حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ الْبَدْرِيَّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانَ هِجْرَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ أَوْ إِلَّا بِإِذْنِهِ
حضرت ابو مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری اور سب سے قدیم القراءت ہو، اگر سب لوگ قراءت میں برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے زیادہ عمر رسیدہ آدمی امامت کرے، کسی شخص کے گھر یا حکومت میں کوئی دوسرا امامت نہ کروائے، اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الاّ یہ کہ وہ اجازت دے دے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَرْجُوكَ بِهَا فَقَالَهَا لَهُ ثَلَاثًا وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَيْ رَبِّ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِي الدُّنْيَا فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي أَتَجَاوُزُ عَنْهُ وَكُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي فَغُفِرَ لَهُ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ آخَرُ أَمَرَ أَهْلَهُ إِذَا مَاتَ أَنْ يُحَرِّقُوهُ ثُمَّ يَطْحَنُوهُ ثُمَّ يُذَرُّونَهُ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ فَجُمِعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا قَالَ يَا رَبِّ لَمْ يَكُنْ عَبْدٌ أَعْصَى لَكَ مِنِّي فَرَجَوْتُ أَنْ أَنْجُوَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي فَغُفِرَ لَهُ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو بارگاہ الٰہی میں پیش کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو نے دنیا میں کیا کیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کا کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کے ثواب کی مجھے تجھ سے امید ہو، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا کہ پروردگار! تو نے مجھے دنیا میں مال و دولت کی فراونی عطاء فرمائی تھی اور میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، میری عادت تھی کہ میں لوگوں سے درگذر کرتا تھا، مالدار پر آسانی کردیتا تھا اور تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس بات کے حقدار تو تجھ سے زیادہ ہم ہیں، فرشتو! میرے بندے سے بھی درگذر کرو چناچہ اس کی بخشش ہوگئی، اس حدیث کو سن کر حضرت ابو مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث نبی ﷺ کے دہن مبارک سے اسی طرح سنی ہے۔ ایک اور آدمی تھا جس نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ مرجائے تو اسے جلا کر پیس لیں اور جس دن تیز ہوا چل رہی ہو تو اس کی راکھ بکھیر دیں، اس کے اہل خانہ نے ایسا ہی کیا، اس شخص کے تمام اعضاء کو پروردگار کی بارگاہ میں جمع کیا گیا اور اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار! مجھ سے زیادہ تیرا نافرمان بندہ کوئی نہیں تھا، میں نے سوچا کہ شاید اس طرح بچ جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا فرشتو! میرے بندے سے درگذر کرو، یہ حدیث سن کر بھی حضرت ابو مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث نبی ﷺ سے اسی طرح سنی ہے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَخَافَةَ فُلَانٍ يَعْنِي إِمَامَهُمْ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ
حضرت ابو مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی (اپنے امام) کے خوف سے میں فجر کی نماز سے رہ جاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ دوران وعظ نبی ﷺ کو کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، نبی ﷺ نے فرمایا لوگو! تم میں سے بعض افراد دوسرے لوگوں کو متنفر کردیتے ہیں، تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے، اسے چاہئے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ الْإِيمَانُ هَاهُنَا قَالَ أَلَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَصْحَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ قَالَ مُحَمَّدٌ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ
حضرت ابو مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے دست مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایمان یہاں ہے، یاد رکھو! دلوں کی سختی اور درشتی ان متکبروں میں ہوتی ہے جو اونٹوں کے مالک ہوں، جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے یعنی ربیعہ اور مضر نامی قبائل میں۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فَقَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَقَرَأْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ
حضرت ابو مسعود ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا یوں کہا کرو " اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید " گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ
حضرت ابو مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے وقت سورت بقرہ کے آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لئے کافی ہوجائیں گی۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ أَوْ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِيكُمْ وَإِنَّكُمْ وُلَاتُهُ وَلَنْ يَزَالَ فِيكُمْ حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ شَرَّ خَلْقِهِ فَيَلْتَحِيكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ
حضرت ابو مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ حکومت تمہارے ہاتھ میں رہے گی اور تم اس پر حاکم ہوگے اور اس وقت تک رہو گے جب تک بدعات ایجاد نہیں کرتے، جب تم ایسا کرنے لگو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنی مخلوق میں سے بدترین کو بھیج دے گا جو تمہیں لکڑی کی طرح چھیل دے گا۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ
حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ عورت کی کمائی اور کاہنوں کی مٹھائی کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَوْسَطَهُ وَآخِرَهُ
حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ قَالَ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ فَقَالَ إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ﷺ کے بالکل سامنے آکر بیٹھ گیا، ہم بھی وہاں موجود تھے اور کہنے لگا یا رسول اللہ! ﷺ آپ کو سلام کرنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے، جب ہم نماز میں آپ پر درود پڑھیں تو کس طرح پڑھیں؟ نبی ﷺ اس کے سوال پر اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم سوچنے لگے اگر یہ آدمی سوال نہ کرتا تو اچھا ہوتا، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ نے فرمایا جب تم مجھ پر درود پڑھا کرو تو یوں کہا کرو۔ " اللہم صل علی محمد النبی الامی وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وال ابراہیم وبارک علی محمد النبی الامی کما بارکت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجید "
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ الْأَزْدِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لِرَجُلٍ أَوْ لِأَحَدٍ لَا يُقِيمُ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو رکوع سجدے میں اپنی پشت کو سیدھا نہ کرے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ إِنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَهُوَ جَدُّ زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَبُو أُمِّهِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاهُمْ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ
حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ عورت کی کمائی اور کاہنوں کی مٹھائی کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قِيلَ لَهُ مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي زَعَمُوا قَالَ بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ
حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی ﷺ سے " لوگوں کا خیال ہے " والے جملے کے متعلق کیا سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ انسان کی بدترین سواری ہے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْبَرَّادُ قَالَ وَكَانَ عِنْدِي أَوْثَقَ مِنْ نَفْسِي قَالَ قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَبَّرَ فَرَكَعَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفُصِلَتْ أَصَابِعُهُ عَلَى سَاقَيْهِ وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَاسْتَوَى جَالِسًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ثُمَّ سَجَدَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى
سالم البراد جو ایک قابل اعتماد راوی ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابومسعود بدری ؓ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی ﷺ کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ یہ کہہ کر انہوں نے تکبیر کہی رکوع میں اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھا، انگلیوں کے جوڑ کھلے رکھے اور ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، یہاں تک کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ قائم ہوگیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہوگیا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہوگیا، پھر سر اٹھا کر سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر قائم ہوگیا، پھر دوسرا سجدہ کیا اور چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھ کر فرمایا کہ نبی ﷺ اس طرح نماز پڑھتے تھے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا يُطِيلُ بِنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِيكُمْ مُنَفِّرِينَ فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ بِهِمْ الصَّلَاةَ فَإِنَّ وَرَاءَهُ الْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَذَا الْحَاجَةِ
حضرت ابو مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی (اپنے امام) کے خوف سے میں فجر کی نماز سے رہ جاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ دوران وعظ نبی ﷺ کو کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، نبی ﷺ نے فرمایا لوگو! تم میں سے بعض افراد دوسرے لوگوں کو متنفر کردیتے ہیں، تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے، اسے چاہئے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَامِرٍ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ إِلَى السَّبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَقَالَ لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ وَلَا يُطِيلُ الْخُطْبَةَ فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنْ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ فَقَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنْ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا وَتَنْصُرُونَا وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ قَالُوا فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ قَالَ لَكُمْ الْجَنَّةُ قَالُوا فَلَكَ ذَلِكَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوَ هَذَا قَالَ وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ مَا سَمِعَ الشِّيبُ وَلَا الشُّبَّانُ خُطْبَةً مِثْلَهَا
عامر کہتے ہیں کہ (بیعت عقبہ کے موقع پر) نبی ﷺ اپنے چچا حضرت عباس ؓ کے ہمراہ ایک گھاٹی کے قریب ستر انصاری افراد کے پاس درخت کے نیچے پہنچے اور فرمایا کہ تمہارا متکلم بات کرلے لیکن لمبی بات نہ کرے کیونکہ مشرکین نے تم پر اپنے جاسوس مقرر کر رکھے ہیں اگر انہیں پتہ چل گیا تو وہ تمہیں بدنام کریں گے، چناچہ ان میں سے ایک صاحب یعنی حضرت ابوامامہ ؓ بولے اے محمد! ﷺ پہلے آپ اپنے رب، اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں مطالبات پیش کریں، پھر یہ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ پر اور آپ پر ہمارا کیا بدلہ ہوگا اگر ہم نے آپ کے مطالبات پورے کردیئے؟ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے رب کے لئے تو میں تم سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم ہمیں ٹھکانہ دو، ہماری مدد کرو اور ہماری حفاظت بھی اسی طرح کرو جیسے اپنی حفاظت کرتے ہو؟ انہوں نے پوچھا کہ اگر ہم نے یہ کام کر لئے تو ہمیں کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا تمہیں جنت ملے گی، انہوں نے کہا کہ پھر ہم نے آپ سے اس کا وعدہ کرلیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابومسعود ؓ سے بھی مروی ہے۔ امام شعبی (رح) وسلم فرماتے ہیں کہ کسی جوان یا بوڑھے نے ایسا خطبہ کبھی نہیں سنا ہوگا۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ وَكَبَّرَ ثُمَّ رَكَعَ وَجَافَى يَدَيْهِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ قَالَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَوْ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سالم البراد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابومسعود بدری ؓ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی ﷺ کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ یہ کہہ کر انہوں نے تکبیر کہی رکوع میں اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھا، انگلیوں کے جوڑ کھلے رکھے اور ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، یہاں تک کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ قائم ہوگیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہوگیا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہوگیا، پھر سر اٹھا کر سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر قائم ہوگیا، پھر دوسرا سجدہ کیا اور چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھ کر فرمایا کہ نبی ﷺ اس طرح نماز پڑھتے تھے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قُلْتُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً
حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ پر کچھ خرچ کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنْ الْخَيْرِ شَيْءٌ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ فَكَانَ يَقُولُ لِغِلْمَانِهِ تَجَاوَزُوا عَنْ الْمُعْسِرِ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ
حضرت ابو مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو حساب کتاب کے لئے بارگاہ الٰہی میں پیش کیا گیا لیکن اس کی کوئی نیکی نہیں مل سکی، البتہ وہ مالدار آدمی تھا، لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اس نے اپنے غلاموں سے کہہ رکھا تھا کہ تنگدست کو مہلت دے دیا کرو،، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس بات کے حقدار تو تجھ سے زیادہ ہم ہیں، فرشتو! میرے بندے سے بھی درگذر کرو چناچہ اس کی بخشش ہوگئی۔
حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَعْلَى وَمُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَيْ عُبَيْدٍ قَالُوا أَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي قَالَ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ قَالَ مُحَمَّدٌ فَإِنَّهُ قَدْ بُدِعَ بِي
حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا سامان سفر اور سواری ختم ہوگئی ہے، لہذا مجھے کوئی سواری دے دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت تو میرے پاس کوئی جانور نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کر دوں، البتہ فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ وہ آدمی اس کے پاس چلا گیا اور اس نے اسے سواری دے دی، وہ آدمی نبی ﷺ کے پاس واپس آیا اور نبی ﷺ کو اس کی اطلاع کردی، نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص نیکی کی طرف رہنمائی کر دے، اسے بھی نیکی کرنے والے کی طرح اجروثواب ملتا ہے۔