حضرت بلال بن حارث مزنی کی حدیثیں۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 176 · 3 hadiths

15293Musnad Imam Ahmad

حضرت بلال بن حارث مزنی کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَقُولُ كَمْ مِنْ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِيهِ حَدِيثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ

حضرت بلال بن حارث سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اوقات انسان اللہ کی رضامندی کا کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے کہ جس کے متعلق اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے لیکن اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے قیامت تک رضامندی کا پروانہ لکھ دیتا ہے اور بعض اوقات انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے جس کے متعلق اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کی کیا حثیت ہوگی لیکن اللہ اس کی وجہ سے اس کے لئے قیامت تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔ راوی حدیث علقمہ کہتے ہیں کہ کتنی ہی باتیں جنہیں کرنے سے مجھے حضرت بلال کی یہ حدیث روک دیتی ہے۔

15294Musnad Imam Ahmad

حضرت بلال بن حارث مزنی کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً قَالَ بَلْ لَنَا خَاصَّةً

حضرت بلال بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ حج کا فسخ ہونا ہمارے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ ہمارے ساتھ خاص ہے۔

15295Musnad Imam Ahmad

حضرت بلال بن حارث مزنی کی حدیثیں۔

حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مُتْعَةَ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَقَالَ لَا بَلْ لَنَا خَاصَّةً

حضرت بلال بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ حج تمتع کا یہ طریقہ ہمارے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ ہمارے ساتھ خاص ہے۔