حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 82 · 8 hadiths

14930Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنْ السَّلَامِ قَالَ فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ فَوُضِعَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ نَاوَلَهُ أَوْ قَالَ نَاوَلُوهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ وَوَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ ثُمَّ أَصَابَ مِنْ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَيْسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْكَبْ فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ قَالَ فَانْصَرَفْتُ

حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اور باہر سے سلام کیا حضرت سعد میرے والد نے آہستہ سے جواب دیا اس پر نبی ﷺ واپس جانے لگے تو حضرت سعد نبی ﷺ کے پیچھے بھاگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ میں نے آپ کا سلام سنلیا تھا اور جواب بھی دیا تھا لیکن آہستہ آواز سے تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ ہمارے لئے سلامتی کی دعا کریں۔ پھر نبی ﷺ حضرت سعد کے ساتھ واپس آگئے حضرت سعد نے غسل کا پانی رکھنے کا حکم دیا نبی ﷺ نے غسل کیا پھر فرمایا لحاف لاؤ اس لحاف کو زعفران اور ورس سے رنگا گیا تھا نبی ﷺ نے وہ اوڑھ لیا اور ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی کے اے اللہ آل سعد بن عبادہ پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما اس کے بعد کچھ کھانا تناول فرمایا واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت سعد ایک گدھا لے کر آئے جس پر انہوں نے چادر ڈال رکھی تھی نبی ﷺ اس پر سوار ہوئے تو والد صاحب نے مجھ سے کہا قیس تم نبی ﷺ کے ساتھ جاؤ نبی ﷺ نے مجھے اپنے ساتھ سوار ہونے کے لئے کہا لیکن میں نے ادبا انکار کردیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم یا تو سوار ہوجاؤ یا واپس چلے جاؤ چناچہ میں واپس آگیا۔

14931Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صِيَامُ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ صِيَامُ رَمَضَانَ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ

حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی ﷺ نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا جب ماہ رمضان کے روزے رکھنے کا حکم نازل ہوا تو نبی ﷺ نے ہمیں عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا البتہ ہم خود ہی رکھتے رہے۔

14932Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ فَأَخَّرَ عَنْ السَّرْجِ وَقَالَ ارْكَبْ فَأَبَى وَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا فَقَالَ لَهُ حَبِيبٌ إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ

حبیب بن سلمہ فتنہ اولی کے زمان میں حضرت قیس بن سعد کے پاس اپنے گھوڑے پر سوار آئے اور زین سے پیچھے ہٹ کر کہا اس پر سوار ہوجا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سواری کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے حبیب کہنے لگے کہ نبی ﷺ کے اس ارشاد سے میں ناواقف نہیں ہوں البتہ مجھے آپ کے متعلق خطرہ محسوس ہورہا تھا۔

14933Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلَّا شَيْئًا وَاحِدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَالَ جَابِرٌ هُوَ اللَّعِبُ

حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں جو چیز بھی پائی جاتی تھی وہ میں اب بھی دیکھتاہوں سوائے ایک چیز کے اور وہ یہ کہ عیدالفطر کے دن نبی ﷺ کے لئے تفریح مہیا کی جاتی ہے۔

14934Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ يُحَدِّثُ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْدُمُهُ فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ قَالَ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد نبی ﷺ کی خدمت کے لئے مجھے بھیجا نبی ﷺ تشریف لائے تو اس وقت میں دو رکعتیں پڑھ چکا تھا نبی ﷺ نے میرے پاؤں پر ٹھوکر ماری اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں جنت کے ایک دروازے کا پتہ نہ بتاؤ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی ﷺ نے فرمایا وہ دروازہ لاحول ولاقوۃ الابا اللہ ہے۔

14935Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ فَإِنَّهَا ثُلُثُ خَمْرِ الْعَالَمِ

حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے رب نے مجھ پر شراب شطرنج اور آلات موسیقی کو حرام قرار دے دیا ہے چینے کی شراب کو اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ ساری دنیا کی شراب کا ایک ثلث ہے۔

14936Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِيهِ ابْنُ هُبَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا مِنْ حِمْيَرَ يُحَدِّثُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ عَلَى مِصْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ كِذْبَةً مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَضْجَعًا مِنْ النَّارِ أَوْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ

حضرت قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔

14937Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔

سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ أَتَى عَطْشَانًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا فَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ قَالَ هَذَا الشَّيْخُ ثُمَّ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ مِثْلَهُ فَلَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي بَيْتٍ أَوْ مَضْجَعٍ

حضرت قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں شراب پیتا ہے وہ قیامت کے دن پیاسا ہو کر آئے گا یاد رکھوہرنشہ آور چیز شراب ہے اور چینے کی شراب کو اپنے آپ سے بچاؤ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔