حضرت صخرغامدی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا قَالَ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ
حضرت صخر غامدی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم ﷺ جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر ؓ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال و دولت کہاں رکھیں؟
حضرت صخرغامدی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ حَدِيدٍ رَجُلًا مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ سَمِعْتُ صَخْرًا الْغَامِدِيَّ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ لَهُ غِلْمَانٌ فَكَانَ يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ فَكَثُرَ مَالُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُهُ
حضرت صخر غامدی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم ﷺ جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر ؓ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال و دولت کہاں رکھیں؟
حضرت صخرغامدی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهَا أَوَّلَ النَّهَارِ وَكَانَ صَخْرٌ تَاجِرًا فَكَانَ لَا يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ إِلَّا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَكَثُرَ مَالُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُهُ
حضرت صخر غامدی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم ﷺ جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر ؓ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال و دولت کہاں رکھیں؟
حضرت صخرغامدی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمُوتُ فَقُلْتُ أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں حضرت جابر ؓ کے یہاں حاضر ہوا تو وہ قریب الوفات تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ کو میرا سلام کہہ دیجئے گا۔
حضرت صخرغامدی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ وَكَانَ ثِقَةً قَالَ وَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ فَقَالَ تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَسُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ فَقَالَ لَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِهَا
حضرت اسید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کسی نے اونٹنی کے دودھ کا حکم پوچھا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے پینے کے بعد وضو کیا کرو پھر بکری کے دودھ کا حکم پوچھا تو فرمایا اسے پینے کے بعد وضو مت کیا کرو۔
حضرت صخرغامدی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ الْبَوْلُ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الدَّمِ مَا لَمْ يَكُنْ قَدْرَ الدِّرْهَمِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
حماد کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک پیشاب خون کی طرح ہے کہ جب تک ایک درہم کے برابر نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔