حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 895 · 10 hadiths

21815Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنِي أَبُو نَهِيكٍ حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً فَأَتَيْتُهُ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَكَانَتْ فِيهِ شَعَرَةٌ فَأَخَذْتُهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ قَالَ فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ لَيْسَ فِي لِحْيَتِهِ شَعَرَةٌ بَيْضَاءُ

حضرت ابو زید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے پانی طلب کیا میں ایک پیالے میں پانی لے کر حاضر ہوا اس میں ایک بال تھا جسے میں نے نکال لیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ! اسے جمال عطاء فرما راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو زید ؓ کو ٩٤ سال کی عمر میں دیکھا تو ان کی داڑھی میں ایک بال بھی سفید نہ تھا۔

21816Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَهِيكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا زَيْدٍ عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ قَالَ رَأَيْتُ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَجُلٍ قَالَ بِإِصْبَعِهِ الثَّلَاثَةِ هَكَذَا فَمَسَحْتُهُ بِيَدِي

حضرت ابو زید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے اور اسے اپنے ہاتھ سے چھو کر بھی دیکھا ہے۔

21817Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ شَقِيقٍ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَهِيكٍ الْأَزْدِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ قَالَ اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَفِيهِ شَعْرَةٌ فَرَفَعْتُهَا ثُمَّ نَاوَلْتُهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ قَالَ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ سَنَةً وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ شَعَرَةٌ بَيْضَاءُ

حضرت ابو زید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے پانی طلب کیا میں ایک پیالے میں پانی لے کر حاضر ہوا اس میں ایک بال تھا جسے میں نے نکال لیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ! اسے جمال عطاء فرما راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو زید ؓ کو ٩٤ سال کی عمر میں دیکھا تو ان کی داڑھی میں ایک بال بھی سفید نہ تھا۔

21818Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ حُوَيَصٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زَيْدٍ يَقُولُ قَاتَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَالَ شُعْبَةُ وَهُوَ جَدُّ عَزْرَةَ هَذَا

حضرت ابو زید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تیرہ مرتبہ غزوات میں شرکت کی ہے۔

21819Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ الْفَسَاطِيطِيُّ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ غَيْرَهُ قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدِ بْنُ أَخْطَبَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَّلَكَ اللَّهُ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ رَجُلًا جَمِيلًا حَسَنَ السَّمْتِ

حضرت ابو زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا اللہ! تمہیں جمال عطاء کرے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو زید ؓ حسین و جمیل اور عمدہ بالوں والے آدمی تھے۔

21820Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ خَالِدٌ أَحْسِبُهُ عَمْرَو بْنَ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ دُورِ الْأَنْصَارِ فَوَجَدَ قُتَارًا فَقَالَ مَنْ صَنَعَ هَذَا أَوْ كَمَا قَالَ شَكَّ إِسْمَاعِيلُ فَخَرَجَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ كَرِيهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي قَالَ فَأَعِدْ قَالَ وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنْ الضَّأْنِ قَالَ فَاذْبَحْهُ وَلَا يُجْزِئُ جَذَعٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابو زید ؓ سے مروی ہے کہ (عیدالاضحی کے دن) نبی کریم ﷺ ہمارے گھروں کے درمیان سے گذر رہے تھے کہ آپ ﷺ کو گوشت بھونے جانے کی خوشبو محسوس ہوئی نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ یہ کس نے جانور ذبح کیا ہے؟ ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ اس دن کھانا ایک مجبوری ہوتا ہے سو میں نے اپنا جانور ذبح کرلیا تاکہ خود بھی کھاؤں اور اپنے ہمسایوں کو بھی کھلاؤں نبی کریم ﷺ نے فرمایا قربانی دوبارہ کرو اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں میرے پاس تو بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے یا حمل ہے اس نے یہ جملہ تین مرتبہ کہا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اسی کو ذبح کرلو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کی طرف کفایت نہیں کرسکے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21821Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتْ الظُّهْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتْ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا

حضرت ابو زید انصاری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا پھر نیچے اتر کر نماز عصر پڑھی اور پھر منبر پر بیٹھ گئے اور غروب شمس تک خطبہ دیا اور اس دوران ماضی کے واقعات اور مستقبل کی تمام پیشین گوئیاں بیان فرما دیں ہم میں سے سب سے بڑا عالم وہ تھا جسے وہ خطبہ سب سے زیادہ ہوتا تھا۔

21822Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا زَيْدٍ ادْنُ مِنِّي وَامْسَحْ ظَهْرِي وَكَشَفَ ظَهْرَهُ فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ وَجَعَلْتُ الْخَاتَمَ بَيْنَ أَصَابِعِي قَالَ فَغَمَزْتُهَا قَالَ فَقِيلَ وَمَا الْخَاتَمُ قَالَ شَعَرٌ مُجْتَمِعٌ عَلَى كَتِفِهِ

حضرت ابو زید انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا میرے قریب آؤ میں قریب ہوا تو فرمایا اپنے ہاتھ کو ڈال کر میری کمر کو چھو کر دیکھو چناچہ میں نے نبی کریم ﷺ کی قمیص میں ہاتھ ڈال کر پشت مبارک پر ہاتھ پھیرا تو مہر نبوت میری دو انگلیوں کے درمیان آگئی جو بالوں کا ایک گچھا تھی۔

21823Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ وَجْهَهُ وَدَعَا لَهُ بِالْجَمَالِ قَالَ و أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّهُ بَلَغَ بِضْعًا وَمِائَةَ سَنَةٍ أَسْوَدَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ إِلَّا نُبَذُ شَعَرٍ بِيضٌ فِي رَأْسِهِ

حضرت ابو زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ اسے حسن و جمال عطاء فرمایا اس کے حسن کو دوام عطاء فرما راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو زید ؓ کی عمر سو سال سے بھی اوپر ہوئی لیکن ان کے سر اور داڑھی میں چند بال ہی سفید تھے۔

21824Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوزید عمروبن اخطب کی حدیثیں

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ وَقَالَ فِيهِ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ

حضرت ابو زید ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردیئے جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا نبی کریم ﷺ نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کر کے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔