حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 431 · 8 hadiths

16844Musnad Imam Ahmad

حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو رِمْثَةَ التَّمِيمِيُّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي فَقَالَ هَذَا ابْنُكَ قُلْتُ نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ

حضرت ابو رمثہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میں اس کی گواہی دیتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے سرخ وسفید بال دیکھے۔

16845Musnad Imam Ahmad

حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي فَرَأَى الَّتِي بِظَهْرِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُعَالِجُهَا لَكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ قَالَ أَنْتَ رَفِيقٌ وَاللَّهُ الطَّبِيبُ قَالَ مَنْ هَذَا مَعَكَ قُلْتُ ابْنِي قَالَ اشْهَدْ بِهِ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ

حضرت ابو رمثہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی ﷺ کی مبارک پشت پر انہوں نے جب مہر نبوت دیکھی تو کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ کیا میں آپ کا علاج نہ کروں؟ کہ میں طبیب ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تم تو رفیق ہو، طبیب، اللہ ہے، پھر فرمایا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا یاد رکھو! یہ تمہارے کسی جرم کا اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں ہو۔

16846Musnad Imam Ahmad

حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ بِرَأْسِهِ رَدْعَ حِنَّاءٍ وَرَأَيْتُ عَلَى كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ قَالَ أَبِي إِنِّي طَبِيبٌ أَلَا أَبُطُّهَا لَكَ قَالَ طَيَّبَهَا الَّذِي خَلَقَهَا قَالَ وَقَالَ لِأَبِي هَذَا ابْنُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْك وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ

حضرت ابورمثہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے نبی ﷺ کے سر پر مہندی کا اثر دیکھا اور کندھے پر کبوتری کے انڈے کے برابر مہر نبوت دیکھی تو میرے والد کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ کیا میں آپ کا علاج نہ کروں کہ میں طبیب ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کا طبیب اللہ ہے، جس نے اسے بنایا ہے، پھر فرمایا یہ تمہارے ساتھ تمہارا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی ﷺ نے فرمایا یاد رکھو! یہ تمہارے کسی جرم کا اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں ہو۔

16847Musnad Imam Ahmad

حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ

حضرت ابو رمثہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، ہم نے دیکھا کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہیں اور آپ ﷺ نے دو سبز چادریں زیب تن فرما رکھی ہیں۔

16848Musnad Imam Ahmad

حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ قَالَ فَدَخَلَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ الْيَرْبُوعِيُّونَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى مَرَّتَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ هُوَ ابْنُ الرَّيَّانِ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ فَأَتَيْنَا رَجُلًا فِي الْهَاجِرَةِ جَالِسًا فِي ظِلِّ بَيْتٍ عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ وَشَعْرُهُ وَفْرَةٌ وَبِرَأْسِهِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ قَالَ فَقَالَ لِي أَبِي أَتَدْرِي مَنْ هَذَا فَقُلْتُ لَا قَالَ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ

حضرت ابورمثہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے، اپنی والدہ، والد، بہن بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کو دیتے رہا کرو، اسی اثناء میں بنو ثعلبہ بن یربوع کے کچھ لوگ آگئے، جنہیں دیکھ کر ایک انصاری کہنے لگا یا رسول اللہ! ﷺ یہ وہی یربوعی لوگ ہیں جنہوں نے فلاں آدمی کو قتل کیا ہے، نبی ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا یاد رکھو! کسی شخص کے جرم کا ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ 17635۔ حضرت ابورمثہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، ہم نے دیکھا کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ ﷺ نے دو سبز چادریں زیب تن فرما رکھی ہیں، آپ ﷺ کے بال گھنے اور سر پر مہندی کا اثر تھا، میرے والد نے پوچھا کیا تم انہیں جانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے بتایا کہ یہ نبی ﷺ ہیں۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

16849Musnad Imam Ahmad

حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ حَمْزَةَ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي وَلَهُ لِمَّةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ وَذَكَرَهُ

حضرت ابورمثہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مہندی اور وسمہ سے خضاب لگاتے تھے اور آپ ﷺ کے بال مبارک کندھوں تک آتے تھے۔ 17637۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

16850Musnad Imam Ahmad

حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رِمْثَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ

حضرت ابورمثہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں (میں اس کی گواہی دیتا ہوں) نبی ﷺ نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا۔

16851Musnad Imam Ahmad

حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ حَمْزَةَ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعَرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ شَكَّ أَبُو سُفْيَانَ مُعَادٌ

حضرت ابورمثہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مہندی اور وسمہ سے خضاب لگاتے تھے اور آپ ﷺ کے بال مبارک کندھوں تک آتے تھے۔