حضرت ذی مخمر (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 915 · 2 hadiths

22383Musnad Imam Ahmad

حضرت ذی مخمر (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا ثُمَّ تَغْزُوهُمْ غَزْوًا فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُونَ بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبًا فَيَقُولُ غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَغْدُرُ الرُّومُ وَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتُقِيمُونَ ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ

حضرت ذومخمر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤ گے جب تم " ذی تلول " نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا وہیں سے رومی اسے جواب دے گا وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے۔

22384Musnad Imam Ahmad

حضرت ذی مخمر (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ قَالَ يَا شَعْبِيُّ وَلَهَا سَبْعَةُ أَنْفُسٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الْجَزُورَ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِرَجُلٍ أَكَذَاكَ يَا فُلَانُ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا شَعَرْتَ بِهَذَا

امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا ایک اونٹ اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہوسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا شعبی! کیا اس کی سات جانیں ہوتی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ دیگر صحابہ کرام ؓ تو یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے اور ایک اونٹ مقرر فرمایا ہے اس پر حضرت ابن عمر ؓ نے ایک آدمی سے پوچھا اے فلاں! کیا بات اسی طرح ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا مجھے اس کا پتہ نہیں چل سکا۔