حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ وَبَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ قَالَ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ أَوْ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صوم دہر ہمیشہ روزہ رکھنے کے متعلق ارشاد فرمایا ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمْ الْمَقَابِرَ قَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کردیا یا کھا کر ختم کردیا۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کردیا یا کھا کر ختم کردیا۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيِّدُ اللَّهُ قَالَ أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسْتَجِرُّهُ الشَّيْطَانُ
حضرت عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی ﷺ نے فرمایا حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو و سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم وہ بات کہا کرو جس میں شیطان تمہیں گمراہ کرکے تم پر غالب نہ آجائے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ قَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے صوم دہر کے متعلق پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ
حضرت ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو جوتی پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثُمَّ يَتَنَخَّمُ تَحْتَ قَدَمِهِ ثُمَّ دَلَكَهَا بِنَعْلِهِ وَهِيَ فِي رِجْلِهِ
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے ناک کی ریزش پھینکی اور اسے اپنی جوتی سے مسل دیا جو آپ نے پاؤں میں پہن رکھی تھی۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا أَنْتَ وَلِيُّنَا وَأَنْتَ سَيِّدُنَا وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا قَالَ يُونُسُ وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا طَوْلًا وَأَنْتَ أَفْضَلُنَا عَلَيْنَا فَضْلًا وَأَنْتَ الْجَفْنَةُ الْغَرَّاءُ فَقَالَ قُولُوا قَوْلَكُمْ وَلَا يَسْتَجِرَّنَّكُمْ الشَّيْطَانُ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ
حضرت عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی ﷺ نے فرمایا حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم وہ بات کہا کرو جس میں شیطان تمہیں گمراہ کرکے تم پر غالب نہ آجائے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنْ الْبُكَاءِ قَالَ عَبْد اللَّهِ لَمْ يَقُلْ مِنْ الْبُكَاءِ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کو دیکھا کہ کثرت گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارک سے ایسی آوازیں آرہی تھی جیسی ہنڈیا کے ابلنے کی ہوتی ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَخَّعَ فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے ناک کی ریزش پھینکی اور اسے اپنی بائیں جوتی سے مسل دیا۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَوَامَّ الْإِبِلِ نُصِيبُهَا قَالَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم گمشدہ اونٹوں کو پکڑ سکتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی گمشدہ چیز کو بلا استحقاق استعمال کرنا جہنم کی آگ ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ وَمَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صوم دہر کے متعلق ارشاد فرمایا ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيِّدُ اللَّهُ فَقَالَ أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسْتَجِرَّنَّهُ الشَّيْطَانُ أَوْ الشَّيَاطِينُ
حضرت عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی ﷺ نے فرمایا حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم وہ بات کہا کرو جس میں شیطان تمہیں گمراہ کر کے تم پر غالب نہ آجائے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِصَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کو دیکھا کہ کثرت گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارک سے ایسی آوازیں آرہی تھی جیسی ہنڈیا کے ابلنے کی ہوتی ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ قَالَ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صوم دہر کے متعلق ارشاد فرمایا ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ فَتَنَخَّعَ فَتَفَلَهُ تَحْتَ نَعْلِهِ الْيُسْرَى قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ حَكَّهَا بِنَعْلَيْهِ
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے ناک کی ریزش پھینکی اور اسے اپنی جوتی سے مسل دیا جو آپ نے پاؤں میں پہن رکھی تھی۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ فَقَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صوم دہر کے متعلق ارشاد فرمایا ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران آپ نے اپنے بائیں پاؤں کی نیچے تھوک پھینکا۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کردیا یا کھا کر ختم کردیا۔
حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ قَدْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صوم دہر کے متعلق ارشاد فرمایا ایسا شخص نہ تو روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔