حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ خَوْلَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَظْعَنَ مِنْهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ خَوْلَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
حضرت خولہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من شرما خلق سے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ كُلِّهَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ
حضرت خولہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من شرما خلق سے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ كُلِّهَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ فِي مَنْزِلِهِ ذَلِكَ شَيْءٌ حَتَّى يَظْعَنَ عَنْهُ
حضرت خولہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من شر ما خلق سے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدٍ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَنْزِلِ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ
حضرت خولہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حَجَّاجٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْزِلُ مَنْزِلًا فَيَقُولُ حِينَ يَنْزِلُ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَقَالَ يَزِيدُ ثَلَاثًا إِلَّا وُقِيَ شَرَّ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَظْعَنَ مِنْهُ
حضرت خولہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى يَنْزِلَ الْمَاءُ كَمَا أَنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِلَ
حضرت خولہ سے مروی ہے کہ انہوں نبی سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر عورت کو بھی خواب میں وہی کیفیت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی نے فرمایا جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں ہوگا، جیسے مرد پر انزال سے پہلے غسل واجب نہیں ہوتا۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ وَهِيَ إِحْدَى خَالَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَغْتَسِلْ
حضرت خولہ سے مروی ہے کہ انہوں نبی سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر عورت کو بھی خواب میں وہی کیفیت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی نے فرمایا اسے چاہئے کہ غسل کرلے۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ زَعَمَتْ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُحْتَضِنًا أَحَدَ ابْنَيْ ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتُجَبِّنُونَ وَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتُجَبِّنُونَ
حضرت خولہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرات حسنین کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، نبی نے انہیں سینے سے لگا لیا اور فرمایا اولاد بخل اور بزدلی کا سبب بن جاتی ہے اور تم اللہ کا ریحان ہو اور وہ آخری پکڑ جو رحمان نے کفار پر فرمائی وہ مقام وج میں تھی۔ فائدہ وج طائف کے ایک علاقے کا نام تھا جس کے بعد نبی نے کوئی غزوہ نہیں فرمایا۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَكَ حَوْضًا قَالَ نَعَمْ وَأَحَبُّ مَنْ وَرَدَهُ عَلَيَّ قَوْمُكِ
حضرت خولہ بنت حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کا حوض ہوگا؟ نبی نے فرمایا ہاں! اور اس حوض پر میرے پاس آنے والوں میں سب سے پسند یدہ لوگ تمہاری قوم کے لوگ ہونگے۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يُحَنَّسَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ حَمْزَةَ فِي بَيْتِهَا وَكَانَتْ تُحَدِّثُهُ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَالَتْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا قَالَ أَجَلْ وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ يَرْوَى مِنْهُ قَوْمُكِ قَالَتْ فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ بُرْمَةً فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيرَةٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَاحْتَرَقَتْ أَصَابِعُهُ فَقَالَ حَسِّ ثُمَّ قَالَ ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ حَسِّ وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ حَسِّ
یحنس کہتے ہیں جب حضرت امیر حمزہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے بنو نجار کی خاتون خولہ بنت قیس سے خولہ نبی کی احادیث بیان کرتی تھیں وہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ہمارے یہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے معلوم ہوا کہ آپ فرماتے ہیں قیامت کے دن آپ کا ایک حوض ہوگا جس کی مسافت فلاں علاقے سے فلاں علاقے تک ہوگی؟ نبی نے فرمایا یہ بات صحیح ہے اور اس سے سیراب ہونے والوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہوگی۔ حضرت خولہ مزید کہتی ہیں کہ پھر میں نبی کی خدمت میں ایک ہنڈیا لے کر حاضر ہوئی، جس میں خبزہ یا حریرہ تھا، نبی نے کھانا تناول فرمانے کے لئے ہنڈیا میں ہاتھ ڈالا تو اس کے گرم ہونے کی وجہ سے نبی کی انگلیاں جل گئیں اور نبی کے منہ سے " حس " نکلا، پھر فرمایا اگر ابن آدم کو ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے تب بھی " حس " کہتا ہے اور اگر گرمی کا احساس ہوتا ہے تب بھی " حس " کہتا ہے۔
حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ سَنُوطَا يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ وَقَدْ قَالَ خَوْلَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ بَيْتَهُ فَتَذَاكَرُوا الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ
حضرت خولہ بنت قیس جو حضرت حمزہ کی اہلیہ تھیں، سے مروی ہے کہ ایک دن نبی حضرت حمزہ کے پاس تشریف لائے اور دنیا کا تذکرہ ہونے لگا، نبی نے فرمایا دنیا سرسبز و شیریں ہے، جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت سے گھسنے والے ایسے ہیں جنہیں اللہ سے ملنے کے دن جہنم میں داخل کیا جائے گا۔