بنی سلیط کے ایک شیخ کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 903 · 5 hadiths

22133Musnad Imam Ahmad

بنی سلیط کے ایک شیخ کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَنَّ شَيْخًا مِنْ بَنِي سَلِيطٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُكَلِّمُهُ فِي شَيْءٍ أُصِيبَ لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَعَلَيْهِ حَلْقَةٌ قَدْ أَطَافَتْ بِهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ عَلَيْهِ إِزَارُ قُطْنٍ لَهُ غَلِيظٌ فَأَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ يُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا يَقُولُ أَيْ فِي الْقَلْبِ

بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی نبی کریم ﷺ اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔

22134Musnad Imam Ahmad

بنی سلیط کے ایک شیخ کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى عَنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَعْرَابِيٌّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا قُلْتُ مَا لَهُمْ قَالَ أَشِحَّةٌ نَحِرَةٌ وَإِنْ طَالَ بِكَ عُمْرٌ لَتَنْظُرَنَّ إِلَيْهِمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ إِلَى هَذَا مَرَّةً وَإِلَى هَذَا مَرَّةً

ایک دیہاتی صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ کیا مطلب؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان ایسے پاؤ گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر۔

22135Musnad Imam Ahmad

بنی سلیط کے ایک شیخ کی حدیثیں

حَدَّثَنَا الزُبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ أَوْ عُمَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي زَوْجُ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي لَهَبٍ فَقَالَ هَلْ مِنْ لَهْوٍ

بنت ابولہب کے شوہر کہتے ہیں کہ جب میں نے ابولہب کی بیٹی سے نکاح کیا تو نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تفریح کا کوئی سامان ہے؟

22136Musnad Imam Ahmad

بنی سلیط کے ایک شیخ کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا حَيَّةُ التَّمِيمِيُّ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ وَأَصْدَقُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ

حیہ تمیمی (رح) کے والد کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مردے کی کھوپڑی میں کسی چیز کے ہونے کی کوئی حقیقت نہیں نظر لگ جانا برحق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے۔

22137Musnad Imam Ahmad

بنی سلیط کے ایک شیخ کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ قَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ جا کر دوبارہ وضو کرو دو مرتبہ یہ حکم دیا اور وہ ہر مرتبہ وضو کر کے آگیا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ کیا بات ہے کہ پہلے آپ نے اسے وضو کا حکم دیا پھر خاموش ہوگئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا۔