حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ عَن أَبِيهِ عَن أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِكُمْ وَبَيْنَ صِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ذَاكَ اللَّخْمِيُّ عَن أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمْرُو اشْدُدْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ وَأْتِنِي فَفَعَلْتُ فَجِئْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَهُ وَقَالَ يَا عَمْرُو إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ وَجْهًا فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنْ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْجِهَادِ وَالْكَيْنُونَةِ مَعَكَ قَالَ يَا عَمْرُو نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ قَالَ كَذَا فِي النُّسْخَةِ نَعِمَّا بِنَصْبِ النُّونِ وَكَسْرِ الْعَيْنِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ بِكَسْرِ النُّونِ وَالْعَيْنِ
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی ﷺ وضو فرما رہے تھے، نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی ﷺ کی معیت حاصل ہوجائے، نبی ﷺ نے فرمایا نیک آدمی کے لئے حلال مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَن قَتَادَةَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لَا تَلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے نبی ﷺ کی سنت میں اشتباہ پیدا نہ کرو، ام ولدہ کا آقا اگر فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَن إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ إِنَّ آلَ أَبِي فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو علانیہ طور پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے آل ابو فلاں میرے ولی نہیں ہیں، میرا ولی تو اللہ اور نیک مومنین ہیں۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَأَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ سَأَلَ الْمَوْلَى عَمْرًا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَدْخُلَ عَلَى النِّسَاءِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ
حضرت عمرو بن عاص ؓ نے ایک مرتبہ اپنے ایک غلام کو حضرت علی ؓ کے پاس ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ سے ملنے کی اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي قَبِيلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْفَ مَثَلٍ
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے ایک ہزار مثالیں یاد کی ہیں۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ ثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدْ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدْ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَوْ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ
احسن (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمرو بن عاص ؓ سے کہا یہ بتائیے کہ اگر نبی ﷺ کسی آدمی سے محبت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہوں، تو کیا وہ نیک آدمی ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں، اس نے کہا کہ پھر نبی ﷺ آپ سے محبت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور وہ آپ کو مختلف ذمہ داریاں سونپتے تھے؟ انہوں نے فرمایا یہ تو واقعی حقیقت ہے، لیکن میں تمہیں بتاؤں، بخدا! میں نہیں جانتا کہ نبی ﷺ محبت کی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملہ فرماتے تھے یا تالیف قلب کے لئے، البتہ میں اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ دو آدمیوں سے محبت فرماتے تھے، ایک سمیہ کے بیٹے عمار ؓ سے اور ایک ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود ؓ سے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَتَخَوَّلُنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ قُرَيْشٌ لَيَضَعَنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنْ جَمَاهِيرِ الْعَرَبِ سِوَاهُمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ كَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قُرَيْشٌ وُلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
عبداللہ بن ابی الہذیل (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص ؓ ہماری رعایت اور خیال فرماتے تھے، ایک مرتبہ بکر بن وائل قبیلے کا ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر قریش کے لوگ باز نہ آئے تو حکومت ان کے ہاتھ سے نکل کر جمہور اہل عرب کے ہاتھ میں چلی جائے گی، حضرت عمرو ؓ نے یہ سن کر فرمایا آپ سے غلطی ہوئی، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش ہر نیکی اور برائی کے کاموں میں قیامت تک لوگوں کے سردار ہوں گے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ عَن أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَنْتُمْ أَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا
حضرت عمرو بن عاص ؓ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی ﷺ کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَن مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ فَأَخَذْتُ سَيْفًا فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا، میں حضرت ابوحذیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سالم کے پاس آیا تو انہوں نے اپنی تلوار حمائل کر رکھی تھی، میں نے بھی اپنی تلوار پکڑی اور اسے حمائل کرلیا، نبی ﷺ نے فرمایا لوگو! گھبراہٹ کے اس وقت میں تم اللہ اور اس کے رسول کے پاس کیوں نہیں آئے؟ پھر فرمایا تم نے اس طرح کیوں نہ کیا جس طرح ان دو مومن مردوں نے کیا ہے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُخْتَارِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ فَمِنْ الرِّجَالِ قَالَ أَبُوهَا إِذًا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ عُمَرُ قَالَ فَعَدَّ رِجَالًا
حضرت عمرو ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ذات السلاسل کے لشکر پر مجھے امیر بنا کر بھیجا، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ سولم) لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ، میں نے کہا کہ مردوں میں سے؟ فرمایا ان کے والد، میں نے پوچھا کہ پھر کون؟ فرمایا عمر، اسی طرح نبی ﷺ نے کئی آدمیوں کے نام لئے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَن عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الصُّبْحِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
حضرت عمرو ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ سے اس واقعے کا ذکر کیا، نبی ﷺ نے فرمایا عمرو! تم نے ناپاکی کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ سولم) جس رات میں مجھ پر غسل واجب ہوا، وہ انتہائی سرد رات تھی اور مجھے اندیشہ تھا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا، وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا اور میں نے اللہ کا قول (وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا) اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے، اس لئے میں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، نبی ﷺ یہ سن کر نبی ﷺ مسکرانے لگے اور کچھ کہا نہیں۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سُمَيٍّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَإِنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا قَالَ عَمْرٌو فَوَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَاجَعْتُهُ بِمَا أُرِيدُ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَيَاءً مِنْهُ
حضرت عمرو ؓ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں آپ سے اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ میرے پچھلے سارے گناہ معاف ہوجائیں، نبی ﷺ نے فرمایا اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے کے تمام گناہ مٹا دیتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ نبی ﷺ سے حیاء کرتا تھا، اس لئے میں نے انہیں کبھی آنکھیں بھر کر نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی اپنی خواہش میں ان سے کوئی تکرار کیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ ثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ عَن أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ قَالَ الرَّجُلُ أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِينُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ الطَّعَامِ وَسَمَاحٌ وَحُسْنُ خُلُقٍ قَالَ الرَّجُلُ أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَلَا تَتَّهِمِ اللَّهَ عَلَى نَفْسِكَ
حضرت عمرو ؓ سے مروی ہے ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا اللہ پر ایمان و تصدیق، اللہ کے راستہ میں جہاد اور حج مبرور، اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ یہ تو آپ نے بہت سی چیزیں بیان فرما دی ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا پھر کلام میں نرمی، کھانا کھلانا، سہل ہونا اور اچھے اخلاق سب سے افضل عمل ہیں، اس نے کہا کہ میں صرف ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں، نبی نے فرمایا تو پھر جاؤ اور اپنی ذت پر تہمت نہ لگنے دو۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هَانِئٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلنَّاسِ مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هُوَ فَأَزْهَدُ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا
حضرت عمرو بن عاص ؓ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی ﷺ کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ وَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور خوب احتیاط و اجتہاد سے کام لے اور صحیح فیصلہ کرے تو اسے دہرا اجر ملے گا اور اگر احتیاط کے باوجود غلطی ہوجائے تو پھر بھی اسے اکہرا اجر ملے گا۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ ثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهِ أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهَا وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا لَهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْلِفُ
حضرت عمرو بن عاص ؓ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی ﷺ کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو، واللہ نبی ﷺ پر ساری زندگی کوئی رات ایسی نہیں آئی جس میں ان پر مالی بوجھ مالی فراوانی سے زیادہ نہ ہو اور بعض صحابہ ؓ فرماتے تھے کہ ہم نے خود نبی ﷺ کو قرض لیتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
قَالَ و قَالَ غَيْرُ يَحْيَى وَاللَّهِ مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ الَّذِي لَهُ
یحییٰ تین دنوں کا ذکر کرتے ہیں۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ عَن مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ مَوْتِ الْفَجْأَةِ وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ وَمِنْ السَّبُعِ وَمِنْ الْغَرَقِ وَمِنْ الْحَرْقِ وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَمِنْ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سات قسم کی موت سے پناہ مانگی ہے، ناگہانی موت، سانپ کے ڈسنے سے، درندے کے حملے سے، ڈوب کر مرنے سے، جل کر مرنے سے، کسی چیز پر گرنے سے، کسی چیز کے گرنے سے اور میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے مرنے سے۔
حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْرَمِيَّ قَالَ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَن بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ عَلَى أَيِّ حَرْفٍ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَصَبْتُمْ فَلَا تَتَمَارَوْا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے، لہذا تم جس حرف کے مطابق پڑھو گے، صحیح پڑھو گے، اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔