حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَكِيمُ بْنُ عُمَيْرٍ وَحَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدَعْ رَجُلٌ مِنْكُمْ أَنْ يَعْمَلَ لِلَّهِ أَلْفَ حَسَنَةٍ حِينَ يُصْبِحُ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ فَإِنَّهَا أَلْفُ حَسَنَةٍ فَإِنَّهُ لَا يَعْمَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي يَوْمِهِ مِنْ الذُّنُوبِ وَيَكُونُ مَا عَمِلَ مِنْ خَيْرٍ سِوَى ذَلِكَ وَافِرًا
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص روزانہ صبح کے وقت اللہ کی رضا کے لئے ایک ہزار نیکیاں نہ چھوڑا کرے، سو مرتبہ کہہ لیا کرے، اس کا ثواب ایک ہزار نیکیوں کے برابر ہے اور وہ شخص انشاء اللہ اس دن اتنے گناہ نہیں کرسکے گا اور اس کے علاوہ جو نیکی کے کام کرے گا وہ اس سے زیادہ ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ رُومَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ زَحْزَحَ عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا يُؤْذِيهِمْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ حَسَنَةً وَمَنْ كُتِبَ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص مسلمانوں کے راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹاتا ہے تو اللہ اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور جس کے لئے اللہ کے یہاں ایک نیکی لکھی جائے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ قَالَ حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ لَا تَعْجَزَنَّ مِنْ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ نَهَارِكَ أَكْفِكَ آخِرَهُ
حضرت نعیم سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! تو دن کے پہلے چار حصے میں چار رکعتیں پڑھنے سے اپنے آپ کو عاجز ظاہر نہ کرو، میں دن کے آخری حصے تک تیری کفایت کروں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ الْمَشْيَخَةِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ أَوْصَانِي بِصِيَامِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ وَسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوقاسم ﷺ نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے جنہیں میں کبھی نہیں چھوڑوں گا، نبی نے مجھے ہر تین مہینے روزے رکھنے کی، وتر پڑھ کر سونے کی اور سفر وحضر میں چاشت کے نوافل پڑھنے کی وصیت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا اللہ نے تم پر اپنی وفات کے وقت ایک تہائی مال کا صدقہ کرنا قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ يَنْقُصُ إِلَّا الشَّرَّ فَإِنَّهُ يُزَادُ فِيهِ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا ہر چیز کم ہوجاتی ہے سوائے شر کے کہ وہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السُّوَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا جنت میں والدین کا کوئی نافرمان، جادو پر ایمان رکھنے والا، عادی شراب خور اور تقدیر کو جھٹلانے والا داخل نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَخٌ لِعَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ہمیں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کن حکمرانوں سے ہے۔
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ السُّلَمِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ لَغُفِرَ لَكُمْ كَثِيرًا
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا اگر تمہارے وہ گناہ معاف ہوجائیں جو تم جانوروں پر کرتے ہو تو بہت سے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَيْثَمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُهُ قَالَ بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالُوا فَكَيْفَ بِالْعَمَلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک صحابہ نے نبی سے پوچایا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ ہم جو اعمال کرتے ہیں کیا انہیں لکھ کر فراغت ہوگئی ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے؟ نبی نے فرمایا انہیں لکھ کر فراغت ہوچکی ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی نے فرمایا ہر انسان کے لئے وہی کام آسان کئے جاتے ہیں جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ حِينَ خَلَقَهُ فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ كَأَنَّهُمْ الذَّرُّ وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمْ الْحُمَمُ فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَقَالَ لِلَّذِي فِي كَفِّهِ الْيُسْرَى إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کے دائیں کندھے پر ہاتھ مار کر ایک روشن مخلوق چونٹیوں کی طرح باہر نکالی، پھر بائیں کندھے پر ہاتھ مار کر کوئلے کی طرح سیاہ ایک اور مخلوق نکالی اور دائیں ہاتھ والوں کے لئے فرمایا کہ یہ جنت کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور بائیں ہاتھ والوں کے لئے فرمایا کہ یہ جہنم کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قُمْ فَجَهِّزْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدًا إِلَى الْجَنَّةِ فَبَكَى أَصْحَابُهُ وَبَكَوْا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ فَخَفَّفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا کہ اٹھو اور اپنی اولاد میں سے نو سو ننانوے افراد جہنم کے لئے اور ایک آدمی جنت کے لئے تیار کرو، یہ سن کر صحابہ کرام رونے لگے، نبی نے ان سے فرمایا سر اٹھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، دوسری امتوں کے مقابلے میری امت کے لوگ سیاہ بیل کی کھال پر سفید بال کی طرح ہوں گے، تب جا کر صحابہ کا بوجھ ہلکا ہوا۔
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةٌ وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ كُلِّهَا إِلَّا أَنَّهُ أَوْقَفَ مِنْهَا حَدِيثَ لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبِي عَنْهُ مَرْفُوعًا
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور کوئی شخص اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہوجائے کہ اسے جو تکلیف پہنچی ہے، وہ اس سے خطا نہیں جا ہوسکتی تھی اور جو چیز خطا ہوگئی ہے وہ اسے پہنچ نہیں سکتی تھی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ وَاهبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ فَخَرَجْتُ لِأُنَادِيَ بِهَا فِي النَّاسِ قَالَ فَلَقِيَنِي عُمَرُ فَقَالَ ارْجِعْ فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِهَذِهِ اتَّكَلُوا عَلَيْهَا فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے فرمایا جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اور اسی اقرار پر دنیا سے رخصت ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے پوچھا اگرچہ وہ بدکاری اور چوری کرتا پھرے؟ نبی نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ بدکاری اور چوری ہی کرے، یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے، چوتھی مرتبہ نبی نے فرمایا ہاں! اگرچہ ابودردا کی ناک خاک آلود ہوجائے، حضرت ابودردا کہتے ہیں کہ میں لوگوں میں اس کی منادی کرنے کے لئے نکلا تو راستے میں حضرت عمر مل گئے، انہوں نے فرمایا واپس چلے جاؤ، اگر لوگوں کو یہ بات پتہ چل گئی تو وہ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے، چناچہ میں نے واپس آکر نبی کو اس کی اطلاع دی تو نبی نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ الْمِنْقَرِيُّ عَنْ الْحَسَنِ وَأَبِي قِلَابَةَ كَانَا جَالِسَيْنِ فَقَالَ فَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَفُوتَهُ فَقَدْ أُحْبِطَ عَمَلُهُ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر نماز عصر کو ترک کرتا ہے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا کہ آسمان کے سایہ تلے اور روئے زمین پر ابوذر ؓ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ أَنَّ مُخْبِرًا أَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ قَالَ سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً مِنْهُنَّ سَجْدَةُ النَّجْمِ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ میں نے نبی کے ساتھ قرآن کریم میں گیارہ سجدے کئے ہیں، جن میں سورت نجم کی آیت ِ سجدہ بھی شامل ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ فَقِيلَ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ نبی نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو (کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ خَالِهِ عَطَاءِ بْنِ نَافِعٍ أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ فَأَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ أَثْقَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اچھے اخلاق ہوں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ يَعْنِي أَبَا مُحَمَّدٍ الْمَرَئِيَّ التَّمِيمِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَعَلَّمُ مِنْهُ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ آذِنْ النَّاسَ بِمَوْتِي فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِهِ فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ قَالَ فَقُلْتُ قَدْ آذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِكَ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ قَالَ أَخْرِجُونِي فَأَخْرَجْنَاهُ قَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ فَأَجْلَسْنَاهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُتِمُّهُمَا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخِّرًا قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرِيضَةِ
حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابودردا کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ہے، میں ان سے علم حاصل کرتا تھا، جب ان کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا لوگوں کو میرے وقت آخر کی اطلاع دے دو، چناچہ میں یہ لوگوں کو بتانے کے لئے نکلا، جب واپس آیا تو سارا گھر بھر چکا تھا اور باہر بھی لوگ کھڑے تھے، میں نے عرض کیا کہ میں نے لوگوں کو اطلاع دے دی ہے اور اب گھر کے اندر باہر لوگ بھرے ہوئے ہیں انہوں نے فرمایا لوگو! میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر دو رکعتیں مکمل خشوع کے ساتھ پڑھے تو اللہ سے اس کی مانگی ہوئی چیزیں ضرور دیتا ہے خواہ جلدی ہو یا تاخیر سے، انہوں نے مزید فرمایا لوگو! نماز میں دائیں بائیں دیکھنے سے بچو، کیونکہ ایسے شخص کی کوئی نماز نہیں ہوتی، اگر نوافل میں ایسا ہو تو فرائض میں اس سے مغلوب نہ ہونا۔