Al-Baqara 2:257

Al-Baqara · from ayah 257

2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۙ— یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ؕ۬— وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـُٔهُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ— یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟۠اَللّٰهُ وَلِىُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَوۡلِيٰٓــئُهُمُ الطَّاغُوۡتُۙ يُخۡرِجُوۡنَهُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah is the ally of those who believe. He brings them out from darknesses into the light. And those who disbelieve - their allies are Taghut. They take them out of the light into darknesses. Those are the companions of the Fire; they will abide eternally therein.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 34 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:257

جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ ایمان والوں کا رکھوالا ہے، وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے رکھوالے وہ شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیریوں میں لے جاتے ہیں، وہ سب آگ کے باسی ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکلتا ہے، اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں (حق کی) روشنی سے نکال کر (باطل کی) تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں، یہی لوگ جہنمی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے دوست باطل معبود ہیں، وہ انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لاتے ہیں۔ یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے وہ انہیں (کفر و شرک کے) اندھیروں سے نکال کر (اسلام کی) روشنی کی طرف لے آتا ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے ان کے دوست طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں ایسے ہی لوگ اہل دوزخ ہیں اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ان لوگوں کا کارساز ہے جو ایمان لاتے ہیں۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے کارساز طاغوت بناتے ہیں، وہ ان کو روشنی سے تاریکیوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ یہی لوگ دوزخی ہیں ہیں، یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کارساز (اور مددگار) ہے ان لوگوں کا جو (سچے دل سے) ایمان لائے، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر لاتا ہے روشنی کی طرف، اور اس کے برعکس جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر، ان کے حامی و دوست طاغوت ہیں، جو ان کو (ہدایت و ایمان کے) نور سے نکال کرلے جاتے ہیں (کفرو شرک، اور شکوک شبہات کے گھٹا ٹوپ) اندھیروں کی طرف، ایسے لوگ ساتھی، (اور دوست) ہیں (دوزخ کی اس ہولناک) آگ کے، اور ان (بد بختوں) کو اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ ان کا ساتھی ہے جو ایمان لائے۔ اور انہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال کر لاتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے ساتھی شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ پڑے رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ ولی ہے اہل ایمان کا اور (ان کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اولیاء (پشت پناہ ساتھی اور مددگار) طاغوت ہیں وہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں یہی لوگ ہیں آگ والے یہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ ایمانداروں کا مددگار ہے انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے رفیق شیطان ہیں وہ انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی لوگ دوزخی ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

And Allah (Whose support he takes) hears everything and knows everything. Allah is the Helper and Protector of those who believe in Him: He brings them out of the depths of darkness into the light. As for the disbelievers, they have taghut as their patron, who drives them out of light into the depths of darkness. These are the people who are doomed to the Fire, wherein they shall live for ever.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah is the Protector of those who believe. He brings them out of the depths of darkness into the light. As for those who disbelieve, their friends are the Rebels. They bring them out from the light into the depths of darkness. Those are people of the Fire. There they will remain forever.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah is the Protector of those who believe. He brings them out of the depths of darkness into the light. As for those who disbelieve, their friends are the Rebels. They bring them out from the light into the depths of darkness. Those are people of the Fire. There they will remain forever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah is the Wali (Protector or Guardian) of those who believe. He brings them out from darknesses into light. But as for those who disbelieve, their Awliya' (supporters and helpers) are Taghut (false deities and false leaders), they bring them out from light into darknesses. Those are the dwellers of the Fire, and they will abide therein forever.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah is the Protecting Guardian of those who believe. He bringeth them out of darkness into light. As for those who disbelieve, their patrons are false deities. They bring them out of light into darkness. Such are rightful owners of the Fire. They will abide therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah is the ally of those who believe. He brings them out from darknesses into the light. And those who disbelieve - their allies are Taghut. They take them out of the light into darknesses. Those are the companions of the Fire; they will abide eternally therein.

— Saheeh International

God is the Guardian of the believers and it is He who takes them out of darkness into light. The Devil is the guardian of those who deny the Truth and he leads them from light to darkness. These are the dwellers of hell wherein they will live forever.

— Muhammad Sarwar

Allah is the guardian of those who believe. He brings them out of the darkness into the light; and (as to) those who disbelieve, their guardians are Shaitans who take them out of the light into the darkness; they are the inmates of the fire, in it they shall abide.

— Muhammad Habib Shakir

Allah is the Patron of those who believe; He bringeth them forth from darknesses into the light; And, for those who disbelieve, the devils are their patrons; they bring them forth from the light into darknesses. These are the fellows of Fire, therein shall be abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah is the Protector of those who have faith: from the depths of darkness He will lead them forth into light. Of those who reject faith the patrons are the evil ones: from light they will lead them forth into the depths of darkness. They will be companions of the fire, to dwell therein (For ever).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:257

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اندھیرے سے اجالے کی طرف اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی رضامندی کے طلبگار کو وہ سلامتی کی راہنمائی کرتا ہے اور شک و شبہ کے کفر و شک کے اندھیروں سے نکال کر نور حق کی صاف روشنی میں لا کھڑا کرتا ہے، کفار کے ولی شیاطین ہیں جو جہالت و ضلالت کو کفر و شرک کو مزین کرکے انہیں ایمان سے اور توحید سے روکتے ہیں اور یوں نور حق سے ہٹا کر ناحق کے اندھیروں میں جھونک دیتے ہیں، یہی کافر ہیں اور ہمیشہ یہ دوزخ میں ہی پڑے رہیں گے، لفظ نور کو واحد لانا اور ظلمات کو جمع لانا اس لئے ہے کہ حق اور ایمان اور سچا راستہ ایک ہی ہے اور کفر کی کئی قسمیں ہیں، کافروں کی بہت سی شاخیں ہیں جو سب کی سب باطل اور ناحق ہیں جیسے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 287 تاریکیوں سے مراد جہالت کی تاریکیاں ہیں، جن میں بھٹک کر انسان اپنی فلاح وسعادت کی راہ سے دور نکل جاتا ہے اور حقیقت کے خلاف چل کر اپنی تمام قوتوں اور کوششوں کو غلط راستوں میں صرف کرنے لگتا ہے۔ اور نور سے مراد علم حق ہے، جس کی روشنی میں انسان اپنی اور کائنات کی حقیقت اور اپنی زندگی کے مقصد کو صاف صاف دیکھ کر علیٰ وجہ البصیرت ایک صحیح راہ عمل پر گامزن ہوتا ہے۔ سورة الْبَقَرَة 288 ”طاغُوت“ یہاں طَوَاغِیْت کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، یعنی خدا سے منہ موڑ کر انسان ایک ہی طاغوت کے چنگل میں نہیں پھنستا، بلکہ بہت سے طواغیت اس پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ ایک طاغوت شیطان ہے، جو اس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (الیٰ قولہ) خٰلِدُوْنَ اللہ تعالیٰ ساتھی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ان کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر یا بچاکر نور (اسلام) کی طرف لاتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے ساتھی شیاطین ہیں (انس یا جن) وہ ان کو نور (اسلام) سے نکال کر یا بچاکر (کفر کی) تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں ایسے لوگ (جو اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کریں) دوزخ میں رہنے والے ہیں (اور) یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ معارف و مسائل آیت سے ایمان کا سب سے بڑی نعمت اور کفر کا سب سے بڑی مصیبت ہونا بھی معلوم ہوا اور یہ کہ کافروں کی دوستی میں بھی ظلمت ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولی کے معنی مددگار، کارساز، ساتھی اور حمایتی کے ہیں۔ نور سے مراد یہاں عقلی، ایمانی، عملی اور اخلاق روشنی ہے۔ اسی طرح ظلمات سے یہاں مراد عقلی و اخلاقی ظلمات ہیں۔ چونکہ حق کی روشنی کا منبع ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ ، نیز حق میں اتنشار نہیں بلکہ وحدت پائی جاتی ہے اس وجہ سے یہ لفظ واحد استعمال ہوا۔ برعکس اس کے ظلمات جمع استعمال ہوا اس لیے کہ اس کے ظہور میں آنے کے راستے میں مختلف ہیں اور اس کے مزاج میں انتشار و اختلاف بھی ہے۔ لفظ“ طاغوت ”کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اصلی نکتہ : مطلب یہ ہے کہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اصل اہمیت رکھنے والی شے یہ ہے کہ بندہ اپنے راب کا دامن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 256–258

256۔ 1 اس کے شان نزول میں بتایا گیا ہے کہ انصار کے کچھ نوجوان یہودی اور عیسائی ہوگئے تھے پھر جب یہ انصار مسلمان ہوگئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو عیسائی ہوگئے تھے زبردستی مسلمان بنانا چاہا جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول اس عتبار سے بعض مفسرین نے اس کو اہل کتاب کے لئے خاص مانا ہے یعنی مسلمان مملکت میں رہنے والے اہل کتاب اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں تو انہیں قبول اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے تاہم کفر و شرک کے خاتمے اور باطل کا زور…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب سلسلہ کلام اور آگے بڑھتا ہے ۔ ایک متحرک اور محسوس انداز میں منظر کشی کی جاتی ہے ۔ ہدایت کا صراط مستقیم اور گمراہی اور ضلالت کے راستے صاف صاف آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیسی ہے ؟ اسکرین پر نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہاتھ سے پکڑ کر اندھیروں سے نکالتے ہیں اور روشنی میں لاتے ہیں جبکہ طاغوت جو کفار کے مددگار ہیں اہل کفر کا ہاتھ تھامے ہوئے انہیں نور ایمان سے ظلمات کفر میں لے جاتے ہیں ۔ یہ ایک عجیب پر کیف زندہ منظر ہے ۔ رہوار خیال کبھی ایک منظر کی طرف سرپٹ دوڑ رہا ہے اور کبھی دوسرے کی طرف ۔ ادہر سے واپس ہوتا ہے تو ادہر بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔ یہ انداز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 257–258

4 پہلی آیت میں اہل ایمان و اہل کفر اور ان کے نور ہدایت اور ظلمت کفر کا ذکر تھا اب اس کی تائید میں چند نظائر بیان فرماتے ہیں۔ نظیر اول میں نمرود بادشاہ کا ذکر ہے وہ اپنے آپ کو سلطنت کے غرور سے سجدہ کرواتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے سامنے آئے تو سجدہ نہ کیا نمرود نے دریافت کیا تو فرمایا کہ میں اپنے رب کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتا اس نے کہا رب تو میں ہوں، انہوں نے جواب دیا کہ میں حاکم کو رب نہیں کہتا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے دو قیدی منگا کر بےقصور کو مار ڈالا اور قصور وار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مارتا ہوں جس کو چاہوں نہیں مارتا، اس پر حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 257 اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْالا ایمان درحقیقت اللہ اور بندے کے درمیان ایک دوستی کا رشتہ قائم کرتا ہے۔ یہ ولایت باہمی یعنی دو طرفہ دوستی ہے۔ ایک طرف مطلوب یہ ہے کہ بندہ اللہ کا ولی بن جائے : اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ یونس یاد رکھو ‘ اللہ کے دوستوں کے لیے نہ تو کسی طرح کا خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ دوسری طرف اللہ بھی اہل ایمان کا ولی ہے ‘ یعنی دوست ہے ‘ پشت پناہ ہے ‘ مددگار ہے ‘ کارساز ہے۔ یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

367 دو مقاموں کے درمیان سیدھا راستہ صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ جبکہ ٹیڑھی راہیں بیشمار ہوتی ہیں۔ بالفاظ دیگر کفر و ضلالت کے اندھیرے کئی طرح کے اور بیشمار ہیں جبکہ اسلام کا نور ایک ہی ہے اور ایک ہی طرح کا ہے۔ اسی طرح طاغوت بیشمار ہوسکتے ہیں جبکہ معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہے۔ اسی لحاظ سے اس آیت میں اسلام کی سیدھی راہ یا روشنی کے لیے واحد اور کفر کی تاریکیوں کے لیے جمع کی ضمیریں استعمال ہوئی ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے اس مضبوط حلقہ کو تھامے رکھتا ہے۔ اللہ اس کا سرپرست بن جاتا ہے اور اسے کفر و ضلالت کی گمراہیوں سے نکال کر اسلام کی روشنی کی طرف لے آتا ہے اور جو لوگ اس مضبوط حلقہ یا شریعت سے اعراض و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

994 ۔ (آیت) ” ولی “۔ ولی کا ترجمہ بھی کسی ایک لفظ سے مشکل ہی ہے۔ ، رفیق، دوست، پشت پناہ، سر پرست سب کے مفہوم اس میں شامل ہیں۔ اور اہل تفسیر سے یہ سب معنی منقول ہیں۔ محبھم ومتولی امورھم (بیضاوی) نصیرھم وظھیرھم یتولاھم بعونہ (ابن جریر) الولی المتکفل بالمصالح (کبیر) معینھم ومحبھم اومتولی امورھم (روح) اہل ایمان کے بگڑے کام بنانے والا۔ آڑے وقت ان کے کام آنے والا اللہ ہی ہے نہ کہ ابن اللہ یا کوئی دیوی دیوتا۔ خفی رد مسیحیوں اور مشرکوں کا یہاں بھی کیا گیا۔ بعض صوفیہ نے آیت سے ولایت عامہ کے اثبات پر استدال کیا ہے، 995 ۔ (اور یہی مومنین کے حق میں سب سے بڑی اور کارآمد نصرت وپشت پناہی ہے) (آیت) ” الظلمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 256–257

لَآاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ، حصین انصاری نامی ایک شخص کے دو لڑکے یہودی یا نصرانی ہوگئے تھے، پھر جب انصار مسلمان ہوگئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو یہودی یا نصرانی ہوگئے تھے زبردستی مسلمان بنانا چاہا جس پر یہ آیت نازل ہوئی، شان نزول کے اعتبار سے مفسرین نے اسے اہل کتاب کے لیے خاص مانا ہے یعنی اسلامی مملکت میں رہنے والے اہل کتاب اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں تو انہیں قبول اسلام کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے کہ ہر شخص اپنی مرضی سے چاہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (یعنی اللہ ایمان والوں کا دوست ہے ان کا کار ساز ہے۔ الذین امنوا سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اللہ مؤمن بنانا چاہتا ہے۔ ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ (یعنی جن لوگوں کا مؤمن ہونا خدا چاہتا ہے ان کو اپنی توفیق و ہدایت کی مدد سے جہالت نفس پرستی ذہنی وسوسوں اور کفر تک پہنچانے والے شبہات سے نکال کر اس صراط مستقیم پر لاڈالتا ہے جو ایمان تک ان کو پہنچا دیتی ہے۔ واقدی (رح) نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں جس جگہ الفاظ ظلمت و نور آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہے ہاں صرف سورة انعام کی آیت : جعل الظلمات والنور میں شب و روز مراد ہیں۔ آیت مذکورہ بتارہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(257) جو حضرات ایمان لائے یعنی عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ ان کا مددگار اور محافظ ہے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نکالا اور توفیق عطا کی کہ تاکہ یہ کفر سے نکل کر ایمان میں داخل ہوجائیں اور کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی ان کا دوست شیطان ہے وہ ان کو ایمان سے کفر کی طرف بلاتا ہے، یہ سب جہنمی ہیں، جس میں نہ کسی کو کبھی موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے۔ شان نزول : ولی الذین امنوا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عبدۃ ابن ابی لبابہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ وہ حضرات ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے اور پھر جب رسول اکرم ﷺ تشریف لائے تو آپ پر یہ ایمان لائے، ان ہی حضرات کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قرآن پاک میں جہاں بھی ”الظُّلُمٰتِ“ اور ”النُّوْرِ“ کے الفاظ آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہی ہے، ما سوائے سورة انعام (1) (وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ) کہ وہاں رات اور دن مراد ہیں۔ (رازی) اس آیت میں ”النُّوْرِ“ کا لفظ بصیغہ واحد اور ”الظُّلُمٰتِ“ کا لفظ بصیغہ جمع استعمال ہوا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ حق ہمیشہ اور ہر جگہ ایک ہی ہے اور کفر و شرک اور جہالت کی قسموں کا شمار نہیں، وہ سب باطل ہیں۔ (ابن کثیر) آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان پہلے کافر ہوتا ہے اور ایمان لانے کے بعد کفر کی تاریکی سے نکل کر ایمان کی روشنی میں داخل ہوتا ہے، مگر یہ معنی مراد نہیں بلکہ جو شخص ابتدا ہی سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : نمبر 257۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” اللہ ولی الذین امنو “۔ الولی فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل ہے۔ علامہ خطابی نے کہا ہے : الولی الناصر ینصر عبادہ المؤمنین۔ یعنی الولی کا معنی مددگار ہے وہ اپنے مومن بندوں کی مدد فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” اللہ ولی الذین امنوا یخرجھم من الظلمت الی النور “۔ اللہ تعالیٰ مددگار ہے ایمان والوں کا نکال لے جاتا ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف) اور مزید فرمایا : (آیت) ” ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا وان الکفرین لا مولی لھم “۔ ترجمہ : (محمد) یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا مددگار ہے اور کفار کا کوئی مددگار نہیں۔ حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن المنذر والطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اللہ ولی الذین امنوا یخرجہم من الظلمت الی النور “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا تھا اور محمد ﷺ پر ایمان لائے (اور) لفظ آیت ” والذین کفروا اولیۂ م الطاغوت یخرجونہم من النور الی الظمت “ سے وہ لوگ مراد ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے پھر جب محمد ﷺ مبعوث ہوئے تو ان کے ساتھ کفر کیا (یعنی ان کو ماننے سے انکار کردیا) ۔ (2) ابن جریر وابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد اور علقمہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لفظ آیت ” یخرجونہم من النور الی الظلمت “ سے مراد ہے گمراہی سے ہدایت کی طرف (ان کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَللّٰہُ : اللہ ] [وَلِیُّ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کا دوست ] [ہے جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [یُخْرِجُہُمْ : وہ نکالتا ہے ان کو ] [مِّنَ الظُّلُمٰتِ : اندھیروں سے ] [اِلَی النُّوْرِ : نور کی طرف ] [وَالَّذِیْنَ : اور جنہوں نے ] [کَفَرُوْآ : کفر کیا ] [اَوْلِیٰٓــئُہُمُ : ان کے دوست ہیں ] [الطَّاغُوْتُ : طاغوت ] [یُخْرِجُوْنَہُمْ : وہ لوگ نکالتے ہیں ان کو ] [مِّنَ النُّوْرِ : نور سے ] [اِلَی الظُّلُمٰتِ : اندھیروں کی طرف ] [اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [اَصْحٰبُ النَّارِ : آگ کے ساتھی ہیں ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [فِیْہَا : اس میں ] [خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ] ترکیب : ” اَللّٰہُ “ مبتدأ ہے۔ ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ولی ہیں اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں ولی مددگار کار ساز اور دوست کو کہتے ہیں، اس آیت شریفہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا ولی ہے وہ ایمان والوں کو کفر و شرک کی اندھیریوں سے نکالتا ہے ان کو اسلام کی روشنی میں لاتا ہے ان کو نور پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اندھیریوں سے بچاتا ہے۔ اور جن کے لیے ایمان مقدر ہے ان کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر نور ایمان عطا فرماتا ہے برخلاف کافروں کے کہ ان کے اولیاء یعنی دوست شیاطین ہیں۔ شیاطین ان کو ایمان قبول کرنے نہیں دیتے اور ان کو کفر کی تاریکیوں ہی میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ کفر پر مریں شیاطین خود دوزخ والے ہیں وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 256–257

کسی پر کوئی زبردستی نہیں جو چاہے اختیار کرے۔ قال تعالی، لااکراہ فی الدین۔۔۔ الی۔۔۔ خالدون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت وانک لمن المرسلین۔ میں اثبات رسالت کا ذکر تھا اور آیت الکرسی میں اثبات توحید کا ذکر تھا اور یہی دو باتیں دین اسلام کا اصل الاصول ہیں جو دلائل واضحہ سے ثابت ہیں جس سے کافروں کے لیے کوئی عذر اور گنجائش باقی نہیں جس کا جی چاہے حق کو قبول کرے دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں تحقیق ہدایت گمراہی سے بالکل جدا اور ممتاز ہوچکی ہے حق کا حسن و جمال اور باطل کا قبح خوب ظاہر اور نمایاں ہوچکا ہے اور زبردستی اس امر پر ہوتی ہے جو ناپسندیدہ ہوا اور کرنے والے کا دل اس سے خوش نہ ہو اور اسلام کا حسن و…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

505 یہ پہلے قانون کا بیان ہے۔ ولی کے معنی ناصر اور مددگار کے ہیں۔ ظلمات سے کفر وشرک اور شبہات کے اندھیرے مراد ہیں اور نور سے مراد یقین و ایمان کی روشنی ہے اور الذین آمنوا سے وہ لوگ مراد ہیں جو حق کے متلاشی اور ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ولمراد بھم من اراد الایمان (روح ص 14 ج 3) یعنی جو لوگ حق کے طالب ہوں الہدی کی طرف انابت کریں اور ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دستگیری فرماتا اور ان کی مدد کرتا ہے اور انہیں کفر وشرک اور شکوک و شبہات کی الجھنوں سے نکال کر ان کے دلوں کو نور ایمان سے منور اور دولت یقین سے مالا مال کردیتا ہے۔506 یہ دوسرا قانون ہے۔ لیکن جو لوگ ضد وعناد کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 256–257

ربط آیات گزشتہ درس میں آیت الکرسی کا ذکر تھا اور اس کی فضلیت بیان ہوئی تھی ، یہ آیت فضلیت کے اعتبار سے قرآن حکیم میں سب سے بڑی آیت ہے ، کیونکہ اس کا تعلق توحید باری تعالیٰ سے ہے۔ حضور ﷺ کا وعدہ ہے کہ جو شخص خلوص نیت کے ساتھ آیت الکرسی کی تلاوت کریگا ، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں مقام عطا فرمائیں گے۔ آج کے درس میں اسی موضوع کو آگے چلایا گیا ہے کہ دین اسلام کی قبولیت اور پھر اس میں خلوص نیت انسان کا اپنا فعل ہے ۔ جس قسم کا عقیدہ اور عمل ہوگا اس کے مطابق جزا و سزا ہوگی ، دین میں زبردستی نہیں ہے ، بلکہ یہ انسان کا اپنا انتخاب ہے۔ دین میں جبر نہیں فرمایا لا اکرہ فی الدین دین کے معاملہ میں جبر نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝ 0 ۙ يُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝ 0ۥۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْلِيٰۗــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ۝ 0 ۙ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝ 0 ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ 257 ۧ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 256–257

ترکیب : اکراہ اسم لا فی الدین خبر لاتبین اے تمیز فعل ‘ الرشد فاعل من الغی موضع نصب میں مفعول ہو کر تمام جملہ علت ہے۔ لا اکراہ کی فمن یکفر الخ شرط ‘ طاغوت اس کی اصل طیغوت ہے کیونکہ یہ طغیت تطغی کا مصدر ہے مثل ملکوت اور رہبوت کے یہ مذکر مونث دونوں طرح مستعمل ہوتا ہے۔ فقد استمسک الخ جزا الوثقی مؤنث ہے اوثق کا مثل اوسط و وسطے لا انفصام لہا جملہ حال ہے ضمیر وثقی سے یا عروہ سے اللّٰہ مبتدا اولی الذین الخ خبر یخرجہم جملہ حال ہے اللہ سے وقس علیہ الباقی۔ تفسیر : جہاد کی غرض زبردستی اسلام پھیلانا نہیں : گرچہ پہلی آیات میں خدا تعالیٰ جہاد کی علت فرما چکا تھا۔ ولولا دفع اللّٰہ الناس الآیہ اور معترضوں کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ 5 ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْلِیٰٓـئُہُمُ الطَّاغُوْتُ لا یُخْرِجُوْنَہُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ط اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ ع (اللہ ولی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لاتے ہیں۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اولیا طاغوت ہیں ‘ وہ ان کو روشنی سے تاریکیوں کی طرف لاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں آگ والے۔ اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) (257) ولی کا مفہوم گزشتہ آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو آدمی طاغوت کا انکار کرتا ہے اور اللہ پر ایمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق جوڑنے کا نام ہے جب آدمی اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ تعلق قائم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ از راہ کرم اسے اپنا دوست بنا کر روشن مستقبل کی رہنمائی فرماتا ہے۔ جب آدمی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان لائے اور شیطانی قوتوں کا انکار اور ان کے خلاف سینہ سپر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے۔ یہاں ہدایت کو نور اور طاغوتی راستوں کو ظلمات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ شاہراہ ہدایت ایک ہی ہے اور شیطان کے راستے بیشمار ہیں جیسا کہ روشنی ایک ہے اور اندھیرے کئی قسم کے ہیں۔ یہی ایمان قیامت کے دن نور بن کر جنتیوں کے لیے مشعل راہ ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 257 : اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے) ٰامنوا سے مراد جو ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ولی کا معنی ناصر اور ان کے امور کا ذمہ دار۔ نورِ واحد اور ظلمات جمع لانے کی حکمت : یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ (ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے) یعنی کفر و ضلالت کے اندھیروں سے۔ کفریات و ضلالات بہت اقسام کی ہیں اس لئے جمع کا لفظ لایا گیا۔ اِلَی النُّوْرِ (روشنی کی طرف) یعنی ایمان و ہدایت کی طرف۔ نور کا لفظ واحد لایا گیا کیونکہ ایمان ایک ہی ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا (اور کافر) اَوْلِیٰٓئُہُمُ الطَّاغُوْتُ (ان کے دوست شیطان ہیں) نحو : والذین کفروا مبتداء ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 257۔: (آیت)” اللہ ولی الذین امنوا “۔ اللہ انکی مدد کرتا ہے اور نصرت کرتا ہے ، بعض نے کہا کہ ان سے محبت کرتا ہے بعض نے کہا کہ انہی کو امور کا متولی بنایا ہے ان کے علاوہ کسی اور کو ان امور کا مکلف نہیں بنایا اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو ہدایت کا ولی بنایا ہے ۔ (آیت)” یخرجھم من الظلمات الی النور “۔ نکالتا ہے تاریکیوں سے نور کی طرف) کفر سے ایمان کی طرف ، علامہ واقدی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں جہاں بھی ظلمات اور نور کا لفظ آیا ہے اس سے کفر اور ایمان مراد ہے ، سوائے سورة انعام کی آیت ” وجعل الظلمات والنور “۔ میں دن اور رات مراد ہے ، آیت میں ظلمت کو کفر سے کیوں موسوم کیا اس لیے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

ابن جریر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ بعض نصرانی پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے۔ اور جب آنحضرت ﷺ کی نبوت مشہور ہوئی تو آنحضرت ﷺ پر بھی ایمان لائے ان کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے 1 معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو شخص اللہ کے حکم کے موافق رسول وقت کی اطاعت کرتا ہے اللہ اس کو سیدھا راستہ روز روشن کی طرح ہر وقت دکھلا دیتا ہے اور جو شخص شیطان کے بہکائے میں ہے وہ گمراہی کے اندھیرے میں پڑ کر فطرتی ایمان بھی کھو دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 257 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں۔ اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ زبردستی تو اس کام کے لئے کی جاتی ہے جسکے حقائق واضح نہ ہوں یا جو کام انتہائی ناپسندیدہ ہو۔ اس صراط مستقیم کا تو ہر گوشہ واضح ہے۔ اس کا چپہ چپہ روشن ہے۔ کوئی بھی سمجھ دار آدمی معمولی سا غور و فکر کرے تو اسے قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ لیکن جس کی نیت درست نہ ہو، غلط ارادے رکھتا ہو، ایسا بدظن آدمی حق کو دیکھ کر بھی باطل کو اختیار کرلیتا ہے۔ اچھی چیز کو دیکھ کر پھر گندی چیز کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ اسے دین کو قبول کرنے پر مجبور کرے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 257–259

قول باری ہے (قال لبثت یوماً او بعض یوم قال بل لبثت مائۃ عام، (a) اس نے کہا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزارا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمای تو نے یہاں ایک سو برس گزارے ہیں) اس قائل کا قول کذب بیانی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے تو اسے ایک سو برسوں تک موت کی حالت میں رکھا تھا، اس نے اپنے خیال کے مطابق یہ کہا تھا گویا اس نے یوں کہا تھا کہ ” میرے خیال میں میں ایک دن یا دن کا بعض حصہ گزارا ہوں۔ “ اس کی نظیر اصحاب کہف کی زبان سے ادا ہونے والا فقرہ ہے جس کی حکایت اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کی ہے (قال قائل منھم کم لبثتم قالوا لبثنا یوماً او بعض یوم) (a) حالانکہ انہوں نے تین سو نو سال گزارے تھے، انہوں نے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 257–258

739 ایمان و یقین کی روشنی ایک عظیم الشان و بےمثال روشنی : یعنی ایمان و یقین کی اس عظیم الشان روشنی کی طرف، جو اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی راہیں روشن اور واضح کردیتی ہے۔ سو ایمان و یقین کی روشنی انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی عظیم الشان اور بےمثال روشنی ہے، جس سے انسان اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی سے سرفراز ہوتا ہے اور آخرت میں جنت کی سدا بہار اور ابدی نعمتوں سے سرفراز ہوگا ۔ انشاء اللہ العزیز ۔ سو ایمان و یقین کی روشنی ایسی عظیم الشان اور بےمثال روشنی ہے جس سے انسان کا عقل و ضمیر روشن ہوجاتا ہے۔ اس کے اعمال و اخلاق روشن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 256–257

اسلام میں جبر نہیں تشریح : اس آیت میں دین کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ دین کا مطلب ہے وہ تمام عقیدے جو گزشتہ آیت الکرسی میں بیان کئے گئے ہیں ان پر صحیح اور مکمل ایمان رکھنا اور یہ تمام عقیدے اسلام کہلاتے ہیں۔ اسلام کے جس قدر اصول اور قانون بنائے گئے ہیں وہ بہترین ہیں مگر اسلام کسی بھی شخص پر زبردستی نہیں ڈالا جاسکتا۔ مذہب اسلام کا یہ اصول ہی نہیں کہ زبردستی مسلمان کیا جائے، اسلام کی تبلیغ کے لئے بہت تاکید کی گئی ہے مگر ساری تاریخ میں کبھی کہیں اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ کسی کو زبردستی مسلمان بنایا گیا ہو، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے کچھ احکامات مان لئے جائیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 254–257

آیات 254- 257 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا انفقوا………………والکفرون ھم الظلمون۔ اصلاح احوال کی بنیاد : اصلاح احوال کی بنیاد معاشیات پر ہے اگر دیکھا جائے تو تمام مذاہب باطلہ کا ماحصل دنیاوی خواہشات کی تکمیل کی آرزو ہے انسان مختلف امور میں ساری محنت حصول زر پہ کرتا ہے کہ تکمیل خواہشات کا بہت بڑا ذریعہ دولت ہی ہے اور یہیں سے اختلافات اور فسادات کی ابتداء ہوتی ہے لیکن اگر دولت کے خرچ کو محدود کردیا جائے تو ناجائز ذرائع سے حصول دولت کی ضرورت رہتی ہے نہ فائدہ۔ دنیا کی معاشی نظام صرف حصول زر کے قواعد سے بحث کرتے ہیں ، مگر اسلام رزق کو اللہ کی طرف سے تسلیم کرتا ہے کہ انسان صرف محنت کرنے کا مکلف ہے رزق…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 طاغوت (برزن فعلوت) کا لفظ طغیان سے مشتق ہے جس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنی حد سے آگے بڑھ جانے کے ہیں اس سے مرا شیطان بھی ہوسکتا ہے ہے اور ہر معبود باطل بھی حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں طاغوت شیطان ہے۔ (ابن کثیر) نیز ہر وہ شخص جو راس الضلال بن کر لوگوں سے اپنی بندگی اور اطاعت کر اتا ہے اسے طاغوت کھا جاتا ہے۔ (ترجمان)4 قرآن پاک میں جہاں بھی ظلمات اور نور کے الفاظ آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہی ہے ماسوائے آیت سورت الانعام وجعل الظلمات والنور کے کہ یہاں رات اور دن مراد ہیں۔ (کبیر) اس آیت میں نور کا لفظ بصیغہ واحد اوظلمات کا لفظ بصیغہ جمع استعمال ہوا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حق ہمشہ ہر جگہ ایک ہی ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:257) یخرجھم۔ یخرج مضارع واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ الذین امنوا کے لئے ہے۔ من الظلمت الی النور۔ صاحب تفسیر مظہری اس آیت کی شرح میں رقمطراز ہیں۔ ” جن لوگوں کا مومن ہونا خدا چاہتا ہے تو ان کو اپنی توفیق اور ہدایت کی مدد سے جہالت ۔ نفس پرستی ۔ وسوسوں اور کفر تک پہنچانے والے شبہات سے نکال کر اسے صراط مستقیم پر لا ڈالتا ہے جو ایمان تک ان کو پہنچا دیتی ہے۔ واقدی نے لکھا ہے کہ ” قرآن مجید میں جس جگہ الفاظ ظلمات والنور آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہے ہاں سورة انعام کی آیت جعل الظلمت والنور (6:1) میں شب و روز مراد ہیں۔ آیر مذکور بتارہی ہے کہ ایمان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 256–257

لغات القرآن : آیت نمبر 256 تا 257 لا اکراہ (زبردستی نہیں ہے) ۔ فی الدین (دین میں) ۔ قد تبین (یقیناً واضح ہوچکا ہے) ۔ الرشد (ہدایت) ۔ الغی (گمراہی) ۔ الطاغوت (شیطان، شیطانی طاقتیں) ۔ استمسک (مضبوط پکڑ لیا) ۔ العروۃ (گرہ) ۔ الوثقی (مضبوط) ۔ لا انفصام (ٹوٹنے والی نہیں) ۔ ولی (حمایتی، مددگار) ۔ اولیاء (دوست) ۔ تشریح : آیت نمبر 256 تا 257 سورة بقرہ کے رکوع 32 سے جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے ، اسی درمیان اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ لا اکراہ فی الدین، یعنی دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں ہے یہ اس لئے فرمایا گیا کہ کہیں جہاد سے یہ ذہن میں نہ آئے کہ اسلام قتال اور جہاد کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 255–257

تفسیرالقرآن : اللہ لآ الہ الا ھو کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔ لہ ما فی السمٰوٰت وما فی الارض کا مطلب یہ ہے کہ ستارہ پرستوں کے ستارے اور بت پرستوں کے بت اور سوا اللہ کے جس کی پر ستش کی جاوے۔ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں، ان میں خالق بننے کی صلاحیت ہر گز نہیں ہے۔ لاتا خذہ سنۃ ولا نوم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کے دربار کی طرح اس کی بارگاہ میں کسی غفلت اور بیخبر ی نہیں ہے۔ من ذالذی یشفع عندہٓ الا باذنہ کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی اجازت درکار ہے۔ یعلم ما بین ایدھم وما خلفھم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا حال اور آئندہ کا ذرا ذرا سب حال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 256–257

[174] دین کا تعلق دل کے اعتقاد سے ہے اس لئے کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ [175] یعنی اب دونوں راہیں لوگوں کے سامنے ہیں، جسے چاہیں اختیار کریں۔ [176] قرآن کی اصطلاح میں طاغوت اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ کی بندگی و اطاعت سے نکل جائے اور لوگوں سے اپنی بندگی اور اطاعت کرائے یا اللہ کے حکم کی جگہ اپنا حکم نافذ کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

مسلمان روشنی میں کافر تاریکی میں : (ف 2) اللہ تعالیٰ کی نصرتیں ، اعانتیں اور تائیدیں صرف مسلمانوں کے شامل حال رہتی ہیں ، کفر اس سے محروم ہے ، لہذا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کفر وشرک کی تاریکی سے نکالتا ہے اور ایمان وبصیرت کی روشنی میں داخل کرتا ہے ، مگر وہ لوگ جو خدا کے دوست نہیں ہیں ، جنہیں طاغوت سے محبت ہے وہ ہر وقت تاریکی اور ظلمت میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ساتھی اور معاون و مدد گار ہے جو ایمان لائے ان کو کفر کی تاریکیوں میں سے ایمان کی روشنی کی طرف نکال لاتا ہے اور جو لوگ کافرانہ روش رکھتے ہیں اور اہل کفر ہیں ان کے دوست شیاطین ہیں خواہ وہ جن ہوں یا انسان ہوں ۔ یہ شیاطین ان کو ایمان کی روشنی سے کفر کی تاریکیوں کی جانب نکالتے اور بچاتے ہیں ، لہٰذا ایسے لوگ جو اسلام کو چھوڑ کر کفر کو اختیار کریں اصحاب نار اور اہل جہنم ہیں یہ لوگ اس دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ( تیسیر) ولی کے معنی قریب کے ہیں ۔ یہ قرب کبھی با اعتبار محبت کے ہوتا ہے اور کبھی با اعتبار نصرت اور مدد کے ہوتا ہے اس لئے اس کے بہت سے معنی کئے جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 256–258

ف 6 اوپر آیت وانک لمن المرسلین میں رسالت پیغمبر کی اور آیت الکرسی میں توحید حق سبحانہ مذکور ہوئی ہے اور یہی دو امر اصل الاصول ہیں اسلام کے تو ان کے اثبات سے دین اسلام کی حقانیت بھی لازمی طور پر ثابت ہوئی ہے اس آیت میں اسی پر تصریح کرکے اسلام کا محل کراہ نہ ہونا ارشاد فرماتے ہیں۔ 7۔ اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت و خسران سے محفوظ رہتا ہے اس لیے اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دی جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ تھام کر گرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر مرتد پر یا کفروں پر بوجہ خفاء دلیل کے اکراہ کیا جائے جیسا کہ شریعت میں حکم ہے تو یہ نفی اکراہ فی نفسہ کے معارض نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کار ساز حقیقی اللہ ہی کی ذات ہے : 440: فرمایا گیا کہ اہل ایمان کے بگڑے کام بنا نے والی۔ آڑے وقت ان کے کام آنے والی اللہ ہی کی ذات ہے نہ کہ ابن اللہ یا کوئی دیوی دیوتا یا کوئی پیرو فقیر گویا یہ رد ہے نصاریٰ اور مشرکوں کا اور مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ جو لوگ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی غلامی کریں گے۔ ان کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی شیاطین اپنا اثر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ ظلمت چاروں طرف سے گھیرے گی ۔ قوانین الٰہی میں شبہات رونما ہوں گے لیکن ” اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ“ کی ایک جلوہ نمائی ان تمام طواغیت کو فنا کردے گی۔ شکوک رفع ہوجائیں گے ۔ ہدایت و راہنمائی حاصل ہوگی۔ تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary This verse also tells us that faith ('Iman ایمان ) is the greatest blessing and disbelief (kufr کفر ) is the greatest misfortune, and that there is darkness in friendship with those who disbelieve (kuffar کُفار ).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

287. The 'darkness' mentioned here means the darkness of Ignorance, which throws man off the path of salvation and well-being and directs his energies and efforts to wrong directions in defiance of reality. 'Light' here means the knowledge of Truth with the help of which man comes to know his own realitv and that of the universe; this knowledge also shows him the purpose of his life, and thus leads him consciously, to adopt the Right Way. 288. Here taghut (see n. 286 above) has a plural connotation. It implies that by turning away from God a man is subjected not to the tyranny of one, but to…

Read the full tafseer →