا لیکن ان کے ابدان عنصریہ قبروں میں موجود تھے اور وہ قبروں سے نہیں نکلے، ابن منیر وغیرہ نے کہا ہے کہ اللہ میت کی روح کو مثالی جسم عطا فرماتا ہے اور وہ جس طرح خواب میں دکھائی دیتا ہے اسی طرح بیداری میں بھی نظر آتا ہے۔ اور علامیہ سیوطی لکھتے ہیں وکذالک رویۃ النبی ﷺ الانبیاء الانبیاء فی لیلۃ الاسراء فی السموات الصحیح انہ رای فیھا الارواح فی مثل الجسام (شرح الصدور ص 100) اور اسی طرح آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں انبیاء (علیہم السلام) کو آسمانوں میں دیکھنا تو اس کے متعلق صحیح بات یہ ہے کہ وہاں آپ نے ان کی ارواح کو دیکھا تھا۔ جو مثالی اجسام میں متمثل تھیں۔ اسی طرح اگر کسی خوش بخت انسان کو بیداری میں آنحضرت ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوجائے تو اکثر صوفیہ یہ فرماتے ہیں کہ اس نے آپ کے جسم مثالی کی زیارت کی ہے نہ جسم عنصری کی چناچہ امام غزالی فرماتے ہیں لیس المراد انہ یری جسمہ وبدنہ بل مثالا لہ صار ذالک المثال الۃ یتاوی بھا المعنی الذی فی نفسہ (روح المعانی ج 22 ص 37) اور شیخ علاء الدین قونوی فرماتے ہیں۔ وسادہ صوفیہ قدس اللہ اسرارہم عالمی متوسط در عالم اجساد وارواح اثبات کردہ اند کہ آنرا عالم مثال گویندا لطف از عالم اجساد واکثف از عالم ارواح و ظہور ارواح در صور مختلفہ متبنی بر ان ساختہ و ظہور جبریل (علیہ السلام) بصورت وحیہ کلبی وتمثل اور مریم را بصورت بشر سوی الخلق ازان عالم میدارند وبناء علیہ جائز بود کہ موسیٰ (علیہ السلام) باوجود استقرار در آسمان ششم بشج وکر مثالی در قبر متمثل باشد وآنحضرت اوراد ہر دو مکان مشاہدہ فرمودہ وبعد از اثبات عالم مثال جواب از مسائل کثیرہ بیرون آید واشکالات بسیار مثل بیان سعت جنت ورویت او و در عرض حائط مثلا منحل گردانتی کلام الشیخ (جذب القلوب ص 209) صوفیائے کرام عالم اجساد اور عالم ارواح کے درمیان ایک اور عالم تسلیم کرتے ہیں جسے وہ عالم مثال کہتے ہیں جو عالم اجساد سے زیادہ لطیف ہے لیکن عالم ارواح کے مقابلہ میں کثیف ہے اور ارواح کا مختلف شکلوں میں ظاہر ہونا ان کے نزدیک اسی عالم مثال کے وجود پر مبنی ہے اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کا حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے سامنے بشر کی صورت میں متمثل ہونا اسی قبیل سے ہے اور اس بنا پر یہ جائز ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چھٹے آسمان پر موجود ہونے کے ساتھ ساتھ پیکر مثالی کے ساتھ قبر میں بھی متمثل (ہوکر نماز پڑھ رہے) ہوں اور آنحضرت ﷺ نے (شب معراج میں) ان کو دونوں جگہ دیکھا ہو اور عالم مثال کا وجود تسلیم کرلینے سے بہت سے مسائل کا جواب نکل آتا ہے اور بہت سے اشکالات حل ہوجاتے ہیں مثلاً جنت کی وسعت کا بیان اور آنحضرت ﷺ کا نماز میں جنت کو دیوار کی عرض میں دیکھنا وغیرہ (یہ سب عالم مثال کی چیزیں ہیں) ۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی مسئلہ حیات انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں طویل بحث وتمحیص کے بعد اصل حقیقت کی اس طرح ترجمانی فرماتے ہیں “ و حقیقت آنست کہ تحقیق مسئلہ حیات انبیاء (علیہم السلام) وغیر ایشان موقوف بمعرفت این عالم است وتحقیق دیدن آنحضرت موسیٰ ویونس را علیہ وعلیہما السلام بمعرفت زمان ومکان روحانیات وتمییز وفرق آنہا از زمان ومکان جسمانیات چناچہ محققین صوفیہ کردہ انددست دہد الخ ” (جذب القلوب ص 209) اور حقیقت یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور غیر انبیاء کی عالم برزخ میں حیات کا مسئلہ اس عالم (عالم مثال) کی پہچان پر منحصر ہے اور آنحضرت ﷺ کے حضرت موسیٰ اور یونس (علیہما السلام) کو دیکھنے کی تحقیق روحانیات کے زمان ومکان کی معرفت اور محققین صوفیہ کے بیان کے مطابق جسمانیات کے زمان ومکان سے ان کے امتیاز ہی سے پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ اسی طرح حضرت خضر (علیہ السلام) کو کئی بزرگوں نے عالم بیداری میں دیکھا ہے تو چونکہ قول محقق اور مسلک صحیح کے مطابق ان کی وفات ہوچکی ہے اس لیے صوفیائے کرام میں سے بھی بعض کاملین نے فرمایا ہے کہ خضر (علیہ السلام) کی رویت مثالی اور عالم مثال کی چیز ہے جسد عنصری کے ساتھ نہیں جیسا کہ حضرت شیخ صدر الدین اسحاق قونوی اپنی کتاب تبصرۃ المبتدی وتذکرۃ المنتہی میں فرماتے ہیں۔ ان وجود الخضر (علیہ السلام) فی عالم المثال (روح ج 15 ص 326) ۔
Ayah 3:170

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

خوشی کرتے ہیں اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور خوش وقت ہوتے ہیں ان کی طرف سے جو ابھی تک نہیں پہنچے ان کے پاس ان کے پیچھے سے261 اس واسطے کہ نہ ڈر ہے ان پر اور نہ ان کو غم262

261 فَرِحِیْن۔ یہ یُرْزَقُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور فَضلِہٖ سے وہ انعام واکرام مراد ہے جو شہادت کے بعد جنت میں ان کو عطا کیا گیا ہے جنت کی یہ خاص نعمتیں اور یہ اعزاز واکرام چونکہ شہادت کی جزاء ہے اس لیے نعمت شہادت بھی فَضْلِہٖ میں داخل ہے۔ وھو فی الشھادۃ وما ساق الیھم من الکرامۃ والتفضیل علی غیرھم من کو نھم احیاء مقربین معجلا لھم رق الجنۃ ونعیمھا (مدارک ج 1 ص 151 یعنی بما اعطاھم من الثواب والکرامۃ والاحسان والافضال فی دار النعیم (خازن ج 1 ص 376) مطلب یہ کہ درجہ شہادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عالم برزخ میں ان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ ان میں خوش وخرم ہیں۔ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ الخ یہ یُرْزَقُوْنَ پر معطوف ہے اور اَلَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ سے وہ مجاہدین مراد ہیں جن کو یہ شہداء جہاد میں مصروف چھوڑ کر آئے تھے جب شہداء نے عالم برزخ میں اللہ تعالیٰ کے بےپایاں انعام واکرام اور وہاں کی عیش و عشرت اور نعیم مقیم کو دیکھا تو انہیں مجاہدیں کے حق میں بہت خوشی ہوئی کہ جب وہ شہادت پا کر وہاں پہنچیں گے تو ان کو بھی اسی اعزاز وانعام سے نوازا جائے گا۔ ھم الشھداء الذین یاتونھم بعد من اخوانھم المؤمنین الذین ترکوھم یجادھون فیستشھدون فرحوا لانفسھم و لمن یلحق بھم من الشھداء اذ یصرون الی ما صاروا الیہ من کر امۃ اللہ تعالیٰ (بحر ج 3 ص 114) ۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اَلَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ میں تمام ایمان والوں کی طرف اشارہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب شہداء عالم برزخ میں پہنچے اور اللہ کے انعام و احسان کا معاینہ کیا تو ان کو عین الیقین حاصل ہوگیا کہ دین اسلام ہی دین حق ہے اس لیے ان کو تمام مؤمنین کے بارے میں خوشی ہوئی کہ اگر ان کا خاتمہ ایمان اور دین اسلام پر ہی ہوا تو ان کا انجام بہت عمدہ ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ثواب وجزا حاصل کریں گے۔ الاشارۃ بالاستبشار للذین لم یلحقوا بھم الی جمیع المؤمنین وان لم یقتدروا و لکنہم لما عاینوا ثواب اللہ وقع الیقین بان دین الاسلام ھو الحق الذین یثیب اللہ علیہ فھم فرحون لانفسہم بما اٰتاھم اللہ من فضلہ مستبشرون للمؤمنین الخ (قرطبی ج 4 ص 275) ۔ 262 یہ اَلَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ سے بدل الاشتمال ہے یا منصوب بنزع خافض ہے اور اصل میں لئلا یا بان لا تھا اور یَسْتَبشِرُوْنَ کے مفعول لہ کی جگہ واقع ہے (روح ج 4 ص 123) بہر صورت اس میں شہداء کی خوشی کا اصل متعلق بیان کیا گیا ہے یعنی شہداء کو زندہ مجاہدین یا قیامت تک ہونے والے تمام مؤمنین کے بارے میں خوشی اس لیے ہوگی کہ آخرت میں ان (مجاہدین اور مومنین) کو نہ کسی قسم کا خوف لاحق ہوگا اور نہ غم، تو خوشی کا منشا مجاہدین اور مؤمنین کی ذوات و اشخاص نہیں بلکہ ان کا نیک انجام اور آخرت کی نعیم مقیم ہے۔ خوف (ڈر) کا اطلاق آنیوالے نقصان یا مستقبل میں نازل ہونے والی کسی ناپسندیدہ بات پر ہوتا ہے اور حزن (غم) گذشتہ منفعت کے فوت ہونے پر ہوتا ہے مطلب یہ کہ ان شہداء اور مومنین کو آخرت میں نہ تو قیامت کے احوال اور عذاب و عقاب کا ڈر ہوگا اور نہ ہی دنیا کی عیش و عشرت کے ہاتھ سے جانے کا غم۔ لاخوف علیھم فیما سیاتیھم من احوال القیامۃ ولا حزن لھم فیما فاتھم من نعیم الدنیا (کبیر ج 3 ص 143) ۔
Ayah 3:171

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس بات سے کہ اللہ ضائع نہیں کرتا مزدوری ایمان والوں کی263

263 پہلے بیان فرمایا کہ شہداء کو اپنے بھائیوں (بعد میں شہید ہونے والوں یا جملہ مومنوں) کے نیک انجام کی بنا پر انتہائی خوشی ہوگی اب یہاں ان کی اپنی خوشی کو بیان فرمایا ہے نِعْمَۃً مِّنَ اللہِ اور فضل سے وہ تمام نعمتیں اور اللہ کی وہ تمام نوازشیں مراد ہیں جو عالم غیب میں شہداء پر ہوتی ہیں۔ مثلاً جب شہید زخموں سے گھائل اور خاک و خوں میں لت پت ہو کر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرتا ہے اس وقت اس کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔ اسے جنت میں اپنا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے اسے عذاب قبر سے مامون و محفوظ کردیا جاتا ہے قیامت کے دن وہ فزع اکبر (سب سے بڑی گھبراہٹ) سے محفوظ رہے گا۔ اسے عزت اور وقار کا تاج پہنایا جائے گا۔ اور اسے گناہ گاروں کے حق میں شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی وغیر ذالک (قرطبی ج 4 ص 276) اور وَ اِنَّ اللہَ لَایَضِیعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ یہ نعمۃ پر مطوف ہے قیامت کے دن یہ حقیقت بھی شہداء کی خوشی اور مسرت میں اضافہ کا باعث ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے کسی عمل کو اکارت اور رائیگاں نہیں فرما رہا۔ بلکہ ان کے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل پر بھی اجر وثواب اور جزاء جمیل عطا فرما رہا ہے۔ اس سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ آخرت کا اجر وثواب کوئی شہداء ہی سے مخصوص نہیں بلکہ تمام مؤمنین کو ان کے تمام اعمال صالحہ پر اجر وثواب ملے گا۔ یعنی کما انہ تعالیٰ لا یضیع اجر المجاھدین والشھداء کذالک لا یضیع اجر المؤمنین (خازن ج 1 ص 376) ۔
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے حکم مانا اللہ کا اور رسول ﷺ کا بعد اس کے کہ پہنچ چکے تھے ان کو زخم جو ان میں نیک ہیں اور پرہیزگار ان کو ثواب بڑا ہے264

264 اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا سے ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ تک مومنوں کے لیے اخروی بشارت ہے اور اس کے ضمن میں کفار کے لیے تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے الذین مبتدا اور لِلَّذِیْنَ تا اَجْرٌ عَظِیْمٌ اس کی خبر ہے اور اِسْتَجَابُوا بمعنی اجابوا ای اطاعوا اللہ والرسول بامتثال الاوامر (روح ج 4 ص 124) یعنی انہوں نے اللہ کے رسول کے احکام کی تعمیل کی۔ اَلْقَرْحُ (زخم) سے وہ چوٹیں اور جراحتیں مراد ہیں جو مسلمانوں کو جنگ احد میں آئیں۔ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُم وَاتَّقَوْا جملہ خبر مقدم ہے اور اَجْرٌ عَظِیْمٌ مرکب توصیفی مبتدا مؤخر ہے۔ اور جملہ اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا کی خبر ہے کما مر۔ اَحْسَنُوْا۔ انہوں نے پورے اخلاص باطن سے احکام رسول اللہ ﷺ کی تعمیل کی وَاتَّقَوْا اور مخلصانہ اطاعت کے بعد معصیت اور نافرمانی سے اجتناب کیا۔ احسنوا فیما اتوا بہ من طاعۃ الرسول ﷺ وَاتقوا ارتکاب شیء من المنھیات بعد ذالک (کبیر ج 3 ص 145) ۔ مِنْھُمْ میں مِنْ بعضیہ نہیں بلکہ بیانیہ ہے کیونکہ جنہوں نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی وہ سارے کے سارے محسن اور متقی تھے اس لیے یہ دو صفتیں بیان کرنے سے علت مدح کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ یعنی اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا اس لیے لائق مدح ہیں کہ وہ صفت احسان اور اتقاء سے متصف ہیں۔ و ذھب غیر واحد الی انھا لبیان۔ المقصود من الجمع بین الوصفین المدح والتعلیل لا التقیید لان المستجیبین کلھم محسنون ومتقون (روح ج 4 ص 124) لان الذین استجابوا للہ والرسول قد احسنوا کلھم و التقوا لا بعضھم (مدارک ج ص 151، بحر ج 3 ص 117) ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے زخموں سے چور ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے کیونکہ وہ سارے کے سارے محسن اور متقی ہیں اس آیت میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو جنگ احد سے دوسرے ہی دن پیش آیا تھا۔ جب ابو سفیان اپنے شکست خوردہ ساتھیوں سمیت جنگ احد سے واپس جارہے تھے تو مقام روحاء میں پہنچ کر ان کو خیال آیا کہ ہم نے غلطی کی ہے ہمیں نہیں آنا چاہئے تھا ہم نے ان کے ستر آدمی تو مار ڈالے تھے۔ بقیہ کا بھی صفایا کرنا تھا۔ چناچہ وہ اپنی واپسی پر نادم ہوئے اور دوبارہ واپس جا کر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت نبی کریم ﷺ کو بھی کسی طرح ان کے ارادے کی اطلاع مل گئی تو آپ نے بھی کافروں کو مرعوب کرنے کے لیے انہیں راستے ہی میں جا لینے کا ارادہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرمادیا کہ میرے ساتھ صرف وہی مجاہدین جائیں گے جو کل معرکہ احد میں شریک تھے چناچہ آپ ستر آدمیوں کی جمعیت کے ساتھ کافروں کی طرف روانہ ہوئے جب آپ مقام حمراء الاسد پہنچے۔ جو مدینہ سے صرف تین میل کے فاصلہ پر ہے تو ابو سفیان اور اس کے لشکر کو اس بات کا علم ہوگیا جس سے ان کے دلوں پر لشکر اسلام کا رعب چھا گیا اور وہ بد دل ہو کر واپس ہوگئے (کبیر، روح، بحر، ابن کثیر، خازن وغیرہ) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان ستر مجاہدین کو جو گذشتہ دن کی جنگ کے زخم خوردہ تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے خدا اور رسول کے احکام کی تعمیل کی اورحضور ﷺ کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ محسن اور متقی فرمایا اور ان کو آخرت میں اجر عظیم کی خوشخبری سنائی۔
Ayah 3:173

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

جن کو کہا لوگوں نے کہ مکہ والے آدمیوں نے جمع کیا ہے سامان تمہارے مقابلہ کو سو تم ان سے ڈرو تو اور زیادہ ہوا ان کا ایمان اور بولے کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا خوب کارساز ہے265

265 اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمَا الخ، یہ اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا سے بدل ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جنگ احد کے دن ابو سفیان نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ سال پھر بدر میں ہماری تمہاری جنگ ہوگی لیکن اس میعاد مقررہ سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں خوف اور رعب ڈال دیا۔ اور اس نے جنگ کا ارادہ ترک کردیا۔ ابو سفیان نے کچھ آدمیوں کے ذریعے مسلمانوں سے کہلا بھیجا کہ ابو سفیان نے تو بہت بڑا بھاری لشکر تیار کیا ہوا ہے اور مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے بالکل مستعد ہے اس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اس خبر سے بد دل ہوجائیں گے اور مقابلہ میں نہیں آئیں گے۔ تو اس طرح اس پر وعدہ خلافی اور بزدلی کا الزام نہ آئے گا۔ لیکن جب مسلمانوں کے پاس یہ خبر پہنچی تو ان کے ایمان میں مزید جوش پیدا ہوگیا۔ ان کے ارادے اور مضبوط ہوگئے اور اللہ پر ان کے توکل اور بھروسے میں مزید قوت اور پختگی پیدا ہوگئی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اسی پختگی ایمان اور ان کے عزم و توکل کا ذکر فرمایا ہے۔ اَلنَّاس میں دونوں جگہ الف لام عہد کے لیے ہے۔ پہلے الناس سے وہ لوگ مراد ہیں جنہیں ابو سفیان نے بطور جاسوس مسلمانوں کے پاس بھیجا تھا اور دوسرے الناس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ (مدارک ج 1 ص 152، کبیر ج 3 ص 145) ۔ سید محمود آلوسی اور کئی دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ جنگ احد سے دوسرے دن جب ابو سیفان دوبارہ بغرض جنگ واپس مسلمانوں کی طرف جانے کا منصوبہ بنا رہا تھا اس وقت کسی نے اسے بتایا کہ محمد ﷺ بھاری جمعیت کے ساتھ تمہارے تعاقب میں نکل پڑے ہیں تو وہ مرعوب ہوگیا۔ ادھر قبیلہ عبد القیس کے چند سوار جو مدینہ جا رہے تھے ابو سفیان کے پاس سے گذرے تو اس نے ان کے ہاتھ حضرت رسول خدا ﷺ کو یہ پیغام دے بھیجا کہ ہم نے دوبارہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے اور ہم ان کو بالکل مٹانے کا عزم کرچکے ہیں جس کے جواب میں مسلمانوں نے حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ کا نعرہ بلند کیا۔ اس صورت میں الناس اول سے عبد القیس کے وہ سوار مراد ہوں گے جو ابو سفیان کا پیغام مسلمانوں کے پاس لائے تھے۔
Ayah 3:174

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر چلے آئے مسلمان اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ کچھ نہ پہنچی ان کو برائی اور تابع ہوئے اللہ کی مرضی کے اور اللہ کا فضل بڑا ہے266

266 فَانْقَلَبُوْا میں فاء عاطفہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے و المعنی خرجوا فانقلبو (کبیر ج 3 ص 147) یعنی حضرت رسول خدا ﷺ اور مسلمان بدر صغریٰ کی طرف ابو سفیان کے وعدہ کے مطابق نکل پڑے اور خیر و عافیت سے واپس آئے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہوئی اور نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑا۔ وَ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللہِ ۔ جب مسلمانوں کو لشکر کفار کی کثرت تعداد اور کثرت ساز و سامان کی خبر ملی تو انہوں نے کسی قسم کی کمزوری اور بزدلی کا اظہار نہ کیا بلکہ اللہ پر توکل اور بھروسہ کیا۔ اور اس کی رضا جوئی کو ہر چیز پر ترجیح دی اور جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ لما بلغھم کثرۃ جموعھم لم یفتروا و لم یفتروا و لم یفشلوا وتوکلوا علی اللہ و رضوا بہ کافیا و معینا فلھم اجر عظیم (کبیر) ۔