ایک صحابی (رض) کی روایت

Musnad Imam Ahmad · Chapter 312 · 65 hadiths · Page 1 of 4

15995Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ وَقَالَ لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ وَالْأَنْصَارُ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ لِيَنْزِلْ النَّاسُ حَوْلَهُمْ قَالَ وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَفُتِّحَتْ أَسْمَاعُ أَهْلِ مِنًى حَتَّى سَمِعُوهُ فِي مَنَازِلِهِمْ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَمِعْتُ مُصْعَبًا الزُّبَيْرِيَّ يَقُولُ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ الْقَاصُّ إِلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا قَدْ نَهَوْنِي أَنْ أَقُصَّ هَذَا الْحَدِيثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ فَقَالَ مَالِكٌ حَدِّثْ بِهِ وَقُصَّ بِهِ وَقُولَهُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے میدان منیٰ میں لوگوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ فرمایا: اور انصار یہاں اتریں اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ فرمایا: پھر لوگ ان کے آس پاس اتریں، پھر نبی ﷺ نے انہیں مناسک حج کی تعلیم دی، جس نے اہل منیٰ کے کان کھول دیئے اور سب کو اپنے اپنے پڑاؤ پر نبی ﷺ کی آواز سنائی دیتی رہی، میں نے بھی نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹھیکری کی کنکری جیسی کنکریوں سے جمرات کی رمی کرو۔ مروی ہے کہ ابوطلحہ واعظ نامی ایک شخص امام مالک کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعبداللہ! لوگ مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے روکتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ علی ابراہیم انک حمید مجید وعلی محمد وعلی اہل بیتہ وعلی ازواجہ، امام مالک نے فرمایا تم یہ حدیث بیان کرسکتے ہو اور اپنے وعظ میں اسے ذکر کرسکتے ہو۔

15997Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب ذمیوں کی ایک قوم ہوگی، جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا وہ جنت کی مہک بھی نہ سونگھ سکے گا، حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔

15999Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ فَيُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کے آخر میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا، یہ وہ لوگ ہوں گے جو گناہ کی برائی کو بیان کریں گے۔

16000Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا أَكِلُهُمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ مِنْ بَنِي عِجْلٍ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں کچھ بھی نہیں دیتا، بلکہ انہیں ان کے ایمان کے حوالے کردیتا ہوں انہی میں فرات بن حیان ہے، ان کا تعلق بنوعجل سے تھا۔

16003Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ مُنِيبٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ بَلَغَ رَجُلًا عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بِمِصْرَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْحَدِيثِ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، دوسرے صحابی کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے پہلے صحابی کی طرف رخت سفر باندھا جو کہ مصر میں رہتے تھے، وہاں پہنچ کر ان سے پوچھا کیا آپ نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو سفر کرنے والے صحابی نے فرمایا کہ میں نے بھی نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

16006Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ الْقَعْقَاعِ يُحَدِّثُ رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ قَالَ رَمَقَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، نبی ﷺ یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ! میرے گناہ کو معاف فرما، میرے گھر میں کشادگی عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔

16007Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ فَقَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي قَالَ شُعْبَةُ فَأَحْسِبُهُ قَالَ فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا

ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی بیعت کر لیجیے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں، جندب نے کہا مت جاؤ، میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ، میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔

16008Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا، اس وقت نبی ﷺ روزے سے تھے اور نبی ﷺ مسلسل روزہ رکھتے رہے، پھر نبی ﷺ نے مقام کدید میں پہنچ کر پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔

16009Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ وَقَالَ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوًّا لَكُمْ فَتَقَوَّوْا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی ﷺ نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو، لیکن خود نبی ﷺ نے روزہ رکھ لیا، اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا، چناچہ نبی ﷺ نے مقام کدید پہنچ کر روزہ افطار کرلیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا۔

16019Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلَاةٌ فَإِذَا طُفْتُمْ فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ بَكْرٍ

ایک صحابی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا طواف بھی نماز ہی کی طرح ہوتا ہے، اس لئے جب تم طواف کیا کرو تو گفتگو کم کیا کرو۔

16021Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكْمِلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی، اگر اس نے اسے مکل اداء کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں؟ کہ ان کے ذریعے فرائض کی تکمیل کرسکو، اسی طرح زکوٰۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔

16022Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أُرَاهُمْ اللَّيْلَةَ إِلَّا سَيُبَيِّتُونَكُمْ فَإِنْ فَعَلُوا فَشِعَارُكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے لگتا ہے کہ آج رات دشمن شب خون مارے گا، اگر ایسا ہو تو تمہارا شعار حم لا ینصرون کے الفاظ ہوں گے۔

16023Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ أَنْتَ مُحَمَّدٌ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِلَامَ تَدْعُو قَالَ أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ مَنْ إِذَا كَانَ بِكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَمَنْ إِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَكَ وَمَنْ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَأَضْلَلْتَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ قَالَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ قَالَ أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَهُ لَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا أَوْ قَالَ أَحَدًا شَكَّ الْحَكَمُ قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعِيرًا وَلَا شَاةً مُنْذُ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزْهَدْ فِي الْمَعْرُوفِ وَلَوْ مُنْبَسِطٌ وَجْهُكَ إِلَى أَخِيكَ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ وَأَفْرِغْ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَاتَّزِرْ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنْ الْمَخِيلَةِ وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی آیا اور نبی ﷺ کو مخاطب کر کے کہنے لگا کیا آپ ہی اللہ کے پیغمبر ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! اس نے پوچھا کہ آپ کن چیزوں کی دعوت دیتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اس اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں جو یکتا ہے، یہ بتاؤ کہ وہ کون سی ہستی ہے کہ جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے اور تم اسے پکارتے ہو تو وہ تمہاری مصیبت دور کردیتی ہے؟ وہ کون ہے کہ جب تم قحط سالی میں مبتلا ہوتے ہو اور اس سے دعاء کرتے ہو تو وہ پیداوار ظاہر کردیتا ہے؟ وہ کون ہے کہ جب تم کسی بیابان اور جنگل میں راستہ بھول جاؤ اور اس سے دعاء کرو تو وہ تمہیں واپس پہنچا دیتا ہے۔ یہ سن کر وہ شخص مسلمان ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت کیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا کسی چیز کو گالی نہ دینا، وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے میں کبھی کسی اونٹ یا بکری تک کو گالی نہیں دی جب سے نبی ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی اور نیکی سے بےرغبتی ظاہر نہ کرنا، اگرچہ وہ بات کرتے ہوئے اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ہی ہو، پانی مانگنے والے کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈال دینا اور تہبند نصف پنڈلی تک باندھنا، اگر یہ نہیں کرسکتے تو ٹخنوں تک باندھ لینا، لیکن تہبند کو لٹکنے سے بچانا کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ کو تکبر پسند نہیں ہے۔

16024Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُهَاجِرٍ الصَّائِغِ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ وَسَمِعَ آخَرَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ غُفِرَ لَهُ

ایک شیخ سے جنہوں نے نبی ﷺ کو پایا ہے، مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو سورت کافرون کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ تو شریک سے بری ہوگیا، پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔

16025Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا أَوْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ فِي حَلْقِهِ مِنْ الذُّبْحَةِ وَقَالَ لَا أَدَعُ فِي نَفْسِي حَرَجًا مِنْ سَعْدٍ أَوْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت سعد یا اسعد بن زرارہ ؓ کو کسی زخم کی وجہ سے داغا اور فرمایا میں ان کے لئے جس چیز میں صحت اور تندرستی محسوس کروں گا، اس تدبیر کو ضرور اختیار کروں گا۔

16028Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدَاةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُسْفِرُ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقُ الْوَجْهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنْ الْمُوقِنِينَ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ قَالَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَمِنْ الدَّرَجَاتِ طِيبُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي النَّاسِ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ صبح کے وقت تشریف لائے تو بڑا خوشگوار موڈ تھا اور چہرے پر بشاشت کھیل رہی تھی، ہم نے نبی ﷺ سے اس کیفیت کا تذکرہ کیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہو؟ جبکہ آج رات میرے پاس میرا رب انتہائی حسین صورت میں آیا اور فرمایا اے محمد، میں نے عرض کیا لبیک ربی وسعدیک، فرمایا ملا اعلی کے فرشتے کس وجہ سے جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا پروردگار! میں نہیں جانتا (دو تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوا) پھر پروردگار نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں کے درمیان رکھ دیں جن کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے اور چھاتی میں محسوس کی، حتی کہ میرے سامنے آسمان و زمین کی ساری چیزیں نمایاں ہوگئیں، پھر آپ نے وکذلک نری ابراہیم والی آیت تلاوت فرمائی، اس کے بعد اللہ نے پھر پوچھا کہ اے محمد، ملا اعلی کے فرشتے کس چیز کے بارے جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا کفارات کے بارے میں، فرمایا کفارات سے کیا مراد ہے، میں نے عرض کیا جمعہ کے لئے اپنے پاؤں سے چل کر جانا، نماز کے بعد بھی مسجد میں بیٹھے رہنا، مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، ارشاد ہوا کہ جو شخص یہ کام کرلے وہ خیر کی زندگی گزارے گا اور خیر کی موت مرے گا اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجائے گا جیسے اپنی پیدائش کے دن تھا اور جو چیزیں بلند درجات کا سبب بنتی ہیں، وہ بہترین کلام، سلام کی اشاعت، کھانا کھلانا اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھنا ہے، پھر فرمایا اے محمد! جب نماز پڑھا کرو تو یہ دعاء کرلیا کرو، کہ اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کا سوال کرتا ہوں، منکرات سے بچنے کا، مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ تو میری طرف خصوصی توجہ فرما اور جب لوگوں میں کسی آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت عطا فرما دے۔

16029Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ خَرَجَ فَهَرَبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کے متعلق یہ حکم دیا کہ اسے مکہ اور مدینہ کے درمیان رجم کردیا جائے، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا، نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔

16030Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى جُعِلْتَ نَبِيًّا قَالَ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ

ایک صحابی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو کب نبی ﷺ بنایا گیا؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت جب کہ حضرت آدم ابھی روح اور جسم ہی کے درمیان تھے۔

16359Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ ابْنُ شُفْعَةَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُقَالُ لِلْوِلْدَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ قَالَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا قَالَ فَيَأْتُونَ قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا لِي أَرَاهُمْ مُحْبَنْطِئِينَ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ قَالَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا قَالَ فَيَقُولُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن چھوٹے بچوں سے کہا جائے گا کہ تم سب جنت میں داخل ہوجاؤ، وہ کہیں گے پروردگار! اس وقت، جب ہمارے والدین بھی جنت میں داخل ہوجائیں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ مجھ سے جھگڑا کرتے ہوئے کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ جنت میں داخل ہوجاؤ، وہ پھر کہیں گے پروردگار! ہمارے ہمارے والدین بھی؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم اور تمہارے والدین سب جنت میں داخل ہوجاؤ۔

16588Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ إِنَّ هَذَا لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَأَتَاهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَدْ وَاللَّهِ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ الرَّجُلُ إِلَى كِنَانَتِهِ فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهِ فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ قَدْ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ

غزوہ خیبر میں شریک ہونے والے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جو نبی ﷺ کے ہمراہ تھا اس کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا یہ جہنمی ہے جب جنگ شروع ہوئی تو اس شخص نے انتہائی بےجگری سے جنگ لڑی اور اسے کثرت سے زخم آئے، نبی ﷺ کی خدمت میں چند صحابہ ؓ آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ دیکھئے تو سہی، جس آدمی کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ یہ جہنمی ہے، واللہ اس نے تو اللہ کے راستہ میں انتہائی بےجگری سے جنگ لڑی ہے اور اسے کثرت سے زخم آئے ہیں؟ قریب تھا کہ لوگ شک میں مبتلا ہوجاتے لیکن اسی دوران اس شخص کو اپنے زخموں کی تکلیف بہت زیادہ محسوس ہونے لگی، اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اسے اپنے سینے میں گھونپ لیا، یہ دیکھ کر ایک مسلمان دوڑتا ہوا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اللہ نے آپ کی بات سچ کر دکھائی، اس شخص نے اپنے سینے میں تیر گھونپ کر خود کشی کرلی ہے۔