حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 851 · 137 hadiths · Page 1 of 7

20987Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ لَمَّا رَجَعَ مِنْ الْيَمَنِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ رِجَالًا بِالْيَمَنِ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضِهِمْ أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ قَالَ لَوْ كُنْتُ آمِرًا بَشَرًا يَسْجُدُ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَقْبَلَ مُعَاذٌ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ رِجَالًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ یمن سے واپس آکر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں نے عیسائیوں کو اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے دیکھا ہے میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اس سے زیادہ تعظیم کے مستحق تو آپ ہیں تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20988Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا مُعَاذُ أَتْبِعْ السَّيِّئَةَ بِالْحَسَنَةِ تَمْحُهَا وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ فَقَالَ وَقَالَ وَكِيعٌ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ قَالَ أَبِي وَقَالَ وَكِيعٌ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ مُعَاذٍ

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا معاذ! گناہ ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا کرو۔

20989Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مَوْهَبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

موسیٰ بن طلحہ (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل ؓ کا ایک خط ہے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ گندم، جو کشمش اور کھجور میں سے بھی زکوٰۃ وصول فرماتے تھے۔

20990Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرًى عَرَبِيَّةٍ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ و قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَعْنِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھے عرب کی کسی بستی میں بھیجا اور حکم دیا کہ زمین کا حصہ وصول کرکے لاؤں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20991Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ لَا يُعَذِّبُهُمْ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم ﷺ کا ردیف تھا نبی کریم ﷺ نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔

20992Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ مَوْتِي وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطَهَا وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ فَيَسِيرُونَ فِي ثَمَانِينَ بَنْدًا تَحْتَ كُلِّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا چھ چیزیں علامات قیامت میں سے ہیں میری وفات بیت المقذس کی فتح، موت کی وباء پھیل جانا جیسے بکریوں میں پھیل جاتی ہے ایک ایسی آزمائش جس کی جنگ ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوجائے گی نیزیہ کہ کسی شخص کو ایک ہزار بھی دے دیئے جائیں تو وہ ناراض ہی رہے اور رومی لوگ مسلمانوں کے ساتھ دھوکے بازی کریں اور اسی جھنڈوں کے تحت مسلمانوں کی طرف پیش قدمی کریں جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔

20993Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ كُنْتُ رِدْفَهُ عَلَى حِمَارٍ قَالَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت معاذ ؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا کوئی عجیب واقعہ ہمیں سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا ایک مرتبہ میں (گدھے پر) نبی کریم ﷺ کا ردیف تھا نبی کریم ﷺ نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔

20994Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَاه عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا يُعَذِّبَهُمْ قَالَ مَعْمَرٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ دَعْهُمْ يَعْمَلُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ مُعَاذٍ بِنَحْوِهِ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم ﷺ کا ردیف تھا نبی کریم ﷺ نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20995Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا میں جنت کے ایک دروازے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ انہوں نے عرض کیا وہ کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " لاحول ولاقوۃ الا باللہ "

20996Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قُلْتُ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک سفر پر روانہ ہوئے یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے اور اس سفر میں نبی کریم ﷺ نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا، راوی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ نبی کریم ﷺ چاہتے تھے کہ ان کی امت کو تکلیف نہ ہو۔

20997Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَةِ فَجَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ أَبْيَضِ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِيَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَاكُمْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهَا قُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُعَاذٍ فَكَأَنَّ الْقَوْمَ عَنَّفُونِي قَالَ لَا تُعَنِّفُوهُ وَلَا تُؤَنِّبُوهُ دَعُوهُ نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاكَ مِنْ مُعَاذٍ يُدَبِّرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ لِبَعْضِهِمْ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ قَالَ وَكَانَ أَبُوهُ كَاهِنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِذَا شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

ھصان بن کاہل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں جامع بصرہ میں داخل ہوا اور ایک بزرگ کی مجلس میں شامل ہوگیا جن کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہوچکے تھے وہ کہنے لگے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو اور یہ گواہی دل کے یقین سے ہو تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے حضرت معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی ہے؟ لوگ اس پر مجھے ملامت کرنے لگے لیکن انہوں نے کہا کہ اسے ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، اسے چھوڑ دو، میں نے یہ حدیث حضرت معاذ ؓ سے ہی سنی ہے جسے وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں، بعد میں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ عبدالرحمن بن سمرہ ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20998Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا هِصَّانُ بْنُ الْكَاهِنِ الْعَدَوِيُّ قَالَ جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ وَلَا أَعْرِفُهُ قَالَ ثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لَا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجِعُ ذَاكُمْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلَّا غُفِرَ لَهَا قَالَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ فَعَنَّفَنِي الْقَوْمُ فَقَالَ دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَمْ يُسِئْ الْقَوْلَ نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ مُعَاذٍ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ مُعَاذٍ مِثْلَهُ نَحْوَ قَوْلِهِ

ھصان بن کاہل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عبدالرحمن بن سمرہ (رح) کی مجلس میں شامل ہوگیا جن کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہوچکے تھے وہ کہنے لگے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو اور یہ گواہی دل کے یقین سے ہو تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے حضرت معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی ہے؟ لوگ اس پر مجھے ملامت کرنے لگے لیکن انہوں نے کہا کہ اسے ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، اسے چھوڑ دو، میں نے یہ حدیث حضرت معاذ ؓ سے ہی سنی ہے جسے وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں، بعد میں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20999Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْعَبْدِيِّ أَوْ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ حَدِيثُ السِّنِّ حَسَنُ الْوَجْهِ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَغَرُّ الثَّنَايَا فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ فَقَالَ قَوْلًا انْتَهَوْا إِلَى قَوْلِهِ فَإِذَا هُوَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ قَالَ فَحَذَفَ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ احْتَبَى فَسَكَتَ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ قَالَ أَاللَّهِ قَالَ قُلْتُ أَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّ مِنْ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ فِيمَا أَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ثُمَّ لَيْسَ فِي بَقِيَّتِهِ شَكٌّ يَعْنِي فِي بَقِيَّةِ الْحَدِيثِ يُوضَعُ لَهُمْ كَرَاسٍ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمْ بِمَجْلِسِهِمْ مِنْ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ قَالَ فَحَدَّثْتُهُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَالَ لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَحَقَّتْ لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَصَادِقِينَ فِيَّ وَالْمُتَوَاصِلِينَ شَكَّ شُعْبَةُ فِي الْمُتَوَاصِلِينَ أَوْ الْمُتَزَاوِرِينَ

ابو ادریس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسی مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم ﷺ کے بیس صحابہ کرام ؓ تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل ؓ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ " میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔

21000Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ عَنْ أَنَسٍ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کی گواہی صدق دل سے دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

21001Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ يَعْبُدُونَهُ وَلَا يُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا قَالَ أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم ﷺ کا ردیف تھا نبی کریم ﷺ نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔

21002Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ قَالَ كَانَ مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ فَارْتَفَعُوا إِلَيْهِ فِي يَهُودِيٍّ مَاتَ وَتَرْكَ أَخًا مُسْلِمًا فَقَالَ مُعَاذٌ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْإِسْلَامَ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ فَوَرَّثَهُ

ابو الاسود دیلی کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ جس وقت یمن میں تھے تو ان کے سامنے ایک یہودی کی وراثت کا مقدمہ پیش ہوا جو فوت ہوگیا تھا اور اپنے پیچھے ایک مسلمان بھائی چھوڑ گیا تھا حضرت معاذ ؓ نے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام اضافہ کرتا ہے کمی نہیں کرتا اور اس حدیث سے استدلال کر کے انہوں نے اسے وارث قرار دے دیا۔

21003Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم ﷺ کا ردیف تھا نبی کریم ﷺ نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔

21004Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ قَالَ أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي لَا آلُو قَالَ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرِي ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی فیصلہ آیا تو تم اسے کیسے حل کرو گے؟ عرض کیا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں اس کا فیصلہ کروں گا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو کیا کرو گے؟ عرض کیا پھر نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ اگر اس کا حکم میری سنت میں بھی نہ ملا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر نبی کریم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے پیغمبر کے قاصد کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرما دی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔

21005Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَمْلَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْجَبَ ذُو الثَّلَاثَةِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ وَذُو الِاثْنَيْنِ قَالَ وَذُو الِاثْنَيْنِ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے حق میں تین آدمی گواہی دیں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی حضرت معاذ ؓ نے پوچھا کہ اگر دو ہوں تو؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔

21006Musnad Imam Ahmad

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ لَا يَشْهَدُ عَبْدٌ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ يَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ أَفَلَا أُحَدِّثُ النَّاسَ قَالَ لَا إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهِ

حضرت معاذ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اے معاذ بن جبل! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ وسعدیک، نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی صدق دل سے دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا کہ میں لوگوں کو یہ بات نہ بتادوں؟ نبی کریم ﷺ فرمایا نہیں مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔