حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

Musnad Imam Ahmad · Chapter 144 · 14 hadiths

15159Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور حضرت صدیق اکبر کے دور باسعادت میں وعظ گوئی کا رواج نہ تھا سب سے پہلے وعظ گوئی کرنے والے حضرت تمیم داری تھے انہوں نے حضرت عمر سے لوگوں میں کھڑے ہو کر وعظ گوئی کی اجازت مانگی اور حضرت عمر نے انہیں اجازت دیدی۔

15160Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ قَالَ كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ وَلِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن تھا جو تمام نمازوں اور جمعہ وغیرہ میں اذان بھی دیتا تھا اور اقامت بھی وہی کہتا تھا کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن جب منبر پر رونق افروز ہوجاتے تو حضرت بلال اذان دیتے تھے اور جب آپ منبر سے نیچے اترتے تو وہی اقامت کہتے تھے حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کے زمانے تک ایسا ہوتا رہا یہاں تک کہ حضرت عثمان کا دور آگیا۔

15161Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَسْوَدَ الْقُرَشِيُّ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ حَدَّثَهُ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوْا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت اس وقت تک فطرت پر قائم رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز ستارے نکلنے سے پہلے پڑھتی رہے گی۔

15162Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر مجھے بھی نبی ﷺ کے ساتھ حج پر لے جایا گیا اس وقت میری عمر سات سال تھی۔

15163Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ إِلَيْهِ فَنَضْرِبُهُ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ صَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِيهَا أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا فِيهَا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں اور حضرت صدیق اکبر کے دور میں اور حضرت عمر کے ابتدائی دور میں جب کوئی شرابی لایا جاتا تھا تو ہم لوگ کھڑے ہو کر اسے اپنے ہاتھوں جوتیوں اور چادروں سے مارتے تھے بعد میں حضرت عمر نے شرابی کو چالیس کوڑے مارنے کا حکم دیا اور لوگ جب اس میں سرکشی اور فسق وفجور کرنے لگے تو انہوں نے اس کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔

15164Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَتَعْرِفِينَ هَذِهِ قَالَتْ لَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَأَعْطَاهَا طَبَقًا فَغَنَّتْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی نبی ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ پوچھا کہ عائشہ تم جانتی ہو اسے انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ نہیں فرمایا یہ فلاں قبیلے کی گلوکارہ ہے تم اس کا گاناسننا چاہتی ہو انہوں نے کہا جی ہاں نبی ﷺ نے اسے ایک تھالی دیدی اور وہ گانے لگی نبی ﷺ نے فرمایا اس کے نتھنوں میں شیطان پھونکیں مار رہا ہے۔

15165Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَذْكُرُ مَقْدِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر ثنیتہ الوداع کی طرف نکلا ہم لوگ غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی ﷺ کا استقبال کرنے کے لئے گئے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی ﷺ کا غزوہ تبوک سے واپس تشریف لانا یاد ہے۔

15166Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ وَحَدَّثَنَا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمْ يَسْتَثْنِ فِيهِ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ احد کے موقع پر دو زرہیں پہن رکھی تھیں۔

15167Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ قَالَ مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ يُؤَذِّنُ إِذَا قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ وَأَبُو بَكْرٍ كَذَلِكَ وَعُمَرُ كَذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن مقرر تھا جو نبی ﷺ کے منبر پر بیٹھنے کے بعد اذان دیتا تھا اور منبر سے اترنے کے بعد اقامت بھی وہی کہتا تھا حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کے زمانے تک ایسا ہی ہوتا رہا۔

15168Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ شُرَيْحًا الْحَضْرَمِيَّ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاكَ رَجُلٌ لَا يَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے ایک مرتبہ شریح حضرمی کا تذکرہ ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ ایسا آدمی ہے جو قرآن کو تکیہ نہیں بناتا۔

15169Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ شُرَيْحًا الْحَضْرَمِيَّ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاكَ رَجُلٌ لَا يَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

15170Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ماہ صفر منحوس نہیں ہے اور مردوں کی کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔

15171Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَذَانَيْنِ حَتَّى كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَكَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَاءِ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور حضرات شیخین کے دور باسعادت میں صرف ایک اذان ہوتی تھی یہاں تک کہ حضرت عثمان کا دور آگیا اور لوگ زیادہ ہوگئے تو انہوں نے مقام زوراء پر پہلی اذان کا حکم دیدیا۔

15172Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ إِنْسَانٍ يَكُونُ فِي مَجْلِسٍ فَيَقُولُ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَقُومَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ قَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اسماعیل بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجلس میں شریک ہو اور جس وقت کھڑے ہونے کا ارادہ کرے اور وہ یہ کلمات پڑھ لے سبحانک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک اتوب الیک تو اس مجلس میں ہونے والے اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث یزید بن خصیفہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث حضرت سائب بن یزید نے نبی ﷺ کے حوالے سے مجھ سے اسی طرح بیان فرمائی تھی۔