ایک صحابیہ (رض) کی روایت

Musnad Imam Ahmad · Chapter 901 · 6 hadiths

22120Musnad Imam Ahmad

ایک صحابیہ (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ كُرَاعُ شَاةٍ مُحْرَقٌ

ایک خاتون صحابیہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے مومن عورتو! تم میں سے کوئی اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی کسی چیز کو " خواہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو " حقیر نہ سمجھے۔

22155Musnad Imam Ahmad

ایک صحابیہ (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جَدَّتِهِ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِمْ قَالَ وَقَدْ كَانَتْ صَلَّتْ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي اخْتَضِبِي تَتْرُكُ إِحْدَاكُنَّ الْخِضَابَ حَتَّى تَكُونَ يَدُهَا كَيَدِ الرَّجُلِ قَالَتْ فَمَا تَرَكَتْ الْخِضَابَ حَتَّى لَقِيَتْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ كَانَتْ لَتَخْتَضِبُ وَإِنَّهَا لَابْنَةُ ثَمَانِينَ

ایک خاتون (جنہیں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہے) کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے یہاں تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا مہندی لگایا کرو تم لوگ مہندی لگاناچھوڑ دیتی ہو اور تمہارے ہاتھ مردوں کے ہاتھ کی طرح ہوجاتے ہیں میں نے اس کے بعد سے مہندی لگانا کبھی نہیں چھوڑی اور میں ایسا ہی کروں گی تاآنکہ اللہ سے جاملوں راوی کہتے ہیں کہ وہ اسی سال کی عمر میں بھی مہندی لگایا کرتی تھیں۔

22156Musnad Imam Ahmad

ایک صحابیہ (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ يَعْنِي ابْنَ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ أَبِي ثِفِالٍ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَبَاحَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّها سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ

رباح بن عبدالرحمن اپنی دادی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے اور وہ شخص اللہ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہوسکتا جو مجھ پر ایمان نہ لائے اور وہ شخص مجھ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہوسکتا جو انصار سے محبت نہ کرے۔

22157Musnad Imam Ahmad

ایک صحابیہ (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ أَبُو مَعْمَرٍ الْهِلَالِيُّ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي رِبْعِيَّةُ ابْنَةُ عِيَاضٍ الْكِلَابِيَّةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ كُلُوا الرُّمَّانَ بِشَحْمِهِ فَإِنَّهُ دِبَاغُ الْمَعِدَةِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ انار کو چھلکے سمیت کھایا کرو کیونکہ یہ معدے کے لئے دباغت کا کام دیتا ہے۔

22158Musnad Imam Ahmad

ایک صحابیہ (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ صَبَّاحٍ عَنْ أَشْرَسَ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْمَدِّ وَالْجَزْرِ فَقَالَ إِنَّ مَلَكًا مُوَكَّلٌ بِقَامُوسِ الْبَحْرِ فَإِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فَاضَتْ وَإِذَا رَفَعَهَا غَاضَتْ و قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَبَّاحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَشْرَسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ

اشرس کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت ابن عباس ؓ سے سمندر کے مدوجزر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک فرشتہ سطح سمندر پر مامور ہے جب وہ سمندر میں اپنا پاؤں رکھتا ہے تو سمندر بہہ پڑتا ہے اور جب وہ اپنا پاؤں باہر نکالتا ہے تو سمندر نیچے چلا جاتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22159Musnad Imam Ahmad

ایک صحابیہ (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ أَنَّ مَرْيَمَ فَقَدَتْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَدَارَتْ بِطَلَبِهِ فَلَقِيَتْ حَائِكًا فَلَمْ يُرْشِدْهَا فَدَعَتْ عَلَيْهِ فَلَا تَزَالُ تَرَاهُ تَائِهًا فَلَقِيَتْ خَيَّاطًا فَأَرْشَدَهَا فَدَعَتْ لَهُ فَهُمْ يُؤْنَسُ إِلَيْهِمْ أَيْ يُجْلَسُ إِلَيْهِمْ

موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) گم ہوگئے حضرت مریم (علیہا السلام) ان کی تلاش میں نکلیں تو راستے میں ایک جولاہا ملا لیکن وہ انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کچھ نہ بتاسکا حضرت مریم (علیہا السلام) نے اس کے لئے سخت الفاظ کہہ دیئے یہی وجہ ہے کہ تم جو لا ہے کو ہمیشہ حیران و پریشان دیکھو گے پھر ایک درزی ملا جس نے ان کی رہنمائی کردی تو حضرت مریم (علیہا السلام) نے اس کے حق میں دعا فرمائی اسی وجہ سے لوگ ان کے پاس جا کر بیٹھتے ہیں۔