حضرت معقل بن سنان اشجعی کی حدیثیں۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 208 · 4 hadiths

15380Musnad Imam Ahmad

حضرت معقل بن سنان اشجعی کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ثُمَّ مَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا قَالَ فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَى لَهَا مِثْلَ صَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَشَهِدَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ مَا قَضَى

علقمہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا کہ ایک عورت ہے جس سے ایک شخص نے نکاح کیا اور تھوڑی دیر بعد فوت ہوگیا اس نے ابھی اس کا مہر مقرر کیا تھا اور نہ ہی تخلیہ کیا تھا اس کا کیا حکم ہے۔ مختلف صحابہ نے مختلف آراء پیش کی حضرت ابن مسعود نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کو مہر مثل ملے گا اس کو وراثت میں بھی حصہ ملے گا اور وہ عدت بھی گذارے گی اس فیصلے کو سن کر حضرت معقل بن سنان نے گواہی دی کہ نبی ﷺ نے بیعینہ اس طرح کا فیصلہ بروع بنت واشق کے بارے میں بھی کیا تھا۔

15381Musnad Imam Ahmad

حضرت معقل بن سنان اشجعی کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ شَهِدَ عِنْدِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ قَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ

حضرت معقل بن سنان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان کی اٹھارہویں رات کو سینگی لگارہا تھا کہ نبی ﷺ میرے پاس سے گذرے مجھے اس حال میں دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا سینگی لگانے والے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

15382Musnad Imam Ahmad

حضرت معقل بن سنان اشجعی کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ سَمِعْتُ سَيَّارَ بْنَ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ بُهَيْسَةَ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی ﷺ نے فرمایا پانی، میں نے پھر یہی سوال کیا اور نبی ﷺ نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارے لئے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔

15383Musnad Imam Ahmad

حضرت معقل بن سنان اشجعی کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْهُ وَيَلْتَزِمُهُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمِلْحُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَانْتَهَى قَوْلُهُ إِلَى الْمَاءِ وَالْمِلْحِ قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا وَإِنْ قَلَّ

بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی ﷺ نے فرمایا پانی، میں نے پھر یہی سوال کیا اور نبی ﷺ نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارے لئے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔