حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 1,078 · 12 hadiths

26010Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَجْمَعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا

حضرت ابوبصرہ غفاری سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے چار دعائیں جن میں سے اس نے مجھے عطأ فرما دیں اور ایک روک لی، میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ اسے عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کا مزہ چکھائے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے روک دیا۔

26011Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي تَمِيمٍ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَوَانَوْا فِيهَا وَتَرَكُوهَا فَمَنْ صَلَّاهَا مِنْكُمْ ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا ضِعْفَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ

حضرت ابوبصرہ غفاری سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور نماز سے فراغت کے بعد فرمایا یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر بھی پیش کی گیئ تھی لیکن انہوں نے اس میں سستی کی اور اسے چھوڑ دیا، سو تم میں سے جو شحص یہ نماز پڑھتا ہے اسے دہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کے ستارے دکھائی دینے لگیں۔

26012Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَاجَرْتُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ فَحَلَبَ لِي شُوَيْهَةً كَانَ يَحْتَلِبُهَا لِأَهْلِهِ فَشَرِبْتُهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَسْلَمْتُ وَقَالَ عِيَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ اللَّيْلَةَ كَمَا بِتْنَا الْبَارِحَةَ جِيَاعًا فَحَلَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً فَشَرِبْتُهَا وَرَوِيتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَوِيتَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَوِيتُ مَا شَبِعْتُ وَلَا رَوِيتُ قَبْلَ الْيَوْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ

حضرت ابوبصرہ غفاری سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں قبول اسلام سے پہلے ہجرت کر کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے ایک بکری کا دودھ مجھے دوہ کردیا، جسے نبی ﷺ اپنے اہل خانہ کے لئے دوہتے تھے۔ میں نے اسے پی لیا اور صبح ہوتے ہی اسلام قبول کرلیا، نبی ﷺ کے اہل خانہ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ ہمیں کل کی طرح آج بھی بھوکا رہ کر گزارہ کرنا پڑے گا، چناچہ نبی ﷺ نے آج بھی مجھے دودھ عطاء فرمایا: میں نے اسے پیا اور سیراب ہوگیا؟ نبی ﷺ نے مجھ سے پوچھا کیا تم سیراب ہو گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آج میں اس طرح سیراب ہوا ہوں کہ اس سے پہلے کبھی اس طرح سیراب ہوا اور نہ پیٹ بھرا، نبی ﷺ نے فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔

26013Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَتِهِمْ يُقَالُ لَهُ الْمُخَمَّصُ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعَصْرِ عُرِضَتْ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ فَضَيَّعُوهَا أَلَا وَمَنْ صَلَّاهَا ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ أَلَا وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى تَرَوْا الشَّاهِدَ قُلْتُ لِابْنِ لَهِيعَةَ مَا الشَّاهِدُ قَالَ الْكَوْكَبُ الْأَعْرَابُ يُسَمُّونَ الْكَوْكَبَ شَاهِدَ اللَّيْلِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ

حضرت ابوبصرہ غفاری سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور نماز سے فراغت کے بعد فرمایا یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر بھی پیش کی گیئ تھی لیکن انہوں نے اس میں سستی کی اور اسے چھوڑ دیا، سو تم میں سے جو شحص یہ نماز پڑھتا ہے اسے دہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کے ستارے دکھایئ دینے لگیں گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

26014Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ الْوَتْرُ الْوَتْرُ أَلَا وَإِنَّهُ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ قَالَ أَبُو تَمِيمٍ فَكُنْتُ أَنَا وَأَبُو ذَرٍّ قَاعِدَيْنِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا أَبَا بَصْرَةَ آنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ الْوَتْرُ الْوَتْرُ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ

حضرت خارجہ بن حذافہ عدوی سے مروی ہے کے ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کے اللہ نے تمہارے لئے ایک نماز کا اضافہ فرما دیا ہے، جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون سی نماز ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا نماز وتر جو نماز عشاء اور طلوع آفتاب کے درمیان کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے۔

26015Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَسِيرُ إِلَى مَسْجِدِ الطُّورِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْتَحِلَ مَا ارْتَحَلْتَ قَالَ فَقَالَ وَلِمَ قَالَ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي

حضرت ابوبصرہ سے مروی ہے کہ ایک مر تبہ میری ملاقات حضرت ابوہریرہ ؓ ہوئی، وہ مسجد طور کی طرف نماز پڑھنے کے لئے جا رہے تھے، میں نے ان سے کہا اگر آپ کی روانگی سے پہلے آپ سے ملاقات ہوجاتی تو آپ کبھی وہاں کا سفر نہ کرتے کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سواریوں کو تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لئے تیار نہیں کرنا چاہیے، مسجد حرام، میری مسجد، مسجد بیت المقدس۔

26016Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ قَرْيَةِ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ أَنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ نَاسٌ وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ أَرَاهُ إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ

حضرت دحیہ بن خلیفہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ماہ رمضان میں اپنی بستی میں تشریف لئے گے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں نے روزہ ختم کردیا جبکہ کچھ لوگوں نے (مسافر ہونے کے باوجود) روزہ ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا، جب وہ اپنی بستی میں واپس آئے تو فرمایا واللہ آج میں نے ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جس کے متعلق میرا خیال نہیں تھا کہ میں اسے دیکھوں گا، کچھ لوگ نبی ﷺ اور ان کے صحابہ کے طریقوں سے روگردانی کر رہے ہیں، یہ بات انہوں نے روزہ رکھنے والوں کے متعلق فرمائی تھی، پھر کہنے لگے اے اللہ! مجھے اپنے پاس بلا لئے۔

26017Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جَبْرٍ قَالَ رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفِينَةٍ مِنْ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ فَدَفَعَ ثُمَّ قَرَّبَ غَدَاءَهُ ثُمَّ قَالَ اقْتَرِبْ فَقُلْتُ أَلَسْنَا نَرَى الْبُيُوتَ فَقَالَ أَبُو بَصْرَةَ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبید ابن جبر کہتے ہیں کہ ایک مر تبہ ماہ رمضان میں نبی ﷺ کے ایک صحابی حضرت ابوغفاری کے ہمراہ میں فسطاط سے ایک کشتی میں روانہ ہوا، کشتی چل پڑی تو انہیں ناشتہ پیش کیا گیا، انہوں نے مجھ سے قریب ہونے کے لئے فرمایا: میں نے عرض کیا کہ ہمیں ابھی تک شہر کے مکانات نظر نہیں آ رہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نبی ﷺ کی سنت سے اعراض کرنا چاہتے ہو۔

26018Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ كُلَيْبِ بْنِ ذُهْلٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ مِنْ الْفُسْطَاطِ إِلَى الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فِي سَفِينَةٍ فَلَمَّا دَفَعْنَا مِنْ مَرْسَانَا أَمَرَ بِسُفْرَتِهِ فَقُرِّبَتْ ثُمَّ دَعَانِي إِلَى الْغَدَاءِ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَصْرَةَ وَاللَّهِ مَا تَغَيَّبَتْ عَنَّا مَنَازِلُنَا بَعْدُ فَقَالَ أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ فَكُلْ فَلَمْ نَزَلْ مُفْطِرِينَ حَتَّى بَلَغْنَا مَاحُوزَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ كُلَيْبِ بْنِ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ السَّفِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

عبید ابن جبر کہتے ہیں کہ ایک مر تبہ ماہ رمضان میں نبی ﷺ کے ایک صحابی حضرت ابوغفاری کے ہمراہ میں فسطاط سے ایک کشتی میں روانہ ہوا، کشتی چل پڑی تو انہیں نا شتہ پیش کیا گیا، انہوں نے مجھ سے قریب ہونے کے لئے فرمایا: میں نے عرض کیا کہ ہمیں ابھی تک شہر کے مکانات نظر نہیں آرہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نبی ﷺ کی سنت سے اعراض کرنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا نہیں فرمایا پھر کھاؤ، چناچہ ہم منزل تک پہنچتے تک کھاتے پیتے رہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔

26019Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ يَوْمًا إِنِّي رَاكِبٌ إِلَى يَهُودَ فَمَنْ انْطَلَقَ مَعِي فَإِنْ سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ فَانْطَلَقْنَا فَلَمَّا جِئْنَاهُمْ وَسَلَّمُوا عَلَيْنَا فَقُلْنَا وَعَلَيْكُمْ

حضرت ابو بصرہ غفاری سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہنا چناچہ جب ہم وہاں پہنچے اور انہوں نے ہمیں سلام کیا تو ہم نے صرف وعلیکم " کہا۔

26020Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَصْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا غَادُونَ إِلَى يَهُودَ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت ابو بصرہ غفاری سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہنا۔

26021Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مِرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا غَادُونَ عَلَى يَهُودَ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت ابو بصرہ غفاری سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہنا