حضرت مالک بن نضلہ کی حدیثیں۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 189 · 5 hadiths

15325Musnad Imam Ahmad

حضرت مالک بن نضلہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ أَطْمَارٌ فَقَالَ هَلْ لَكَ مَالٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مِنْ أَيِّ الْمَالِ قُلْتُ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الشَّاءِ وَالْإِبِلِ قَالَ فَلْتُرَ نِعَمُ اللَّهِ وَكَرَامَتُهُ عَلَيْكَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِفُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مَالٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مِنْ أَيِّ الْمَالِ قَالَ قُلْتُ مِنْ كُلِّ الْمَالِ مِنْ الْإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْخَيْلِ وَالْغَنَمِ فَقَالَ إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ ثُمَّ قَالَ هَلْ تُنْتِجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا فَتَعْمَدُ إِلَى مُوسَى فَتَقْطَعُ آذَانَهَا فَتَقُولُ هَذِهِ بُحُرٌ وَتَشُقُّهَا أَوْ تَشُقُّ جُلُودَهَا وَتَقُولُ هَذِهِ صُرُمٌ وَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ وَرُبَّمَا قَالَ سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يُكْرِمْنِي وَلَمْ يَقْرِنِي ثُمَّ نَزَلَ بِي أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ أَمْ أَقْرِيهِ قَالَ اقْرِهِ

حضرت مالک بن نضلہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے پراگندہ حال دیکھا تو پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلابکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔

15326Musnad Imam Ahmad

حضرت مالک بن نضلہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْإِبِلِ وَمِنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ قَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ

حضرت مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے پراگندہ حال دیکھا تو پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہاری قوم میں کسی کے پاس یہاں اونٹ پیدا ہوتا ہے اس کے کان صحیح سالم ہوتے ہیں اور تم استرا پکڑ کر اس کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ بحر ہے کبھی ان کی کھال چھیل ڈالتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ صرم ہے اور کبھی انہیں اپنے اہل خانہ پر حرام قرار دیتے ہو انہوں نے عرض کیا ایساہی ہے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے تم کو جو کچھ عطا فرما رکھا ہے وہ سب حلال ہے اللہ کا بازو زیادہ طاقت ور ہے اور اللہ کا استرا زیادہ تیز ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ اگر میں کسی شخص کے ہاں مہمان جاؤ اور وہ میرا اکرام کرے اور نہ ہی مہمان نوازی پھر وہی شخص میرے یہاں مہمان بن کر آئے تو میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا میں اس کی مہمان نوازی کروں نبی ﷺ نے فرمایا تم اس کی مہمان نوازی کرو۔

15327Musnad Imam Ahmad

حضرت مالک بن نضلہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِكَ

حضرت مالک بن نضلہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاتھوں کے تین مرتبے ہیں اللہ کا ہاتھ سب سے اوپر ہوتا ہے اور اس کے نیچے دینے والے کا ہاتھ ہوتا ہے اور مانگنے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے اس لئے تم زائد چیزوں کودے دیا کرو اور اپنے آپ سے عاجز نہ ہوجاؤ۔

15328Musnad Imam Ahmad

حضرت مالک بن نضلہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِيفُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مَالٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَمَا مَالُكَ فَقَالَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ مِنْ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ قَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ فَقَالَ هَلْ تُنْتِجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى فَتَقْطَعُهَا أَوْ تَقْطَعُهَا وَتَقُولُ هَذِهِ بُحُرٌ وَتَشُقُّ جُلُودَهَا وَتَقُولُ هَذِهِ صُرُمٌ فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ كُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ حِلٌّ وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ وَرُبَّمَا قَالَهَا وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهَا وَرُبَّمَا قَالَ سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يَقْرِنِي وَلَمْ يُكْرِمْنِي ثُمَّ نَزَلَ بِي أَقْرِيهِ أَوْ أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ قَالَ بَلْ اقْرِهِ

حضرت مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے پراگندہ حال دیکھا تو پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہاری قوم میں کسی کے پاس یہاں اونٹ پیدا ہوتا ہے اس کے کان صحیح سالم ہوتے ہیں اور تم استرا پکڑ کر اس کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ بحر ہے کبھی ان کی کھال چھیل ڈالتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ صرم ہے اور کبھی انہیں اپنے اہل خانہ پر حرام قرار دیتے ہو انہوں نے عرض کیا ایساہی ہے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے تم کو جو کچھ عطا فرما رکھا ہے وہ سب حلال ہے اللہ کا بازو زیادہ طاقت ور ہے اور اللہ کا استرا زیادہ تیز ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ اگر میں کسی شخص کے ہاں مہمان جاؤ اور وہ میرا اکرام کرے اور نہ ہی مہمان نوازی پھر وہی شخص میرے یہاں مہمان بن کر آئے تو میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا میں اس کی مہمان نوازی کروں نبی ﷺ نے فرمایا تم اس کی مہمان نوازی کرو۔

15329Musnad Imam Ahmad

حضرت مالک بن نضلہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَشْعَثُ سَيِّئُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا لَكَ مَالٌ قَالَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ

حضرت مالک بن مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے پراگندہ حال دیکھاتوپوچھا کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔