حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 34 · 10 hadiths

14764Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ التَّيْمِيِّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ يَعْنِي النَّهْدِيَّ عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ الطَّاعُونُ وَالْبَطْنُ وَالْغَرَقُ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا وَقَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یا حالت نفاس میں مرجانا بھی شہادت ہے۔

14765Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ يَوْمَ خَيْبَرَ أَدْرَاعًا فَقَالَ أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ قَالَ فَضَاعَ بَعْضُهَا فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْمَنَهَا لَهُ فَقَالَ أَنَا الْيَوْمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْإِسْلَامِ أَرْغَبُ

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ جنگ حنین کے دن نبی ﷺ نے ان سے کچھ زرہیں عاریتا طلب کیں اس وقت تک صفوان مسلمان نہ ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ اے محمد غصب کی نیت سے لے رہے ہو نبی ﷺ نے فرمایا نہیں عاریت کی نیت سے جس کا میں ضامن ہوں اتفاق سے ان میں سے کچھ زرہیں ضائع ہوگئیں نبی ﷺ نے انہیں اس تاوان کی پیش کش کی لیکن وہ کہنے لگے یا رسول اللہ آج مجھے اسلام میں زیادہ رغبت محسوس ہو رہی ہے۔

14766Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ قِيلَ لَهُ هَلَكَ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ قَالَ فَقُلْتُ لَا أَصِلُ إِلَى أَهْلِي حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمُوا أَنَّهُ هَلَكَ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ قَالَ كَلَّا أَبَا وَهْبٍ فَارْجِعْ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا رَاقِدٌ إِذْ جَاءَ السَّارِقُ فَأَخَذَ ثَوْبِي مِنْ تَحْتِ رَأْسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا سَرَقَ ثَوْبِي فَأَمَرَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا أَرَدْتُ هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ قَالَ فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ ان سے کسی نے کہہ دیا کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ ہلاک ہوگیا یہ سن کر میں نے کہا میں اس وقت تک اپنے گھر نہیں جاؤں گا جب تک پہلے نبی ﷺ سے نہ مل آؤں چناچہ میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جس شخص نے ہجرت نہیں کی وہ ہلاک ہوگیا نبی ﷺ نے فرمایا اے ابو وہب ایسی کوئی بات ہرگز نہیں ہے تم واپس مکہ کے بطحاء میں چلے جاؤ۔ ابھی میں مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ ایک چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑانکال لیا اور چلتا بنا میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ یہ کپڑا اس پر صدقہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ صدقہ کیا۔

14767Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى صَارَ وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے غزوہ حنین کے موقع پر مال غنیمت کا حصہ عطاء فرمایا قبل ازیں مجھے ان سے سب سے زیادہ بغض تھا لیکن آپ نے مجھ پر اتنی بخشش اور کرم نوازی فرمائی کہ وہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہوگئے۔

14768Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ مُرَقَّعٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ بُرْدَهُ فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْهُ قَالَ فَلَوْلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ يَا أَبَا وَهْبٍ فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ میں مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ ایک چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا نکال لیا اور چلتا بنا میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اسے معاف کرتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کردیا پھر نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔

14769Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ هَاجَرَ قَالَ فَقُلْتُ لَا أَدْخُلُ مَنْزِلِي حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا سَرَقَ خَمِيصَةً لِي لِرَجُلٍ مَعَهُ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَهُ قَالَ فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ هَاجَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ ان سے کسی نے کہہ دیا کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا یہ سن کر میں نے کہا میں اس وقت تک اپنے گھر نہیں جاؤں گا جب تک پہلے میں نبی ﷺ سے نہ مل لوں چناچہ میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جس شخص نے ہجرت نہیں کی وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا نبی ﷺ نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم نہیں رہا البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اس لئے جب تم سے نکلنے کے لئے کہا جائے تو تم نکل پڑو۔ پھر میں نے ایک آدمی کے متعلق عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کپڑا اس پر صدقہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ صدقہ کیا۔

14770Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ يَعْنِي النَّهْدِيَّ عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یا حالت نفاس میں مرجانا بھی شہادت ہے۔

14771Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ الطَّاعُونُ وَالْبَطْنُ وَالْغَرَقُ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ قَالَ سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا بِهِ يَعْنِي أَبَا عُثْمَانَ مِرَارًا وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یا حالت نفاس میں مرجانا بھی شہادت ہے۔

14772Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آخُذُ اللَّحْمَ عَنْ الْعَظْمِ بِيَدِي فَقَالَ يَا صَفْوَانُ قُلْتُ لَبَّيْكَ قَالَ قَرِّبْ اللَّحْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے ہاتھ سے ہڈی سے گوشت اتار کر کھارہا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا صفوان میں نے عرض کیا لبیک فرمایا گوشت کو اپنے منہ کے قریب لے کر جاؤ ( اور منہ سے نوچ کر کھاؤ) کیونکہ یہ زیادہ خوشگوار اور زود ہضم ہے۔

14773Musnad Imam Ahmad

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ قَرْمٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي فَسُرِقَتْ فَأَخَذْنَا السَّارِقَ فَرَفَعْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي خَمِيصَةٍ ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا أَنَا أَهَبُهَا لَهُ أَوْ أَبِيعُهَا لَهُ قَالَ فَهَلَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ میں مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ ایک چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا نکال لیا اور چلتا بنا میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا تیس درہم کی چادر کے بدلے میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا یہ میں اسے ہبہ کرتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ صدقہ کردیا۔