حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 475 · 27 hadiths · Page 1 of 2

17014Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ كُنَّا غِلْمَانًا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ نَكُنْ نُحْسِنُ نَسْأَلُهُ فَقُلْتُ أَشَيْخًا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ

حضرت حریز بن عثمان (رح) سے مروی ہے کہ ہم چند بچے حضرت عبداللہ بن بسر ؓ جو نبی ﷺ کے صحابی تھے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں صحیح طرح سوال کرنا بھی نہیں آتا تھا، میں نے ان سے پوچھا کیا نبی ﷺ بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔

17015Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَاهُ صَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ فَأَجَابَهُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد نے نبی ﷺ کے لئے کھانے کا اہتمام کیا اور نبی ﷺ کی دعوت کی، نبی ﷺ نے اسے قبول فرما لیا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ نے دعاء فرمائی اے اللہ! ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما اور ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔

17016Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی (لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا) آیا، نبی ﷺ نے فرمایا بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی اور دیر سے آئے۔

17017Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَذَكَرُوا وَطْبَةً وَطَعَامًا وَشَرَابًا فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي بِهِ ثُمَّ قَامَ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے یہاں آئے، پھر انہوں نے تر کھجوروں کھانے اور پینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نبی ﷺ کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور اپنے سفید خچر پر سوار ہوگئے، میں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی ﷺ نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔

17018Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ جَدَّتِي تَمْرًا يُقَلِّلُهُ وَطَبَخَتْ لَهُ وَسَقَيْنَاهُمْ فَنَفِدَ الْقَدَحُ فَجِئْتُ بِقَدَحٍ آخَرَ وَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِ الْقَدَحَ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے یہاں آئے، میری دادی نے تھوڑی سی کھجوریں پیش کیں اور وہ کھانا جو انہوں نے پکا رکھا تھا، پھر ہم نے نبی ﷺ کو پانی پلایا، ایک پیالہ ختم ہوا تو میں دوسرا پیالہ لے آیا کیونکہ خادم میں ہی تھا، نبی ﷺ نے فرمایا وہی پیالہ لاؤ جو ابھی لائے تھے۔

17019Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ كَانَتْ أُخْتِي رُبَّمَا بَعَثَتْنِي بِالشَّيْءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُطْرِفُهُ إِيَّاهُ فَيَقْبَلُهُ مِنِّي

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات میری بہن کوئی چیز دے کر مجھے نبی ﷺ کے پاس بھیجتی تھی، تو نبی ﷺ اسے مجھ سے قبول فرما لیتے تھے۔

17020Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْعُوهُ إِلَى الطَّعَامِ فَجَاءَ مَعِي فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَحَّبَا بِهِ وَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي هَاتِ طَعَامَكِ فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے والد نے نبی ﷺ کو کھانے پر بلانے کے لئے مجھے بھیجا، نبی ﷺ میرے ساتھ آگئے، جب گھر کے قریب پہنچے تو میں نے جلدی سے جا کر اپنے والدین کو بتایا، وہ دونوں گھر سے باہر آئے، نبی ﷺ کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا، پھر ہم نے ایک دبیز چادر جو ہمارے پاس تھی، بچھائی، نبی ﷺ اس پر بیٹھ گئے، پھر والد صاحب نے میری والدہ سے کہا کہ کھانا لاؤ، چناچہ وہ ایک پیالہ لے کر آئیں جس میں پانی اور نمک ملا کر آٹے سے بنی روٹی تھی، انہوں نے وہ برتن نبی ﷺ کے سامنے لا کر رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کناروں سے اسے کھاؤ، درمیان کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ برکت اس حصے پر اترتی ہے، پھر نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا: ہم نے بھی اسے کھایا لیکن وہ پھر بھی بچ گئی، پھر نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما، انہیں برکت عطاء فرما اور ان کے رزق کو کشادہ فرما۔

17021Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِي وُجُوهِهِمْ فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يُهَابُ فِي اللَّهِ فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ ہوا، میں نے یہ حدیث سنی تھی کہ اگر تم کسی جماعت میں ہو جو بیس یا کم وبیش افراد پر مشتمل ہو، تم ان کے چہروں پر غور کرو لیکن تمہیں ان میں ایک بھی ایسا آدمی نظر نہ آئے جس سے اللہ کی خاطر مرعوب ہوا جائے تو سمجھ لو کہ معاملہ انتہائی کمزور ہوچکا ہے۔

17022Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيَّانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا مَنْ خَيْرُ الرِّجَالِ يَا مُحَمَّدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ وَقَالَ الْآخَرُ إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ قَالَ لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ دو دیہاتی آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے پوچھا اے محمد! ﷺ سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو، دوسرے نے کہا کہ احکام اسلام تو بہت زیادہ ہیں، کوئی ایسی جامع بات بتا دیجئے جسے ہم مضبوطی سے تھام لیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے۔

17023Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَيْخًا كَانَ قَالَ كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ

حضرت حریز بن عثمان (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔

17024Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَرِيزٌ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ لَا نَعْقِلُ الْعِلْمَ أَشَيْخًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ بِعَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ

حضرت حریز بن عثمان (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔

17025Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ أَوْ قَالَ لَهُ أَبِي انْزِلْ عَلَيَّ قَالَ فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ فَأَكَلَهُ وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے، نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا: نبی ﷺ کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی ﷺ نے نوش فرمالیا اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی ﷺ نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔

17026Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي أَوْ قَالَ أَبِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْزِلْ عَلَيَّ قَالَ فَنَزَلَ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ أَوْ بِحَيْسٍ قَالَ فَأَكَلَ ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ قَالَ فَشَرِبَ قَالَ ثُمَّ نَاوَلَ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ قَالَ وَكَانَ إِذَا أَكَلَ أَلْقَى النَّوَاةَ وَصَفَ شُعْبَةُ أَنَّهُ وَضَعَ النَّوَاةَ عَلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَمَى بِهَا فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ لَنَا فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے، نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا: نبی ﷺ کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی ﷺ نے نوش فرمالیا اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی ﷺ نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔

17027Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السَّلْمَيَيْنِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَالَا لَا مَا سَمِعْنَا مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ أَيُّهَا السَّائِلُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَا هَذِهِ أُخْتُنَا وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا وَقَدْ أَدْرَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت بسر ؓ کے دو بیٹوں کے پاس گیا اور ان کے لئے رحم و کرم کی دعاء کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کوئی شخص اپنے جانور پر سوار ہوتا ہے اور اسے کوڑے سے مارتا ہے اور لگام سے کھینچتا ہے، کیا اس کے متعلق آپ دونوں نے نبی ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ نہیں، ہم نے اس حوالے سے نبی ﷺ کا کوئی ارشاد نہیں سنا، اسی وقت گھر کے اندر سے ایک خاتون کی آواز آئی کہ اے سائل! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، زمین پر چلنے والا کوئی جانور اور فضاء میں اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہے جو تمہاری طرح مختلف خانوادوں میں تقسیم نہ ہو، ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، وہ دونوں کہنے لگے کہ یہ ہماری بہن ہیں جو ہم سے بڑی ہیں اور انہوں نے نبی ﷺ کو پایا ہے۔

17028Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ يَقُولُ تَرَوْنَ يَدِي هَذِهِ فَأَنَا بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ تم میرے ان ہاتھوں کو دیکھ رہے ہو، ان ہاتھوں سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ سے بیعت کی تھی اور نبی ﷺ نے فرمایا تھا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الاّ یہ کہ فرض روزہ ہو۔

17029Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ أُخْتِي تَبْعَثُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدِيَّةِ فَيَقْبَلُهَا

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات میری بہن کوئی چیز مجھے دے کر نبی ﷺ کے پاس بھیجتی تھی تو نبی ﷺ اسے مجھ سے قبول فرما لیتے تھے۔

17030Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہدیہ قبول فرما لیتے تھے، لیکن صدقہ قبول نہیں فرماتے تھے۔

17031Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ فَوَضَعْتُ أُصْبُعِي عَلَيْهَا فَقَالَ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ لَتَبْلُغَنَّ قَرْنًا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ ذَا جُمَّةٍ

عبداللہ حسن بن ایوب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن بسر ؓ نے اپنے سر پر سینگ کی جگہ (جہاں جانوروں کے سینگ ہوتے ہیں) ایک زخم دکھایا، میں نے اس پر انگلی رکھ کر دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے بھی اس پر انگلی رکھی تھی اور فرمایا تھا تم ایک لمبا عرصہ زندہ رہو گے۔

17032Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ حِمْصِيٌّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يَقُولُ تَرَوْنَ كَفِّي هَذِهِ فَأَشْهَدُ أَنِّي وَضَعْتُهَا عَلَى كَفِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ وَقَالَ إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ تم میرے ان ہاتھوں کو دیکھ رہے ہو، ان ہاتھوں سے میں نے نبی ﷺ سے بیعت کی تھی اور نبی ﷺ نے فرمایا تھا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الاّ یہ کہ فرض روزہ ہو، اس لئے اگر تم میں سے کسی کو درخت کی چھال کے علاوہ کچھ نہ ملے تو اسی سے روزہ افطار کرلے۔

17033Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ مَسِيحٌ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب جنگ اور شہر کے فتح ہونے میں چھ سال کا عرصہ گذرے گا اور ساتویں سال مسیح دجال کا خروج ہوجائے گا۔