حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 492 · 27 hadiths · Page 2 of 2

17156Musnad Imam Ahmad

حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِنْ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ قَالَ يَزِيدُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي بِهِ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور خوب احتیاط و اجتہاد سے کام لے اور صحیح فیصلہ کرے تو اسے دہرا اجر ملے گا اور اگر احتیاط کے باوجود غلطی ہوجائے تو پھر بھی اسے اکہرا اجر ملے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے۔

17157Musnad Imam Ahmad

حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ فَقَالَ مَنْ أَقْرَأَكَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ آيَةُ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَرَأَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ الْآخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَرَأَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيَّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَحْسَنْتُمْ وَلَا تَمَارَوْا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ أَوْ آيَةُ الْكُفْرِ

حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک آدمی کو قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو اس سے پوچھا کہ یہ آیت تمہیں کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے مجھے تو یہ آیت کسی اور طرح پڑھائی ہے، چناچہ وہ دونوں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے اس آیت کا حوالہ دے کر اسے پڑھا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ آیت اس طرح نازل ہوئی ہے، دوسرے نے اپنے طریقے کے مطابق اس کی تلاوت کی اور کہنے لگا یا رسول اللہ! ﷺ کیا یہ آیت اس طرح نازل نہیں ہوئی! نبی ﷺ نے فرمایا اسی طرح نازل ہوئی ہے، پھر فرمایا یہ قرآن کریم سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، جس حرف کے مطابق پڑھو گے، صحیح پڑھو گے، اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔

17158Musnad Imam Ahmad

حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ الْمُرَادِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمْ الرِّبَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمْ الرُّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ

حضرت عمرو ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس قوم میں سود عام ہوجائے، وہ قحط سالی میں مبتلا ہوجاتی ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہوجائے، وہ مرعوب ہوجاتی ہے۔

17159Musnad Imam Ahmad

حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَى فَاطِمَةَ فَأَذِنَتْ لَهُ قَالَ ثَمَّ عَلِيٌّ قَالُوا لَا قَالَ فَرَجَعَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ ثَمَّ عَلِيٌّ قَالُوا نَعَمْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ حِينَ لَمْ تَجِدْنِي هَاهُنَا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ

حضرت عمرو بن عاص ؓ نے ایک مرتبہ حضرت فاطمہ ؓ سے ملنے کی اجازت مانگی، حضرت فاطمہ ؓ نے انہیں اجازت دے دی، انہوں پوچھا کہ یہاں حضرت علی ؓ ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں، اس پر وہ چلے گئے، دوسری مرتبہ حضرت علی ؓ موجود تھے لہذا وہ اندر چلے گئے، حضرت علی ؓ نے ان سے اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں۔

17160Musnad Imam Ahmad

حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ ثَنَا الْفَرَجُ قَالَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ لِعَمْرٍو اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا عَمْرُو فَقَالَ أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ كَانَ قَالَ فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي قَالَ إِنْ أَنْتَ قَضَيْتَ بَيْنَهُمَا فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ ثَنَا الْفَرَجُ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَإِنْ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ وَإِنْ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ

حضرت عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی ﷺ نے حضرت عمرو ؓ سے فرمایا کہ اے عمرو! ان کے درمیان تم فیصلہ کرو، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ مجھ سے زیادہ آپ اس کے حقدار ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے عمرو! ان کے درمیان تم فیصلہ کرو، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ مجھ سے زیادہ آپ اس کے حقدار ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کے باوجود میں تمہیں یہی حکم دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ اگر میں ان کے درمیان فیصلہ کر دوں تو مجھے کیا ثواب ملے گا؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم نے ان کے درمیان فیصلہ کیا اور صحیح کیا تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے محنت تو کی لیکن فیصلہ میں غلطی ہوگئی تو تمہیں ایک نیکی ملے گی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17161Musnad Imam Ahmad

حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا قَدْ وَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى هَوْدَجِهَا قَالَ فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَإِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرَةٍ فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ قَالَ حَسَنٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي يَدَيْهَا حَبَائِرُهَا وَخَوَاتِيمُهَا قَدْ وَضَعَتْ يَدَيْهَا وَلَمْ يَقُلْ حَسَنٌ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ

عمارہ بن خزیمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرہ کے سفر میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے ساتھ تھے، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اسی جگہ پر نبی ﷺ کے ساتھ تھے، کہ نبی ﷺ نے فرمایا دیکھو! تمہیں کچھ دکھائی دے رہا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ چند کوے نظر آرہے ہیں، جن میں ایک سفید کوا بھی ہے جس کی چونچ اور دونوں پاؤں سرخ رنگ کے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں صرف وہی عورتیں داخل ہو سکیں گی جو کو وں کی اس جماعت میں اس کوے کی طرح ہوں گی۔

17162Musnad Imam Ahmad

حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ لَمَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَنِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ فَقُلْتُ لَا أُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمْرُو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا قَبْلَهَا مِنْ الذُّنُوبِ يَا عَمْرُو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ مِنْ الذُّنُوبِ

حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی حقانیت پیدا فرما دی تو میں نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں بیعت کے لئے حاضر ہوا، نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک میری جانب بڑھایا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں اس وقت تک آپ سے بیعت نہیں کروں گا جب تک آپ میری گذشتہ لغزشات کو معاف نہیں کردیتے، نبی ﷺ نے فرمایا اے عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ ہجرت اپنے سے پہلے کے تمام گناہ مٹا دیتی ہے؟ اے عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے!۔