حضرت قدامہ بن عبداللہ بن عمار کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَارِقٍ أَبُو قُرَّةَ الزُّبَيْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْحُصَيْبِ وَإِلَى جَانِبِهَا رِمَعٌ وَهِيَ قَرْيَةُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ أَبِي وَكَانَ أَبُو قُرَّةَ قَاضِيًا لَهُمْ بِالْيَمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ أَبُو عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ أَبُو قُرَّةَ وَزَادَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فِي حَدِيثِ أَيْمَنَ هَذَا عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ بِلَا زَجْرٍ وَلَا طَرْدٍ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ
حضرت قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس دوسری سند سے گذشتہ حدیث میں یہ اضافہ بھی مروی ہے نبی ﷺ اپنی سفیدی سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جا رہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔
حضرت قدامہ بن عبداللہ بن عمار کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا مِنْ بَنِي كِلَابٍ يُقَالُ لَهُ قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ
حضرت قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت نبی ﷺ اپنی سفید سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جارہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔
حضرت قدامہ بن عبداللہ بن عمار کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِلَابِيُّ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ حَدَّثَنَا قُرَّانٌ فِي الْحَدِيثِ قَالَ يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ
حضرت قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت نبی ﷺ اپنی سفید سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جارہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔ گذشتہ حدیث قران سے بھی مروی ہے جس میں یہ ہے کہ نبی ﷺ اپنی اونٹنی پر جمرات کی رمی فرما رہے تھے۔
حضرت قدامہ بن عبداللہ بن عمار کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَمُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ أَبُو الْفَضْلِ قَالَا حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ
حضرت قدامہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ اونٹنی پر سوار ہیں اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کررہے ہیں۔
حضرت قدامہ بن عبداللہ بن عمار کی حدیثیں۔
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ وَزَادَ عَبَّادٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ
حضرت قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت نبی ﷺ اپنی سفید سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جارہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔
حضرت قدامہ بن عبداللہ بن عمار کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ
حضرت قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت نبی ﷺ اپنی سفید سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جارہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔