حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 830 · 44 hadiths · Page 1 of 3

20707Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً مِنْهُنَّ النَّجْمُ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ قرآن کریم میں گیارہ سجدے کئے ہیں جن میں سورت نجم کی آیت سجدہ بھی شامل ہے۔

20708Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ اپنے اور اپنے باپ کے نام سے پکارے جاؤ گے لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔

20709Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ قَالَ و حَدَّثَنَاه أَبُو الْيَمَانِ لَمْ يَرْفَعْهُ وَرَفَعَهُ الْقُرْقُسَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بہرا کردیتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20710Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ضَمْرَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان کی سمجھداری کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے معاشی معاملات میں میانہ روی سے چلے۔

20711Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ کسی سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔

20712Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ثَابِتٍ أَوْ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي وَارْحَمْ غُرْبَتِي وَارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ يَعْنِي الظَّالِمَ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ قَالَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ قَالَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودرداء ؓ نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم یہ دعاء صدق دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کریم ﷺ کو قرآن کریم کی اس آیت " فمن ہم ظالم لنفسہ " کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی کے مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم اندوہ ہوگا منہم مقتصد یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا " ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ " یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔

20713Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِي الْقَوْمِ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ شدید گرمی کے سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔

20714Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِعْطَاءِ السُّلْطَانِ قَالَ مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ قَالَ وَقَالَ الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ تَرْحَلْ إِلَيْهَا أَوْ تَشَرَّفْ لَهَا

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ بادشاہ کی عطاء و بخشش لینے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بن مانگے اور بن خواہش اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ عطاء فرما دے اسے لے لیا کرو اور اس سے تم مول حاصل کیا کرو؟

20715Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا أَبُو الدَّرْدَاءِ مُغْضَبًا فَقَالَتْ مَا لَكَ قَالَ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ فِيهِمْ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا

حضرت ام درداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء ؓ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ بخدا! میں لوگوں میں نبی کریم ﷺ کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔

20716Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ مَعْدَانَ أَوْ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کو قے آگئی جس سے نبی کریم ﷺ نے اپنا روزہ ختم کردیا راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان ؓ سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم ﷺ کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔

20717Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ و حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ قَالَ مَكِّيٌّ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ قَالُوا وَذَلِكَ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو تمہارے لئے سونے چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ میدان جنگ میں دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادو؟ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ وہ کون سا عمل ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔

20718Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ أَوْ طَرَفِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ صَاحِبَهَا يُلِمُّ بِهَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهَا وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدِيثًا يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَمَكِّيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ایک خیمے کے باہر ایک عورت کو دیکھا جس کے یہاں بچے کی پیدائش کا زمانہ قریب آچکا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا مالک اس کے " قریب " جانا چاہتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جائے یہ اسے کیسے اپنا وارث بنا سکتا ہے جب کہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کیسے اس سے خدمت لے سکتا ہے جبکہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔ حدیث نمبر (٢٢٠٤٥) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20719Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَعْجَبُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ قَالُوا كَيْفَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَوْ مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کیا تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑہنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام ؓ کو یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو (کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے)

20720Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ الضَّبُعِ فَكَرِهَهَا فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ يَأْكُلُونَهُ قَالَ لَا يَعْلَمُونَ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نُهْبَةٍ وَكُلِّ ذِي خَطْفَةٍ وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ قَالَ سَعِيدٌ صَدَقَ

عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب (رح) سے گوہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کی قوم تو اسے کھاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ انہیں معلوم نہیں ہوگا اس پر وہاں موجود ایک آدمی نے کہا کہ میں نے حضرت ابودرداء ؓ سے یہ حدیث سنی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہر اس جانور سے منع فرمایا ہے جو لوٹ مار سے حاصل ہو جسے اچک لیا گیا ہو یا ہر وہ درندہ جو اپنے کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو حضرت سعید بن مسیب (رح) نے اس کی تصدیق فرمائی۔

20721Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَدَخَلْتُ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فَقَالَتْ تُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَتْ فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَأَلْقَى أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَأْثُرُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَيَعْلَى قَالَا ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ صَفْوَانَ قَالَ يَزِيدُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ

صفوان بن عبداللہ " جن کے نکاح میں " درداء تھیں " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام آیا اور حضرت ابودرداء ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن وہ گھر پر نہیں ملے البتہ ان کی اہلیہ موجود تھیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اس سال تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا، انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لئے بھی خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے کہ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تمہیں بھی یہی نصیب ہو۔ پھر میں بازار کی طرف نکلا تو حضرت ابودرداء ؓ سے بھی ملاقات ہوگئی انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا اور یہی حدیث انہوں نے بھی نبی کریم ﷺ کے حوالے سے سنائی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20722Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي عُمَرَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مُقِيمٌ فَنَسْرَحَ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفَ قَالَ بَلْ ظَاعِنٌ قَالَ فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَهُ لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِي تَفْعَلُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے یہاں آیا انہوں نے پوچھا کہ تم مقیم ہو کہ ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں یا مسافر ہو کہ تمہیں زاد راہ دیں؟ اس نے کہا کہ میں مسافر ہوں، انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی چیز زاد راہ کے طور پر دیتا ہوں جس سے افضل اگر کوئی چیز مجھے ملتی تو میں تمہیں وہی دیتا، ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ مالدار تو دنیا و آخرت دونوں لے گئے ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی رکھتے ہیں، البتہ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تم سے پہلے والا کوئی تم سے آگے نہ بڑھ سکے اور پیچھے والا تمہیں پا نہ سکے الاّ یہ کہ کوئی آدمی تمہاری ہی طرح عمل کرنے لگے ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمد اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔

20723Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قَالَ قُلْتُ فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ لَا يُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْكُلُ الْقَاصِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَيْضًا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ فَذَكَرَهُ

معدان بن ابی طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء ؓ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی میں انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہٰذا تم جماعت مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20724Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ الدَّجَّالِ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔

20725Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ عَنْ ابْنِ نُعْمَانَ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ مُوجِبَيْنِ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ چھ ماہ کے دو خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔

20726Musnad Imam Ahmad

حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ يَعْلَى بْنِ نُعْمَانَ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ خَصِيَّيْنِ

حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ چھ ماہ کے دو خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔