حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الْأَعْمَشَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ عَنْ صِلَةَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى قَالَ وَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ وَلَا آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْهَا
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم ﷺ اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ الْأَعْمَشُ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَتَيْتُهُ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ
حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی منگوایا جو میں لے کر حاضر ہوا نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ قَالَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلُ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِيمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ
حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ رَبِّ يَعْنِي قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے کہ اے میرے پروردگار! مجھے اس دن کے عذاب سے محفوظ فرما جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھا کر جمع کرے گا۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے بعد آنے والے دو آدمیوں یعنی ابوبکر و عمر کی اقتداء کرنا ؓ۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا شَقِيقٌ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَذَهَبْتُ أَتَبَاعَدُ عَنْهُ فَقَدَّمَنِي حَتَّى قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَقَطَتْ عَلَى أَبِي كَلِمَةٌ
حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا میں پیچھے ہٹنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے آگے رہنے کی تلقین کی یہاں تک کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ امام احمد (رح) کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میرے والد سے ایک کلمہ ساقط ہوگیا ہے۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ يَبُولُ فِي قَارُورَةٍ وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمْ الْبَوْلُ قَرَضَ مَكَانَهُ قَالَ حُذَيْفَةُ وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي نَتَمَاشَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى سُبَاطَةٍ فَقَامَ يَبُولُ كَمَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ فَذَهَبْتُ أَتَنَحَّى عَنْهُ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ
حضرت حذیفہ ؓ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت ابوموسیٰ ؓ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا میری آرزو ہے کہ تمہارے ساتھی اتنی سختی نہ کریں مجھے یاد ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ چل رہے تھے چلتے چلتے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچنے تو نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر اسی طرح پیشاب کیا جیسے تم میں سے کوئی کرتا ہے میں پیچھے جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا قریب ہی رہو چناچہ میں آپ ﷺ کی پشت مبارک کی جانب قریب ہوگیا۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خُثَيْمَةَ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ اسْمُهُ سَلَمَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ صُهَيْبٍ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَعَامٍ لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعَ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ تَضَعُ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَذَهَبَ يَضَعُ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ إِذَا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا وَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهِمَا يَعْنِي الشَّيْطَانَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ کھانے میں شریک ہوتے تو اس وقت تک اپنے ہاتھ کھانے میں نہ ڈالتے جب تک ابتداء نبی کریم ﷺ نہ فرماتے ایک مرتبہ اسی طرح ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کھانے میں شریک تھے اسی اثناء میں ایک باندی آئی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگی تو نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آیا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا کہ جب کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال سمجھتا ہے چناچہ پہلے وہ اس باندی کے ساتھ آیا تاکہ اپنے لئے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ اس دیہاتی کے ساتھ آیا تاکہ اس کے ذریعے اپنے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری حان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى جُفَالُ الشَّعْرِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس کے بال اون کی مانند ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم بھی ہوگی لیکن اس کی جہنم، درحقیقت جنت ہوگی اور جنت درحقیقت جہنم ہوگی۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت حذیفہ ؓ سے (مرفوعاً ) مروی ہے کہ اس امت کو دیگر امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے اس امت کے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنایا گیا ہے اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں یہ بات نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے اور اس امت کو سورت بقرہ کی آخری آیتیں عرش الہٰی کے نیچے ایک خزانے سے دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ
حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَعْمَلُ بِالْمَعَاصِي فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اطْحَنُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ قَالَ فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا قَالَ فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي يَدِهِ قَالَ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ خَوْفُكَ قَالَ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَكَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جو گناہوں کے کام کرتا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دینا جب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ أَمْرِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ لوگوں کو پہلے امر نبوت میں سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہے کرو۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنْ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنْ السُّنَّةِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ فَقَالَ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ تَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِهِ قَالَ فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ حَبَّةٌ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم سے دو حدیثیں بیان کی ہیں جن میں سے ایک میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں نبی کریم ﷺ نے امانت کے اٹھ جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو نکال لیا جائے گا اور وہ صرف ایک نقطے کے برابر اس کے دل میں باقی رہ جائے گی پھر جب دوبارہ سوئے گا تو اس کے دل سے باقی ماندہ امانت بھی نکال لی جائے گی اور وہ ایسے رہ جائے گی جیسے کسی شخص کے پاؤں پر کوئی چھالا پڑگیا ہو اور تم اس پر کوئی انگارہ ڈال دو تو تمہیں پھولا ہوا نظر آئے گا لیکن اس میں کچھ نہیں ہوتا پھر حضرت حذیفہ ؓ نے کچھ کنکریاں لے کر اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا کر دیکھایا۔ اس کے بعد لوگ ایک دوسرے سے خریدوفروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت ادا کرنے والا نہیں ہوگا حتیٰ کہ یوں کہا جایا کرے گا کہ بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی رہتا ہے اسی طرح یوں کہا جائے گا کہ وہ کتنا مضبوط ظرف والا اور عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ جب میں کسی سے بھی خریدوفروخت کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتا تھا کیونکہ وہ مسلمان ہوتا تو وہ اپنے دین کی بنیاد پر اسے واپس لوٹا دیتا تھا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو وہ اپنے گورنر کی بنیاد پر واپس کردیتا تھا لیکن اب تو میں صرف فلاں فلاں آدمی سے ہی خریدوفروخت کرتا ہوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ دَخَلَ حُذَيْفَةُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي أَبْوَابَ كِنْدَةَ فَجَعَلَ لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَلَا السُّجُودَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ مُنْذُ كَمْ هَذِهِ صَلَاتُكَ قَالَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ مَا صَلَّيْتَ مِنْ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَوْ مُتَّ وَهَذِهِ صَلَاتُكَ لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فُطِرَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ يُعَلِّمُهُ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ فِي صَلَاتِهِ وَإِنَّهُ لَيُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ ؓ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ابواب کندہ کے قریب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے وہ رکوع و سجود کامل نہیں کر رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ ؓ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا تم نے چالیس سال سے ایک نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی نماز پر دنیا سے رخصت ہوجاتے تو تم اس فطرت پر نہ مرتے جو نبی کریم ﷺ کو عطاء فرمائی گئی تھی پھر وہ اسے نماز سکھانے لگے اور فرمایا انسان نماز ہلکی پڑھے لیکن رکوع و سجود مکمل کرے۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِ مِائَةِ قَالَ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا قَالَ فَابْتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسلام کے نام لیوا افراد شمار کر کے ان کی تعداد مجھے بتاؤ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ کیا آپ کو ہمارے متعلق کوئی خطرہ ہے جبکہ ہم تو چھ سے سات سو کے درمیان ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نہیں جانتے ہوسکتا ہے کہ تمہاری آزمائش کی جائے چناچہ ہمارا امتحان ہوا تو ہم میں سے ہر آدمی چھپ کر ہی نماز پڑھ سکتا تھا۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ أَوْ عَنْ غَيْرِهِ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنَّا وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو دروغ بیانی سے کام لیں گے اور ظلم کریں گے سو جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کو سچ قرار دے گا اور ظلم پر ان کی مدد کرے گا اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ میرے پاس حوض کوثر پر بھی نہیں آسکے گا اور جو شخص ان کے جھوٹ کو سچ اور ظلم پر ان کی مدد کرے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے پاس حوض کوثر بھی آئے گا۔
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ مُسْتَوْرِدِ بْنِ أَحْنَفَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَالَ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ رَأْسَ الْمِائَةِ فَقُلْتُ يَرْكَعُ ثُمَّ مَضَى حَتَّى بَلَغَ الْمِائَتَيْنِ فَقُلْتُ يَرْكَعُ ثُمَّ مَضَى حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ قَالَ ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ قَالَ ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ النِّسَاءِ فَقَرَأَهَا قَالَ ثُمَّ رَكَعَ قَالَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ قَالَ وَكَانَ رُكُوعُهُ بِمَنْزِلَةِ قِيَامِهِ ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ وَقَالَ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى قَالَ وَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم ﷺ نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم ﷺ اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم ﷺ پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم ﷺ پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم ﷺ نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم ﷺ اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔