ایک صحابی کی روایت۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 52 · 33 hadiths · Page 2 of 2

15629Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِي الْبَارِحَةَ قَالَ رَأَيْتُكَ تُنَاجِي رَجُلًا فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ قَالَ لَا قَالَ فَذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةَ بْنَ النُّعْمَانِ

ابوسلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت جبرائیل سے سرگوشی فرما رہے تھے کہ ایک آدمی وہاں سے گذرا وہ اس خوف سے نبی ﷺ کے قریب نہیں گیا کہ کہیں نبی ﷺ کی بات کانوں میں نہ پڑجائے اور وہ کوئی اہم بات ہو صبح ہوئی تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ رات کو جب تم میرے پاس گذر رہے تھے تو تمہیں مجھ کو سلام کرنے سے کس چیز نے روکا اس نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کسی شخص سے سرگوشی کر رہے ہیں مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو میرا قریب آنا ناگوار نہ لگے نبی ﷺ نے فرمایا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا اس نے کہا نہیں نبی ﷺ نے فرمایا وہ جبرائیل تھے اگر تم سلام کرتے تو وہ بھی تمہیں جواب دیتے بعض اسناد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گذرنے والے حارثہ بن نعمان تھے۔

15630Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ

نبی ﷺ کی زیارت کرنے والے ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھے تھے۔

15818Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الْكَلَامِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ

ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے افضل کلام سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ہے۔

19406Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَالنَّاسُ يَعْتَقِبُونَ وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ فَحَانَتْ نَزْلَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزْلَتِي فَلَحِقَنِي مِنْ بَعْدِي فَضَرَبَ مَنْكِبَيَّ فَقَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ ثُمَّ قَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ قَالَ إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَاقْرَأْ بِهِمَا

ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے چونکہ سواری کے جانور کم تھے اس لئے لوگ باری باری سوار ہوتے تھے ایک موقع پر نبی ﷺ اور میرے اترنے کی باری تھی تو نبی ﷺ پیچھے سے میرے قریب آئے اور میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا قل اعوذ برب الفلق پڑھو میں نے یہ کلمہ پڑھا اس طرح نبی ﷺ نے یہ سورت مکمل پڑھی اور میں نے بھی آپ کے ساتھ اسے پڑھ لیا پھر اسی طرح قل اعوذ برب الناس پڑھنے کے لئے فرمایا اور پوری سورت پڑھی جسے میں نے بھی یاد کرلیا پھر نبی ﷺ نے فرمایا جب نماز پڑھا کرو تو یہ دونوں سورتیں نماز میں پڑھ لیا کرو۔

19471Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ رَجُلًا أَشَدَّ سَوَادًا أَصْفَرَ مِنْهُ وَلَا آدَمَ يَعْبُرُ بِنَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَدَقَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ قَالَ فَلَزِمَهُ رَجُلٌ فَقَالَ هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ فَوَاللَّهِ لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ قَالَ فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَذَبْتَ بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ مِنْ الْإِبِلِ ثَلَاثًا قَالُوا إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ الْمُزْهِدُ الْمُجْهِدُ ثَلَاثًا الْمُزْهِدُ فِي الْعَيْشِ الْمُجْهِدُ فِي الْعِبَادَةِ

ابوسلیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بقیع میں ہماری مجلس پر ایک آدمی کھڑا ہو اور کہنے لگا کہ میرے والد یا چچا نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کو جنت البقیع میں دیکھا تو نبی ﷺ فرما رہے تھے جو شخص کوئی چیز صدقہ کرتا ہے میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا یہ سن کر میں اپنے عمامے کا ایک دو پرت کھولنے لگا کہ انہیں صدقہ کروں گا پھر مجھے بھی وہی وسوسہ آگیا جو عام طور پر ابن آدم کو پیش آتا ہے اس لئے میں نے اپناعمامہ واپس باندھ لیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی جس کی مانند سیاہ اور گندمی رنک کا کوئی آدمی میں نے جنت البقیع میں نہیں دیکھا تھا وہ ایک اونٹنی کو لئے چلاآرہا تھا جس سے زیادہ حسین کوئی اونٹنی میں نے پورے جنت البقیع میں نہیں دیکھی اس نے آکرعرض کی یا رسول اللہ کیا میں صدقہ پیش کرسکتا ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے کہا پھر یہ اونٹنی قبول فرما لیجیے پھر وہ آدمی چلا گیا میں نے کہا ایسا آدمی یہ صدقہ کررہا ہے واللہ یہ اونٹنی اس سے بہتر ہے۔ نبی ﷺ نے یہ بات سن لی اور فرمایا تم غلط کہہ رہے ہو بلکہ وہ تم سے اور اس اونٹنی سے بہتر ہے تین مرتبہ فرمایا پھر فرمایا سینکڑوں اونٹ رکھنے والوں کے لئے ہلاکت ہے سوائے۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ سوائے کس کے؟ فرمایا سوائے اس شخص کے جو مال کو اس اس طرح خرچ کرے نبی ﷺ نے ہتھیلی بند کرکے دائیں بائیں اشارہ فرمایا پھر فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جو زندگی میں بےرغبت اور عبادت میں خوب محنت کرنے والا ہو۔

19681Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ بِالْكُوفَةِ أَمِيرٌ قَالَ فَخَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ إِنَّ فِي إِعْطَاءِ هَذَا الْمَالِ فِتْنَةً وَفِي إِمْسَاكِهِ فِتْنَةً وَبِذَلِكَ قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ

مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ کوفہ میں نبی ﷺ کے ایک صحابی گورنر تھے ایک دن انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا یہ مال دینے میں بھی آزمائش ہے اور روک کر رکھنے میں بھی آزمائش ہے یہی بات ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں کھڑے ہو کر فرمائی تھی یہاں تک کہ فارغ ہو کر منبر سے نیچے اتر آئے۔

19685Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَعَبْدَةُ قَالَا ثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَعْطُوا كُلَّ سُورَةٍ حَظَّهَا مِنْ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ

نبی ﷺ کا یہ ارشاد سننے والے صحابی سے مروی ہے کہ ہر سورت کو رکوع و سجود میں سے اس کا حصہ دیا کرو۔

19814Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ فَأَشَارَ إِلَى الْيَهُودِ فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ الضَّالُّونَ يَعْنِي النَّصَارَى قَالَ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ أَوْ قَالَ غُلَامُكَ فُلَانٌ قَالَ بَلْ هُوَ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا

ایک صحابی سے مروی ہے کہ وادی قری میں ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے گھوڑے پر سوار تھے بنوقین کے کسی آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ مغضوب علیھم ہیں اور یہودیوں کی طرف اشارہ فرمایا اس نے پوچھا پھر یہ کون ہے فرمایا یہ گمراہ ہیں اور نصاری کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا بلکہ وہ جہنم میں اپنی چادر کھینچ رہا ہے یہ سزا ہے اس چادر کی جو اس نے مال غنیمت خیانت کرکے لی تھی۔

19821Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ فَقَالَ اقْرَأْ بِهِمَا فِي صَلَاتِكَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ

ایک صحابی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے پاس سے گذرے تو فرمایا کہ معوذتین کو اپنی نماز میں پڑھا کرو۔

19822Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالنَّاسُ يَعْتَقِبُونَ وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ فَحَانَتْ نَزْلَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزْلَتِي فَلَحِقَنِي مِنْ بَعْدِي فَضَرَبَ مَنْكِبِي فَقَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ ثُمَّ قَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ فَقَالَ إِذَا صَلَّيْتَ فَاقْرَأْ بِهِمَا

ایک صحابی کہتے ہیں ہم لوگ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کچون کہ سواری کے جانور کم تھے اس لئے لوگ باری باری سوار ہوتے تھے ایک موقع پر نبی ﷺ اور میرے اترنے کی باری آئی تو نبی ﷺ پیچھے سے میرے قریب ہوئے اور میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا قل اعوذ برب الفلق پڑھو۔ میں نے یہ کلمہ پڑھ لیا اس طرح نبی ﷺ نے یہ سورت مکمل کی اور میں نے بھی آپ کے ساتھ اس طرح پڑھا پھر اسی طرح قل اعوذ برب الناس پڑھنے کے لئے فرمایا اور پوری سورت پڑھی جسے میں نے بھی پڑھ لیا پھر نبی ﷺ نے فرمایا جب نماز پڑھا کرو تو یہ دونوں سورتیں نماز میں پڑھ لیا کرو۔

19825Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ وَغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَتْ لَهُ إِجَّارٌ فَوَقَعَ فَمَاتَ فَبَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ

ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈ یر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر پر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔

19826Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ كُنَّا بِفَارِسَ وَعَلَيْنَا أَمِيرٌ يُقَالُ لَهُ زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاتَ فَوْقَ إِجَّارٍ أَوْ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ حَوْلَهُ شَيْءٌ يَرُدُّ رِجْلَهُ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ بَعْدَ مَا يَرْتَجُّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ

ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈ یر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر پر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔

19841Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ أَوْ قَالَ تَقْرَءُونَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ قَالَ خَالِدٌ وَحَدَّثَنِي بَعْدُ وَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ إِنْ شَاءَ قَالَ لَا أَذْكُرُهُ

ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ واقع ہی ہم ایسا کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہے۔