ابراہیم ؑ اور نمرود کا آمنا سامنا
اس بادشاہ کا نام نمرود بن کنعان بن سام بن نوح تھا اس کا پایہ تخت بابل تھا اس کے نسب میں کچھ اختلاف بھی ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں دنیا کی مشرق مغرب کی سلطنت رکھنے والے چار ہوئے جن میں سے دو مومن اور دو کافر، حضرت سلیمان بن داؤد اور حضرت ذوالقرنین، اور کافروں میں نمرود اور بخت نصر، فرمان ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم نے اسے نہیں دیکھا، جو حضرت ابراہیم سے وجود باری تعالیٰ میں مباحثہ کرنے لگا، یہ شخص خود اللہ ہونے کا مدعی تھا، جیسا اس کے بعد فرعون نے بھی اپنے والوں میں دعویٰ کیا تھا کہ میں اپنے سوا کسی کو تمہارا رب نہیں جانتا، چونکہ ایک مدت مدید اور عرصہ بعید سے یہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 289
اوپر دعویٰ کیا گیا تھا کہ مومن کا حامی و مددگار اللہ ہوتا ہے اور وہ اسے تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور کافر کے مددگار طاغوت ہوتے ہیں اور وہ اسے روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ اب اسی کی توضیح کے لیے تین واقعات مثال کے طور پر پیش کیے جارہے ہیں۔ ان میں سے پہلی مثال ایک ایسے شخص کی ہے، جس کے سامنے واضح دلائل کے ساتھ حقیقت پیش کی گئی اور وہ اس کے سامنے لاجواب بھی ہوگیا۔ مگر چونکہ اس نے طاغوت کے ہاتھ میں اپنی نکیل دے رکھی تھی، اس لیے وضوح حق کے بعد بھی وہ روشنی میں نہ آیا اور تاریکیوں ہی میں بھٹکتا رہ گیا۔ بعد کی دو مثالیں دو ایسے اشخاص کی ہیں، جنہوں نے اللہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تجھ کو اس شخص کا قصہ تحقیق نہیں ہوا (یعنی نمرود کا) جس نے ابراہیم ؑ سے مباحثہ کیا تھا اپنے پروردگار کے (وجود کے) بارے میں (یعنی توبہ توبہ وہ خدا کے وجود ہی کا منکر تھا) اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو سلطنت دی تھی (یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ نعمت سلطنت پر احسان مانتا اور ایمان لاتا اس کے برعکس انکار اور کفر شروع کردیا اور یہ مباحثہ اس وقت شروع ہوا تھا) جب ابراہیم ؑ نے (اس کے پوچھنے پر کہ خدا کیسا ہے جواب میں) فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا ہے کہ وہ جلاتا ہے اور مارتا ہے (یعنی زندہ کرنا اور مارنا اس کی قدرت میں ہے وہ کوڑھ مغز جلانے مارنے کا مطلب تو سمجھا نہیں) کہنے لگا…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ کے خطاب کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔
اس آیت میں الَّذِيْ سے کون مراد ہے : الَّذِيْ سے اگرچہ یہاں واضح نہیں ہے کہ کون مراد ہے لیکن ہمارے مفسرین نے اس سے عام طور پر نمرود کو مراد لیا ہے۔ یہ بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ یہ حضرت ابراہیم ؑ کا ہم عصر بادشاہ تھا اور تالمود میں حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ اس کا وہ مناظرہ بھی مذکور ہے جس کی طرف قرآن نے یہاں اشارہ کیا ہے۔
اوتار بادشاہوں کا تصور : فِيْ رَبِّهٖٓ ، رب کے بارے میں بحث کی وجہ یہ ہوئی ہوگی کہ اس زمانے میں عام طور پر جو بادشاہ ہوتے تھے وہ اپنے آپ کو اوتار باشاہ (God Kings) کی حیثیت سے نمایاں کرتے تھے۔ یعنی ان کی قوم کے لوگ جن دیوتاؤ کو پوجتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–258
256۔ 1 اس کے شان نزول میں بتایا گیا ہے کہ انصار کے کچھ نوجوان یہودی اور عیسائی ہوگئے تھے پھر جب یہ انصار مسلمان ہوگئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو عیسائی ہوگئے تھے زبردستی مسلمان بنانا چاہا جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول اس عتبار سے بعض مفسرین نے اس کو اہل کتاب کے لئے خاص مانا ہے یعنی مسلمان مملکت میں رہنے والے اہل کتاب اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں تو انہیں قبول اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے تاہم کفر و شرک کے خاتمے اور باطل کا زور…
Read the full tafseer →174: یہ بابل کا بادشاہ نمرود تھا جو خدائی کا بھی دعوے دار تھا، اس نے جو دعوی کیا کہ میں زندگی اور موت دیتا ہوں اس کا مطلب یہ تھا کہ بادشاہ ہونے کی وجہ سے جس کو چاہوں موت کے گھاٹ اتاردوں اور جس کو چاہوں موت کا مستحق ہونے کے باوجود معاف کرکے آزاد کردوں، اور اس طرح اسے زندگی دے دوں، ظاہر ہے کہ اس کا جواب قطعی طور پر غیر متعلق تھا، اس لئے کہ گفتگو زندگی اور موت کے اسباب سے نہیں ان کی تخلیق سے ہورہی تھی ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ وہ یا تو موت اور حیات کی تخلیق کا مطلب ہی نہیں سمجھتا یا کٹ حجتی پر اترآیا ہے، اس لئے انہوں نے ایک ایسی بات فرمائی جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا، مگر لاجواب ہو…
Read the full tafseer →درس 18 ایک نظر میں
یہ تین آیات ہیں اور ان کا موضوع ایک ہے یعنی زندگی اور موت کی حقیقت کیا ہے ؟ اور موت کے بعد زندگی کا راز کیا ہے ؟ حیات بعد الممات اسلامی نظریات کا ایک اہم پہلو ہے ۔ جس پر قرآن مجید میں بحث کی گئی ہے ۔ اور اس پارہ کے آغاز ہی سے جابجا اس پر بحث کی گئی ہے ۔ نیز ان آیات کا ان صفات الٰہی کے ساتھ بھی براہ راست تعلق ہے جو آیت الکرسی میں بیان کی گئی ہیں ۔ اور ان سب آیات سے قرآن کریم کی اس واضح جدوجہد کا اظہار ہوتا ہے ، جو قرآن مجید ، ایک مسلمان کے شعور وادراک میں ، ایک صحیح اسلامی تصور حیات کے پیدا کرنے کے لئے آرہا ہے ۔ اور انسانی زندگی کے بصیرت افروز جائزے کی خاطر اس بات کی ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 257–258
4 پہلی آیت میں اہل ایمان و اہل کفر اور ان کے نور ہدایت اور ظلمت کفر کا ذکر تھا اب اس کی تائید میں چند نظائر بیان فرماتے ہیں۔ نظیر اول میں نمرود بادشاہ کا ذکر ہے وہ اپنے آپ کو سلطنت کے غرور سے سجدہ کرواتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے سامنے آئے تو سجدہ نہ کیا نمرود نے دریافت کیا تو فرمایا کہ میں اپنے رب کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتا اس نے کہا رب تو میں ہوں، انہوں نے جواب دیا کہ میں حاکم کو رب نہیں کہتا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے دو قیدی منگا کر بےقصور کو مار ڈالا اور قصور وار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مارتا ہوں جس کو چاہوں نہیں مارتا، اس پر حضرت…
Read the full tafseer →آیت 258 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰھٖمَ فِیْ رَبِّہٖٓ اَنْ اٰتٰٹہ اللّٰہُ الْمُلْکَ 7
یہ بابل عراق کا بادشاہ نمرود تھا۔ یہ ذہن میں رکھیے کہ نمرود اصل میں لقب تھا ‘ کسی کا نام نہیں تھا۔ جیسے فرعون ج فراعنہ مصر کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا اسی طرح نمرود ج نماردہ بابل عراق کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ار میں ہوئی تھی جو بابل ‘ Babylonia کا ایک شہر تھا اور وہاں نمرود کی بادشاہت تھی۔ جیسے فرعون نے مصر میں اپنی بادشاہت اور اپنی خدائی کا دعویٰ کیا تھا اسی طرح کا دعویٰ نمرود کا بھی تھا۔ فرعون اور نمرود کا خدائی کا دعویٰ درحقیقت سیاسی بادشاہت اور اقتدار کا…
Read the full tafseer →368 یہ شخص نمرود بادشاہ عراق تھا اور اس کا دارالخلافہ بابل تھا جہاں آج کل کوفہ آباد ہے خدائی کا دعویدار تھا یہ خود اور اس کی رعایا سب مشرک تھے۔ نمرود کی خدائی کس قسم کی تھی ؟ یہ جاننے کے لیے تھوڑی سی تفصیل ضروری معلوم ہوتی ہے۔ شرک کی تین اقسام ہیں :۔
1۔ شرک فی الربوبیت :۔ ایسا شرک عموماً کوئی بھی نہیں کرتا۔ مشرکین مکہ ہوں یا نمرود ہو یا فرعون ہو کسی سے بھی پوچھا جائے کہ یہ آسمان و زمین کس نے بنائے۔ زمین سے پیداوار کون اگاتا ہے۔ کائنات کو کس نے پیدا کیا اور شمس و قمر کا نظام چلانے والا کون ہے تو سب یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ ربوبیت کے منکر ضرور موجود رہے ہیں یعنی دہریہ قسم کے لوگ…
Read the full tafseer →998 ۔ (اے مخاطب) (آیت) ” الم ترالی “۔ عرب ادب میں یہ اسلوب بیان حیرت واستعجاب کے موقع کے لیے ہے اور وہ بھی پہلوئے ذم لیے ہوئے۔ جب کبھی کسی کے کسی حیرت انگیز نقص یا عیب کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے تو اسے شروع میں اس طریقہ پر کرتے ہیں جیسے اردو میں ” کہیے کہ تم نے فلاں کی حرکت دیکھی ہے ؟ “ وکذلک تفعل العرب اذا ارادت التعجب من رجل فی بعض ماانکرت من فعلہ قالوا ما تری الی ھذا (ابن جریر) ھی کلمۃ یوقف بھا المخاطب علی تعجب ھنا ولفظھا الاستفھام (کبیر)
999 ۔ (منکر و مخالف کی حیثیت سے) یہ بحث ومناظرہ کرنے والا کون تھا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کوئی معاصر بادشاہ تھا، یہ تصریحات تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 258 تا 260
ترجمہ : کیا تم نے اس شخص کے حال پر نظر نہیں کی جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے رب کے بارے میں مباحثہ کیا تھا ؟ اس سبب سے کہ اللہ نے اس کو بادشاہت دے رکھی تھی، اللہ کی نعمتوں پر اترانے نے اس کو اس سرکشی (مباحثہ) پر آمادہ کیا تھا اور وہ نمروذ تھا، اس وقت جبکہ ابراہیم نے اس کے اس قول کے جواب میں کہ تیرا رب کون ہے ؟ جس کی طرف دعوت دیتا ہے ؟ کہا تھا میرا رب تو وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے یعنی موت وحیات کو جسموں میں پیدا کرتا ہے، وہ بولا زندگی اور موت تو قتل اور معافی کے ذریعہ میں (بھی) دیتا ہوں اور اس نے دو آدمیوں کو بلایا ان میں سے ایک کو قتل کردیا اور دوسرے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاۗجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ (کیا تم کو اس شخص کا واقعہ معلوم نہیں ہوا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے متعلق جھگڑا کیا تھا) نمرود کی کٹ حجتی اور حماقت پر اس آیت میں تعجب دلایا گیا ہے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ نمرودہی پہلا شخص ہے جس نے سر پر تاج پہنا، ربوبیت کا دعویٰ کیا اور زمین پر زبردستی کی۔
اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ (اَنْ سے پہلے لام محذوف ہے جھگڑا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے اس کو حکومت عطا کی تھی۔ اس لیے اس نے سرکشی کی۔ حکومت کا غرور اس کے جھگڑا کرنے کی علت تھا یعنی اس نے عطاء خداوندی کے تقاضے کے خلاف کیا عطاء کا لازمی تقاضا تو یہ تھا کہ وہ…
Read the full tafseer →(258) اے محمد ﷺ کیا آپ ﷺ کو اس شخص کا واقعہ یاد نہیں، جس نے حضرت ابراہیم ؑ سے ان کے پروردگار کے دین کے بارے میں جھگڑا کیا تھا اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت وسلطنت عطا کی تھی اور وہ نمرود بن کنعان ہے
حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ اور زندوں کو موت دیتا ہے اس نے بھی یہی دعوی کیا تھا حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اس کا ثبوت پیش کرو، چناچہ اس نے قید خانہ سے دو آدمی بلائے، ایک کو قتل کردیا اور دوسرے کو سزا معاف کرکے چھور دیا اور کہنے لگا یہ اس بات کی دلیل ہے، اب حضرت ابراہیم ؑ دوسری دلیل کی جانب متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ سورج مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال…
Read the full tafseer →اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ : یعنی اس بادشاہ کے رب تعالیٰ کے متعلق ابراہیم ؑ سے جھگڑے کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکومت عطا فرمائی، اس کا شکر اس نے یہ ادا کیا کہ خود رب بن بیٹھا اور جس نے اسے حکومت عطا فرمائی تھی اس کا انکار کردیا۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے فقیر بنا دیتا تو کبھی یہ جسارت نہ کرتا۔
ابراہیم ؑ عراق کے رہنے والے تھے، ان کے زمانے میں عراق کے اندر شرک تقریباً اپنی ساری صورتوں کے ساتھ موجود تھا، بتوں کو وہ پوجتے تھے، سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش وہ کرتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ بادشاہ وقت کو بھی رب مانتے تھے۔ ابراہیم ؑ کے ذمے ان سب صورتوں کی تردید کرکے لوگوں کو اکیلے رب کی…
Read the full tafseer →آیت : نمبر 258۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) الم تر “۔ یہ الف توقیفی ہے اور کلام میں تعجب کا معنی ہے یعنی انہوں نے اس کو تعجب میں ڈال دیا اور فراء نے کہا ہے : (آیت) ” الم تر “ بمعنی ھل رایت ہے یعنی کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا اور کیا آپ نے اسے دیکھا جو بستی کے پاس سے گزرا اور وہ نمروذ بن کوش بن کنعان بن سام بن نوح اپنے زمانے کا بادشاہ اور آگ اور مچھر والا تھا۔ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ حضرت مجاہد، حضرت قتادہ، حضرت ربیع، حضرت سدی، حضرت ابن اسحاق اور حضرت زید بن اسلم وغیرہم (رح) کا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 345 دارالکتب…
Read the full tafseer →(1) الطیالسی اور ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ وہ شخص جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا تھا وہ نمرود بن کنعان تھا۔
نمرود پر مچھروں کا عذاب مسلط ہوا
(2) ابن جریر نے مجاہد، قتادہ ربیع اور سدی رحمہم اللہ سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔
(3) عبدالرزاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے العظمہ میں زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمین میں سب سے پہلا جابر نمرود تھا۔ اور لوگ اس سے کھانا وصول کرتے تھے۔ (ایک مرتبہ) ابراہیم (علیہ السلام) بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ کھانا لینے کے لئے نکلے۔ جب لوگ اس کے پاس سے گزرتے تو وہ پوچھتا تمہارا رب کون ہے ؟…
Read the full tafseer →[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غورہی نہیں کیا ] [اِلَی الَّذِیْ : اس (کی حالت) کی طرف جس نے ] [حَآجَّ : بحث کی ] [اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم (علیہ السلام) سے ] [فِیْ رَبِّہٖٓ : ان کے رب (کے بارے ) میں ] [اَنْ : (اس سبب سے) کہ ] [اٰتٰٹہُ : دی اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الْمُلْکَ : بادشاہت ] [اِذْ قَالَ : جب کہا ] [اِبْرٰہٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ] [رَبِّیَ الَّذِیْ : میرا رب وہ ہے جو ] [یُحْیٖ : زندگی دیتا ہے ] [وَیُمِیْتُ : اور موت دیتا ہے ] [قَالَ : اس نے کہا ] [اَنَا : میں (بھی) ] [اُحْیٖ : زندگی دیتا ہوں ] [وَاُمِیْتُ : اور موت دیتا ہوں ] [قَالَ : کہا ] [اِبْرٰہٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →ایک کافر بادشاہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مباحثہ
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پیدائشی وطن شہر بابل کے آس پاس تھا ان کے زمانہ کا بادشاہ نمرود تھا جو اس علاقہ پر حکمران تھا۔ دنیا میں کفر و شرک پھیلا ہو تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ بھی بت پرست تھا جس کا تذکرہ سورة الانعام (ع 8) اور سورة مریم (ع 3) میں فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب توحید کی دعوت دی اور پوری قوم کو بتایا کہ تم گمراہی پر ہو تو سب کو برا لگا، نمرود بھی کافر تھا نہ صرف کافر تھا بلکہ داعی کفر تھا اور اپنے آپ کو معبود بتاتا تھا، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی تو وہ کٹ حجتی کرنے لگا اور…
Read the full tafseer →قصہ اول، دربارہ اثبات وجود باری عزاسمہ۔
قال تعالی، الم تر الی الذی حاج۔۔۔ الی۔۔۔ الظالمین۔
ان آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کانمرود بن کنعان سے مناظرہ اور مکالمہ بیان کرتے ہیں نمرود دھری تھا یعنی وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا اور اپنے آپ کو ملک کا رب اور خدا اور مالک بتاتا تھا اے مخاطب کیا تو نے اس طاغوت کو نہیں دیکھا جس نے خدا کے ولی ابراہیم سے اپنے پروردگار کے وجود کے بارے میں مباحثہ اور مجادلہ کیا یہ جھگڑنے والا شخص نمرود تھا جس نے سب سے پہلے سر پر تاج دکھا اور بادشاہت کے گھمنڈ میں خدائی کا دعوی کیا چناچہ فرماتے ہیں کہ نمرود کا خدا کے بارے میں یہ مجادلہ محض اس وجہ سے تھا کہ اللہ نے اس کو…
Read the full tafseer →508 یہ پہلا واقعہ ہے جو دوسرے قاعدے پر متفرع ہے۔ اور اس پر بطور تمثیل ذکر کیا گیا ہے کہ ضدی اور معاند آدمی کو وضوع حق کے باوجود قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔ جیسا کہ نمرود کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ٹھوس اور اطمینان بخش دلائل سے خدا کی توحید واضح کر کے اس پر حجت خداوندی قائم کردی۔ مگر اس کے باوجود اس نے اسے قبول نہ کیا کیونکہ وہ ضد وعناد کی وجہ سے قبول حق کی استعداد سے محروم ہوچکا تھا اور اپنے کو خدا کا اوتار سمجھتا تھا۔ ھذا الذی حاج ابراہیم فی ربہ وھو ملک بابل نمرود بن کنعان بن کوش بن سام بن نوح (ابن کثیر ص 313 ج 1، قرطبی ص 283 ج 3) ان سے پہلے لام تعلیلیہ محذوف ہے۔ یعنی خدا کے بارے…
Read the full tafseer →ربط آیات
اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کفار کا ذکر فرمایا تھا کہ اللہ ایمان والوں کا کار ساز ہے ، ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے۔ ان کے ساتھ طاغوت یا شیطان ہیں ، جو انہیں ایمان کی روشنی سے نکال کر کفر کے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں ، گویا دو قسم کے گروہوں کا ذکر ہوا ۔ ایک اولیاء الرحمن یعنی وہ لوگ جن کا ولی اللہ تعالیٰ خود ہے۔ وہ رحمن کے دوست ہیں اور دوسرا گروہ اولیاء الشیطان کا ہے ، جنہوں نے طاغوت کو اپنا دوست بنا رکھا ہے۔ آج کے درس سے شروع ہونے والے رکوع میں اللہ جل جلالہٗ نے انہیں دو قسم کے گروہوں کے متعلق بات کی وضاحت کے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاۗجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّہٖٓ اَنْ اٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْكَ 0 ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ 0 ۙ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَاُمِيْتُ 0 ۭ قَالَ اِبْرٰھٖمُ فَاِنَّ اللہَ يَاْتِيْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِيْ كَفَرَ 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِـمِيْنَ 258 ۚ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی اس کے معاملہ کو بھی دیکھا 12۔
ترکیب : ان اتاہ اللّٰہ یہ جملہ موضع نصب میں ہے سیبویہ کے نزدیک اور خلیل کے نزدیک موضع جر میں ہے تقدیرہ لان اتاہ اللہ۔ من المشرق اور من المغرب فعل سے متعلق ہیں۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات کا ذکر آیت الکرسی میں کیا اور علم التوحید کی بحث شروع فرمائی تو اس کے بعد تین قصے اس کے مناسب اور مؤید ذکر کئے جن کو فی الجملہ جہاد اور قتال فی سبیل اللہ سے بھی ایک لطیف مناسبت ہے۔ (1) قصہ ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا ہے جو خدا تعالیٰ کے وجود کے اثبات کے لیے برہان قاطع ہے۔ (2) اوکالذی مر علی قریۃً سے شروع ہوتا ہے۔ (3) واذ قال…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیْ رَبِّـہٖٓ اَنْ اٰ تٰـہُ اللّٰہُ الْمُلْـکَ م اِذْقَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیتُ لا قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ ط قَالَ اِبْرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمِ الْظّٰلِمِیْنَ ۔ ج
کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم سے جھگڑا کیا اس کے رب کے بارے میں اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی ہے۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا تو رب وہ ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے تو اس نے جواب دیا میں بھی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام :ٰ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ روح کو نور ایمان سے زندہ کرتا ہے اسی طرح وہ مردہ جسم کو دوبارہ زندگی عطا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کو لوگوں کو زندہ فرمائے گا جس کی امثال پیش کی جارہی ہیں۔
ایک دنیا پرست اور کوتاہ نظر انسان کی عادت ہوتی ہے کہ جونہی اسے کوئی نعمت و افر مقدار میں میسر ہو تو اس کی فطرت بغاوت پر اتر آتی ہے۔ جن نعمتوں کے ملنے کے بعد آدمی بہت جلد غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے ان نعمتوں میں اقتدار اور اختیار ایسی چیز ہے جب اس کا نشہ دماغ پر غالب آتا ہے تو آدمی اپنے محسنوں کو بھول ہی نہیں جاتا بلکہ بسا اوقات ان کی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ خیر خواہی کرنے والوں…
Read the full tafseer →آیت 258 :
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰھٖمَ فِیْ رَبِّہٖ (کیا تمہیں اس شخص کا واقعہ معلوم نہیں جس نے ابراہیم ( علیہ السلام) سے ان کے رب کے متعلق جھگڑا کیا) یعنی اپنے اس جھگڑے میں جو ربِ ابراہیم کی ربوبیت کے سلسلہ میں اس نے کیا۔
نحو : ربہ۔ کی ضمیرہٖ ابراہیم ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ یا اس کی طرف جس نے جھگڑا کیا۔ اسلئے کہ وہ دونوں کا رب ہے۔
اَنْ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ (کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت عطاء کی تھی) اصل اس طرح ہوا لان ٰاتاہ اللّٰہ۔ یعنی حکومت کے مل جانے نے اسے غرور وتکبر میں مبتلا کردیا۔ پس وہ اسی وجہ سے جھگڑنے لگا۔
ردِ معتزلہ :
یہ آیت بھی معتزلہ کے خلاف اصلح کے…
Read the full tafseer →258۔ (آیت)” الم تر الی الذین حاج ابراھیم فی ربہ “۔ (کیا تم کو اس شخص کا واقعہ معلوم نہیں جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے متعلق جھگڑا کیا) اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ﷺ کیا آپ ﷺ کے پاس وہ خبر پہنچی ہے جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا گیا تھا یعنی بحث کی اور جھگڑا کیا اور وہ نمرود بادشاہ تھا یہ پہلا شخص تھا جس کے سر پر بادشاہت کا تاج رکھا گیا اور پھر اس نے خدائی کا دعوی کیا (ان اتاہ اللہ الملک) (کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت عطا کی تھی) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بادشاہت دی تھی اور اس نے اس پر سرکشی کی تھی ، اس وجہ سے نمرود نے بادشاہی کا سوال…
Read the full tafseer →یہ بادشاہ جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کے باب میں بحث کی اس کا نام نمرود بن کنعان تھا یہ بابل کا بادشاہ تھا اور چار سو برس کے قریب اس نے سلطنت کی ہے یہ ملعون خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اسی واسطے اس نے حضرت ابراہیم سے اس طرح کی بحث کی چار بادشاہ روئے زمین پر بہت بڑے ہوئے ہیں دو مسلمان حضرت سلیمان اور ذروالقرنین اور دو کافر نمرود اور بحث نصریہ مباحثہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا اس وقت ہوا ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس آگ سے نجات دی ہے جو نمرود اور اس کی قوم نے بتوں کے توڑنے کی سزا کے طور پر جلائی تھی جس کا پورا قصہ سورة انبیاء…
Read the full tafseer →آیت 258
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (الم تر الی الذی حآج ابرھم فی ربہ) ” کیا تو نے اسے نہیں دیکھا جو ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا رہا تھا۔ “ یعنی کیا آپ نے اس کی جرأت، تجاہل، عناد اور ناقابل شک حقیقت کے بارے میں جھگڑے کا مشاہدہ نہیں فرمایا ؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی۔ : (ان اتہ اللہ الملک) ” کہ اسے اللہ نے حکومت دی تھی۔ “ تو وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ رعیت کا حکمران بن گیا ہے تو اتنی جرأت کی کہ ابراہیم سے اللہ کی ربوبیت کے بارے میں بحث کرنے لگا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے کام کرسکتا ہے۔ ابراہیم نے فرمایا : (ربی الذی یحی ویمیت) ” میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 257–259
قول باری ہے (قال لبثت یوماً او بعض یوم قال بل لبثت مائۃ عام، (a) اس نے کہا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزارا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمای تو نے یہاں ایک سو برس گزارے ہیں) اس قائل کا قول کذب بیانی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے تو اسے ایک سو برسوں تک موت کی حالت میں رکھا تھا، اس نے اپنے خیال کے مطابق یہ کہا تھا گویا اس نے یوں کہا تھا کہ ” میرے خیال میں میں ایک دن یا دن کا بعض حصہ گزارا ہوں۔ “ اس کی نظیر اصحاب کہف کی زبان سے ادا ہونے والا فقرہ ہے جس کی حکایت اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کی ہے (قال قائل منھم کم لبثتم قالوا لبثنا یوماً او بعض یوم) (a) حالانکہ انہوں نے تین سو نو سال گزارے تھے، انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 257–258
739 ایمان و یقین کی روشنی ایک عظیم الشان و بےمثال روشنی : یعنی ایمان و یقین کی اس عظیم الشان روشنی کی طرف، جو اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی راہیں روشن اور واضح کردیتی ہے۔ سو ایمان و یقین کی روشنی انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی عظیم الشان اور بےمثال روشنی ہے، جس سے انسان اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی سے سرفراز ہوتا ہے اور آخرت میں جنت کی سدا بہار اور ابدی نعمتوں سے سرفراز ہوگا ۔ انشاء اللہ العزیز ۔ سو ایمان و یقین کی روشنی ایسی عظیم الشان اور بےمثال روشنی ہے جس سے انسان کا عقل و ضمیر روشن ہوجاتا ہے۔ اس کے اعمال و اخلاق روشن…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود
تشریح : اس سے پہلی آیات میں مومنین اور کفار کے ایمان کی روشنی اور کفر کی تاریکی کا بیان تھا۔ اب اسی سلسلہ میں کچھ واقعات اور مثالیں بیان کی جارہی ہیں۔ پہلی مثال میں نمرود بادشاہ کا ذکر ہے جو کہ عراق پر حکومت کرتا تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اس کی سلطنت میں بہت بڑے عہدے پر کام کرتے اور بت بناتے تھے۔ نمرود اس قدر مغرور اور سرکش تھا کہ اپنے آپ کو خدا کہلواتا اور سجدہ کرواتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے خدا ماننے اور سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ نمرود نے وجہ پوچھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے سوا کسی کو سجدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 258–260
آیات 258- 260
اسرارو معارف
الم ترالی الذی حآج ابراھیم…………واللہ لا یھدی القوم الظلمین۔
ایمان مسلط اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو اللہ کی طرف سے دل پر وارد ہوتی ہے اور جس کا درود کا سبب وہ خواہش ہے جسے کتاب اللہ نے انابت کا نام دیا ہے اگر کسی دل میں انابت ہی نہ ہو تو لاکھ کوشش اور ہزار حجت کے بعد بھی اسے ایمان نصیب نہیں ہوتا۔ پھر یہاں زبردستی کیسی ؟
اس ضمن میں بطور مثال ارشاد ہے کہ……ذرا اسی شخص کے حالات دیکھئے جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا اور وہ بھی ربوبیت باری میں۔ حالانکہ اللہ نے ہی اسے ملک عطا کیا تھا یعنی خود اس کی ذات اور اس کی بہت بڑی سلطنت…
Read the full tafseer →ف 6 اوپر کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہل ایمان اصحاب نور ہیں اور اہل کفر اصحاب ظلمت ہیں۔ اب تین قصے بیان کئے جن سے اہل ایمان اور اہل کفر کے احوال پر روشنی پڑتی ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں پہلے قصہ سے صانع کا اور دوسرے دونوں قصوں سے حشر ونشر کا اثبات مقصود ہے اور کافر ان دونوں (مبد ومعد کے منکر ہیں۔ کبیر تبصرف) مفسرین نے اس بادشاہ کا نام نمرود بن کنعان لکھا ہے جو اہل (عراق) کا بادشاہ تھا اور صانع کی ہستی کا منکر تھا۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ منا ظرہ وجود با ری تعالیٰ میں تھا کہ اس علام کا کوئی صانع موجود ہے یا نہیں چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وجود باری تعالیٰ کی یہ دلیل دی کہ دنیا میں…
Read the full tafseer →(2:258) الم تر الی الذی۔ کیا تو نے نہیں دیکھا ۔ کیا تجھے خبر ہے اس شخص کی۔
حاج۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ محاجۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اس نے جھگڑا کیا۔ اس نے بحث کی حجت کی۔ حجت کرنا۔ یعنی ہر ایک کا دوسرے کو اس کی دلیل اور راہ سے ہٹانے کی خواہش کرنا۔
ان اتہ اللہ الملک۔ ان سے پہلے لام تعلیل محذوف ہے گویا عبارت ہے لان اتہ اللہ الملک۔ جھگڑا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت عطا کی تھی۔ اس لئے اس نے سرکشی کی۔ حکومت کا غرور اس کے جھگڑا کرنے کی علت تھا ۔ یعنی اس نے عطاء خداوندی کے تقاضے کے خلاف کیا۔ عطا کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ وہ شکر کرتا مگر کیا اس نے اس کے برعکس۔ عرب کہتے ہیں کہ عادیتنی لانی…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 258
حاج (جو جھگڑا) ۔ اتہ اللہ (اس کو اللہ نے دیا تھا) ۔ الملک (سلطنت، حکومت) ۔ یحییٰ (زندہ کرتا ہے) ۔ یمیت (مارتا ہے) ۔ انا احی (میں زندہ کرتا ہوں) ۔ امیت (میں موت دیتا ہوں) ۔ یاتی (لاتا ہے وہ۔ وہ آتا ہے) ۔ الشمس (سورج) ۔ بھت (حیران رہ گیا)
تشریح : آیت نمبر 258
نمرود عراق کا بادشاہ تھا جس کی بڑی وسیع سلطنت تھی مگر اقتدار کا نشہ کچھ ایسی بری چیز ہے کہ وہ انسان کو اللہ سے غافل کردیتا ہے، نمرود نے اسی اقتدار کے نشہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ ابراہیم تم کس رب کی بات کرتے ہو ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم ونمرود کا قصہ اور مچھروں کا عذاب
نمرود بن کنعان ایک بادشاہ تھا جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔ چار بادشاہ روئے زمین پر بہت بڑے ہوئے ہیں : دو مسلمان حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ذوالقرنین اور دو کافر نمرود اور بخت نصر ۔
یہ مباحثہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا اس وقت ہوا ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی صفت مردوں کا جلانا اور زندوں کو مارنا بیان کی تو اس کم بخت نے دو قیدی بلائے ایک کو جو واجب القتل تھا چھوڑ دیا، اور دوسرے قیدی کو جو بےگناہ تھا مار ڈالا۔ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آفتاب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 258–259
[177] یہ حجت کرنے والا شخص ابراہیم (علیہ السلام) کے وطن کا بادشاہ نمرود تھا جو رب ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کی حجت اپنے رب ہونے کے دعویٰ کے بارے میں تھی۔
[178] اپنے دعوے کے ثبوت میں اس نے ایک بےگناہ شخص کو قتل کردیا اور ایک واجب القتل شخص کو چھوڑ دیا۔ اس کا یہ فعل حد درجہ احمقانہ اور ڈھٹائی پر مبنی تھا۔ کہاں موت وحیات پیدا کرنا اور کہاں قتل کرنا اور چھوڑ دینا۔
Read the full tafseer →حجت ابراہیمی امام (علیہ السلام) :
(ف 1) قاعدہ ہے کہ چھوٹے دل کے لوگ بڑی عزت کو برداشت نہی کرسکتے ، نمرود کو بابل ونینوا کی حکومت جب دی گئی تو آپے سے باہر ہوگیا اور لگا خدائی کا دعوی کرنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو خدا کی طرف سے اس تمردو غرور کے لئے تازیانہ عبرت ہو کر آئے تھے توحید کا وعظ کہا اور لوگوں کو اس خدا کی چوکھٹ پر جھکنے کی دعوت دی جس نے نمردوں اور فرعونوں کو پیدا کیا ہے اور چشم زون میں ان کو کس طرح مار کر آپ قلزم میں غرق کرسکتا ہے ۔
اس وقت کے نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلایا اور پوچھا میرے سوا اور کس کی بادشاہت کا تم اعلان کرتے ہو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →ف 1 اے نبی کیا آپ کو اس نا سپاس شخص کا واقعہ معلوم نہیں ہوا اور آپ نے اس کا قصہ ملاحظہ نہیں فرمایا جس نے اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت اور سلطنت عطا فرمائی تھی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا اور مجادلہ کیا تھا یہ جھگڑا اس وقت پیش آیا جبکہ وجود باری کے سلسلے میں اس کا سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اس پر نہ ناسپاس شخص بولا بھی جلاتا اور مارتا ہو۔
یہ سن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بیوقوف اور موٹی عقل کے انسان سے فرمایا اچھا اللہ تعالیٰ آفتاب کو روزہ مشرق سے نکالا کرتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 256–258
ف 6 اوپر آیت وانک لمن المرسلین میں رسالت پیغمبر کی اور آیت الکرسی میں توحید حق سبحانہ مذکور ہوئی ہے اور یہی دو امر اصل الاصول ہیں اسلام کے تو ان کے اثبات سے دین اسلام کی حقانیت بھی لازمی طور پر ثابت ہوئی ہے اس آیت میں اسی پر تصریح کرکے اسلام کا محل کراہ نہ ہونا ارشاد فرماتے ہیں۔
7۔ اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت و خسران سے محفوظ رہتا ہے اس لیے اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دی جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ تھام کر گرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر مرتد پر یا کفروں پر بوجہ خفاء دلیل کے اکراہ کیا جائے جیسا کہ شریعت میں حکم ہے تو یہ نفی اکراہ فی نفسہ کے معارض نہیں۔
Read the full tafseer →رئیس المواحدین سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نمرود کے دربار میں :
443: انسان کبھی فسق و فجور سے باز نہیں رہ سکتا جب تک اس کو دو باتوں کا یقین نہ ہو ایک یہ کہ اللہ موجود ہے اور وہ ہمارے ہر عمل حیات کا نگران کار ومحافظ ہے دوسرا یہ کہ جو کچھ ہم کرتے ہیں اس کے متعلق ایک روز سوال کیا جائے گا اور احتساب اعمال سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ان دونوں باتوں کو یا تو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا گیا یا کیا گیا تو صرف رسما ً حقیقتاً نہیں۔ پیچھے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مؤمن کا حامی و مددگار اللہ ہوتا ہے اور پھر جس کا حامی و مددگار اللہ ہوجائے وہ اسے تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور کافر کے مددگار و معاون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 258–259
The verse refers to Namrud نمرود ، the emperor of Babylon, who denied the very existence of God and had a debate with Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) on this issue. Allah has given him political power over a large territory. He should have been grateful to his Lord. But, on the contrary, his political power inflated him with pride and arrogance; he started denying the very existence of Him. It is in this context that the Holy Qur'an says: 'the one who argued with Ibrahim about his Lord, because Allah had given him kingship."
In the course of argument, he asked Ibrahim (علیہ السلام) about the…
Read the full tafseer →289. It was stated earlier that God is the protector and supporter of the man of faith and brings him out of darkness into light whereas the protectors and supporters of the unbelievers are taghut who lead him out of light into darkness. It is to illustrate this that three examples are cited here. The first is that of a person before whom truth was put with such clear and impressive arguments that he could not refute it, but since he had placed his reins in the hands of taghut, he still could not believe in it. The two subsequent examples are those of two people who clung to God as their…
Read the full tafseer →