ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 998 · 47 hadiths · Page 1 of 3

25263Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ وَكَانَتْ سَاعَةٌ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِيهَا أَحَدٌ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ قَالَ أَيُّوبُ أُرَاهُ قَالَ خَفِيفَتَيْنِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ نبی ﷺ کے پاس اس وقت کوئی نہیں آتا تھا نبی ﷺ دو رکعتیں پڑھتے تھے اور منادی نماز کے لئے اذان دینے لگتا تھا۔

25264Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنْ الْحَجِّ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی ﷺ نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جما لیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔

25265Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَعَفَّانُ وَيُونُسُ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ صَائِدٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ وَوَقَعَ فِيهِ فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ حَتَّى كَسَّرَهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ مَا يُولِعُكَ بِهِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا قَالَ عَفَّانُ عِنْدَ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ مَا تَوَالُعُكَ بِهِ

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ کی کسی گلی میں ایک مرتبہ ابن صائد کو دیکھا تو اسے سخت سست کہا اور اس کے متعلق تلخ جملے کہے، جس پر وہ پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا حضرت ابن عمر نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا حتی کہ وہ ٹوٹ گئی حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام ہے؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کرے گا۔

25266Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ لَتَصْدُقُنِّي قَالُوا نَعَمْ قَالَ قُلْتُ أَتُحَدِّثُونِي أَنَّهُ هُوَ قَالُوا لَا قُلْتُ كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُكُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَقَلُّكُمْ مَالًا وَوَلَدًا أَنَّهُ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا وَهُوَ الْيَوْمَ كَذَلِكَ قَالَ فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ تَغَيَّرَتْ عَيْنُهُ فَقُلْتُ مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى قَالَ لَا أَدْرِي قُلْتُ مَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ فَقَالَ مَا تُرِيدُ مِنِّي يَا ابْنَ عُمَرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَخْلُقَهُ مِنْ عَصَاكَ هَذِهِ خَلَقَهُ وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى تَكَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ فَدَخَلَ عَلَى أُخْتِهِ حَفْصَةَ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ مِنْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَخْبَرْتُهَا قَالَتْ مَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ غَضْبَةٌ يَغْضَبُهَا

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں ابن صائد سے دو مرتبہ ملا ہوں پہلی مرتبہ جب میں اس سے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی تھے میں نے ان میں سے کسی سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی سوال کروں تو کیا مجھے اس کا صحیح جواب دو گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں میں نے کہا کیا تم اسے وہی دجال سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا تم غلط بیانی سے کام لے رہے ہو واللہ تم میں سے کسی نے مجھے اس وقت بتایا تھا جب اس کے پاس مال و اولاد کی کمی تھی کہ یہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک مال واولاد میں تم سب سے زیادہ نہ ہوجائے اور آج ایسا ہی ہے پھر میں اس سے جدا ہوگیا۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس کی آنکھ خراب ہوگئی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری یہ آنکھ کب سے خراب ہوئی؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں میں نے کہا کہ تمہارے سر میں ہے اور تم ہی کو پتہ نہیں ہے اس نے کہا اے ابن عمر آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ اگر اللہ چاہے تو آپ کی اس لاٹھی میں بھی آنکھ پیدا کرسکتا ہے اور گدھے جیسی آواز میں اتنی زور سے چیخا کہ اس سے پہلے میں نے کبھی نہ سنا تھا، میرے ساتھی یہ سمجھے کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا حتی کہ وہ ٹوٹ گئی حالانکہ واللہ مجھے کچھ خبر نہ تھی، حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام ہے تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آ کر خروج کردے گا۔

25267Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَالَ فَزَعَمَ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى انْكَسَرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَلَمْ أَشْعُرْ بِذَلِكَ فَدَخَلْتُ عَلَى أُخْتِي حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ وَمَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ لِغَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کردے گا۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکر خروج کردے گا۔

25268Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ الْأَذَانِ بِالصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ مؤذن اذان دے دیتا نبی ﷺ نماز کھڑی ہونے سے پہلے مختصر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

25269Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَمِائَتَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ يَعْنِي الْجَزَرِيَّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَحَرَّمَ الطَّعَامَ وَكَانَ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ مؤذن اذان دے دیتا نبی ﷺ دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

25270Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا بَدَا الْفَجْرُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی ﷺ دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

25271Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی ﷺ نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔

25272Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی ﷺ صرف مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

25273Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الطَّالَقَانِيَّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت اذان اور اقامت کے درمیان نبی ﷺ دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔

25274Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَحِلَّ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ و قَالَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے حجۃ الوداع میں مجھے اپنے حج کا احرام کھول دینے کا حکم دیا۔

25275Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ قَالَ نَافِعٌ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَتْ لَهُ فُلَانَةُ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ فَقَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سال نبی ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو احرام کھول لینے کا حکم دیا تو کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی ﷺ نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔

25276Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ بِعُمْرَةٍ قُلْنَ فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَحِلَّ مَعَنَا قَالَ إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ وَلَبَّدْتُ فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي وَقَالَ يَعْقُوبُ فِي كِتَابِ الْحَجِّ أَنْحَرَ هَدِيَّتِي

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سال نبی ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو احرام کھول لینے کا حکم دیا تو کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی ﷺ نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سر کے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔

25277Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ فِي بَيْتِي يُخَفِّفُهُمَا جِدًّا قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُخَفِّفُهُمَا كَذَلِكَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت میرے گھر میں نبی ﷺ دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔

25278Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنْ الدَّوَابِّ فَقَالَ حَدَّثَتْنِي إِحْدَى النِّسْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقْتُلُ الْحُدَيَّا وَالْغُرَابَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے کسی نے سوال پوچھا یا رسول اللہ احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کرسکتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔

25279Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا قَالَ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونیوالا کوئی آدمی جہنم میں داخل نہ ہوگا میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا کہ تم میں سے ہر شخص اس میں وارد ہوگا تو میں نے نبی ﷺ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دیدیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔

25280Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ أَوْ بِعَامَيْنِ فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا وَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ ﷺ اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔

25281Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ فَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ ﷺ اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔

25282Musnad Imam Ahmad

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ أَوْ عَامَيْنِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ ﷺ اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے۔