حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 399 · 31 hadiths · Page 2 of 2

16437Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ أَنَّهُ قَالَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ فَسَأَلْتُ رَبِيعَةَ فَقَالَ أَخْبَرَنِيهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَقَالَ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى تَجِيءَ رَبَّهَا وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ وَسُئِلَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ اعْتُرِفَتْ وَإِلَّا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی ﷺ سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جائے گا، سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے؟ نبی ﷺ انتہائی ناراض ہوئے، حتی کہ رخسار مبارک سرخ ہوگئے اور فرمایا تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے پاس اس کا مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو، ورنہ وہ تمہاری ہوگئی۔

16438Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو جُهَيْمٍ ابْنُ أُخْتِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ مَا سَمِعَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي مِنْ يَوْمٍ أَوْ شَهْرٍ أَوْ سَنَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ

بسر بن سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت ابی بن کعب ؓ کے بھانجے ابوجہیم نے حضرت زید بن خالد ؓ کے پاس وہ حدیث ہوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گذرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی، انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لئے نماز کے آگے سے گذرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس۔۔۔۔۔۔ تک کھڑا رہا، یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی ﷺ نے دن فرمایا: مہینے یا سال فرمایا۔

16439Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَوْلَى الْجُهَيْنَةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النُّهْبَةِ وَالْخُلْسَةِ

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو لوٹ مار اور اچکے پن سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔

16440Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ وَلَوْ رُمِيَ بِنَبْلٍ لَأَبْصَرْتُ مَوَاقِعَهَا

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور بازار آتے، اس وقت اگر ہم میں سے کوئی شخص تیر پھینکتا تو وہ تیر گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا۔

16441Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھے کہ اس میں غفلت نہ کرے، تو اللہ اس کے پچھلے سارے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔

16442Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ و حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی بھٹکے ہوئے جانور کو پکڑ لے، وہ گمراہ ہے جب تک کہ اس کی تشہیر نہ کرے۔

16443Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ الْهُنَائِيُّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا۔

16444Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ قَالَ اجْلِدْهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدْهَا فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ فَإِنْ زَنَتْ فَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ الْمَعْنَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَمَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ الزُّهْرِيُّ شَكَّ

حضرت ابوہریرہ، زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے اس باندی کے متعلق پوچھا جو شادی شدہ ہونے سے پہلے بدکاری کا ارتکاب کرے تو نبی ﷺ نے فرمایا اسے کوڑے مارو، اگر دوبارہ کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر چوتھی مرتبہ پھر ایسا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی کیوں نہ ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

16445Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُقَطَةٍ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِهَا وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی ﷺ سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جائے گا، سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے؟ نبی ﷺ انتہائی ناراض ہوئے، حتی کہ رخسار مبارک سرخ ہوگئے اور فرمایا تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے پاس اس کا مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو، ورنہ وہ تمہاری ہوگئی۔

16446Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي قَالَ إِسْحَاقُ كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ حدیبیہ میں نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوئی جب صبح ہوئی تو نبی ﷺ نے نماز پڑھا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے آج رات کیا فرمایا؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندوں میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت مومن (اور ستاروں کے منکر، جبکہ لوگ ستاروں پر مومن) اور میرے منکر ہوتے ہیں، جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا اور ستاروں کا انکار کرتا ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر کرتا ہے۔

16447Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَنْ شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے نہ بتاؤں جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔