حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 35 · 18 hadiths

14774Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَبِيعُهُ ثُمَّ أَبِيعُهُ مِنْ السُّوقِ فَقَالَ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ

حضرت حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا ہے یا رسول اللہ میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہوتی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔

14775Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبِيعُهُ قَالَ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے دست حق پرست پر اس شرط سے بیعت کی تھی کہ میں ساری رات خراٹے لے کر نہیں گذاروں گا بلکہ قیام کروں گا۔ حضرت حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا ہے یا رسول اللہ میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہوتی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔

14776Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ سِلْعَةً لَيْسَتْ عِنْدِي

حضرت حکیم سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے اس بات سے منع فرمایا ہے جو چیز میرے پاس نہیں ہے اسے فروخت کروں۔

14777Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا رُزِقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوجائیں اور اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کردیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہوگی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کردی جائے گی۔

14778Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُطْلَبُ مِنِّي الْمَتَاعُ وَلَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبِيعُهُ لَهُ قَالَ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ

حضرت حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہوتی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔

14779Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ رَجُلٍ أَنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَصْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْتَرِي بُيُوعًا فَمَا يَحِلُّ لِي مِنْهَا وَمَا يُحَرَّمُ عَلَيَّ قَالَ فَإِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ یا رسول اللہ میں خریدو فروخت کرتا رہتا ہوں اس میں میرے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب کوئی چیز خریدا کرو تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کرو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلو۔

14780Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

حضرت حکیم سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری باقی رکھ کر کیا جائے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں۔

14781Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ بہت سے وہ کام جو میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلا غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ تو کیا مجھے ان کا اجر ملے گا نبی ﷺ نے فرمایا زمانہ جاہلیت سے قبل از نیکی کے جتنے بھی کام کئے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ان کا اجر وثواب تمہیں ضرور ملے گا۔

14782Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ بہت سے وہ کام جو میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلا غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ تو کیا مجھے ان کا اجر ملے گا نبی ﷺ نے فرمایا زمانہ جاہلیت سے قبل نیکی کے جتنے بھی کام کئے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ان کا اجر وثواب تمہیں ضرور ملے گا۔

14783Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّدَقَاتِ أَيُّهَا أَفْضَلُ قَالَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے نبی ﷺ نے فرمایا جو قریبی ضرورت مند رشتہ دار پر ہو۔

14784Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَالِ فَأَلْحَفْتُ فَقَالَ يَا حَكِيمُ مَا أَكْثَرَ مَسْأَلَتَكَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّمَا هُوَ مَعَ ذَلِكَ أَوْسَاخُ أَيْدِي النَّاسِ وَيَدُ اللَّهِ فَوْقَ يَدِ الْمُعْطِي وَيَدُ الْمُعْطِي فَوْقَ يَدِ الْمُعْطَى وَأَسْفَلُ الْأَيْدِي يَدُ الْمُعْطَى

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے کچھ مال کی درخواست کی اور کئی مرتبہ کی نبی ﷺ نے فرمایا حکیم مجھے تمہاری درخواست پر تمہیں دینے میں کوئی انکار نہیں ہے لیکن حکیم یہ مال سرسبز شیریں ہوتا ہے نیز اس کے ساتھ لوگوں کے ہاتھوں کا میل بھی ہوتا ہے اللہ کا ہاتھ دینے والے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے اوپر ہوتا ہے اور سب سے نچلا ہاتھ لینے والے کا ہوتا ہے۔

14785Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوجائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کردیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہوگی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کردی جائے گی۔

14786Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ رَجُلٍ فِي النَّاسِ إِلَيَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ وَهُوَ كَافِرٌ فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنَ تُبَاعُ فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً فَأَبَى قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ زمانہ جاہلیت میں بھی مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے جب آپ نے اعلان نبوت فرمایا اور مدینہ منورہ چلے گئے تو ایک مرتبہ حکیم موسم حج میں جبکہ وہ کافر ہی تھے شریک ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ذی یزن کا ایک قیمتی جوڑا فروخت ہو رہا ہے انہوں نے اسے نبی ﷺ کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کے لئے پچاس دینار میں خرید لیا اور وہ لے کر مدینہ منورہ پہنچتے تو انہوں نے چاہا کہ نبی ﷺ اسے وصول کریں لیکن نبی ﷺ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ ہم مشرکین کی کوئی چیز قبول نہیں کرتے البتہ اگر تم چاہتے ہو تو ہم سے قیمت لے لو جب نبی ﷺ نے مجھ سے وہ جوڑا ہدیتہ لینے سے انکار کردیا تو میں نے قیمتا ہی وہ آپ کو دیدیا۔

14787Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي الْخِيَارُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوجائیں عبداللہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد صاحب کی کتاب میں یہ اضافہ بھی پایا ہے کہ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کردیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہوگی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کردی جائے گی۔

14788Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوجائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کردیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہوگی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کردی جائے گی۔

14789Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں اور جو شخص استغناء کرتا ہے اللہ اسے مستغنی کردیتا ہے۔ اور جو بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچالیتا ہے۔

14790Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا قَالَ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ مُحِقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مِثْلِهِ قَالَ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوجائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کردیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہوگی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کردی جائے گی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

14791Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ مَوْهَبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يَأْتِنِي أَوَلَمْ يَبْلُغْنِي أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّكَ تَبِيعُ الطَّعَامَ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَبِعْ طَعَامًا حَتَّى تَشْتَرِيَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ قَالَ عَطَاءٌ وَأَخْبَرَنِي أَيْضًا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَصْمَةَ الْجُشَمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا ایسا نہیں ہے کہ جیسے مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم غلے کی خریدو فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ نبی ﷺ نے فرمایا جب غلہ خریدا کرو تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کرو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔