حضرت حسان بن ثابت (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 841 · 3 hadiths

20930Musnad Imam Ahmad

حضرت حسان بن ثابت (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ قَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ نَعَمْ

حضرت عمر ؓ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت ؓ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر ؓ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی۔

20931Musnad Imam Ahmad

حضرت حسان بن ثابت (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى حَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنْشِدُ الشِّعْرَ قَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ أَوْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ

حضرت عمر ؓ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت ؓ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر ؓ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی۔

20932Musnad Imam Ahmad

حضرت حسان بن ثابت (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ مَرَّ عُمَرُ عَلَى حَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَهْ قَالَ لَهُ حَسَّانُ قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ قَالَ فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ

حضرت عمر ؓ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت ؓ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر ؓ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی پھر حضرت عمر ؓ وہاں سے چلے گئے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کی مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔