حضرت مخفف کی حدیث۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 784 · 2 hadiths

19808Musnad Imam Ahmad

حضرت مخفف کی حدیث۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ قَالَ وَهُوَ يَقُولُ هَلْ تَعْرِفُونَهَا قَالَ فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَيْتٍ أَنْ يَذْبَحُوا شَاةً فِي كُلِّ رَجَبٍ وَكُلِّ أَضْحَى شَاةً

حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن میں نبی ﷺ کے پاس پہنچا تو نبی ﷺ فرما رہے تھے کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ مجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا؟ البتہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔

19809Musnad Imam Ahmad

حضرت مخفف کی حدیث۔

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٌٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو رَمْلَةَ عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ رَوْحٌ الْغَامِدِيُّ قَالَ وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ

حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور نبی ﷺ فرما رہے تھے اے لوگو ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے راوی نے پوچھا کہ جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔