حضرت شرید بن سویدثقفی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارُ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ
حضرت شرید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔