حضرت ام حبیبہ کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 1,107 · 19 hadiths

26170Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ عِنْدَهَا فِي يَوْمِهَا أَوْ لَيْلَتِهَا فَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے نبی جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تو وہی کلمات دہراتے جو وہ کہہ رہا ہوتا حتیٰ کہ وہ خاموش ہوجاتا۔

26171Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشار فرمایا جو شخص ایک دن میں فرائض کے علاوہ بارہ رکعتیں (نوافل) پڑھ لے، اللہ اس کا گھر جنت میں بنا دے گا۔

26172Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ شَوَّالٍ يَقُولُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ كُنَّا نُغَلِّسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى وَقَالَ سَمُرَةُ كُنَّا نُغَلِّسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کے دور میں مزدلفہ سے رات ہی کو آجاتے تھے۔

26173Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔

26174Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ مَاتَ نَسِيبٌ لَهَا أَوْ قَرِيبٌ لَهَا فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا کہ ایسی عورت پر " جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو " اس کے لئے اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی۔

26175Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔

26176Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔

26177Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَ سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ تَعِسْتَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لِي كَيْفَ هُوَ قُلْتُ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَدَقْتَ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں، اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔

26178Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَفِيهِ كَانَ مَا كَانَ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ مجھ پر اور نبی پر ایک ہی کپڑا تھا اور اس پر جو چیز لگی ہوئی تھی وہ لگی ہوئی تھی۔

26179Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَ يَزِيدُ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْمُقْرِيُّ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھ لے اللہ اس کے گوشت کو جہنم پر حرام کر دے گا۔

26180Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَشُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ الَّذِي يُجَامِعُهَا فِيهِ قَالَتْ نَعَمْ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ أَذًى

حضرت امیر معاویہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ام حبیبہ ؓ سے پوچھا کیا نبی ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے، جن میں تمہارے ساتھ سوتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! بشرطیکہ اس پر کوئی گندگی نظر نہ آتی۔

26181Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ابْنُ شَوَّالٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا بَعَثَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَنَّهُ بَعَثَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ وَقَالَ يَحْيَى قَدَّمَهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کردیا۔

26182Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْ لَهُ بِسَوِيقٍ فَشَرِبَ فَقَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أَخِي أَلَا تَتَوَضَّأُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أُحْدِثْ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ

ابن سعید مغیرہ ایک مرتبہ ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔

26183Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْلَمَهُمْ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنْ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ قَالَ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ قَالُوا فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا قَالَ مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یمن کے کچھ لوگ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی نے انہیں نماز کا طریقہ سنتیں اور فرائض سکھائے پھر وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم لوگ گہیوں اور جو کا مشروب بناتے ہیں نبی نے فرمایا وہی جس کا نام " غبیرا " رکھا گیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی نے فرمایا اسے مت پیو، دو دن بعد انہوں نے پھر اسی چیز کا ذکر کیا، نبی نے پھر پوچھا " وہی جس کا نام غبیرا ہے؟ " تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے اور واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی یہی سوال جواب ہوئے، لوگوں نے عرض کیا کہ اہل یمن اسے نہیں چھوڑیں گے، نبی نے فرمایا جو شخص اسے نہ چھوڑے گا اس کی گردن اڑا دو۔

26184Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ أَبِي وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ وَكَانَ رَحَلَ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَمَهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں، ایک مرتبہ عبیداللہ نجاشی کے یہاں گئے اور وہیں فوت ہوگئے، نبی نے حضرت ام حبیبہ ؓ سے نکاح کرلیا، اس وقت وہ ملک حبش میں ہی تھیں، نجاشی نے نبی کا وکیل بن کر ان سے نبی کا نکاح کرادیا اور انہیں چار ہزار درہم مہر کے دئیے اور انہیں اپنے یہاں سے رخصت کردیا اور حضرت شرجیل بن حسنہ کے ساتھ نبی کی خدمت میں روانہ کردیا، یہ سب تیاریاں نجاشی کے یہاں ہوئی تھیں، نبی نے ان کے پاس کچھ نہیں بھیجا تھا، نبی کی ازواج مطہرات کے مہر چار سو درہم رہے ہیں۔

26185Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعِيرُ الَّتِي فِيهَا الْجَرَسُ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔

26186Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ يَتْلُو أَحَادِيثَ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ وَقَالَ أَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ مَا تَلْقَى أُمَّتِي بَعْدِي وَسَفْكَ بَعْضِهِمْ دِمَاءَ بَعْضٍ وَسَبَقَ ذَلِكَ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى كَمَا سَبَقَ فِي الْأُمَمِ فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُوَلِّيَنِي شَفَاعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيهِمْ فَفَعَلَ قَالَ عَبْد اللَّهِ قُلْتُ لِأَبِي هَاهُنَا قَوْمٌ يُحَدِّثُونَ بِهِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ لَيْسَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ إِنَّمَا هُوَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا میں نے وہ تمام چیزیں دیکھیں جن سے میری امت میرے بعد دو چار ہوگی اور ایک دوسرے کا خون بہائے گی اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے سے فرما رکھا ہے جیسے پہلی امتوں کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا گیا تھا، میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ قیامت کے دن ان کی شفاعت کا مجھے حق دے دے، چناچہ پروردگار نے ایسا ہی کیا۔

26187Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْفَرِيضَةِ بَنَى اللَّهُ تَعَالَى لَهُ أَوْ قَالَ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ

حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن میں فرائض کے علاوہ بارہ رکعتیں (نوافل) پڑھ لے اللہ اس کا گھر جنت میں بنا دے گا۔

26188Musnad Imam Ahmad

حضرت ام حبیبہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي ابْنَةَ أَبِي سُفْيَانَ فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي فَقُلْتُ فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَأَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ

حضرت ام سلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے؟ نبی نے فرمایا کیا مطلب؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں نبی نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! میں آپ کی اکیلی بیوی تو نہیں ہوں، اس لئے خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے، نبی نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے ( کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں، نبی نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا مجھے اور اس کے باپ (ابو سلمہ) کو بنو ہاشم کی آزاد کردہ باندی " ثوبیہ " نے دودھ پلایا تھا، بہرحال! تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔