حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْلَسَ بَيْنَ الضِّحِّ وَالظِّلِّ وَقَالَ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچھ دھوپ اور کچھ سائے میں بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ شیطانی نشست ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے پھر کھڑے ہوئے اور تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھادی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُقَالُ لَهُ يُوسُفُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ نَلِي مَالَ أَيْتَامٍ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ ذَهَبَ مِنِّي بِأَلْفِ دِرْهَمٍ قَالَ فَوَقَعَتْ لَهُ فِي يَدِي أَلْفُ دِرْهَمٍ قَالَ فَقُلْتُ لِلْقُرَشِيِّ إِنَّهُ قَدْ ذَهَبَ لِي بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَقَدْ أَصَبْتُ لَهُ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ فَقَالَ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنْ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ
حمید کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ایک آدمی تھا جس کا نام یوسف تھا اس کا کہنا ہے کہ میں اور قریش کا ایک دوسرا آدمی یتیموں کے مال کی نگہبانی کیا کرتے تھے اسی دوران ایک آدمی مجھ سے ایک ہزار درہم لے گیا بعد میں اس کے ایک ہزار درہم کہیں سے میرے ہاتھ لگ گئے میں نے اپنے قریشی ساتھی سے ذکر کیا فلاں آدمی مجھ سے ایک ہزار درہم لے کر گیا تھا اب مجھے کہیں سے اس کے ایک ہزار درہم ملے ہیں تو میں کیا کروں اس قریشی نے جواب دیا کہ مجھے میرے والد صاحب نے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص تمہارے پاس امانت رکھوائے اسے وہ امانت پہنچادیا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تم اس کے ساتھ خیانت نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ قَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ شَيْخٌ فَرَأَوْهُ مُوَثِّرًا فِي جَهَازِهِ فَسَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ يُرِيدُ الْمَغْرِبَ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ نَاسٌ إِلَى الْمَغْرِبِ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وُجُوهُهُمْ عَلَى ضَوْءِ الشَّمْسِ
ابومصعب کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ سے ایک مرتبہ ایک بزرگ تشریف لائے لوگوں نے دیکھا کہ وہ اپنا سامان سفر تیار کر رہے ہیں لوگوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ مغرب کی طرف جارہے ہیں اور کہنے لگے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب کچھ لوگ مغرب کی طرف نکل جائیں گے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ ان کے چہرے سورج کی طرح روشن ہوں گے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الكَلَاعِيُّ عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ وَالْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرُ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ کے پاس ایک صحابی آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی معاملے پر حکمران بنے اور کسی مسکین یا مظلوم یا ضرورت مند کے لئے اپنے دروازے بند رکھے اللہ اس کی ضرورت اور تنگدستی کے وقت جو زیادہ سخت ہوگی اپنی رحمت کے دروازے بند رکھے گا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ يُلْتَمَعَ بَصَرُهُ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر نہ دیکھے کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی بصارت سلب کرلی جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ
نبی ﷺ اکرم کی زیار کرنے والے ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ الْمُزَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ الْقَوْمِ يَا فُلَانُ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الْإِسْلَامَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ جَذَعًا ثُمَّ ثَنِيًّا ثُمَّ رَبَاعِيًا ثُمَّ سَدِيسِيًّا ثُمَّ بَازِلًا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَمَا بَعْدَ الْبُزُولِ إِلَّا النُّقْصَانُ
ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں ای کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت عمر فاروق بھی تھے انہوں نے لوگوں میں سے ایک آدمی سے فرمایا تم نے نبی ﷺ کو اسلام کے حالات میں کس طرح بیان کرتے ہوئے سنا تھا انہوں نے کہا میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کا آغاز بکری کے چھ ماہ کے بچے کی طرح ہوا ہے جو دو دانت کا ہوا پھر چار دانت کا ہوا پھر چھ دانت کا ہوا پھر کچلی والا ہوا اس پر حضرت عمر کہنے لگے کہ کچلی کے دانتوں کے بعد تو نقصان کی طرف واپسی شروع ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَتَمَجَّعُ لَبَنًا بِتَمْرٍ فَقَالَ ادْنُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُمَا الْأَطْيَبَيْنِ
اسماعیل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں ایک آدمی کے پاس گیا وہ دودھ اور کھجور اکٹھی کر کے کھا پی رہے تھے مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہ قریب آجاؤ کیونکہ نبی ﷺ نے ان دونوں چیزوں کو پاکیزہ قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
زادان کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث ایک صحابی نے بتائی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کو موت کے وقت لا الہ الا اللہ کی تلقین ہوگئی وہ جنت میں داخل ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ خَالِهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْشِرُ قَوْمِي قَالَ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ
بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا ٹیکس تو یہود و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ عَنْ خَالِهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ أَشْيَاءَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَعْشِرُهَا فَقَالَ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ
بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا ٹیکس تو یہود و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَرْبِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي أُمِّهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى
ابوامیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ٹیکس تو یہود و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَتَشَهَّدُ ثُمَّ أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا کہ تم نماز میں کیا پڑھتے ہو اس نے کہا تشہد پڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ میں آپ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے آپ کی پناہ مانگتاہوں البتہ میں اچھی طرح آپ کا طریقہ یا حضرت معاذ کا طریقہ اختیار نہیں کر پاتا نبی ﷺ نے بھی فرمایا ہم بھی اسی کے آس پاس گھومتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ بِالْفِطْرِ عَامَ الْفَتْحِ وَقَالَ تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ مِنْ الْعَطَشِ أَوْ مِنْ الْحَرِّ ثُمَّ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ طَائِفَةً مِنْ النَّاسِ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ فَلَمَّا كَانَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی ﷺ نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو لیکن خود نبی ﷺ نے روزہ رکھ لیا راوی کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا ہے اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو روزہ رکھ لیا چناچہ نبی ﷺ نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا۔
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَوْسٍ الْعَبْسِيَّ عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الضَّبِّيُّ أَنَّهُ أَتَى الْبَصْرَةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَمِيرًا فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي ظِلِّ الْقَصْرِ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَا يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ شَيْئًا فَقُلْتُ لَهُ لَقَدْ أَكْثَرْتَ مِنْ قَوْلِكَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ فَقُلْتُ أَجَلْ فَقَالَ اجْلِسْ إِذًا فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ كَانَ شَيْخَانِ لِلْحَيِّ قَدْ انْطَلَقَ ابْنٌ لَهُمَا فَلَحِقَ بِهِ فَقَالَا إِنَّكَ قَادِمٌ الْمَدِينَةَ وَإِنَّ ابْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأْتِهِ فَاطْلُبْهُ مِنْهُ فَإِنْ أَبَى إِلَّا الِافْتِدَاءَ فَافْتَدِهِ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ شَيْخَيْنِ لِلْحَيِّ أَمَرَانِي أَنْ أَطْلُبَ ابْنًا لَهُمَا عِنْدَكَ فَقَالَ تَعْرِفُهُ فَقَالَ أَعْرِفُ نَسَبَهُ فَدَعَا الْغُلَامَ فَجَاءَ فَقَالَ هُوَ ذَا فَأْتِ بِهِ أَبَوَيْهِ فَقُلْتُ الْفِدَاءَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَنَا آلُ مُحَمَّدٍ أَنْ نَأْكُلَ ثَمَنَ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى كَتِفِي ثُمَّ قَالَ لَا أَخْشَى عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا قُلْتُ وَمَا لَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ إِنْ طَالَ بِكَ الْعُمُرُ رَأَيْتَهُمْ هَاهُنَا حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهُمَا كَالْغَنَمِ بَيْنَ حَوْضَيْنِ مَرَّةً إِلَى هَذَا وَمَرَّةً إِلَى هَذَا فَأَنَا أَرَى نَاسًا يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُمْ الْعَامَ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَذَكَرْتُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عمران بن حصین ضبی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ بصرہ آئے اس وقت وہاں کے گورنر حضرت عبداللہ بن عباس تھے وہاں ایک آدمی محل کے سائے میں کھڑا ہوا بار بار یہی کہے جارہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا وہ اس سے آگے نہیں بڑھتا تھا میں اس کے قریب گیا اور اس سے پوچھا کہ آپ نے اتنی زیادہ مرتبہ کہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا اس نے جواب دیا کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتاسکتا ہوں میں نے کہا ضرور اس نے کہا پھر بیٹھ جاؤ اس نے کہا کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں فلاں فلاں وقت حاضر ہوا جبکہ آپ مدینہ منورہ میں تھے۔ اس وقت ہمارے قبیلے کے دو سراداروں کا ایک بچہ نکل کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا وہ دونوں مجھ سے کہنے لگے کہ وہاں ہمارا ایک بچہ بھی اس آدمی نبی ﷺ سے جا کر مل گیا ہے تم اس آدمی کے پاس جا کر اس سے ہمارا بچہ واپس دینے کی درخواست کرنا اگر وہ فدیہ لئے بغیر نہ مانے تو فدیہ بھی دیدینا چناچہ میں مدینہ منورہ پہنچ کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ مجھے قبیلے کے دو سردراوں نے یہ کہہ کر بھیجا ہے کہ ان کا جو بچہ آپ کے پاس آگیا ہے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی درخواست کروں نبی ﷺ نے پوچھا کہ تم اس بچے کو جانتے ہو میں نے عرض کیا کہ میں اس کا نسب نامہ جانتا ہوں نبی ﷺ نے اس لڑکے کو بلایا وہ آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ یہی بچہ ہے تم اسے اس کے والدین کے پاس لے جاسکتے ہو۔ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ کچھ فدیہ نبی ﷺ نے فرمایا ہم آل محمد کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اولاد اسماعیل کی قیمت کھاتے پھریں پھر میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا مطلب نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان پاؤ گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر جاتی ہیں چناچہ میں دیکھ رہاہوں کہ کچھ لوگ ابن عباس ؓ سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہیں میں نے اسی سال حضرت معاویہ سے ملنے کی اجازت مانگتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت مجھے نبی ﷺ کا یہ ارشاد یاد آگیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ عَنْ رَجُلٍ كَانَ قَدِيمًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ رَجُلٌ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي كِتَابًا أَنْ لَا أُؤَاخَذَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِكَ لَكَ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ
بنوتمیم کے ایک قدیم آدمی نے حضرت عثمان کے دور باسعادت میں اپنے والد کے حوالے سے بیان کیا کہ ان کی ملاقات نبی ﷺ سے ہوئی تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اس مضمون کی ایک تحریری لکھ کردیں کہ کسی کے جرم میں مجھے نہ پکڑاجائے نبی ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے اور ہر مسلمان کے لئے یہی حکم ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ أَمْرَ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ أَوْ الْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرَ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ کے پاس ایک صحابی آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں کا کسی معاملے پر حکمران بنے اور کسی مسکین مظلوم یا ضرورت مند کے لئے اپنے دروازے بند رکھے اللہ اس کی ضرورت اور تنگدستی کے وقت جو زیادہ سخت ہوگی اپنی رحمت کے دروازے بند رکھے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يَوْمَ صِفِّينَ أَفِيكُمْ أُوَيْسٌ الْقَرَنِيُّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ خَيْرِ التَّابِعِينَ أُوَيْسًا الْقَرَنِيَّ
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے دن ایک شامی آدمی نے پکار کر کہا کیا تمہارے درمیان اویس قرنی موجود ہیں لوگوں نے کہا ہاں اس پر انہوں نے کہا میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تابعین میں سب سے بہترین شخص اویس قرنی ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ أَمَّا بَعْدُ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ وَأَصْبَحَتْ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ اپنے سر مبارک پر پٹی باندھ کر نکلے اور خطبہ میں امابعد کہہ کر فرمایا اے گروہ مہاجرین تم لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے جبکہ انصار کی آج جو حالت ہے وہ اس سے آگے نہیں بڑھیں گے انصار میرے راز دان ہیں جہاں میں نے ٹھکانہ حاصل کیا اس لئے ان کے شرفاء کا احترام کرو اور ان کی خطاکاروں سے درگذر کیا کرو۔