حضرت محمد بن حاطب (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 563 · 6 hadiths

17564Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن حاطب (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ تَنَاوَلْتُ قِدْرًا لِأُمِّي فَاحْتَرَقَتْ يَدِي فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ يَدِي وَلَا أَدْرِي مَا يَقُولُ أَنَا أَصْغَرُ مِنْ ذَاكَ فَسَأَلْتُ أُمِّي فَقَالَتْ كَانَ يَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ

حضرت محمد بن حاطب ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہاتھ پر ایک ہانڈی گرگئی میری والدہ مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئیں اس وقت نبی کریم ﷺ کسی خاص جگہ پر تھے نبی کریم ﷺ نے میرے لئے دعاء فرمائی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما اور شاید یہ بھی فرمایا کہ تو اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ شفاء دینے والا تو ہی ہے نبی کریم نے اس کے بعد مجھ پر اپنا لعاب دہن لگایا۔

17565Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن حاطب (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ دَنَوْتُ إِلَى قِدْرٍ لَنَا فَاحْتَرَقَتْ يَدِي قَالَ إِبْرَاهِيمُ أَوْ قَالَ فَوَرِمَتْ قَالَ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ وَجَعَلَ يَنْفُثُ فَسَأَلْتُ أُمِّي فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ مَنْ الرَّجُلُ فَقَالَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت محمد بن حاطب ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں پاؤں کے بل چلتا ہوا ہانڈی کے پاس پہنچ گیا وہ ابل رہی تھی میں نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ سوج گیا یا جل گیا میری والدہ مجھے ایک شخص کے پاس لے گئیں جو مقام بطحاء میں تھا اس نے کچھ پڑھا اور میرے ہاتھ پر تھتکار دیا حضرت عثمان غنی ؓ کے دور خلافت میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا؟ انہوں نے بتایا کہ وہ نبی کریم ﷺ تھے۔

17566Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن حاطب (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَرْضًا ذَاتَ نَخْلٍ فَاخْرُجُوا فَخَرَجَ حَاطِبٌ وَجَعْفَرٌ فِي الْبَحْرِ قِبَلَ النَّجَاشِيِّ قَالَ فَوُلِدْتُ أَنَا فِي تِلْكَ السَّفِينَةِ

ابومالک اشجعی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں محمد بن حاطب ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے خواب میں کھجوروں والا ایک علاقہ دیکھا ہے لہٰذا تم اس کی طرف ہجرت کر جاؤ چناچہ حاطب ؓ (میرے والد) اور حضرت جعفر ؓ سمندری راستے کے ذریعے نجاشی کی طرف روانہ ہوگئے میں اسی سفر میں کشتی میں پیدا ہوا تھا۔

17567Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن حاطب (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ وَضَرْبُ الدُّفِّ

حضرت محمد بن حاطب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا حلال و حرام کے درمیان فرق دف بجانے اور نکاح کی تشہیر کرنے سے ہوتا ہے۔

17568Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن حاطب (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ إِنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَيْنِ لَمْ يُضْرَبْ عَلَيَّ بِدُفٍّ قَالَ بِئْسَمَا صَنَعْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْبَ بِالدُّفِّ

حضرت محمد بن حاطب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا حلال و حرام کے درمیان فرق دف بجانے اور نکاح کی تشہیر کرنے سے ہوتا ہے۔

17569Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن حاطب (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ وَقَعَتْ الْقِدْرُ عَلَى يَدِي فَاحْتَرَقَتْ يَدِي فَانْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَتْفُلُ فِيهَا وَيَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَاشْفِهِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي

حضرت محمد بن حاطب ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہاتھ پر ایک ہانڈی گرگئی میری والدہ مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئیں اس وقت نبی کریم ﷺ کسی خاص جگہ پر تھے نبی کریم ﷺ نے میرے لئے دعاء فرمائی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما اور شاید یہ بھی فرمایا کہ تو اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ شفاء دینے والا تو ہی ہے نبی کریم نے اس کے بعد مجھ پر اپنا لعاب دہن لگایا۔