حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 709 · 18 hadiths

18645Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا شَرِبَ الرَّجُلُ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ أَرْبَعَ مِرَارٍ أَوْ خَمْسَ مِرَارٍ ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاقْتُلُوهُ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو، دوبارہ پینے پر پھر کوڑے مارو سہ بارہ پینے پر پھر کوڑے مارو، چوتھی یا پانچویں مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر پیئے تو اسے قتل کردو۔

18646Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارُ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔

18647Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ وَالْخَفَّافُ أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْخَفَّافُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔

18648Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنِي وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کردیتا ہے۔

18649Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ كَعْبٍ الطَّائِفِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْشَدَهُ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ فَأَنْشَدَهُ مِائَةَ قَافِيَةٍ فَلَمْ أُنْشِدْهُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ إِيهِ إِيهِ حَتَّى إِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَةِ قَافِيَةٍ قَالَ كَادَ أَنْ يُسْلِمَ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم ﷺ نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔

18650Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ الشَّرِيدَ يَقُولُ أَشْهَدُ لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ قَالَ فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے گواہی دیتاہوں کہ میں نے عرفات میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ وقوف کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے قدم زمین پر نہیں لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ مزدلفہ پہنچ گئے۔

18651Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ قَالَ أَبِي كُنْيَتُهُ أَبُو شِبْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الشَّرِيدِ أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ يُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ وَعِنْدِي جَارِيَةٌ نُوبِيَّةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَ ادْعُ بِهَا فَجَاءَ بِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَبُّكِ قَالَتْ اللَّهُ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ نے یہ وصیت کی کہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کردیں انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس حبشہ کے ایک علاقے نوبیہ کی ایک باندی ہے کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں نے اسے بلایا وہ آگئی نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا تیرا رب کون ہے؟ اس نے کہا اللہ نبی کریم ﷺ نے پوچھا میں کون ہوں۔؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے آزاد کردو یہ مسلمان ہے۔

18652Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ قَالَ الشَّرِيدُ كُنْتُ رِدْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَنْشِدْنِي فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لِي كُلَّمَا أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا إِيهِ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ قَالَ ثُمَّ سَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَكَتُّ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم ﷺ نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔

18653Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مَجْذُومٌ مِنْ ثَقِيفٍ لِيُبَايِعَهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ائْتِهِ فَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ بَايَعْتُهُ فَلْيَرْجِعْ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک جذامی آدمی (کوڑھ کے مرض میں مبتلا) بیعت کرنے کے لئے آیا میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر اس کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کے پاس جا کر کہو کہ میں نے اسے بیعت کرلیا ہے اس لئے وہ واپس چلاجائے۔

18654Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَبُو يَعْلَى الطَّائِفِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ وَأَبُو عَامِرٍ قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مِنْ غَيْرِهِ قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ الْمَرْءُ أَحَقُّ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے شخص کی نسبت شفعہ کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔

18655Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ خَلَفٍ يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ قَالَ سَمِعْتُ الشَّرِيدَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا عَجَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْهُ يَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا وَلَمْ يَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک چڑیا کو بھی ناحق مارتا ہے تو وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے چیخ چیخ کر کہے گی کہ پروردگار! فلاں شخص نے مجھے ناحق مارا تھا کسی فائدے کی خاطر نہیں مارا تھا۔

18656Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ الشَّرِيدَ قَالَ أَشْهَدُ لَأَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا وَقَالَ مَرَّةً لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَمَا مَسَّتْ قَالَ أَبِي حَيْثُ قَالَ رَوْحٌ وَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَاهُ مِنْ كِتَابِهِ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے عرفات میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ وقوف کیا ہے نبی کریم ﷺ کے قدم زمین پر نہیں لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ مزدلفہ پہنچ گئے۔

18657Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ حَتَّى هَرْوَلَ فِي أَثَرِهِ حَتَّى أَخَذَ ثَوْبَهُ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ قَالَ فَكَشَفَ الرَّجُلُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْنَفُ وَتَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ قَالَ وَلَمْ يُرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ إِلَّا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ حَتَّى مَاتَ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا اپنا تہبند اوپر کرو، اس نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مرتے دم تک اس شخص کو جب بھی دیکھا گیا اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہی رہا۔

18658Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ رَاقِدٌ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ هَذَا أَبْغَضُ الرُّقَادِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو چہرے کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا اللہ کے نزدیک لیٹنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔

18659Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْتُكَ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک جذامی آدمی (کوڑھ کے مرض میں مبتلا) بیعت کرنے کے لئے آیا میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر اس کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کے پاس جا کر کہو کہ میں نے اسے بیعت کرلیا ہے اس لئے وہ واپس چلاجائے۔

18660Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ الشَّرِيدَ يَقُولُ أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ أَوْ هَرْوَلَ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ قَالَ إِنِّي أَحْنَفُ تَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنَّ كُلَّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ بَعْدُ إِلَّا إِزَارُهُ يُصِيبُ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ أَوْ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا اپنا تہبند اوپر کرو، اس نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مرتے دم تک اس شخص کو جب بھی دیکھا گیا اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہی رہا۔

18661Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَن أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ يَعْنِي عَنِ الشَّرِيدِ كَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبِي قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ فَقَالَ هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ شَيْءٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَنْشِدْنِي فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ هِيهْ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ هِيهْ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم ﷺ نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔

18662Musnad Imam Ahmad

حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِيكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ

حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔