حضرت عبید بن خالد سلمی (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 515 · 4 hadiths

17247Musnad Imam Ahmad

حضرت عبید بن خالد سلمی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتُمْ قَالُوا دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَأَيْنَ صَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ شَكَّ فِي الصَّلَاةِ وَالْعَمَلِ شُعْبَةُ فِي أَحَدِهِمَا الَّذِي بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت عبید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی ﷺ نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17248Musnad Imam Ahmad

حضرت عبید بن خالد سلمی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتُمْ قَالُوا دَعَوْنَا لَهُ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَأَنْ يَرْحَمَهُ وَأَنْ يُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ أَوْ صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ قَالَ إِنَّ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ

حضرت عبید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی ﷺ نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔

17249Musnad Imam Ahmad

حضرت عبید بن خالد سلمی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ وَحَدَّثَ بِهِ مَرَّةً عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبید بن خالد ؓ جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگہانی موت افسوسناک موت ہے۔ گذشتہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے۔

17250Musnad Imam Ahmad

حضرت عبید بن خالد سلمی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ

حضرت عبید بن خالد ؓ جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگنہانی موت افسوسناک موت ہے۔