عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 1 of 82

1741Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُذْهِبِ الْوَاعِظُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ وَمُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔

1742Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَجْلَحُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی ﷺ نے فرمایا کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو جو اللہ تنہا چاہے۔

1743Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے حکمت و دانائی کی دعاء فرمائی۔

1744Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ وَأَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ اسْقُونِي فَقَالُوا إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنْ الْبَيْتِ فَقَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ ﷺ کے پاس تھی، پھر آپ ﷺ کنوئیں پر تشریف لائے اور فرمایا مجھے پانی پلاؤ، لوگوں نے کہا کہ اس کنوئیں میں تو لوگ گھستے ہیں، ہم آپ کے لئے بیت اللہ سے پانی لے کر آتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے اسی جگہ سے پانی پلاؤ جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔

1745Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سنی سنائی خبر عینی مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتی۔

1746Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ قَالَ فَأَخَذَ بِذُؤَابَةٍ كَانَتْ لِي أَوْ بِرَأْسِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث ؓ کے یہاں رات کو رک گیا، اس دن نبی ﷺ رات کو ان ہی کے یہاں تھے، رات کو آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے میرے بالوں کی ایک لٹ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔

1747Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ إِنَّهُ زَوْجُكِ فَقَالَتْ تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ قَالَ فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت بریرہ ؓ کو خیار عتق مل گیا ( اور اس کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر مغیث سے علیحدگی اختیار کرلی) تو میں نے اس کے شوہر کو دیکھا کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، لوگوں نے حضرت عباس ؓ سے اس سلسلے میں نبی ﷺ سے بات کرنے کے لئے کہا، چناچہ نبی ﷺ نے حضرت بریرہ ؓ سے کہا کہ وہ تمہارا شوہر ہے، حضرت بریرہ ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کا حکم دے رہے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں اور انہیں اختیار دے دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا، حضرت بریرہ ؓ کا شوہر آل مغیرہ کا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا۔

1748Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟

1749Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی وصال کے وقت عمر مبارک ٦٥ برس تھی۔

1750Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الطَّعَامُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔

1751Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ وَإِذَا لَمْ يَجِدْ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔

1752Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔

1753Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

1754Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ هَلُمَّ الْقُطْ لِي فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ نَعَمْ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی صبح مجھ سے فرمایا ادھر آ کر میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی ﷺ نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ہاں! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

1755Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ مِنْ الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ سے سفر کیا، آپ ﷺ کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔

1756Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَسَبُّوا مَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کہ آیت قرآنی " ولاتجھر بصلاتک و لاتخافت بہا " جس وقت نازل ہوئی ہے، اس وقت آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں روپوش تھے، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے تو قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے کرتے تھے، جب مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچتی تو وہ خود قرآن کو، قرآن نازل کرنے والے کو اور قرآن لانے والے کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اتنی بلند آواز سے قرأت نہ کیا کریں کہ مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچے اور وہ قرآن ہی کو برا بھلا کہنا شروع کردیں اور اتنی پست آواز سے بھی تلاوت نہ کریں کہ آپ کے ساتھی اسے سن ہی نہ سکیں، بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کریں۔

1757Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالُوا هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ هَابِطٌ مِنْ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِالتَّلْبِيَةِ حَتَّى أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَاءَ فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَاءَ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ قَالَ هُشَيْمٌ يَعْنِي لِيفٌ وَهُوَ يُلَبِّي

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر وادی ازرق پر ہوا، نبی ﷺ نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ وادی ازرق ہے، نبی ﷺ نے فرمایا گویا ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ٹیلے سے اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بآواز بلند تلبیہ کہہ رہے ہیں، یہاں تک کہ نبی ﷺ " ثنیہ ہر شی " نامی جگہ پر پہنچ گئے اور فرمایا کہ یہ کون سا " ٹیلہ " ہے، لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام ثنیہ ہر شی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا یہاں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کو ایک سرخ، گھنگریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں، انہوں نے اون کا بنا ہوا جبہ زیب تن کر رکھا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے درخت کی چھال سے بٹی ہوئی رسی کی ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔

1758Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَصْحَابُنَا مِنْهُمْ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْعَرَ بَدَنَتَهُ مِنْ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دائیں جانب سے اپنی اونٹنی کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کردیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا۔

1759Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ الْأَسْدِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ وَقَالَ إِنَّا مُحْرِمُونَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ اسدی نے نبی ﷺ کی خدمت میں گورخر کی ٹانگ پیش کی، اس وقت نبی ﷺ احرام کی حالت میں تھے، نبی ﷺ نے وہ واپس لوٹا کر فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔

1760Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوِ ذَلِكَ فَجَعَلَ يَقُولُ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہوجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی ﷺ ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ کوئی حرج نہیں۔