حضرت محمود بن لبید اور محمود بن ربیع (رض) کی حدیثیں۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 927 · 4 hadiths

22534Musnad Imam Ahmad

حضرت محمود بن لبید اور محمود بن ربیع (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ

حضرت محمود بن ربیع ؓ سے مروی ہے کہ انہیں وہ کلی یاد ہے جو نبی کریم ﷺ نے ان پر کی تھی اور پانی اس ڈول سے لیا تھا جو ان کے کنوئیں سے نکالا گیا تھا۔

22535Musnad Imam Ahmad

حضرت محمود بن لبید اور محمود بن ربیع (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَا يَعْرِفُونَهُ فَقَتَلُوهُ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدِيَهُ فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ

حضرت محمود بن لبید ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت حذیفہ ؓ کے والد حضرت یمان ؓ پر مسلمانوں کی تلواریں پڑنے لگیں مسلمان انہیں پہچان نہ سکے اور انہیں قتل کردیا نبی کریم ﷺ نے ان کی دیت ادا کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ ؓ نے وہ دیت مسلمانوں پر ہی صدقہ کردی۔

22536Musnad Imam Ahmad

حضرت محمود بن لبید اور محمود بن ربیع (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ

حضرت محمود بن لبید ؓ سے مروی ہے کہ سورت تکاثر نازل ہوئی اور نبی کریم ﷺ نے اسے پڑھ کر سنایا تو جب " ثم لتسألن یومئذ عن النعیم " پر پہنچے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم سے کن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو صرف پانی اور کھجوریں ہیں ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن سامنے موجود ہے تو کون سی نعمتوں کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ ہو کر رہے گا۔

22537Musnad Imam Ahmad

حضرت محمود بن لبید اور محمود بن ربیع (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ صَبَرَ فَلَهُ الصَّبْرُ وَمَنْ جَزِعَ فَلَهُ الْجَزَعُ

حضرت محمود بن لبید ؓ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر جو شخص صبر کرتا ہے اسے صبر ملتا ہے اور جو شخص جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع فزع ہے۔