جبر اور دعوت اسلام
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہ کر، اسلام کی حقانیت واضح اور روشن ہوچکی اس کے دلائل وبراہین بیان ہوچکے ہیں پھر کسی اور جبر اور زبردستی کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ جسے اللہ رب العزت ہدایت دے گا، جس کا سینہ کھلا ہوا دل روشن اور آنکھیں بینا ہوں گی وہ تو خود بخود اس کا والہ و شیدا ہوجائے گا، ہاں اندھے دل والے بہرے کانوں والے پھوٹی آنکھوں والے اس سے دور رہیں گے پھر انہیں اگر جبراً اسلام میں داخل بھی کیا تو کیا فائدہ ؟ کسی پر اسلام کے قبول کرانے کیلئے جبر اور زبردستی نہ کرو۔
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مدینہ کی مشرکہ عورتیں جب انہیں اولاد نہ ہوتی تھی تو نذر…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 285
یہاں ”دین“ سے مراد اللہ کے متعلق وہ عقیدہ ہے جو اوپر آیت الکرسی میں بیان ہوا ہے، اور وہ پورا نظام زندگی ہے جو اس عقیدے پر بنتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”اسلام“ کا یہ اعتقادی اور اخلاقی و عملی نظام کسی پر زبر دستی نہیں ٹھونسا جاسکتا۔ یہ ایسی چیز ہی نہیں ہے جو کسی کے سر جبراً منڈھی جاسکے۔
سورة الْبَقَرَة 286
”طاغوت“ لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا، جو اپنی جائز حد سے تجاوز کر گیا ہو۔ قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے، جو بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
دین (اسلام کے قبول کرنے) میں زبردستی (کا فِی نَفسِہ کوئی موقع) نہیں (کیونکہ) ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے (یعنی اسلام کا حق ہونا دلائل سے واضح ہوچکا ہے تو اس میں اکراہ کا موقع ہی کیا ہے، اکراہ تو غیر پسندیدہ چیز پر مجبور کرنے سے ہوتا ہے اور جب اسلام کی خوبی یقیناً ثابت ہے) تو جو شخص شیطان سے بداعتقاد ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خوش اعتقاد (یعنی اسلام قبول کرلے) تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتا اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والے ہیں (اقوال ظاہری کے) اور خوب جاننے والے ہیں (احوال باطنی کے)
معارف و مسائل
اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت اور محرومی سے…
Read the full tafseer →لفظ ‘ طاغوت ’ کی تحقیق : طاغوت بروزن ملکوت و جبروت، طغی، کے مادہ سے ہے جس کے معنی حد سے آگے بڑھ جانے کے ہیں۔ جو چیز اپنی حد مناسب سے آگے بڑھ جائے اس کے لیے عربی میں کہیں گے“ طغی ”۔ طغی الماء، پانی حد سے آگے بڑھ گیا۔ قوم ثمود جس آفت سے ہلاک ہوئی اس کے لیے طاغیہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی حد سے بڑھ جانے والی آفت کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ حدود عبدیت و بندگی سے نکل جانے کے لیے استعمال ہوا اور جو حدود بندگی سے نکل جائے اس کو طاغوت کہنے لگے۔ پھر وسعت اختیار کر کے یہ لفظ ان چیوں پر بھی حاوی ہوگیا جو حدود بندگی سے نکل جانے کا باعث یا ذریعہ بنیں۔ اہل لغت اسی وجہ سے اس کی تشریح عام طور پر یوں کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–258
256۔ 1 اس کے شان نزول میں بتایا گیا ہے کہ انصار کے کچھ نوجوان یہودی اور عیسائی ہوگئے تھے پھر جب یہ انصار مسلمان ہوگئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو عیسائی ہوگئے تھے زبردستی مسلمان بنانا چاہا جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول اس عتبار سے بعض مفسرین نے اس کو اہل کتاب کے لئے خاص مانا ہے یعنی مسلمان مملکت میں رہنے والے اہل کتاب اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں تو انہیں قبول اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے تاہم کفر و شرک کے خاتمے اور باطل کا زور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 254–257
173: اس سے مراد قیامت کا دن ہے
Read the full tafseer →نظریہ ایک ایسی چیز ہے کہ بیان وادراک کے بعد یہ سمجھنے اور سمجھانے کی چیز ہے ۔ جبر وتشدد اور ظلم وعدوان کے نتیجے میں نظریات نہیں پھیلائے جاسکتے اور یہی پالیسی اسلام نے اسلامی نظریہ حیات کی بابت اختیا رکی ہے ۔ دین اسلام اپنی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ انسانی قوت مدرکہ کو خطاب کرتا ہے ۔ وہ غوروفکر کرنے والے دماغوں کو خطاب کرتا ہے ۔ اور ایک واضح سوچ دیتا ہے ۔ اور وہ اثر پذیر وجدان کو مخاطب کرتا ہے ۔ اسلام فطرت سلیمہ کو خطاب کرتا ہے بلکہ پوری انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے اور وہ انسانی فہم وادراک کے ہر پہلو کو آزماتا ہے ۔ جس میں وہ جبر وتشدد کو کام میں نہیں لاتا ۔ یہاں تک کہ وہ نظریہ حیات دینے…
Read the full tafseer →2 جب دلائل توحید بخوبی بیان فرما دیے گئے جس سے کافر کا کوئی عذر باقی نہ رہا تو اب زور سے کسی کو مسلمان کرنے کی کیا حاجت ہوسکتی ہے عقل والوں کو خود سمجھ لینا چاہیے اور نہ شریعت کا یہ حکم ہے کہ زبردستی کسی کو مسلمان بناؤ (اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ ) 10 ۔ یونس :99) خود نص موجود ہے اور جو جزیہ کو قبول کرے گا اسکا جان و مال محفوظ ہوجائے گا۔
3 یعنی جب ہدایت و گمراہی میں تمیز ہوگئی تو اب جو کوئی گمراہی کو چھوڑ کر ہدایت کو منظور کرے گا تو اس نے ایسی مضبوط چیز کو پکڑ لیا جس میں ٹوٹنے چھوٹنے کا ڈر نہیں اور حق تعالیٰ اقوال ظاہرہ کو خوب سنتا ہے اور نیت و حالت قلبی کو…
Read the full tafseer →آیت 256 لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قف
اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اسلام میں کسی فرد کو جبراً مسلمان بنانا حرام ہے۔ لیکن اس آیت کا یہ مطلب نکال لینا کہ نظام باطل کو ختم کرنے کے لیے بھی کوئی طاقت استعمال نہیں ہوسکتی ‘ پرلے َ درجے کی حماقت ہے۔ نظام باطل ظلم پر مبنی ہے اور یہ لوگوں کا استحاصل کر رہا ہے۔ یہ اللہ اور بندوں کے درمیان حجاب اور آڑ بن گیا ہے۔ لہٰذا نظام باطل کو طاقت کے ساتھ ختم کرنا مسلمان کا فرض ہے۔ اگر طاقت موجود نہیں ہے تو طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ‘ لیکن جس مسلمان کا دل نظام باطل کو ختم کرنے کی آرزو اور ارادے سے خالی ہے اس کے…
Read the full tafseer →364 انسان کو جو قوت ارادہ دی گئی ہے کہ وہ چاہے تو اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دے۔ ایسی ہی اطاعت کا نام دین ہے اور یہی ہدایت ہے اور دین کے عقائد اس آیۃ الکرسی میں وضاحت سے بیان ہوگئے ہیں اور چاہے تو اپنی اس قوت ارادہ کا آزادانہ استعمال کرے اور اسی کا نام کفر بھی ہے اور گمراہی بھی اور ان دونوں باتوں کی پوری وضاحت کردی گئی ہے۔ اب ہر انسان دین اسلام کو اختیار کرنے کی حد تک تو آزاد ہے چاہے تو قبول کرے چاہے تو رد کر دے۔ مگر اسلام کو قبول کرلینے کے بعد اسے اختیار نہیں رہتا کہ وہ دین کے احکام و ہدایات کو اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کر دے اور جو اسے معقول نظر آئے اسے تسلیم کرلے اور باقی…
Read the full tafseer →989 ۔ دین کا تعلق اصلا عقیدۂ قلب سے ہے اور قلب پر جبرواکراہ کی گنجائش ہی نہیں، اس لیے گویا یہاں اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ایمان کا تعلق اپنے ارادہ واختیار سے ہے جبرواضطرار پر نہیں۔ اے لم یجر اللہ امر الایمان علی الاجبار والقسر ولکن علی التمکین والاختیار (کشاف) ولولا ذلک لما حصل الابتلاء ولبطل الامتحان والی ذلک ذھب القفال (روح) قال ابو مسلم والقفال معناہ انہ ما بنی تعالیٰ امر الایمان علی الاجبار والقسر وانما بناہ علی التمکین والختیار (بحر) جزیہ کم فہموں نے اسلام میں جبر کی اصل سمجھا ہے حالانکہ اگر ذرا غور کریں تو معلوم ہوجائے کہ جزیہ کی مشروعیت عین اس کے برعکس خود اس دلیل ہے کہ مقصود اصلی قانون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–257
لَآاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ، حصین انصاری نامی ایک شخص کے دو لڑکے یہودی یا نصرانی ہوگئے تھے، پھر جب انصار مسلمان ہوگئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو یہودی یا نصرانی ہوگئے تھے زبردستی مسلمان بنانا چاہا جس پر یہ آیت نازل ہوئی، شان نزول کے اعتبار سے مفسرین نے اسے اہل کتاب کے لیے خاص مانا ہے یعنی اسلامی مملکت میں رہنے والے اہل کتاب اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں تو انہیں قبول اسلام کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے کہ ہر شخص اپنی مرضی سے چاہے…
Read the full tafseer →لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (دین میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے) ابو داؤد، نسائی اور ابن حبان (رح) نے حضرت ابن عباس کا مقولہ نقل کیا ہے کہ ( اسلام سے پہلے مدینہ میں) جس عورت کا بچہ نہ جیتا تھا وہ منت مان لیتی تھی کہ اگر میرا بچہ کوئی زندہ رہا تو میں اس کو یہودی بنا دوں گی۔ ( یہ منت قبائل انصار کی عورتیں مانتی تھیں) چناچہ بنو نضیر ( کے یہودیوں) کو جب جلا وطن کیا گیا تو ان کے اندر کچھ انصار کے بچے بھی تھے ( جن کو یہودی بنا دیا گیا تھا) انصار کہنے لگے یہ تو ہمارے بچے ہیں ہم ان کو نہیں جانے دیں گے اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی نزول آیت کے بعد رسول اللہ نے فرمایا : تم اپنے آدمیوں کو اختیار دیدو اگر…
Read the full tafseer →(256) عرب کے اسلام قبول کرنے کے اہل کتاب اور مجوسیوں میں سے کسی شخص کو توحید پر مجبور نہیں کیا جائے گا، ایمان کفر سے اور حق باطل سے ممتاز ہوچکا ہے اور یہ آیات منذر بن سادی تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
اور جو شخص شیطان کی باتوں، خیالات اور بتوں کی عبادت اور تعظیم سے انکار کرے اور جو باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن میں آئی ہیں ان پر ایمان لائے تو اس نے مضبوطی کے ساتھ حلقہ ”لاالہ الا اللہ“۔ تھام لیا ہے۔ جس کو کسی طرح زوال اور ہلاکت نہیں ہوسکتی اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اس مضبوط حلقہ کے تھامنے والے سے جس کی نعمتیں ختم اور زائل نہیں ہوں گی اور نہ یہ ہمیشہ دوزخ میں رہ کر ہلاک وبرباد ہوگا…
Read the full tafseer →لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ : ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”(جاہلیت میں) اگر کسی عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تو وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر بچہ زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنا دے گی، پھر جب بنونضیر کو جلاوطن کیا گیا تو ان میں انصار کے کئی لڑکے تھے، انصار نے کہا : ”ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے“ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ [ أبوداوٗد، الجہاد، باب فی
الأسیر یکرہ علی الإسلام : 2682، وصححہ الألبانی ]
یعنی زبردستی کسی کو مسلمان بنانا جائز نہیں، جو مسلمان ہونا چاہے سوچ سمجھ کر مسلمان ہو۔ زبردستی ہوگی تو دل میں ایمان نہیں آئے گا، اس کا کیا فائدہ ؟ البتہ اسلام مسلمانوں کو کفر کا محکوم بننے کے بجائے جہاد کے ذریعے سے…
Read the full tafseer →آیت : نمبر 256۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” لا اکراہ فی الدین “۔ اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” لا اکراہ فی الدین “۔ اس آیت میں دین سے مراد وہ ہے جس کا اعتقاد رکھا جاتا ہے اور وہ ملت ہے اور اس پر قرینہ یہ ارشاد ہے : (آیت) ” قد تبین الرشد من الغی “۔ اور اکراہ وہ جو ایمان، بیوع، ہبات وغیرہ احکام اس سے ہے یہ اس کا محل نہیں ہے اس کی بحث الا من اکرہ (مگر وہ جسے مجبور کیا جائے) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور ابو عبدالرحمن نے (آیت) ” قد تبین الرشد من الغی “۔ پڑھا ہے اور اسی طرح حسن اور شعبی سے بھی روایت ہے، کہا جاتا ہے ” رشد یرشد رشدا، ’ رشد یرشد رشدا، جب آدمی اس شے…
Read the full tafseer →(1) ابو داؤد، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، النحاس نے اپنی ناسخ میں، ابن مندہ نے غرائب شعبہ میں ابن حبان، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (زمانہ اسلام سے پہلے) انصار کی ایک عورت تھی۔ جس کے بچے مرجاتے تھے۔ تو وہ نذر مان لیتی تھی۔ اگر اس کا بچہ زندہ رہا تو اسے یہودی بنادوں گی۔ جب یہود کا قبیلہ نبو نضیر جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصار کے بیٹے بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بیٹوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ (یعنی ہم ان کو نہیں جانے دیں گے) ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ نازل فرمائی۔
(2) سعید بن…
Read the full tafseer →[لَآ اِکْرَاہَ : کسی قسم کا کوئی جبر نہیں ہے ] [فِی الدِّیْنِ : دین (قبول کرنے) میں ] [قَدْ تَّــبَـیَّنَ : واضح ہوگئی ہے ] [الرُّشْدُ : ہدایت ] [مِنَ الْغَیِّ : گمراہی سے ] [فَمَنْ یَّـکْفُرْ : پس جو انکار کرتا ہے ] [بِالطَّاغُوْتِ : سرکشی (کے راستوں) کا ] [وَیُؤْمِنْم : اور ایمان لاتا ہے ] [بِاللّٰہِ : اللہ (کی اطاعت) پر ] [فَقَدِ اسْتَمْسَکَ : تو وہ چمٹا ہے ] [بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی : انتہائی مضبوط ] [کنڈے سے ] [ لاَ انْفِصَامَ : کسی طرح ٹوٹنا نہیں ہے ] [لَـہَا : اس کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]
غ و ی
غَوٰی (ض) غَـیًّا : صحیح راستے…
Read the full tafseer →دین میں زبردستی نہیں ہے
لباب النقول میں اس آیت کا سبب بتاتے ہوئے بحوالہ ابو داؤد و نسائی و ابن حبان، حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمانہء اسلام سے پہلے جس عورت کا بچہ مرجاتا تھا وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر میرا بچہ زندہ رہا تو اسے یہودی بنا دوں گی (العیاذ اللہ) جب یہود کا قبیلہ بنونضیر مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصار کے قبیلوں کے وہ لڑکے بھی تھے جو دین یہودیت پر تھے۔ یہودی مدینہ منورہ سے جانے لگے تو ان لڑکوں کے خاندان والوں نے کہا کہ ہم ان کو نہیں جانے دیں گے۔ اس پر اللہ نے آیت کریمہ (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) نازل فرمائی۔
نیز لباب النقول میں بحوالہ ابن جریر حضرت ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–257
کسی پر کوئی زبردستی نہیں جو چاہے اختیار کرے۔
قال تعالی، لااکراہ فی الدین۔۔۔ الی۔۔۔ خالدون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت وانک لمن المرسلین۔ میں اثبات رسالت کا ذکر تھا اور آیت الکرسی میں اثبات توحید کا ذکر تھا اور یہی دو باتیں دین اسلام کا اصل الاصول ہیں جو دلائل واضحہ سے ثابت ہیں جس سے کافروں کے لیے کوئی عذر اور گنجائش باقی نہیں جس کا جی چاہے حق کو قبول کرے دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں تحقیق ہدایت گمراہی سے بالکل جدا اور ممتاز ہوچکی ہے حق کا حسن و جمال اور باطل کا قبح خوب ظاہر اور نمایاں ہوچکا ہے اور زبردستی اس امر پر ہوتی ہے جو ناپسندیدہ ہوا اور کرنے والے کا دل اس سے خوش نہ ہو اور اسلام کا حسن و…
Read the full tafseer →503 یہ آیت جہاد سے متعلق ہے اور اس میں جہاد سے متعلق ایک شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے۔ یعنی جہاد کا مقصد یہ نہیں کہ کافروں کو بزور شمشیر مسلمان بنایا جائے بلکہ اس کا مقصد جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے یہ ہے کہ دنیا کو فتنہ فساد سے پاک کیا جائے اور کفار کو مومنوں کو جبرا کافر بنانے سے روکا جائے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے قاتلوا حتی لا تکون فتنۃ ای حتی لا یفتن مومن (مدارک) ایمان کا تعلق چونکہ دل سے ہے اور دل پر جبر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دل اسی بات کو مانتا ہے جسے وہ اپنے اختیار سے پسند کرتا ہے۔ اس لیے اسلام میں کسی کو جبراً مومن بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ کیونکہ اس طرح انسان مجبور ہوجائے گا۔ اور اس سے اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–257
ربط آیات
گزشتہ درس میں آیت الکرسی کا ذکر تھا اور اس کی فضلیت بیان ہوئی تھی ، یہ آیت فضلیت کے اعتبار سے قرآن حکیم میں سب سے بڑی آیت ہے ، کیونکہ اس کا تعلق توحید باری تعالیٰ سے ہے۔ حضور ﷺ کا وعدہ ہے کہ جو شخص خلوص نیت کے ساتھ آیت الکرسی کی تلاوت کریگا ، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں مقام عطا فرمائیں گے۔ آج کے درس میں اسی موضوع کو آگے چلایا گیا ہے کہ دین اسلام کی قبولیت اور پھر اس میں خلوص نیت انسان کا اپنا فعل ہے ۔ جس قسم کا عقیدہ اور عمل ہوگا اس کے مطابق جزا و سزا ہوگی ، دین میں زبردستی نہیں ہے ، بلکہ یہ انسان کا اپنا انتخاب ہے۔
دین میں جبر نہیں
فرمایا لا اکرہ فی الدین دین کے معاملہ میں جبر نہیں…
Read the full tafseer →لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ 0 ۣ ۙ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ 0 ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى 0 ۤ لَاانْفِصَامَ لَہَا 0 ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 256
كره
قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ :
ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33]
( ک ر ہ ) الکرہ
( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–257
ترکیب : اکراہ اسم لا فی الدین خبر لاتبین اے تمیز فعل ‘ الرشد فاعل من الغی موضع نصب میں مفعول ہو کر تمام جملہ علت ہے۔ لا اکراہ کی فمن یکفر الخ شرط ‘ طاغوت اس کی اصل طیغوت ہے کیونکہ یہ طغیت تطغی کا مصدر ہے مثل ملکوت اور رہبوت کے یہ مذکر مونث دونوں طرح مستعمل ہوتا ہے۔ فقد استمسک الخ جزا الوثقی مؤنث ہے اوثق کا مثل اوسط و وسطے لا انفصام لہا جملہ حال ہے ضمیر وثقی سے یا عروہ سے اللّٰہ مبتدا اولی الذین الخ خبر یخرجہم جملہ حال ہے اللہ سے وقس علیہ الباقی۔
تفسیر : جہاد کی غرض زبردستی اسلام پھیلانا نہیں : گرچہ پہلی آیات میں خدا تعالیٰ جہاد کی علت فرما چکا تھا۔ ولولا دفع اللّٰہ الناس الآیہ اور معترضوں کو…
Read the full tafseer →لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قف لا قَدْتَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ج فَمَنْ یَّـکْفُرْبِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ م بِاللّٰہِ فَقَدِاسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ق لَاانْفِصَامَ لَہَا ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔
(دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے۔ جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لے آیا اس نے مضبوط رسی پکڑ لی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے) (256)
دین کا مفہوم
یہاں دین سے مراد اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ عقیدہ ہے جو آیت الکرسی میں بیان کیا گیا ہے۔ اور اس عقیدہ کی بنیاد پر بننے والا وہ نظام زندگی ہے جس کا نام اسلام…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قدرت و سطوت ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو منوانے کا جبری طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ اس فرمان میں واضح اشارہ ہے کہ توحید کا دوسرا نام دین ہے۔ اس کے بغیر نہ لوگوں کا دین صحیح اور پختہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی تعلق باللہ مضبوط ہو سکے گا عقیدہ توحید اپنانا مضبوط رسی تھامنے کے مترادف ہے جس طرح رسی تھامنے والا بھنور میں نہیں ڈوبتا۔ اسی طرح عقیدہ توحید پر قائم رہنے والا اختیار کرنے والا دنیا و آخرت کے مسائل اور مصائب میں نہیں ڈولتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہنمائی اور دستگیری کرنے والا ہے جبکہ شیطان اللہ کے منکروں کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلتا ہے۔
یہاں لفظ دین…
Read the full tafseer →آیت 256 :
لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (دین میں جبر نہیں) یعنی دین حق پر کسی کو جبراً نہیں لایا جاسکتا۔ دین حق سے مراد دین اسلام ہے۔
ایک قول : یہ ہے اگرچہ یہ جملہ خبریہ ہے مگر معنی نہی کا ہے۔ یعنی دین پر لانے کے لئے جبر نہ کرو۔
ایک روایت :
روایت میں ہے کہ ایک انصاری کے دو بیٹے نصرانی ہوگئے ان کے والد نے ان کو پکڑا اور کہا میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔
یہاں تک کہ تم مسلمان ہو۔ انہوں نے انکار کردیا۔ وہ اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے۔ انصاری نے کہا۔ یارسول اللہ ﷺ کیا میرے دیکھتے ہوئے میرا بعض حصہ آگ میں چلا جائے ؟ پس یہ آیت اتری۔ اس انصاری نے ان کا رستہ چھوڑ دیا۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ایک…
Read the full tafseer →شان نزول :
(تفسیر) 256۔:
(آیت)” لا اکراہ فی الدین “۔ سعید بن جبیر (رح) نے کہا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ انصار میں ایک عورت تھی جو مقلاۃ تھی ، مقلاۃ وہ عورت ہوتی ہے جس کے بچے زندہ نہ رہتے ہوں اور وہ عورت یہ نذر مانتی تھی کہ اگر میرا بچہ زندہ رہا تو اس کو یہودی بنا دوں گی جب اس کا بچہ زندہ رہتا تو وہ اس کو یہودی بنا لیتی ، پس جب اسلام آیا تو انصار کے وہ بچے بھی موجود تھے جو یہودی بن چکے تھے لیکن جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو ان کے اندر کچھ انصار کے بچے بھی تھے تو انصار نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو واپس اسلام کی طرف لائیں ، اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ابو داؤد اور نسائی اور صحیح ابن حبان اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روات ہے کہ انصاری کی بعض عورتیں اولاد کی تمنا میں اسلام سے پہلے یہ نذر مان لیتی تھیں کہ ہمارے یہاں لڑکا پیدا ہوگا تو ہم اس کو یہودی کردیں گی۔ چناچہ اس طرح کے کئی لڑکے انصار میں یہود بن کر یہود کے قبیلہ بنی نضیر میں رہتے بھی تھے جب اس قبیلہ کو آنحضرت ﷺ نے نواح مدینہ سے جلا وطن کیا تو انہوں نے ان لڑکوں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہا اور انصار نے ان لڑکوں کو جبر ًا روکنا چاہا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ اور انصار کو ان یہودی لڑکوں پر جبر کرنے سے روکا اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب پر جبر نہیں جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 255–256
آیت 255
یہ آیت قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے اور یہ سب سے افضل آیت ہے جس میں عظیم مسائل اور اللہ کی صفات کریمہ بیان ہوئی ہیں اس لئے بہت سی احادیث میں اس کی تلاوت کی ترغیب وارد ہے کہ اسے صبح شام، سوتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا : (لا الہ الا ھو) ” اللہ ہی معبود برحق ہے۔ “ لہٰذا ہر قسم کی عبادت اور اطاعت اسی کے لئے ہونی چاہیے کیونکہ وہ تمام صفات سے متصف اور عظیم نعمتیں دینے والا ہے۔ بندے کا یہ حق ہے کہ اپنے رب کا بندہ بن کر رہے، اس کے احکامات کی تعمیل کرتا رہے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے بچتا رہے۔ اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے، پس اس کے سوا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–256
قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔
نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ…
Read the full tafseer →737 دین حق کے لیے کوئی جبر واکراہ نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اسلام و ایمان کیلئے نہ جبر ہے نہ ہوسکتا ہے۔ راہ حق و ہدایت پوری طرح واضح ہو کر گمراہی سے الگ ہوچکی ہے، اور اس درجہ میں کہ اب حق اور باطل کو جاننے پہچانے میں کسی کیلئے کوئی خفاء و غموض باقی نہیں رہ گیا۔ اب جس کی مرضی ایمان لائے، کہ اس میں اس کا خود اپنا ہی بھلا ہے، اور جو اس سے منہ موڑے گا تو وہ خود اپنا ہی نقصان کریگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیا کے اس دارالامتحان میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ ان دونوں راہوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرے۔ زور زبردستی کا اس میں کیا سوال۔ زور زبردستی کا سوال تو وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کو کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–257
اسلام میں جبر نہیں
تشریح : اس آیت میں دین کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ دین کا مطلب ہے وہ تمام عقیدے جو گزشتہ آیت الکرسی میں بیان کئے گئے ہیں ان پر صحیح اور مکمل ایمان رکھنا اور یہ تمام عقیدے اسلام کہلاتے ہیں۔ اسلام کے جس قدر اصول اور قانون بنائے گئے ہیں وہ بہترین ہیں مگر اسلام کسی بھی شخص پر زبردستی نہیں ڈالا جاسکتا۔ مذہب اسلام کا یہ اصول ہی نہیں کہ زبردستی مسلمان کیا جائے، اسلام کی تبلیغ کے لئے بہت تاکید کی گئی ہے مگر ساری تاریخ میں کبھی کہیں اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ کسی کو زبردستی مسلمان بنایا گیا ہو، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے کچھ احکامات مان لئے جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 254–257
آیات 254- 257
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا………………والکفرون ھم الظلمون۔
اصلاح احوال کی بنیاد :
اصلاح احوال کی بنیاد معاشیات پر ہے اگر دیکھا جائے تو تمام مذاہب باطلہ کا ماحصل دنیاوی خواہشات کی تکمیل کی آرزو ہے انسان مختلف امور میں ساری محنت حصول زر پہ کرتا ہے کہ تکمیل خواہشات کا بہت بڑا ذریعہ دولت ہی ہے اور یہیں سے اختلافات اور فسادات کی ابتداء ہوتی ہے لیکن اگر دولت کے خرچ کو محدود کردیا جائے تو ناجائز ذرائع سے حصول دولت کی ضرورت رہتی ہے نہ فائدہ۔
دنیا کی معاشی نظام صرف حصول زر کے قواعد سے بحث کرتے ہیں ، مگر اسلام رزق کو اللہ کی طرف سے تسلیم کرتا ہے کہ انسان صرف محنت کرنے کا مکلف ہے رزق…
Read the full tafseer →ف 2 حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ جاہلیت میں انصار مدینہ کے بعض لڑکے مختلف اسباب کے تحت یہو دی یا عیسائی ہوگئے تھے ان کے والدین مسلمان ہوئے تو انہوں زبر دستی ان کو دائرہ اسلام میں لانا چاہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ گو نزول خاص ہے مگر حکم عام ہے۔ (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اسلام میں جہاد زبر دستی منوانے کا نام جہاد ہے۔ (موضح بتصرف)
Read the full tafseer →(2:256) لا اکراہ۔ منصوب بوجہ عمل لا۔ اکراہ (افعال) مصدر ہے۔ کسی کو زبردستی کسی کام کے کرنے پر مجبور کرنا۔ الکرہ والکرہ۔ سخت ناپسندیدگی۔ الکرہ اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے۔ اور اس پر زبردستی ڈالی جائے۔ جیسا کہ آیت ہزا میں مراد ہے اور الکرہ بضم الکاف ملاحظہ ہو (المفردات) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے ناخواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچے۔ مثلاً ایک چیز طبعاً ناگوار ہے لیکن شریعت اسے پسند کرتی ہے اور اسے کرنا ہی پڑتا ہے جیسے جہاد۔ دوم ایسی چیز کہ طبعاً تو پسندیدہ ہو لیکن شرعاً مکروہ ہو۔ مثلاً راگ و رنگ۔
قدتبین۔ فعل ماضی کے ساتھ قد تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ بیشک ۔ تحقیق۔ تبین ماضی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–257
لغات القرآن : آیت نمبر 256 تا 257
لا اکراہ (زبردستی نہیں ہے) ۔ فی الدین (دین میں) ۔ قد تبین (یقیناً واضح ہوچکا ہے) ۔ الرشد (ہدایت) ۔ الغی (گمراہی) ۔ الطاغوت (شیطان، شیطانی طاقتیں) ۔ استمسک (مضبوط پکڑ لیا) ۔ العروۃ (گرہ) ۔ الوثقی (مضبوط) ۔ لا انفصام (ٹوٹنے والی نہیں) ۔ ولی (حمایتی، مددگار) ۔ اولیاء (دوست) ۔
تشریح : آیت نمبر 256 تا 257
سورة بقرہ کے رکوع 32 سے جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے ، اسی درمیان اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ لا اکراہ فی الدین، یعنی دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں ہے یہ اس لئے فرمایا گیا کہ کہیں جہاد سے یہ ذہن میں نہ آئے کہ اسلام قتال اور جہاد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 255–257
تفسیرالقرآن : اللہ لآ الہ الا ھو کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔ لہ ما فی السمٰوٰت وما فی الارض کا مطلب یہ ہے کہ ستارہ پرستوں کے ستارے اور بت پرستوں کے بت اور سوا اللہ کے جس کی پر ستش کی جاوے۔ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں، ان میں خالق بننے کی صلاحیت ہر گز نہیں ہے۔ لاتا خذہ سنۃ ولا نوم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کے دربار کی طرح اس کی بارگاہ میں کسی غفلت اور بیخبر ی نہیں ہے۔ من ذالذی یشفع عندہٓ الا باذنہ کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی اجازت درکار ہے۔ یعلم ما بین ایدھم وما خلفھم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا حال اور آئندہ کا ذرا ذرا سب حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–257
[174] دین کا تعلق دل کے اعتقاد سے ہے اس لئے کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
[175] یعنی اب دونوں راہیں لوگوں کے سامنے ہیں، جسے چاہیں اختیار کریں۔
[176] قرآن کی اصطلاح میں طاغوت اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ کی بندگی و اطاعت سے نکل جائے اور لوگوں سے اپنی بندگی اور اطاعت کرائے یا اللہ کے حکم کی جگہ اپنا حکم نافذ کرے۔
Read the full tafseer →اسلام میں جبر نہیں :
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ اسلام حقائق وبراہین کی حیثیت سے اس درجہ واضح وبین ہے کہ ہر سلیم الفطرت انسان اسے قبول کرے گا اور اس کی صداقت پر ایمان لائے گا ، اس لئے جبرواکراہ کی قطعا کوئی حاجت نہٰں ، وہ لوگ جو اسلام پر تلوار کے زور سے پھیلنے کا الزام لگاتے ہیں ، اس آیت پر غور کریں کہ قرآن حکیم کس فصاحت سے اعلان کرتا ہے کہ دین و مذہب کے بارے میں کسی جبر کی احتیاج نہیں ۔
اسلام بجائے خود اتنا روشن ‘ اتنا سچا اور اتنا مدلل مذہب ہے کہ بجز طاغوت پرست لوگوں کے کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا ، اسلام اللہ تک پہنچانے کا وہ مضبوط وسیلہ ہے جو تشکیک وارتباب کے حملوں سے ٹوٹتا نہیں ، مگر…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ دین حق قبول کرنے میں کسی قسم کی زبردستی اور جبر و کراہ نہیں کیونکہ ہدایت کی راہ گمراہی ہے ممتاز اور نمایاں ہوچکی ہے اور اسلام کفر سے صاف طور پر الگ دکھائی دے ہا ہے ۔ لہٰذا جو شخص تمام معبودان باطلہ سے منکر ہو اور اس نے تمام طاغوتی طاقتوں کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ، تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ پکڑ لیا جس کو کسی طرح ٹوٹتا نہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کی بات کو خوب سننے والا اور ہر ایک کے قلب کی حالت کو خوب جاننے والا ہے۔ ( تیسیر)
رشد حقیقت میں تو غی کا مقابلہ ہے لیکن عام طور سے ہدایت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض اہل لغت نے رشد اور رشد میں فرق کیا ہے ۔ رشد ( بضم الاول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–258
ف 6 اوپر آیت وانک لمن المرسلین میں رسالت پیغمبر کی اور آیت الکرسی میں توحید حق سبحانہ مذکور ہوئی ہے اور یہی دو امر اصل الاصول ہیں اسلام کے تو ان کے اثبات سے دین اسلام کی حقانیت بھی لازمی طور پر ثابت ہوئی ہے اس آیت میں اسی پر تصریح کرکے اسلام کا محل کراہ نہ ہونا ارشاد فرماتے ہیں۔
7۔ اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت و خسران سے محفوظ رہتا ہے اس لیے اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دی جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ تھام کر گرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر مرتد پر یا کفروں پر بوجہ خفاء دلیل کے اکراہ کیا جائے جیسا کہ شریعت میں حکم ہے تو یہ نفی اکراہ فی نفسہ کے معارض نہیں۔
Read the full tafseer →دین میں جبرو اکراہ نہیں کیونکہ اس کا تعلق دل سے ہے :
437: دین کا تعلق اصلاً عقیدہ قلب سے ہے اور قلب پر جبرو اکراہ کی گنجائش ہی نہیں۔ اس لئے گویا یہاں اسی حقیقت کا اعلان ہے کہ ایمان کا تعلق اپنے ارادہ واختیار سے ہے جبرو اضطرار پر نہیں۔ مخالفین اسلام کو جب کوئی بات اسلام میں اس بیان کے خلاف نہ ملی تو انہوں نے جزیہ کو اسلام میں جبر کی اصل سمجھ لیا اور لگے شور کرنے حالانکہ اگر ذرا غور کرتے تو معلوم ہوجاتا کہ جزیہ کی مشروعیت عین اس کے برعکس خود اس کی دلیل ہے کہ مقصود اصلی قانون اسلام اور حکومت اسلام کو غالب رکھنا ہے نہ کہ فرداً فرداً فر کافر کو بہ جبر مسلمان بنانا۔ یہاں اکراہ کی نفی سے مقصود اکراہ…
Read the full tafseer →Commentary
One who holds on to Islam firmly stays protected against destruction and deprivation. It was for this reason that such a person was likened to one who holds on firmly to the 'ring', the looped support of a strong rope, and thus manages to avoid falling down. As there is no danger of such a rope breaking apart and causing a fall, so there is no danger of destruction or loss in Islam -- should somebody just abandon the rope, that would be an entirely different matter. And should somebody abandon Islam itself, that would be an entirely different matter too. (Maulana Thanavi (رح) :…
Read the full tafseer →285. Din here signifies the belief about God embodied in the above 'Verse of the Throne' and the entire system of life which rests upon it. The verse means that the system of Islam, embracing belief, morals and practical conduct cannot be imposed by compulsion. These are not things to which people can be yoked forcibly.
286. Literally taghut means anvone who exceeds his legitimate limits. In the Qur'anic terminology, however, it refers to the creature who exceeds the limits of his creatureliness and arrogates to himself godhead and lordship. There are three stages of man's transgression and…
Read the full tafseer →