حضرت خریم بن فاتک کی حدیثیں۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 245 · 6 hadiths

15487Musnad Imam Ahmad

حضرت خریم بن فاتک کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي سَمِعَ خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ الْأَسَدِيَّ يَقُولُ أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ كَيْفَ يَشَاءُ وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ وَلَنْ يَمُوتُوا إِلَّا هَمًّا أَوْ غَيْظًا أَوْ حُزْنًا

حضرت خریم بن فاتک کہتے ہیں کہ اہل شام زمین میں خدائی کوڑا ہیں اللہ ان کے ذریعے جس سے چاہتا ہے انتقام لے لیتا ہے اور ان کے منافقین کے لئے ان کے مومنین پر غالب آن احرام کردیا گیا ہے وہ جب بھی مریں گے تو غم غصے کی اور پریشانی کی حالت ہی میں مریں گے۔

15488Musnad Imam Ahmad

حضرت خریم بن فاتک کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ حَدَّثَنَا طَيَّافٌ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ عَنِ ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ عَنِ أَبِيهِ شُرَاحْبِيلَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ لِي أَرْحَامًا بِمِصْرَ يَتَّخِذُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْنَابِ قَالَ وَفَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا تَكُونُوا بِمَنْزِلَةِ الْيَهُودِ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا فَعَصَرَهُ فَشَرِبَهُ قَالَ لَا بَأْسَ فَلَمَّا نَزَلْتُ قَالَ مَا حَلَّ شُرْبُهُ حَلَّ بَيْعُهُ

شراحیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا کہ میرے کچھ رشتہ دار جو مصر میں رہتے ہیں انگوروں کی شراب بناتے ہیں انہوں نے حیرانگی سے پوچھا کہ کیا مسلمان بھی یہ کام کرتا ہے میں نے کہا جی ہاں وہ فرمانے لگے کہ تم یہودیوں کی طرح نہ ہوجاؤ اور ان پر چربی حرام ہوئی تھی تو وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے میں نے ان سے پوچھا کہ اس شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جو انگوروں کا خوشہ پکڑے اور اسے نچوڑے اور اسی وقت اس کا عرق پی جائے انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے جب میں اترنے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ جس چیز کا پینا حلال ہے اس کی تجارت بھی حلال ہے۔

15489Musnad Imam Ahmad

حضرت خریم بن فاتک کی حدیثیں۔

قَالَ حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَكْحُولٍ رَفَعَهُ قَالَ أَيُّمَا شَجَرَةٍ أَظَلَّتْ عَلَى قَوْمٍ فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ مِنْ قَطْعِ مَا أَظَلَّ أَوْ أَكْلِ ثَمَرِهَا

مکحول کہتے ہیں جو درخت کسی قوم پر سایہ کرتا ہو اس کے مالک کو اختیار ہے کہ اس کا سایہ ختم کردے یا اس کا پھل کھالے۔

15490Musnad Imam Ahmad

حضرت خریم بن فاتک کی حدیثیں۔

قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فِي السُّوقِ يَوْمَ الْعِيدِ يَنْظُرُ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ

حضرت عبدالرحمن بن عثمان سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ عید کے دن نبی ﷺ کو بازار میں کھڑے ہوئے دیکھا لوگ برابر آ جارہے تھے۔

15491Musnad Imam Ahmad

حضرت خریم بن فاتک کی حدیثیں۔

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالَدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ ذَكَرَ طَبِيبٌ الدَّوَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الضُّفْدَعَ تَكُونُ فِي الدَّوَاءِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا

حضرت عبدالرحمن بن عثمان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی طبیب نے نبی ﷺ کے سامنے ایک دواء کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ اس میں مینڈک کے اجزاء بھی شامل کریں گے تو نبی ﷺ نے مینڈک کو مارنے سے منع کردیا۔

15492Musnad Imam Ahmad

حضرت خریم بن فاتک کی حدیثیں۔

قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَهَارُونُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ وَقَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ

حضرت عبدالرحمن بن عثمان سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حاجیوں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔