حضرت محمد بن مسلمہ الانصاری رضی اللہ عنہ

Musnad Imam Ahmad · Chapter 531 · 6 hadiths

17298Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن مسلمہ الانصاری رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمِّهِ قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ يُرِيدُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ بُثَيْنَةَ ابْنَةَ الضَّحَّاكِ يُرِيدُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا فَقُلْتُ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفْعَلُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ بُثَيْنَةَ ابْنَةَ الضَّحَّاكِ أُخْتَ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ وَهِيَ عَلَى إِجَّارٍ لَهُمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

سہل بن ابی حثمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کو دیکھ رہے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ آپ نبی ﷺ کے صحابی ہیں، پھر بھی ایک نامحرم کو دیکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر اللہ کسی شخص کے دل میں کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجنے کا خیال پیدا کریں تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17299Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن مسلمہ الانصاری رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا شَيْئًا فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ فَقَالَ هَلْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ أَحَدٌ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ

قبیصہ بن ذؤیب ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے صحابہ کرام ؓ سے پوچھا کیا آپ میں سے کسی نے نبی ﷺ کو دادی کی وراثت کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ تو حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس فیصلے میں موجود تھا، جب نبی ﷺ نے اس کے لئے چھٹے حصے کا فیصلہ فرمایا تھا، حضرت صدیق اکبر ؓ نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کسی اور نے بھی یہ فیصلہ سنا تھا، اس پر حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کی تائید و تصدیق کی، چناچہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے دادی کو وراثت میں چھٹا حصہ دینے کا حکم جاری کردیا۔

17300Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن مسلمہ الانصاری رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ إِنَّ عَلِيًّا بَعَثَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ مَا خَلَّفَكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ دَفَعَ إِلَيَّ ابْنُ عَمِّكَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفًا فَقَالَ قَاتِلْ بِهِ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ فَإِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتُلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَاعْمَدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ فَاضْرِبْهُ بِهَا ثُمَّ الْزَمْ بَيْتَكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ قَالَ خَلُّوا عَنْهُ

حسن (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کو بلایا، جب وہ آئے تو حضرت علی ؓ نے ان سے پوچھا کہ تم امور سلطنت سے پیچھے کیوں ہٹ گئے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے تمہارے چچازاد بھائی یعنی نبی ﷺ نے ایک تلوار دی تھی اور فرمایا تھا کہ اس تلوار کے ساتھ دشمن سے قتال کرو، جب تم دیکھو کہ لوگ آپس میں ہی ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے ہیں تو تم یہ تلوار لے جا کر ایک چٹان پردے مارنا اور اپنے گھر میں بیٹھ جانا یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے جو فیصلہ کر دے یا کوئی گنہگار ہاتھ آجائے، حضرت علی ؓ نے یہ سن کر فرمایا انہیں چھوڑ دو۔

17301Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن مسلمہ الانصاری رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الرَّازِيَّ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ خَرَشَةَ قَالَ أَبِي وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ خَرَشَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ مَالِكٍ مِثْلَهُ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَلَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَحَدٌ إِلَّا مَالِكٌ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ جَاءَتْ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا أَعْلَمُ لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أَعْلَمُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لَهَا السُّدُسَ فَقَالَ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ أَوْ مَنْ يَعْلَمُ مَعَكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ

قبیصہ بن ذؤیب ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ کے پاس ایک دادی آئی اور وراثت میں اپنے حصے کے متعلق سوال کیا، حضرت صدیق اکبر ؓ نے صحابہ کرام ؓ سے پوچھا کیا آپ میں سے کسی نے نبی ﷺ کو دادی کی وراثت کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ تو حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس فیصلے میں موجود تھا، جب نبی ﷺ نے اس کے لئے چھٹے حصے کا فیصلہ فرمایا تھا، حضرت صدیق اکبر ؓ نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کسی اور نے بھی یہ فیصلہ سنا تھا، اس پر حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کی تائید و تصدیق کی، چناچہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے دادی کو وراثت میں چھٹا حصہ دینے کا حکم جاری کردیا۔

17302Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن مسلمہ الانصاری رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَذَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا

حضرت محمد بن مسلمہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر اللہ کسی شخص کے دل میں کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجنے کا خیال پیدا کریں تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

17303Musnad Imam Ahmad

حضرت محمد بن مسلمہ الانصاری رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ بَعَثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ دَخَلْتُ عَلَى فُلَانٍ نَسِيَ زِيَادٌ اسْمَهُ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَنَعُوا مَا صَنَعُوا فَمَا تَرَى فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ أَدْرَكْتَ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْفِتَنِ فَاعْمَدْ إِلَى أُحُدٍ فَاكْسِرْ بِهِ حَدَّ سَيْفِكَ ثُمَّ اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ قَالَ فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْكَ أَحَدٌ إِلَى الْبَيْتِ فَقُمْ إِلَى الْمَخْدَعِ فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْكَ الْمَخْدَعَ فَاجْثُ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَقُلْ بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ فَقَدْ كَسَرْتُ حَدَّ سَيْفِي وَقَعَدْتُ فِي بَيْتِي

ابو الاشعث صنعانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں یزید نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے پاس بھیجا، جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو فلاں صاحب جن کا نام راوی بھول گئے کے یہاں بھی حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم ﷺ نے وصیت کی تھی کہ اگر تم فتنوں کا زمانہ پاؤ تو احد پہاڑ پر جا کر اپنی تلوار کی دھار اس پردے مارو اور اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ، پھر اگر کوئی آدمی تمہارے گھر میں گھس آئے تو تم کوٹھڑی میں چلے جاؤ، اگر وہ وہاں بھی آجائے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک کر کہہ دو کہ میرا اور اپنا دونوں کا گناہ لے کر لوٹ جا، تاکہ تو جہنمیوں میں سے ہوجائے اور وہی ظالموں کا بدلہ ہے، لہذا میں نے اپنی تلوار کی دھار توڑ دی ہے اور اپنے گھر میں بیٹھ گیا ہوں۔