حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا تھا دوسرے راوی کے مطابق تعبیر یہ ہے کہ مرد اور اس کے گھوڑے کے تین حصے مقرر فرمائے تھے جن میں سے ایک حصہ مرد کا اور دو حصے گھوڑے کے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ ابْنَ عُمَرَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ كُلَّ يَوْمِ أَرْبِعَاءَ فَأَتَى ذَلِكَ عَلَى يَوْمِ أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو حضرت ابن عمر کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھتے ہوئے دیکھا کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں ہر بدھ کو روزہ رکھا کروں اب اگر بدھ کے دن عیدالاضحی یا عیدالفطر آجائے تو کیا کروں؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے منت پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ كُلِّفَ أَنْ يُتِمَّ عِتْقَهُ بِقِيمَةِ عَدْلٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کردیتا ہے تو اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ عادل آدمیوں کی مقرر کردہ قیمت کے مطابق اس غلام کو مکمل آزاد کرے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى جَمْعٍ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَمَضَى ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ كَمَا فَعَلْتُ
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی کے وقت ہم لوگ حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ تھے انہوں نے مغرب کی نماز مکمل پڑھائی پھر الصلوۃ " کہہ کر (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھائیں اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اس جگہ اسی طرح کیا تھا جیسے میں نے کیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبَا هُرَيْرَةَ انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو هُرَيْرَةَ حَتَّى انْطَلَقَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَشْغَلُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرْسُ الْوَدِيِّ وَلَا صَفْقٌ بِالْأَسْوَاقِ إِنِّي إِنَّمَا كُنْتُ أَطْلُبُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً يُعَلِّمُنِيهَا وَأُكْلَةً يُطْعِمُنِيهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَنَا بِحَدِيثِهِ
ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ کا حضرت ابوہریرہ ؓ کے پاس سے گذر ہوا اس وقت وہ نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور اگر وہ دفن کے موقع پر بھی شریک رہا تو اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط جبل احد سے بڑا ہوگا یہ سن کر حضرت ابن عمر ؓ کہنے لگے ابوہریرہ! غور کرلیجئے کہ آپ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے کیا بیان کر رہے ہیں اس پر حضرت ابوہریرہ ؓ کھڑے ہوئے اور انہیں لے کر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے عرض کیا اے ام المومنین میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور اگر وہ دفن کے موقع پر بھی شریک رہا تو اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا؟ انہوں نے فرمایا بخدا! ہاں۔ اس کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کھجور کے پودے گاڑنا یا بازاروں میں معاملات کرنا مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ہونے کا سبب نہیں بنتا تھا (کیونکہ میں یہ کام کرتا ہی نہیں تھا) میں تو نبی کریم ﷺ سے دو چیزوں کو طلب کیا کرتا تھا ایک وہ بات جو آپ ﷺ مجھے سکھاتے تھے اور دوسرا وہ لقمہ جو آپ ﷺ مجھے کھلاتے تھے حضرت ابن عمر ؓ فرمانے لگے کہ ابوہریرہ ؓ ہم سے زیادہ آپ نبی کریم ﷺ کے ساتھ چمٹے رہتے تھے اور ان کی حدیث کے ہم سے بڑے عالم ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَوْنٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ يُحْرِمُ قَالَ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ و قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَقَاسَ النَّاسُ ذَاتَ عِرْقٍ بِقَرْنٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ انسان احرام کہاں سے باندھے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ اہل شام کے لئے جحفہ اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے ذات عرق کو قرن پر قیاس کرلیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَزَادَ فِيهَا ابْنُ عُمَرَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں۔ ابن عمر ؓ اس میں یہ اضافہ فرماتے تھے کہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں میں تیری خدمت میں آگیا ہوں ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے میں حاضر ہوں تمام رغبتیں اور عمل آپ ہی کے لئے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُلَبِّي
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض تلبیہ پڑھ رہے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَةً وَهِيَ بَارِكَةٌ فَقَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں میدان منیٰ میں حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا راستے میں ان کا گذر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے اپنی اونٹنی کو گھٹنوں کے بل بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنا چاہتا تھا حضرت ابن عمر ؓ نے اس سے فرمایا اسے کھڑا کر کے اس کے پاؤں باندھ لو اور پھر اسے ذبح کرو یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ثُمَّ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَعَلَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی کے وقت ہم لوگ حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ تھے انہوں نے مغرب کی نماز مکمل پڑھائی پھر الصلوۃ " کہہ کر (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھائیں اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اس جگہ اسی طرح کیا تھا جیسے میں نے کیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ قَالَ يَقْتُلُ الْعَقْرَبَ وَالْفُوَيْسِقَةَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے کسی نے سوال پوچھا کہ محرم کون سے جانور کو قتل کرسکتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو مار سکتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ مَا لِي لَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ أَفْعَلْ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا
عبید بن عمیر (رح) نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ میں آپ کو صرف ان دو رکنوں حجر اسود اور رکن یمانی ہی کا استلام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان دونوں کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ طَافَ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ
اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جو شخص گن کر طواف کے سات چکر لگائے اور اس کے بعد دوگانہ طواف پڑھ لے تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا رَفَعَ رَجُلٌ قَدَمًا وَلَا وَضَعَهَا إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ
اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک قدم بھی اٹھاتا یا رکھتا ہے اس پر اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں دس گناہ مٹائے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کئے جاتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فَلَا أَدَعُ اسْتِلَامَهُ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ وَابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَبِلَالٌ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ عَلَيْهِمْ الْبَابَ فَمَكَثَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ مِنْهُمْ بِلَالًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَاهُنَا بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم ﷺ کے ساتھ حضرت فضل بن عباس ؓ، اسامہ بن زید ؓ عنہ، عثمان بن طلحہ ؓ اور حضرت بلال ؓ تھے نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت بلال ؓ نے دروازہ بند کردیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے پھر نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال ؓ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقَرْعِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِمَا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کدو یا لکڑی کو کھوکھلا کر کے اس میں نبیذ بنانے ( اور اسے پینے) سے منع فرمایا ہے۔