Ayah 2:1(2) سورة البقرۃ مدنیہ (87)
2:1 ۔ الۗمّۗ‘ الف، لام، میم۔ ان کو حروف مفطعات کہتے ہیں۔ ان کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کے نزدیک ان کے معانی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کو معلوم ہیں۔ ھذا سر بین اللہ وبین الرسول (یہ ایک بھید ہے مابین اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے) ۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ ان حروف مقطعات اور متشابہات (3:7) کا علم نہ صرف نبی کریم ﷺ کو بلکہ آپ کے اتباع کاملین کو بھی تھا۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ میں راسخین فی العلم ۔
(3:7) میں سے ہوں اور جو لوگ متشابہات اور مقطعات کی تفسیر کے عالم ہیں ان میں سے ایک میں بھی ہوں حروف مقطعات کا استعمال عربی کلام میں پایا جاتا ہے لیکن بہت کم ، مثلاً الراجز کا شعر ہے :
قلت لہا قفی فقالت قاف لا تحسبی انا نسینا الا یجاف
اس میں قاف سے وقفت۔ ہے۔ لو میں ٹھیر گئی۔
Ayah 2:22:2 ۔ ذلک الکتاب۔ ذلک ۔ اسم اشارہ بعید ہے۔ اور واحد مذکر ہے اس کی تثنیہ اور جمع یہ ہوگی تثنیہ ذلک اور جمع اولئک : اور مونث کی صورت میں واحد تلک۔ تثنیہ تانک اور جمع اولاک ذلک اگرچہ اسم اشارہ بعید کے لئے ہے لیکن اس کا استعمال بطور اشارہ قریب بھی آتا ہے۔ مثلاً خفاف کا شعر ہے۔
اقول لہ والرمح یاطر مقفہ تامل خفافا اننی انا ذلک
(میں نے اس کو کہا جب کہ نیزہ اس کی کمر کو دوہرا کر رہا تھا۔ خفاف کو اچھی طرح دیکھ لے۔ میں یہاں ہوں)
قرآن مجید میں بھی ذلک اسم اشارہ قریب کے لئے اکثر جگہ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک (3:44) (اے محمد ﷺ ) یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس وحی کرتے ہیں۔
بقول امام رازی : ھذا اور ذلک میں اصل لفظ ذا ہے جو کہ صرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ (2:255) کون ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر ان سے کسی کی سفارش کرسکے۔ یامن ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا (2:245) کون ہے کہ وہ خدا کو قرض حسنہ دے، ھا ماقبل ذا توجہ دلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں پر جب کوئی چیز قریب ہوتی ہے تو اس کو ھذا سے بیان کرتے ہیں۔ یعنی اے مخاطب یہ رہی مشار الیہ چیز، لیکن جب کوئی چیز دور ہوتی ہے تو مخاطب کو یہ بتلانے کے لئے کہ وہ چیز تجھ سے دور ہے اسم اشارہ ذا کے ساتھ ک خطاب کا اور لٓ تاکید کا لگا دیتے ہیں۔ پسذلک اگرچہ عرف عام سے اشارہ بعید کے معنوں میں آتا ہے اس کے بنیادی معنوں میں یہ مفہوم نہیں پایا جاتا۔
جس طرح بعض دفعہ ھذا کا لفظ تحقیر و تنقیص کے لئے بولتے ہیں مثلاً ام ان خیر من ھذا الذی ھو مھین ولا یکاد بین ۔ (43:52) بیشک میں اس شخس سے بہتر ہوں جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور نہ صاف گفتگو کرسکتا ہے۔ اسی طرح یہاں ذلک کے لفظ کے استعمال سے الکتب کی تعظیم شان کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔
الکتب : مشار الیہ۔ اس سے مراد قرآن مجید کا وہ حصہ ہے جو سورة البقرۃ سے بیشتر نازل ہوچکا تھا۔ (2) یہ بھی ممکن ہے کہ سارے قرآن مجید کی طرف اشارہ ہو۔ (3) آل عہد کا ہے والکتب الموعود انزلہ اور الکتب سے مراد وہ کتاب جس کے انزال کا عہد کر رکھا ہو، جیسا کہ آیت شریفہ ربنا وابعث فیہم رسولا منھم یتلوا علیہم ایتک ویعلھم الکتاب والحکمۃ ویزکیھ (2:129) سے ظاہر ہے کہ انبیاء سابقہ کو بعثت نبی کریم صلی اللہ علیہ کا پیشگی علم تھا اور الکتب (القرآن) کا ان پر منزل من اللہ ہونا بھی معلوم تھا (3) آل۔ تخصیص کے لئے بھی ہوسکتا ہے یعنی ایسی کامل کتاب کہ اس کا ثانی نہ ہو، جس کے سامنے اور کتاب کتاب کہلانے کی مستحق نہیں۔
لاریب فیہ ج ھدی للمتقین۔ لا۔ نفی جنس کے لئے ہے۔ بدیں وجہ لاریب مبنی برفتحہ ہے کیونکہ قاعدہ ہے کہ لاجنس کے بعد نکرہ مفرد ہو تو مبنی برفتحہ ہوتا ہے۔ جیسے لا رجل فی الدار۔
ریب : راب یریب : (باب ضرب کا مصدر ہے۔ اور ریب اس شک یا گمان کو کہتے ہیں جس کی حقیقت بعد میں اس کے برخلافف منکشف ہوجائے، ریب : ذہنی اضطراب، تہمت اور سوء ظن کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ فیہ : جار مجرو رہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب کے لئے ہے۔ یا اس کا مرجع کلام ما سبق بھی ہوسکتا ہے ۔
ھدی : ھدی یھدی (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ ہدایت کے معنی لطف و کرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ھدایۃ کے معنی لطف و کرم کے ساتھ راہنمائی کرنے کے ہیں تو پھر قرآن مجید میں ہے فاھدوھم الی صراط الجحیم ۔ (37:23) پھر ان کا جہنم کے راستہ پر چلادو۔ اور ویھدیہ الی عذاب السعیرط (22:4) اور دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا۔ کیوں استعمال ہوا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں طنزاً کافروں کے لئے اس کا استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ اور جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ : فبشرہم بعذاب الیم ۔ (84:24) تو (اے پیغمبر) انہیں عذاب الیم کی خوشخبری سنا دو ۔
للمتقین۔ متقین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر، مجرور، للمتقین۔ متقیوں کے لئے، تقوی کرنے والوں کے لئے، شرع میں تقوی سے مراد ہر اس چیز سے بچنا ہے جو گناہ کی طرف لے جائے۔ وق ی۔ مادہ۔
یہاں لاریب کے بعد ج صلے۔ نشان وقف مندرج ہے اور فیہ کے بعد ج کا نشان وقف، اور حاشیہ میں مع درج ہے، مع معانقہ کا مخفف ہے، جس کے لغوی معنی گلے ملنے کے ہیں۔ یہاں دو جگہ قریب قریب ہیں جن پر تین نقطے لکھے ہوئے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں لفظوں میں سے دوسرے کو پہلے سے وہ ارتباط ہے جو دوسرے لفظ کو اگلے لفظ کے ساتھ ہے پس خواہ پہلے لفظ پر وقف کرو۔ اور دوسرے کو اس سے اگلے لفظ کے ساتھ ملا کر پڑھ لو۔ اس صورت میں دوسرے لفظ کا ربط پہلے لفظ کے ساتھ ہوگا۔ نہ کہ اگلے لفظ کے ساتھ، بہر صورت اگر ایک پر وقف کرو تو دوسرے پر ہرگز وقف نہ کرو۔
تمام قرآن مجید میں متقدمین کے نزدیک 16 معانقے ہیں لیکن متاخرین کے نزدیک ان کی تعداد 18 ہے۔ آیت زیر غور کی مندرجہ بالا کی روشنی میں مندرجہ ذیل دو صورتیں ہوں گی۔
(1) ذلک الکتاب لا ریب فیہ : یہ کتاب اس میں کچھ شک نہیں۔ اس صورت میں ھدی للمتقین سے پہلے فیہ محذوف سمجھا جائے گا۔ اور عبارت یوں ہوگی، ذلک الکتب لا ریب ج صلے فیہ ھذی للمتقین یہ کتاب اس میں کچھ شک نہیں۔ اس میں متقیوں کے لئے راہنمائی ہے۔ وقف کی یہ صورت بہتر سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں نسبتاً مبالغہ زیادہ ہے اس کی تائید قرآن مجید میں اور جگہ بھی ہوتی ہے۔ مثلاً تنزیل الکتاب لاریب فیہ من رب العالمین ۔ (32:2) اس میں شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
(2) دوسری صورت میں عبارت یوں ہوگی۔ ذلک الکتاب لاریب ج صلے فیہ ھدی للمتقین اس صورت میں لا ریب کے بعد فیہ محذوف سمجھا جائیگا۔ عربی میں فیہ کے حذف کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں۔ چناچہ جب یہ کہنا مقصود ہو کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں تو لاباس فیہ کی بجائے صرف لاباس کہہ لیتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی مثال قالوا لاضیر انا الی ربنا منقلبون ۔ (26:50) وہ بولے کچھ ڈر نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔ (یعنی تمہارے ہمارے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور ہمیں سولی پر لٹکانے میں کوئی ڈر نہیں۔ یہاں لا ضیر فیہ کہنے کی بجائے صرف لا ضیر کہہ دیا۔
علامہ پانی پتی لاریب فیہ… کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں لاریب فیہ یعنی اس کتاب کے دلائل ایسے واضح اور اس درجہ روشن ہیں کہ نظر صحیح کے بعد منصف آدمی اس کے وحی اور منجانب اللہ ہونے میں ذرا سا شک نہیں کرسکتا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں خبر انشاء کے معنی میں ہے، یعنی لوگو ! اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں شک و شبہ نہ کرو۔ لاریب میں لا نفی جنس کے لئے ہے ریب اسم اور فیہ خبر، یا یوں کہو، کہ فیہ صفت اور للمتقین خبر، اور ھدی بلحاظ حال منصوب، یا لا کی خبر تو محذوف مانو۔ جیسے لا ضیر میں اور فیہ کو ھدی کی خبر کہہ دو جو ھدی کے نکرہ ہونے کی وجہ سے اس پر مقدم ہوگئی ہے۔ تقدیر عبارت یوں سمجھو لاریب فیہ، فیہ ھدی (یہ سب تو جی ہیں گو بجائے خود درست اور بجا ہیں) لیکن بہتر اور تاکید مانا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ دو جملوں کے بیچ میں حرف عطف نہیں لایا گیا۔ پس ذلک الکتب ایک ایسا جملہ ہے جو اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ یہ کتاب ایسے اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے جو غایت کمال کے ساتھ موصوف ہے اور اس حیثیت سے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔ اسی پر قیاس کرلو ھدی للمتقین کو۔
ھدی للمتقین : متقیوں کے لئے ہادی و رہنما اس کتاب کو اس لئے کہا گیا کہ گو بمطابق ارشاد باری تعالیٰ شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس ط (2:158) تمام انسانوں کے لئے رشد و ہدایت ہے لیکن اس سے فائدہ صرف متقی اور پرہیزگار ہی حاصل کرسکتے ہیں جن میں اس سے استفادہ حاصل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسی مضمون میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔
(1) وننزل من القرآن ما ھو شفاء ورحمۃ للمؤمنین ولا یزید الظلمین الاخسارا (17:82) اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے حق میں شفاء اور رحمت ہیں اور ظالموں کا اس سے اور نقصان بڑھتا ہے۔
(2) قل ھو للذین امنوا ھدی و شفاء ط والذین لا یؤمنون فی اذانھم وقر وھو علیہم عمی ط (41:44) کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے یہ قرآن ہدایت اور شفاء ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی ہے اور یہ ان کے حق میں موحب نابینائی ہے۔
Ayah 2:3(2-3) الذین ۔۔ اسم موصول جمع مذکر۔
یؤمنون بالغیب : امن یؤمن ایمانا۔ (افعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مزکر غائب ۔ وہ ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان لاتے ہیں۔ امن متعدی اور لازم دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ب اور ل ‘ کے صلہ کے ساتھ بھی متعدی مستعمل ہے ب کے صلہ کے ساتھ بمعنی ماننا اور قبول کرنا جیسے امنت باللہ ۔ میں نے اللہ کو مانا۔ قبول کیا ۔ اللہ پر ایمان لایا۔ اور امن لہ۔ تابعدار اور مطیع ہونا۔ شرع کی اصطلاح میں ایمان کے معنی ہیں اقرار باللسان و تصدیق بالقلب زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنا۔
الغیب : یہ غاب یغیب (باب ضرب یضرب) کا مصدر ہے غیاب وغیبۃ وغیوب، دیگر مصادر ہیں۔ اس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے پوشیدہ اور اوجھل ہونے کے ہیں ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور حواس سے پوشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ ، مائ کہ، حشر و نشر، جنت و دوزخ سب شامل ہیں۔ جملہ یؤمنون بالغیب صلہ ہے الذین۔ اسم موصول کا۔ اور معطوف علیہ اگلے جملہ ویقیمون الصلوٰۃ کا۔
یقیمون : مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اقامۃ (باب افعال) مصدر۔ وہ ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں۔ اقامت بمعنی سیدھا کھڑا کرنا ہے یعنی تعدیل ارکان ، نہایت خشوع و خصوع اور حضور قلب سے نماز ادا کرنا ویقیمون الصلوٰۃ اور نماز کو صحیح صحیح ادا کرتے ہیں۔
ومما رزقنھم ینفقون۔ واؤ عاطفہ مما مرکب ہے من جار اور ما موصولہ سے رزقنا فقل بافاعل ھم مفعول رزقنھم جملہ فعلیہ ہوکر ما موصول کا صلہ۔ موصول اپنے صلہ سے مل کر من حرف جار کا مجرور ہوا۔ اور جاء اپنے مجرور سے مل کر فعل ینفقون سے متعلق ہے، فعل و فاعل و متعلق فعل مل کر جملہ فعلیہ ہوکر جملہ یؤمنون بالغیب کا معطوف ہوا۔ ینفقون مضارع جمع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر وہ خرچ کرتے ہیں۔
تینوں جملے جو ایک دوسرے پر معطوف ہیں صلہ ہوئے موصول الذین کے۔ اور موصول اپنے صلہ سے مل کر متقین کی صفت ہوئی۔ یعنی متقین وہ ہیں جو (1) غیب پر ایمان لاتے ہیں (2) نماز کو صحیح صحیح ادا کرتے ہیں اور (3) جو روزی ہم نے ان کو دی ہوئی ہے اس سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 2:4(6:4) والذین ۔ واؤ عاطفہ ہے۔ الذین موصول ثانی ۔ یؤمنون ب فعل بافاعل۔ ما انزل الیک۔ ما موصولہ۔ انزل ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ الیک جار مجرور مل کر متعلق فعل انزل۔ فعل اپنے نائب فاعل (مفعول مالم یسم فاعلہ) اور متعلق فعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ ہوا ما موصولہ کا۔ موصول وصلہ مل کر معطوف علیہ ہوا اگلے جملہ کا۔
وما انزل من قبلک : واؤ عاطفہ، ما موصولہ، انزل ماضی مجہول واحد مذکر غائب (ضمیر مالم یسم فاعلہ، یا نائب فاعل کی طرف راجع ہے) من حرف جار، قبلک مضاف، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار اور مجرور مل کر متعلق فعل انزل فعل اپنے نائب فعل اور متعلق فعل سے مل کر ما موصولہ کا صلہ ہوا۔ موصول اپنے صلہ سے مل کر معطوف ہے جملہ سابقہ پر، معطوف علیہ اور معطوف دونوں جملے مفعول ہوئے یؤمنون کے، یؤمنون اپنے فاعل ضمیر اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ اور صلہ ہوا۔ الذین کا۔ الذین موصول اپنے صلہ سے مل کر معطوف ہوا پہلے الذین پر یا متقین پر۔
وبالاخرۃ ھم یوقنون ۔ واؤ عاطفہ، بالاخرۃ جار مجرور مل کر متعلق فعل یوقنون ۔ کے، یوقنون فعل بافاعل اور متعلق فعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوکر خبر ہوئی ھم کی، جو مبتداء ہے، مبتدا اپنی خبر کے ساتھ مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ اور یہ جملہ اسمیہ یومنون کا معطوف ہوا۔ معطوف و معطوف علیہ مل کر صلہ ہوئے اپنے موصول الذین کا ۔ الذین موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر پہلے الذین پر معطوف ہوا۔ اور معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر صفت ہوئی۔ المتقین کی :
والذین ۔۔ یوقنون ۔ (آیۃ 4) کا ترجمہ ہوا۔ (وہ کتاب ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جو ایمان رکھتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا آپ پر اور جو نازل کیا گیا آپ سے پہلے اور وہ قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں) ۔
گویا متقین کی مندرجہ ذیل تین مزید صفات ہیں۔
(1) وہ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو (اے محمد ﷺ ) آپ پر نازل کیا گیا۔
(2) وہ ایمان لاتے ہیں ان کتب الہیہ اور ان صحیفوں پر جو آپ سے قبل (دوسرے پیغمبروں پر) نازل کئے گئے۔
(3) وہ آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہین۔
الاخرۃ : ضد ہے دنیا کی : دنیا مشتق ہے دنو سے جس کے معنی قریب ہونا کے ہیں۔ خواہ یہ قرب ذاتی ، حکمی، مکانی، زمانی، یا بلحاظ مرتبہ کے ہو، چونکہ وہ حال کے بہت ہی قریب ہے اس لئے اسے دنیا کہتے ہیں۔ اسی طرح آخرت کو اس کے متاخر اور پیچھے ہونے کی وجہ سے آخرت کہتے ہیں۔ اصل میں دنیا اور آخرت دونوں دو صفتیں تھیں اب ان پر اسمیت غالب آئی اور استعمال میں دنیا و آخرت اسم کہلائے جانے لگے۔
ھم : ضمیر حصر کے فائدہ کی غرض سے یوقنون ۔ پر مقدم کی گئی ۔ یعنی آخرت کے گھر کا یقین صرف انہی پرہیزگاروں کو حاصل ہے جن کی چند صفتیں اوپر مذکور ہو چکیں۔
یوقنون : مضارع جمع مذکر غائب ایقان (افعال) مصدر، وہ یقین کرتے ہیں۔
Ayah 2:5(2:5) اولئک اسم اشارہ بعید جمع مذکر۔ وہ سب، یعنی وہ مومن اور متقی لوگ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
علی ھدی من ربھم ۔ کلمہ علی متقی لوگوں کے ہدایت خدوندی پر متمکن و مستقر ہونے پر دلالت کرتا ہے ای تابتوں علی الھدی ہدایت پر ثابت قدم رہنے والے۔ ھدی کو نکرہ تعظیم کے لئے لایا گیا ہے اور اس ہدایت کا من ربھم ہونا تعظیم کی مزید تاکید ہے۔
والئک ھم المفلحون : واؤ عطف کی ہے۔ اولئک مبتداء ھم مبتداء المفلحون : خبر، دونوں مل کر اولئک کی خبر ہوئے۔ یہ مبتداء اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوکر جملہ سابقہ کا معطوف ہوا۔
ھم ضمیر مقدم برائے حصر لائی گئیے۔ یعنی فلاح بھی انہی کا حصہ ہے جو مذکورہ بالا اوصاف سے متصف ہیں ۔
المفلحون۔ اسم فاعل جمع مذکر مرفوع المفلح واحد افلاح (افعال) مصدر ، فلاح پانے والے، مراد پانیوالے، کامیابی حاصل کرنے والے۔
Ayah 2:6کفروا : ماضی جمع مذکر غائب، کفرو کفران وکفور، مصادر ہیں۔
الکفر : کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اسی لئے رات کو بھی کافر کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو چھپالیتی ہے۔ یا کسان کو بھی کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی بیج کو زمین کے اندر چھپا دیتا ہے۔ کفر زیادہ تر شریعت حقہ سے انکار یا دین سے انکار کے لئے استعمال ہوتا ہے اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا اس کے فرستادہ انبیاء سے یا ان کی لائی ہوئی شریعت سے انکار ہے۔
کفران : زیادہ تر نعمت کے انکار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کفور دونوں قسموں کے انکار پر بولا جاتا ہے۔ ان الذین کفروا (اے پیغمبر) جن لوگوں نے قبول اسلام سے انکار کیا۔ سواء علیہم، سواء برابر، اسم مصدر ہے بمعنی دونوں طرف سے برابر ہونا۔ نہ اس کا تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔ سوی مادہ۔
ء انذرتہم : ء ہمزہ استفہام ہے۔ لیکن یہاں یہ ہمزہ تسویۃ کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی دونوں چیزوں کی برابری کرنے کے لئے ۔ خواہ۔ ء انذرت، ماضی واحد مذکر حاضر، انذار (افعال) مصدر بمعنی ڈرانا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب، جس کا مرجع الذین کفروا ہے خواہ تو ان کو ڈرائے۔ انذار : عذاب الٰہی سے خوف دلانے کو کہتے ہیں ۔ ام ۔ خواہ۔ یا ۔ کیا۔ ء (ہمزہ) اور ام ، گو دونوں استفہام کے لئے آیا کرتے ہیں۔ لیکن یہاں ان کو اس معنی میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ معنی استوار کی تاکید کے لئے مستعمل ہیں۔
لم تنذرھم ۔ لم تنذر مضارع نفی جحد بلم۔ واحد مذکر حاضر، ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
سواء علیہم ۔۔ لم تنذرھم۔ ان کے لئے یکساں ہے کہ آپ ان کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ۔
لا یؤمنون : مضارع نفی جمع مذکر غائب۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
اس آیت کی ترکیب بحوی یوں ہوگی ! ان حرف مشبہ بالفعل الذین اسم موصول کفروا جملہ فعلیہ ہوکر اپنے موصول کا صلہ، موصول اور صلہ مل کر اسم ان۔ سواء علیہمء انذرتہم ام لم تنذرہم خبر ان کی۔ لا یؤمنون جملہ فعلیہ خبر ثانی ان کی۔
Ayah 2:7(2:7) ختم ماضی واحد مذکر غائب۔ ختم (باب ضرب) مصدر سے۔ اس نے مہر لگائی۔ اس نے مہر لگا دی۔
امام راغب فرماتے ہیں۔ الختم ۔ الطبع کے لفظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں ۔ کبھی تو ختمت۔ اور طبعت کے مصدر ہوتے ہیں اور اس کے معنی کسی چیز پر مہر کی طرف نشان لگانے کے ہیں۔ اور کبھی اس نشان کو کہتے ہیں جو مہر لگانے سے بن جاتا ہے۔
اور مجازاً کبھی اس سے کسی چیز کے متعلق وثوق حاصل کرلینا۔ اور اس کا محفوظ کرلینا مراد ہوتا ہے جیسا کہ کتابوں یا دروازوں پر مہر لگا کر انہیں محفوظ کردیا جاتا ہے کہ کوئی چیز ان کے اندر داخل نہ ہو۔
یہاں آیت ہذا میں بھی ختم اللہ علی قلوبھم کے معنی ہیں : خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے (کہ نصیحت و پندار کا ان میں دخل نہیں ہوتا) ۔
وعلی سمعھم : واؤ عاطفہ ہے۔ علی سمعھم معطوف ہے علی قلوبھم پر۔ ای و ختم اللہ علی سمعھم اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں پر مہر لگا دی۔ سمع اصل میں مصدر ہے اور مصادر جمع کی صورت میں نہیں لائے جاتے اس لئے یہاں لفظ سمع مفرد لایا گیا ہے۔ ابصارھم مضاف مضاف الیہ، ان کی آنکھیں۔ ابصار۔ بصر کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے کسی چیز کا آنکھ سے ادراک کرنا۔ لیکن کبھی اس کا اطلاق قوت باصرہ پر بھی ہوا کرتا ہے۔ کبھی نفس آنکھ کو بھی بصر کہتے ہیں۔
غشاوۃ : غشی یغشی (باب سمع) کا مصدر ہے۔ غشیہ، غشاوۃ، وغشاء اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے۔ غشاوۃ (اسم) وہ پر وہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے۔
وعلی ابصارھم غشاوۃ : اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وجعل علی بصرہ غشاوۃ (45:23) اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اور واللیل اذا یغشی (92:1) رات کی قسم جو (دن کو) چھپالے۔
فائدہ : علامہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں ختم اللہ ۔۔ الخ۔ یہ اس دعوی کی (کہ ان پر ہدایت کا کچھ اثر نہ ہوگا۔ وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہے) دلیل ہے اور یہ دلیل اس لئے بیان ہوئی ہے کہ بظاہر اس دعوی کا ثبوت نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے ثبوت میں فرمایا کہ یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کردی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے یعنی ان کی جبلت میں تاریکی ہے اور بہمیت کی اندھیریوں نے ان کو ہر طرف سے محیط ہو کر اس امر کے قابل ہی نہ رکھا۔
Ayah 2:8(2:8) ومن الناس۔ میں من تبعیضیہ ہے یعنی بعض ایسے بھی ہیں۔ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سلول اور معتب بن قشیر، اور جدین قیس اور ان کے رفقاء کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں اکثر یہودی تھے۔ اور بعض منافق۔ ناس اصل میں اناس تھا۔ ہمزہ کو حذف کرکے اس کے عوض حرف تعریف یعنی الف لام لے آئے یہ جمع ہے انسان کی۔ اور بعض کے نزدیک جمع نہیں بلکہ اسم جمع ہے کیونکہ جمع کے اوزان میں فعال نہیں آیا ۔ یہ یا تو انس یا نس انس مصدر باب سمع سے۔ بمعنی مانوس ہونا۔ یا انس یونس ایناس (باب افعال) سے۔ مشتق ہے، جس کے معنی دور سے دیکھنا یا محسوس کرنے کے ہیں۔ چونکہ آدمی ایک دوسرے کو دکھائی دیتے ہیں اس لئے انہیں ناس کہتے ہیں۔ جس طرح جنوں کو ان کے مخفی اور پوشیدہ ہونے کی وجہ سے جن کہتے ہیں۔
من یقول : من اسم موصول یقول امنا باللہ وبالیوم الاخر صلہ ہے باللہ معطوف علیہ ہے اور بالیوم الاخر معطوف۔ ای امنا باللہ وامنا بالیوم الاخر۔
وماھم بمؤمنین : واو حالیہ ہے اور جملہ مابعد جملہ حالیہ۔ ترجمہ یوں ہوگا۔ اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو (زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے۔ حالانکہ وہ ایماندار نہیں ہیں۔
Ayah 2:9(2:9) یخدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب ، مخارعۃ۔ (مفاعلۃ) مصدر ۔ وہ فریب کرتے ہیں۔ وہ دھوکہ دیتے ہیں الخداع کے معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ہو اس کے برعکس ظاہر کرکے کسی کو اس چیز سے پھیر دینا جس کے وہ درپے ہو۔
امام راغب (رح) تعالیٰ رقمطراز ہیں : (اس میں) اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے سے مراد اس کے رسول اور اولیاء کو فریب دینا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرکے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کوئی سامعاملہ کرنا گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔ اسی بناء پر فرمایا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ۔ (47:10) جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔
اللہ۔ فعل یخدعون کا مفعول ہے والذین امنوا ۔ واؤ عطف کا ہے۔ الذین امنوا ۔ موصول وصلہ مل کر معطوف اور اللہ معطوف علیہ۔ ای ویخدعون الذین امنوا۔ اور وہ دھوکہ دیتے ہیں ایمان لانے والوں کو۔
وما یخدعون الا انفسہم، جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ما نافیہ۔ یخدعون مضارع جمع مذکر غائب۔ خدع۔ مصدر (باب فتح سے) انفسھم مضاف، مضاف الیہ مل کر مفعول یخدعون کا ترجمہ : حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
انفس جمع ہے نفس کی۔ نفس ذت شے کو کہتے ہیں خواہ جو ہر ہو یا عرض۔ (جو بذات خود قائم ہو وہ جوہر ہے مثلاً ذات باری تعالیٰ کی اس کے لئے بھی نفس کا استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک (5:116) تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے ضمیر میں ہے) عرض وہ چیز جو دوسری چیز کی وجہ سے قائم ہو۔
وما یشعرون ۔ ۔ واؤ حالیہ ، ما یشعرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ جملہ حالیہ ہے۔ اور یہ یخدعون کی ضمیر سے حال ہے۔ یشعرون۔ شعور۔ مصدر ، (باب نصر) سے ہے۔ مطلب یہ ہے وہ جو اس سے اس کا ادراک نہیں کر کستے ، وہ نہیں سمجھتے۔ یہ الشعر سے ہے جس کے معنی بال ہیں اور اس کی جمع اشعار ہے۔۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں : شعرت کے معنی بالوں پر مارنے کے ہیں اور اسی سے شعرت کذا مستعار ہے۔ جس کے معنی بال کی طرح باریک علم حاصل کرلینے کے ہیں۔ اور شاعر کو بھی اس کی فطانت اور لطافت نظر کی وجہ سے ہی شاعر کہا جاتا ہے۔ تو لیت شعری کذا کے محاورہ میں شعر اصل میں علم لطیف کا نام ہے۔ پھر عرف میں موزوں اور مقفی کلام کو شعر کہا جانے لگا۔
Ayah 2:10(2:10) مرض۔ المرض۔ کے معنی ہیں انسان کے مزاج خصوصی کا اعتدال اور توازن کی حد سے نکل جانا یہ دو قسم پر ہے۔ (1) مرض جسمانی جیسا کہ ارشاد ہے۔ ولا علی المریض حرج (24:61) اور نہ بیمار پر کچھ گناہ ہے۔ (2) مرض کا لفظ اخلاق کے بگڑنے پر بھی بولا جاتا ہے اور اس سے اخلاق رذیلہ مثلاً جہالت، شک، بزدلی، نجل، نفاق وغیرہ مراد ہوتے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے کہ : واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا الی رجسھم (9:125) اور جن کے دلوں میں مرض ہے ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا۔ آیت ہذا میں یہی دوسرے معنی لئے گئے ہیں ۔ کیونکہ جس طرح مرض جسمانی انسان کے بدن کو کمزور کردیتا ہے اسی طرح یہ اخلاق رذیلہ بھی انسان کے دین کو ضعیف کردیتے ہیں۔
فزادھم اللہ۔نتیجہ کے لئے ہے۔ ای نتیجۃ۔ زاد۔ یزید۔ (باب ضرب) زبد وزیادۃ مصدر، ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے زیادہ کیا۔ اس نے بڑھایا۔ زاد۔ فعل لازم اور متعدی ہر دو طرھ استعمال ہوتا ہے، یہاں یہ بطور فعل متعدی استعمال ہوا ہے۔ فعل لازم کی مثال قرآن مجید میں ہے۔ وارسلناہ الی مائۃ الف او یزیدون (37:147) اور ہم نے اس کو بھیجا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف (او یزیدون۔ یا وہ زیادہ تھے) ۔
ھم ضمیر مفعول جمعع مذکر غائب۔ اللہ فاعل۔ مرضا مفعول ثانی زاد فعل کا۔
فزادھم اللہ مرضا۔ خدا نے ان کے مرض کو اور بڑھا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان منافقین کے دلوں میں شک و نفاق کا مرض ہے۔ انہوں نے اس مرض کو دفع کرنے کی کوشش نہیں کی۔ حتی کہ وہ جڑ پکڑ گئی اور قانون قدرت کے مطابق بڑھتی گئی۔
عذاب الیم۔ موصوف صفت، الم یالم الم (باب سمع) الم۔ اسم فاعل۔ فعل لازم قرآن مجید میں ہے یالمون کما تولمون (4:104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں۔ الم یولم ایلام (افعال) دکھ درد دینا۔ مولم اسم فاعل۔ یہاں الیم بمعنی مولم ہے۔ دکھ دینے والا ۔ درد ناک ۔ (راغب)
بما کانوا یکذبون ۔ ب سببیہ ہے اور ما مصدریہ۔ کانوا یکذبون ۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب۔ بہ سبب اس کے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔ بہ سبب ان کے کذب کے (کذب یکذب کذب جھوٹ بولنا)
Ayah 2:11(2:11) واذا قیل لہم لا تفسدوا فی الارض۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اذا شرطیہ، قیل ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ قول (باب نصر) مصدر ، یہ کثیر المعانی لفظ ہے۔ اور قرآن مجید میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً بولنا، رائے، نظریہ، کسی کو کوئی بات الہام کرنا۔ حکم دینا۔ روایت کرنا وغیرہ۔
قیل اگرچہ ماضی کا صیغہ ہے لیکن قرآن مجید میں جس جگہ حرف شرط کے بعد آیا ہے وہاں مضارع کا ترجمہ کیا جائے گا۔ کہیں حال کا کہیں مستقبل کا ۔ کہا گیا۔ کہا جاتا ہے۔ کہا جائے گا۔
لا تفسدوا فی الارض، مقولہ نائب فاعل قیل کا ہے ۔ سارا جملہ جملہ فعلیہ ہوکر شرط ہے۔ اگلہ جملہ قالوا ۔۔ مصلحون تک ۔ اس شرط کی جزاء ہے۔
انما۔ یہ مرکب ہے ان اور ما۔ بیشک ۔ تحقیق۔ سوائے اس کے نہیں، ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتی ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتی ہے۔
مصلحون ۔ اسم فاعل جمع مذکر، درست اعمال کرنے والے ، نیک، اصلاح کرنے والے، بگاڑ کرنے والے۔
Ayah 2:12(2:12) الا۔ خبردار ہوجاؤ، سن لو، جان لو، حرف تنبیہ ہے۔
ھم المفسدون۔ ھم۔ ضمیر جمع مذکر غائب، تاکید کے لئے ہے۔ المفسدون۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ المفسد۔ واحد۔ فساد ڈالنے والے۔ بگاڑ کرنے والے (بےشک) یہی فساد ڈالنے والے ہیں ۔
لا یشعرون ۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب، وہ شعور نہیں رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں، نیز ملاحظہ ہو
Ayah 2:13(2:9) امنوا۔ فعل امر، جمع مذکر حاضر، ایمان۔ (افعال) مصدر تم ایمان لاؤ۔ کما مرکب ہے ک اور ما سے ک حرف تشبیہ ہے۔ ما مصدر یہ ہے، ای امنوا ایمانا مثل ایمان الناس۔
السفھائ۔ السفیہ کی جمع۔ بےوقوف، کم عقل، بےسمجھ، احمق، السفیہ کے اصل معنی جسمانی ہلکاپن کے ہیں۔ عرب بولتے ہیں سفھت الریح الشیئ۔ اس چیز کو ہوا لے اڑی۔ پھر بسبب خفیف ہونے عقل کے اس کا اطلاق بےوقوفی اور حماقت پر ہونے لگا۔ سفیہ بروزن فعیل ۔ اسم فاعل ہے بمعنی بےوقوف۔
الناس : (1) ال جنس کے لئے ہے جس سے مراد مرد کامل ہے کیونکہ جنس بول کر فرد کامل مراد لیا جاتا ہے۔ جیسے کہ ہم بولتے ہیں ” فلاں انسا ہے “ یعنی کامل انسان ہے اس تقدیر پر الناس سے مراد اہل ایمان ہیں جو صحیح معنی میں انسان ہیں۔ (2) ال عہد کا بھی ہوسکتا ہے یعنی صحابہ کرام ؓ
Ayah 2:14(2:14) لقوا : ماضی جمع مذکر غائب ، لقی ولقاء (باب سمع) مصدر، لقوا اصل میں لقیوا تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا۔ ماقبل کو دیا۔ ی بسبب اجتماع ساکنین گرگئی۔ لقوا ہوگیا۔ جب وہ ملتے ہیں، جب وہ سامنے آتے ہیں ۔ لقوا ماضی کا صیغہ ہے۔ لیکن حرف شرط کے بعد آنے کی وجہ سے بمعنی مضارع آیا ہے۔ ملاحظہ ہو (2:11) ۔
الذین : اسم موصول ۔ امنوا صلہ موصول اپنے صلہ سے مل کر لقوا کا مفعول ہے۔
خلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ (ماضی بمعنی مضارع بحوالہ (2:11) خلا یخل (باب نصر) خلاء مصدر وہ تنہا ہوا۔ وہ اکیلا ہوا۔ خلاء خلوت میں ہونا یا اکیلا ہونا۔ خلا الی۔ کسی کے ساتھ اکیلا ہونا۔ یا خلوت میں ہونا واذا خلوا الیٰ شیاطینھم ۔ اور جب وہ اپنے شیطان ساتھیوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں، یعنی جب اہل ایمان ان کے پاس نہیں ہوتے۔
مستھزء ون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ استھزاء (استفعال) مصدر ، ھزئ۔ مادہ ۔ مذاق کرنے والے، ٹھٹھا کرنے والے۔ مذاق بنا کر انکار کرنے والے۔
Ayah 2:15(2:15) یستھزی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ استھزاء (استفعال) مصدر۔ عربی زبان میں جب وہی یا ویسا ہی فعل جواباً استعمال کیا جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں اس فعل کی سزا دیتا یا اس کی مدافعت کرنا۔ اللہ یستھزیء بھم ۔۔ کے یہ معنی نہیں کہ اللہ ان سے مذاق کرے گا۔ بلکہ اس کے معنی ہیں یرجع وبال الاستھزاء علیہم، ان کے استہزاء کا بوجھ یا عذاب ان ہی پر لوٹا دے گا۔ (بیضاوی)
بعض علماء نے الفاظ پر مبنی دیگر تاویلات بھی کی ہیں۔ جو کتب تفسیر میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
یمدھم : یمد۔ فعل مصارع واحد مذکر غائب۔ مد یمد (باب نصر) مد۔ مصدر۔ وہ ڈھیل دے رہا ہے، وہ مہلت دے رہا ہے۔ ھم ۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ضمیر کا مرجع (وہ لوگ ہیں جو ، (2:8) میں مذکور ہوئے۔ جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت پر ایمان لائے لیکن حقیقۃً وہ ایمان نہیں رکھتے۔
المد۔ کے اصل معنی (لمبائی میں کھینچنے کے ہیں۔ اور بڑھانے کے ہیں۔ اسی سے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے الم تر الی ربک کیف مد الظل (25:45) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کرکے پھیلا دیتا ہے مددت عینی الی کذا۔ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا۔ مثلاً لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم (15:88) اور ہم نے کفار کے کئی جوڑوں کو جو فوائد دینا سے متمع کیا ہے۔ تم ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا اور ۔ مددتہ فی غیہ بمعنی گمراہی پر مہلت دینا۔ فوراً گرفت نہ کرنا ۔ باب افعال سے امدیمد بمعنی مدد کرنا وغیرہم۔
طغیانھم۔ مضاف مضاف الیہ ان کی سرکشی، طغی یطغی۔ باب سمع اور طغی یطغی (باب فتح) طغیان۔ اپنی حد سے بڑھ جانا۔ نافرمانی اور معصیت کو شی میں حد سے بڑھ جانا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ یعمھون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ عمہ (باب فتح۔ سمع) مصدر بمعنی حیرانگی کی وجہ سے سرگردان ومتردد پھرنا۔ یعمھون جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر ھم کا حال ہے۔
عم کے معنی لغوی یہ ہیں کہ کسی معاملہ میں سرگشتہ و حیران ہونا جیسا کہ اعمی (اندھے) کا حال ہوتا ہے۔ ترجمہ یوں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ٹھٹھا کرتا ہے یعنی انہیں ٹھٹھا کرنے کی سزا دیتا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دئیے جاتا ہے۔ (اور ان کی حالت یہ ہے کہ) وہ حیرانگی کی وجہ سے سرگرداں و متردد بہک رہے ہیں۔
Ayah 2:16(2:16) اولئک اسم اشارہ۔ جمع مذکر۔ وہ لوگ، یہی وہ لوگ ہیں۔
اشتروا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ اشتراء (افتعال) مصدر ، بیچنے اور خریدنے ہر دو معنوں میں آتا ہے اور یہاں بمعنی خرید کرنا ہے۔ انہوں نے خرید کیا۔ انہوں نے مول لیا۔ مشتری خرید کرنے والا۔
الضللۃ۔ گمراہی، بھٹکنا، گمراہ ہونا۔ جل یضل (باب ضرب) کا مصدر ہے بمعنی گمراہ ہونا۔ راہ حق سے بھٹک جانا۔ ھدایۃ کی ضد ہے اشتروا کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
بالھدی : ب عوض اور بدلہ کے لئے ہے۔ ھدی۔ بمعنی ہدایت، یعنی انہوں نے ہدایت دے کر اس کے بدلہ میں گمراہی مول لے لی۔ فما ۔ ف۔ تفریعیہ (مستنبط ) ۔ ما نافیہ۔ ربحت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ رنج و رباح (باب سمع) کا مصدر ۔ (تجارت کا) نفع دینا (آدمی کا تجارت میں) نفع کمانا۔
تجارتھم۔ مضاف، مضاف الیہ۔ ان کی تجارت (پس ان کی تجارت نفع آور نہ ہوئی)
مھتدین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب، ہدایت پانے والے۔
Ayah 2:17استوقد۔ ماضی، واحد مذکر غائب۔ استیقاد (استفعال) مصدر۔ اس نے آگ جلائی۔ اسی سے ہے وقود۔ ایندھن جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔
فلما۔ فاء عطف اور ترتیب کے لئے ہے لما حرف شرط ہے اضاءت ما حولہ جملہ شرطیہ ہے اور اگلہ جملہ اس کی جزائ۔ پس جب۔ اضاء ت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل۔ نارا کی طرف راجع ہے اضاء ۃ (باب افعال) مصدر ض دء مادہ ۔ روشن کرنا یعنی جب اس نے آگ کو روشن کردیا۔
ما حولہ۔ ما۔ صلہ حولہ مضاف مضاف الیہ مل کر موصول حول ۔ اردگرد ، آس پاس۔ جو اس کے اردگرد یا آس پاس تھا۔ ہ۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الموستوقد۔ آگ جلانے والا ہے۔ موصول وصلہ مل کر اضاءت کا مفعول ہے۔
بنورھم ۔ ب حرف جار تعدیہ کا ہے۔ نورھم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر، مجرور، جار اور مجرور مل کر متعلق فعل۔ ذھب اللہ بنورھم۔ (تو) اللہ تعالیٰ ان کی روشنی کو لے گیا۔ ان کی روشنی سلب کرلی۔
وترکہم فی ظلمت : واؤ عاطفہ ہے ترکھم فی ظلمت یہ جملہ معطوف ہے جملہ سابقہ پر۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب فی ظلمت متعلق فعل ترک۔ اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا۔
لا یبصرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ابصار۔ (افعال، مصدر، یہ جملہ حال ہے اپنے ذوالحال ھم کا۔ درآں حالیکہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔
فائدہ : آیت ہذا میں الذی بمعنی الذین استعمال ہوا ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے بعد ذھب اللہ بنورھم میں ھم ضمیر جمع لائی گئی ہے الذی کا لفظ جمع کے معنوں میں اور جگہ بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً وخضتم کالذی خاصوا (9:69) اور تم لوگ بھی گھسے جیسا وہ لوگ گھسے تھے اور والذی جآء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون ۔ (39:33) اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور (خود بھی) اس کو سچ جانا تو یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔
Ayah 2:18(2:18) صم۔ بہرے، اصم کی جمع ہے افعل فعلاء فعل کے وزن پر، صم صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ واحد مذکر۔
بکم۔ گونگے۔ ابکم کی جمع جس کے معنی پیدائشی گونگے کے ہیں۔
عمی۔ اعمی کی جمع۔ اعمی کا استعمال آنکھوں کے اندھے اور دل کے اندھے دونوں کے لئے ہوتا ہے۔ صم۔ خبر اول ہے مبتدا محذوف ھم کی بکم خبر دوم اور عمی خبر سوم ، مبتدا محذوف اپنی ہر سہ اخبار سے مل کر جملہ اسمیہ ہے اور یہ معطوف علیہ ہے اگلے جملہ کا
فھم لا یرجعون ۔ فاء حرف عطف بمعہ ترتیب کے۔ ھم مبتدا ۔ لا یرجعون فعل بافاعل جو جملہ فعلیہ ہوکر خبر ہے مبتدا کی۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ یہ جملہ معطوف ہے جملہ سابقہ پر۔
وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں ۔ پس وہ (کسی طرح سیدھے راستہ کی طرف) نہیں لوٹیں گے۔
Ayah 2:19(2:19) او۔ او اصل میں شک کے لئے وضع کیا گیا ہے جہاں دو باتوں میں شک کے طور پر برابری ہو وہاں اس کا استعمال ہوتا تھا۔ پھر مطلقاً دو چیزوں کی برابری بیان کرنے میں استعمال ہونے لگا کہ جہاں شک مقصود نہیں جیسا کہ بولتے ہیں جالس الحسن او ابن سیرین۔ کہ خواہ تو حسن کے پاس بیٹھ یا ابن سیرین کے، دونوں کے پاس بیٹھنا برابر ہے۔ اس مقام پر (آیت ہذا) بھی یہ کلمہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ منافقوں کو خواہ آگ جلانے والوں سے تشبیہ دو خواہ مینہ سے بھاگنے والوں سے دونوں برابر ہیں (تفسیر حقانی) او کے معنی یا ہیں یہ حرف عطف ہے۔
کصیب : ک تشبیہ کا ہے۔ صیب۔ صوب مصدر (باب نصر) سے مشتق ہے اور فیعل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی بارش یا مینہ برسانے والا بادل ہیں۔
صیب سے پہلے مضاف محذوف ہے ای اصحاب صیب۔ تقدیر کلام یوں ہوگی : او مثلہم کمثل اصحاب صیب من السماء یا پھر ان کی مثال آسمانی بارش والوں کی سی ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ ، منافقوں کو دونوں قصوں سے تشبیہ دینا برابر ہے) ۔
السماء (سمو مادہ) ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے جس طرح ارض بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں۔ جیسے شاعر نے گھوڑے کی صفت میں کہا ہے، د
واحمر کالدیباج اما سماؤہ فربا واما ارضہ فمحول
(وہ دیبا کی طرح سرخ ہے اس کا بالائی حصہ موٹا اور گداز ہے۔ اور اس کا زیریں حصہ (یعنی ٹانگیں) لاغر اور سخت ہے) ۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ اسمائے نسبیہ سے ہے کہ ہر سماء اپنے ما تحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض ہے بجز سماء علیا (فلک الافلاک) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا۔ نیز بارش کو بھی سماء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی اوپر سے آتی ہے۔ بادل اور آسمان مراد لینا بھی ممکن ہے آیت ہذا میں مراد بادل ہے۔
فیہ ۔ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ہے یا سماء ۔ کیونکہ لفظ سماء مذکر و مونث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے (1) والسماء منفطر بہ (73:18) اور جس سے آسمان پھٹ جائے گا (مذکر) (2) اذا السماء انفطرت (82:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (مؤنث)
ظلمت : جمع ہے ظلمۃ کی تاریکیاں ۔ اندھیرے۔
رعد۔ گرج کو کہتے ہیں۔ مثلا بولا جاتا ہے رعدت السماء وبرقت۔ بادل گرجا اور چمکا۔
برق۔ بادلوں میں پیدا ہونے والی چمک۔ ملاحظہ ہو رعد۔ متذکرہ بالا۔
یجعلون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ جعل (باب فتح) مصدر ۔
جعل۔ یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل ۔ صنع کی بہ نسبت عام ہے، یہ پانچ طرح پر استعمال ہوتا ہے۔
(1) بمعنی صاروطفق۔ اس صورت میں یہ متعدی نہیں ہوتا۔ مثلاً جعل ذید یقول کذا۔ زید یوں کہنے لگا۔
(2) بمعنی اوجد۔ (یعنی ایجاد کرنا۔ پیدا کرنا) جیسے وجعل الظلمت والنور (6:1) اور اندھیرے اور روشنی بنائی۔
(3) ایک شے کو دوسری شے سے پیدا کرنا اور بنانا۔ مثلاً وجعل لکم من انفسکم ازواجا (42:11) اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے۔ اور وجعل لکم من الجبال اکنانا (16:81) اور تمہارے لئے پہاڑوں میں غاریں بنائیں۔
(4) بمعنی تصییر۔ یعنی کسی شے کو ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنا۔ جیسے قرآن میں ہے الذی جعل لکم الارض فراشا (2:22) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔
(5) کسی چیز پر کسی چیز کے ساتھ حکم لگانا۔ عام اس سے کہ وہ حکم حق ہو یا باطل۔ حق کی مثال انا رادوہ الیک و جاعلوہ من المرسلین ۔ (28:7) ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور پھر، اسے پیغمبر بنائیں گے۔ باطل کی مثال ویجعلون للہ البنات (16:57) اور یہ لوگ خدا کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔
اصابعہم : مضاف مضاف الیہ، ان کی انگلیاں اصبع کی جمع۔
اذانھم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ان کے کان ۔ اذن کی جمع۔
من القواعق۔ جار مجرور مل کر اپنے فعل یجعلون کے متعلق ہے۔ الصواعق جمع الصاعقۃ کی۔ کڑک بجلی کی کڑک، صاعقۃ یا تو صعق یصعق (سمع) کا مصدر ہے جس کے معنی بےہوش ہونے کے ہیں۔ یا سعق سے بمعنی نہ کو اس فاعل کا صیغہ واحد مونث ہے۔ اور آواز رعد کی صفت ہے یا خود رعد کی صفت ہے اخیر صورت میں ۃ اس میں مبالغہ کے لئے ہوگی۔
حذر الموت۔ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر اپنے فعل یجعلون کا مفعول لہ ہیں۔ موت کا ڈر ، موت کے ڈر سے ، یعنی بجلی کی کڑک کے باعث موت کے خوف سے اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیتے ہیں ۔
محیط۔ اسم فاعل واحد مذکر قیاسی احاطہ ۔ مصدر (باب افعال) حوط۔ مادہ۔ ہر طرف سے احاطہ کرلینے والا ہر طرف سے گھیر لینے والا۔ واللہ محیط بالکفرین۔ جملہ معترضہ ہے ۔
Ayah 2:20یکاد البرق۔ یکاد۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ قریب ہے کاد۔ یکاد۔ کود۔ مصدر (باب سمع) افعال مقاربہ میں سے ہے۔ اگرچہ یہ فعل تامہ ہے۔ لیکن استعمال میں اس کے بعد کوئی دوسرا فعل ضرور ہوتا ہے۔ جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے آیت ہذا میں : یکاد البرق یخطف ابصارھم قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھوں کو اچک لے۔ نیز ملاحظہ ہو (2:71) ۔
یخطف۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ خطف مصدر (باب سمع) اچک لے۔ جھپٹ لے جائے، باز مخطف۔ باز جو اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔
یکاد البرق یخطف ابصارھم ۔ جملہ مستانفہ ہے۔ گویا کہ کوئی پوچھتا تھا کہ اس کڑک میں ان کا کیا حال ہے۔ فرمایا کہ گویا بجلی کی چمک سے وہ اندھے ہی ہوجاویں گے۔
کما۔ جب کبھی۔ کلمہ شرط ہے۔ یہ لفظ مرکب ہے کل اور ما سے۔ اس ترکیب میں ظرفیت کی وجہ سے لفظ کل ہمیشہ منصوب رہتا ہے اس میں ظرفیت ما کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ ما حرف مصدری ہے۔ کلما کے بعد اکثر فعل ماضی آتا ہے۔ جیسے آیت ہذا میں کلما اضاء لہم آیا ہے یا جیسے قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے ۔ کلما دعوتھم (71:7) جب بھی میں نے ان کو بلایا ۔ یا جیسے کلما دخل علیہا زکریا المحراب (2:37) حضرت زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے۔ وغیرہ
اضآئ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اضاء ۃ (افعال) مصدر ، اس نے روشن کیا۔ ضوء مادہ، الضوئ۔ کے معنی نور اور وشنی کے ہیں۔ ضاءت النار۔ آگ روشن ہوگئی۔ فعل میں ضمیر فاعل کا مرجع البرق ہے۔ اس میں مفعول محذوف ہے ای اضاء الصراط لہم جب بجلی کی روشنی ان کے لئے راستہ کو روشن کرتی ہے۔ مشوافیہ ۔ ماضی جمع مذکر غائب، مشی (باب ضرب) سے مصدر فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الصراط (محذوف) کے لئے ہے۔ اظلم۔ ماضی واحد مذکر غائب اظلام (افعال) کا مصدر، اس نے اندھیرا کیا۔ اظلم علیہم، وہ ان پر اندھیرا کرتا ہے، یعنی جب ان پر اندھیرا طاری ہوجاتا ہے (برق کے نہ چمکنے سے) ۔
لو۔ حرف شرط ہے۔ اگر۔ حرف تمنا میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کاش۔ شائ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ مشیۃ (باب سمع) سے مصدر۔ چاہنا۔ ارادہ کرنا۔ شائ۔ اصل میں شیء (سمع) تھا ۔ ای متحرک ما قبل مفتوح ۔ اس لیے ی کو الف سے بدل دیا گیا۔ شاء ہوگیا۔ اس نے ارادہ کیا ۔ اس نے چاہا۔ لو شاء اللہ ۔ اگر خدا چاہے۔ اگر خدا چاہتا۔
لذھب بسمعھم۔ لام ھزاء میں تاکید کے لئے ہے ب تعدیہ کا ہے سمع۔ السمع کے معنی قوت سامعہ کے ہیں لیکن کبھی بطور مصدر بمعنی سننا بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور کبھی اس سے خود کار بھی مراد ہوتے ہیں۔ آیت ہذا میں قوت سامعہ مراد لی گئی ہے (یعنی اگر اللہ چاہتا) تو ان کی سننے کی قوت کو لے جاتا یا زائل کردیتا۔ کان کے معنی میں بھی آیا ہے۔ ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم (2:7) اور بطور مصدر انھم عن السمع لمعزولون (26:212) اور وہ (وحی کے) سننے سے محروم کئے جا چکے ہیں۔
وابصارھم : اس جملہ کا ععطف جملہ سابقہ پر ہے ۔ ای لذھب بابصارھم۔ اور لے جاتا۔ یا زائل کردیتا ان کی قوت بینائی کو، یا ان کی آنکھوں کو، ابصار۔ بمعنی آنکھیں (702) میں مستعمل ہے۔ وعلی ابصارھم غشاوۃ ۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔
قدیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قدیر۔ اس کو کہتے ہیں جو حکمت کے مطابق جو کچھ چاہے کرے۔ اسی لئے اللہ کی ذات کے سوا کسی مخلوق کو قدیر نہیں کہہ سکتے۔
Ayah 2:21(2:21) اعبدوا فعل امر، جمع مذکر حاضر، عبادۃ وعبودۃ مصدر (باب نصر) تم بندگی کرو، تم عبادت کرو ۔ لعلکم۔ لعل کی اصل وضع امید یا اندیشہ کے لئے ہے لیکن جس چیز کی امید کی جائے اس کا ممکن ہونا ضروری ہے۔ اسی لئے لعل الشباب یعود۔ کہنا غلط ہے کیونکہ جوانی کا لوٹنا ممکن نہیں۔
قرآن مجید میں فرعون کا جو قول لعلی ابلغ الاسباب ۔ (شاید میں آسمانی اسباب تک پہنچ جاؤں) آیا ہے۔ (حالانکہ اس کا آسمان تک پہنچانا ممکن تھا) اس کی یہ وجوہات دی گئی ہیں۔
(1) اس کی جہالت کہ وہ جانتا ہی نہ تھا کہ آسمان کہاں ہے اور یہ کہ اس کا وہاں تک پہنچانا ممکن ہے۔
(2) فرعون اہل دربار کو دھوکہ دینا چاہتا تھا۔ وہ فریب کے ساتھ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ اس کے لئے آسمان تک پہنچنا، ممکن ہے۔
اگرچہ لعل امید اور اندیشہ کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے لیکن جب اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کے لئے ہو تو اس کے معنی میں قطعیت آجاتی ہے۔ کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشہ کے معنی مراد لینا صحیح نہیں۔
لعلکم : شاید کہ تم۔ امید ہے کہ تم۔
تتقون۔ مضارع جمع مذکر حاضر، اتقاء (افتعال) مصدر۔ تم بچتے ہو۔ تم پرہیز کرتے ہو، تم پرہیزگار ہوتے ہو۔ لعلکم تتقون ۔ شاید کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
Ayah 2:22الذی۔ اسم موصول۔ ربکم کے لئے ہے۔
فراشا ۔ جس کو بچھا یا جاتا ا ہے۔ یعنی بستر۔ بنائ۔ چھت، عمارت، جو چیز بنائی جائے۔ بناء کہلاتی ہے۔
الارض۔ جعل ۔ کا مفعول اول ہے۔ فراشا مفعول ثانی، دونوں مل کر معطوف علیہ ہوئے ۔ والسماء بناء کے۔ واؤ عاطفہ ہوا۔ السماء مفعول اول اور بناء مفعول ثانی۔ دونوں مل کر معطوف جملہ سابقہ کے معطوف علیہ معطوف مل کر مفعول اول دوم ہوئے جعل کے جعل فاعل اور دونوں مفعول صلہ ہوئے الذی کا۔
رزقا۔ روزی، رزق، اخرج کا مفعول بہ ہے۔ انداد۔ مفعول ہے لا تجعلوا کا۔ بمعنی مقابل ، برابر، ند کی جمع ہے۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی شے کی ذات اور جوہر میں شریک ہو۔
وانتم تعلمون یہ جملہ حالیہ ہے، یہ حال ہے لا تجعلوا کی ضمیر سے۔
Ayah 2:23(2:23) ان کنتم ۔ ان شرطیہ ہے۔
ریب۔ راب۔ یریب۔ ریب (باب ضرب) کا مصدر ہے بمعنی شک میں ڈالنا۔ اداب یریب ادابۃ (باب افعال) سے بھی شک میں ڈالنا کے معنی آتے ہیں، ریب۔ اس شک یا وہم کو کہتے ہیں جس کا بعد میں ازالہ ہوجائے۔ جیسے آیت ہذا۔ یا ان کنتم فی ریب من البعث (2:25) اگر تم کو (قیامت کے دن) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہو۔
ریب المنون ۔ (52:30) گردش زمانہ، زمانہ کے ھوادث کہ ان کے وقوع میں شک رہتا ہے کہ کب وقوع پذیر ہوجاویں۔
مما۔ من اور ما سے مرکب ہے من جار ہے اور ما موصولہ ہے۔ اس کا صلہ اگلا جملہ نزلنا علی عبدنا ہے۔ نزلن۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ تنزیل (تفعیل) مصدر۔
تنزیل۔ کے معنی ہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے نازل کرنا ۔ اور انزال کے معنی ہیں یکبارگی نازل ہوا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے انا انزلناہ فی لیلۃ القدر (97:1) بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں اتارا ہے، یعنی اسی شب میں یہ کلام لوح محفوظ سے بیت المعمور تک یکبارگی نازل ہوا ۔ اور وہاں سے دنیا میں آنحضرت ﷺ کے پاس حسب ضرورت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نازل ہوتا رہا۔
فاتوا :جزائیہ ہے (جواب شرط میں) ائتوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتیان مصدر۔ انی یاتی اثیان (باب ضرب) ات ی۔ مادہ۔ ب کے صلہ کے ساتھ تو لاؤ تم۔
سورة : سورت (ملاحظہ ہوا ابتدا، سورة الفاتحہ) یہاں سورة سے مراد ایک سورة کی مقدار ہے (جو کم ازکم تین آیات پر مشتمل ہو) نہ کہ فرد سورة مراد ہے۔
من مثلہ یہ سورت کی صفت ہے یعنی قرآن کی سورتوں جیسی کوئی سورت لے آؤ۔ جو بلاغت اور حسن نظم میں قرآن کی سورتوں جیسی ہو۔ اس صورت میں من تبعیضیہ ہے۔ اور مثلہ کی ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما نزلنا ہے (یعنی قرآن مجید) ۔
فائدہ : یہ امر، امر تعجیز ہے کہ مخاطب ایسا کرنے سے عاجز رہے گا۔ خود قرآن مجید میں اور جگہ ارشاد ہے۔ قد لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضہم لبعض ظھیرا (17:88) کہہ دو ، اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں، تو اس جیسا نہ لاسکیں گے۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار ہوں۔
ادعوافعل امر۔ جمع مذکر حاضر دعوۃ مصدر (باب نصر) تم بلاؤ۔
من دون اللہ۔ من حرف جار۔ دون اللہ مضاف، مضاف الیہ مل کر من جار کا مجرد۔ دون بمعنی ورے سوائے۔ جو کسی شے سے چھوٹا اور قاصر ہو وہ دون کہلاتا ہے اصل میں دون کے معنی پاس اور قریب جگہ کے ہیں۔ اور اسی لئے کتابوں کے تصنیف کرنے کو تدوین کہتے ہیں کہ ایک مضمون کو دوسرے مضمون کو دوسرے مضمون کے قریب اور متصل پاس کیا جاتا ہے پھر نطور مجاز کے رتبہ میں بھی اس لفظ کا استعمال ہونے لگا۔ مثلاً زید دون عمرو۔ زید عمرو سے کم رتبہ ہے اسی لئے حقیر چیز کو دون یا دنی کہتے ہیں ۔ اس عالم کو کہ حقیر اور ذلیل میں ہے دنیا (مؤنث کا صیغہ) کہتے ہیں۔ یا اس لئے کہ قریب اور پاس ہے اور آخرت عالم بعید ہے۔ پھر اس میں بھی وسعت دی گئی ہے اور اس کلمہ کا ایک چیز کو چھوڑ کر دوسری کو اختیار کرنے پر اطلاق ہوا۔ اور لفظ غیر کے لئے المعنی ہوگیا۔ اس مقام پر یعنی آیت ہذا میں) اس کے معنی غیر کے ہیں یعنی خدا کے غیر اور اس کے سوا۔ (تفسیر حقانی) ۔
ان کنتم صدقین۔ جملہ شرطیہ ہے۔ جواب شرط محذوف ہے۔ ای فافعلوا تو کر دیکھو۔
Ayahs 2:24–25(2:24) فان۔عاطفہ ہے۔ ان شرطیہ۔ لم تفعلوا مضارع نفی تاکید بلن فاتقوالنار التی وقودھا الناس والحجارۃ۔جزائیہ ہے، جملہ جواب شرط ہے (جزائیہ) اتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، اتقاء (افتعال) مصدر ۔ تم ڈرو، تم بچو، تم پرہیزگاری اختیار کرو
وقود ایندھن جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔ وقد یقد (باب ضرب) آگ کا سلگنا۔ باب اقعال سے اوقد یوقد آگ جلانا۔ روشن کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ النار کے لئے ہے۔
اعدت للکافرین جملہ خبر یہ ہے اور النار سے موضع حال میں ہے اعدت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب اعداد (باب افعال) سے مصدر۔ وہ تیار کی گئی ع دد مادہ۔