حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا فَلَعِقَ أَصَابِعَهُ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ کھانا تناول فرمایا اور بعد میں انگلیاں چاٹ لیں۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْ شَائِهَا فَأَدْرَكَتْهَا الرَّاعِيَةُ فَذَكَّتْهَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا
حضرت کعب بن مالک ؓ کی ایک باندی تھی جو مقام سلع میں ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی ایک مرتبہ ایک بھیڑیا ایک بکری کو لے کر بھاگ گیا اس باندی نے اس کا پیچھا کر کے اس کو جالیا اور اسے ایک دھاری دار پتھر سے ذبح کرلیا حضرت کعب بن مالک ؓ نے نبی ﷺ سے اس بکری کا حکم پوچھا تو نبی ﷺ نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دیدی۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ مُلَازِمٌ رَجُلًا فِي أُوقِيَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ هَكَذَا أَيْ ضَعْ عَنْهُ الشَّطْرَ قَالَ الرَّجُلُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ أَدِّ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ مِنْ حَقِّهِ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی شخص سے اپنی دو اوقیہ چاندی کا مطالبہ کر رہے تھے کہ نبی ﷺ وہاں سے گذرے نبی ﷺ نے اشارہ کرکے مجھ سے فرمایا کہ اس کا نصف قرض معاف کردو میں نے عرض کیا بہت بہتر یا رسول اللہ نبی ﷺ نے دوسرے سے فرمایا کہ اب جو حق باقی بچا ہے اسے ادا کرو۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ مِنْ الطَّعَامِ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ کھانا کھایا اور بعد میں اپنی انگلیاں چاٹ لیں۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ سَوْدَاءَ ذَكَّتْ شَاةً لَهُمْ بِمَرْوَةٍ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ان کی ایک سیاہ فام باندی تھی جس نے ایک بکری کو دھاری دار پتھر سے ذبح کرلیا حضرت کعب بن مالک ؓ نے نبی ﷺ سے اس بکری کا حکم پوچھا تو نبی ﷺ نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دیدی۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ شَكَّ يَعْنِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُقِيمُهَا الرِّيَاحُ تَعْدِلُهَا مَرَّةً وَتَصْرَعُهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُقِلُّهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا يَخْتَلِعُهَا أَوْ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن کی مثال کھیتی کے ان دانوں کی سی ہے جنہیں ہوا اڑاتی ہے کبھی برابر کرتی ہے اور کبھی دوسری جگہ لے جا کر پٹخ دیتی ہے یہاں تک کہ اس کا وقت مقررہ آجائے اور کافر کی مثال ان چاولوں کی سی ہے جو اپنی جڑ پر کھڑے رہتے ہیں انہیں کوئی چیز نہیں ہلا سکتی یہاں تک کہ ایک ہی مرتبہ انہیں اتار لیا جاتا ہے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْجِنِي إِلَّا بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ لَا أَكْذِبَ أَبَدًا وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اللہ نے مجھے سچ کے علاوہ کسی اور چیز کی برکت سے نجات نہیں دی اب میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ آئندہ میں کبھی جھوٹ نہ بولوں اور میں اپنا سارامال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کرتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا تھوڑا بہت اپنے پاس بھی رکھ لو تو بہتر ہے عرض کیا کہ پھر میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ لیتاہوں۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحٍ قَالَ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَتَجَهَّزُ غَدًا ثُمَّ أَلْحَقُهُ فَأَخَذْتُ فِي جَهَازِي فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ فَقُلْتُ آخُذُ فِي جَهَازِي غَدًا وَالنَّاسُ قَرِيبٌ بَعْدُ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَخَذْتُ فِي جَهَازِي فَأَمْسَيْتُ فَلَمْ أَفْرُغْ فَقُلْتُ أَيْهَاتَ سَارَ النَّاسُ ثَلَاثًا فَأَقَمْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ النَّاسُ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي هَذِهِ الْغَزَاةِ فَأَعْرَضَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يُكَلِّمُونَا وَأُمِرَتْ نِسَاؤُنَا أَنْ يَتَحَوَّلْنَ عَنَّا قَالَ فَتَسَوَّرْتُ حَائِطًا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا أَنَا بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ أَيْ جَابِرُ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ عَلِمْتَنِي غَشَشْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَوْمًا قَطُّ قَالَ فَسَكَتَ عَنِّي فَجَعَلَ لَا يُكَلِّمُنِي قَالَ فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا عَلَى الثَّنِيَّةِ يَقُولُ كَعْبًا كَعْبًا حَتَّى دَنَا مِنِّي فَقَالَ بَشِّرُوا كَعْبًا
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے اس غزوے کے علاوہ کسی دوسرے غزوے میں اتنا مالدار نہیں تھا کہ جب نبی ﷺ روانہ ہوئے تو میں نے سوچا کہ کل سامان سفر درست کر کے نبی ﷺ سے جا ملوں گا چناچہ میں نے تیاری شرع کردی توشام ہوگئی لیکن میں فارغ نہیں ہوسکا حتی کہ تیسرے دن بھی اسی طرح ہوا میں کہنے لگا کہ ہائے افسوس لوگ تین دن کا سفر طے کرچکے ہیں یہ سوچ کر میں رک گیا۔ جب نبی ﷺ واپس آگئے تو لوگ مختلف عذر بیان کرنے لگے کہ میں بھی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر نبی ﷺ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور عرض کیا کہ مجھ اس غزوے سے زیادہ کسی غزوے میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے آسانی حاصل نہ تھی اس پر نبی ﷺ نے مجھ سے اعرض فرمالیا اور لوگوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے بھی منع فرما دیا بیویوں کے متعلق حکم دیا گیا کہ وہ ہم سے دور رہیں ایک دن میں گھر کی دیوار پر چڑھا تو مجھے جابر ؓ نظر آئے میں نے جابر ؓ سے کہا اے جابر ؓ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں علم ہے کہ میں نے کسی دن اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دیاہو لیکن وہ خاموش رہے اور مجھ سے کوئی بات نہیں کی ایک دن میں اسی حال میں تھا کہ میں نے ایک پہاڑی کی چوٹی سے کسی کو اپنانام لیتے ہوئے سنا یہاں تک کہ وہ میرے قریب آگیا اور کہنے لگا کہ کعب بن مالک ؓ کے لئے خوش خبری ہے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَسَبَّحَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَجَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ فَيَأْتِيهِ النَّاسُ فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور سلام پھیر کر اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھ جاتے اور لوگ آ کر نبی ﷺ کو سلام کرتے تھے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ ضُحًى فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ فَعَلَ ذَلِكَ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ غزوہ تبوک سے چاشت کے وقت واپس آئے تھے واپسی پر آپ نے مسجد میں دو رکعتیں پڑھیں اور نبی ﷺ جب بھی سفر سے واپس آتے تو ایسا ہی کرتے تھے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مِنْ تَبُوكَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَعَلَ ذَلِكَ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ غزوہ تبوک سے چاشت کے وقت واپس آئے تھے واپسی پر آپ نے مسجد میں دو رکعتیں پڑھیں اور نبی ﷺ جب بھی سفر سے واپس آتے تو ایسا ہی کرتے تھے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَمِّهِ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور سلام پھیر کر اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھ جاتے اور لوگ آ کر نبی ﷺ کو سلام کرتے تھے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ مُبَشِّرٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ شَاكٍ اقْرَأْ عَلَى ابْنِي السَّلَامَ تَعْنِي مُبَشِّرًا فَقَالَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُسْلِمِ طَيْرٌ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَتْ صَدَقْتَ فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ
عبدالرحمن بن کعب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت کعب بن مالک ؓ بیمار ہوئے تو ام مبشر ان سے کہنے لگے کہ میرے بیٹے مبشر کو میرا سلام کہنا جب موت کے بعد اس سے ملاقات ہو انہوں نے فرمایا کہ ام مبشر اللہ تمہاری مغفرت فرمائے کیا تم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہے تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں واپس لوٹا دیں گے ام مبشر نے اس پر کہا کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ طَائِرٌ يَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہیں تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں لوٹا دیں گے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہیں تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں لوٹادیں گے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہیں تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں لوٹادیں گے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُسْلِمِ طَيْرٌ يَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہیں تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں لوٹا دیں گے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَلَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایسابہت کم ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے سفر کا ارادہ فرمایا ہو وہ جمعرات کا دن نہ ہو۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَلَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بہت کم ایسا کرتے تھے کہ کسی غزوے کا ارادہ ہوا اور اس میں کسی دوسری جگہ کے ارادے سے اسے مخفی نہ فرماتے ہوں سوائے غزوہ تبوک کے کہ شدید گرمی میں نبی ﷺ نے لمبے سفر اور صحراؤں کا ارادہ کیا تھا اور دشمن کی ایک کثیر تعداد کا سامنا کرنا تھا اس لئے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو اس کی وضاحت فرمادی تھی کہ تاکہ وہ دشمن سے مقابلے کے لئے خوب اچھی طرح تیاری کرلیں اور انہیں اسی جہت کا پتہ بتادیا جہاں نبی ﷺ نے ارادہ فرما رکھا تھا۔
حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ وَيَكْسُونِي رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حُلَّةً خَضْرَاءَ ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ فَذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ
حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا اور میں اور میری امتی ایک ٹیلے پر ہوں گے میرا رب مجھے سبز رنگ کا ایک قیمتی جوڑا پہنائے گا پھر مجھے اجازت ملے گی اور میں اللہ کی مرضی کے مطابق اس کی تعریف کروں گا یہی مقام محمود ہے۔